دسته‌بندی کتب‌‌ آخرین کتاب‌ها کتاب‌های تصادفی کتاب‌های پربازدید
حج کے اسرار اور معارف -    اسلامی احکام  اور  قوانین   کے دو    پهلو  هیں  ظاهری  اور باطنی , ظاهری ‏پهلو بهت هی  خوبصورت هے اور باطنی ‏پهلوبهت عمیق هے  ظا هری ‏پهلو  آشکار اور باطنی ‏پهلو ‏پوشیده  هے  ظاهری پہلو وهی  هے جسے هم دیکھ  رهے  هیں   اور اس  ‏پر  عمل بھی  کر رهے هیں ۔
 احکام باطنی   هر ایک کے لیے روشن اور واضح نهیں هیں انہیں  حواس ظاہری اور سرسری مطالعه کےذریعه     حاصل نهیں کیاجا سکتاہے  بلکه  احکام باطنی،اسرار  الهی  اور تعلیمات   قدسی میں سے  هیں۔باطنی پہلو تک رسائی کیلئے علمائے ربانی کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ پاکیزہ اور نورانی دلوں کی بھی ضرورت  ہے دینی تعلیمات اور   قوانین الہی کے پیچھے ایک ایسا عالم موجود ہےجو  مفاہیم اور معانی سے سرشار ہےاور حیرت انگیز  رموز سے بھرا  ہوا ہے مختلف ادیان کا احکام کوبیان کرنے اور قوانین کو تدوین  کا مقصدلوگوں کو  مفاہیم و معانی اور حیرت انگیز اسرار و  رموز سے آگاہ  کرنا ہے۔
دین کا اصل ہدف انسان کو کمال کے اعلٰی درجہ تک پہنچا نااور  خداکے نزدیک کرنا ہے۔ اور دنیا میں انسان  کوصفات میں  اور اسما ء کے اعتبار سے اللہ تبارک وتعالیٰ کا جانشین بناناہے۔
 حج احکام دین  میں سے ایک ہے اور خا ص اہمیت کا حامل ہےحج اعمال ظاہری  اور اسرار باطنی کے اعتبار سے بھی اہمیت  ہے حج ایک ایسا  عظیم مکتب  ہے جو انسان کی تربیت اور پرورش میں بہت ہی اعلی کردار ادا  کرتا ہے  انسان کو چاہے کہ  جتنی معرفت  رکھتا ہے اسی اعتبار سے  خالصانہ  قدم اٹھائے۔
انسان کو اس   بات کا علم ہو نا چاہیے  کہ حج کے اندار کتنے اہم  اسرار پوشیدہ ہیں تا کہ حج کو  خالصتاً خدا کے لیے  بجا لائے۔اگرانسان اسرار اور فلسفہ حج  سے جاہل رہے تو  جتنا بھی خلوص سے حج کو انجام دیں  اس کا خلوص  فضول و بے فائدہ  ہے   ہاں جب بھی انسان اسرار اور فلسفہ حج سے آ گاہ  ہوگااس وقت سےاخلاص کا آغا ز  ہو گا۔اس لئے نیت اور اخلاص حج سے پہلے انسان کو فلسفہ حج اور اسکے اسرار سے آگاہ ہونا چاہیے۔

حج کے اسرار اور معارف

اسلامی احکام اور قوانین کے دو پهلو هیں ظاهری اور باطنی , ظاهری ‏پهلو بهت هی خوبصورت هے اور باطنی ‏پهلوبهت عمیق هے ظا هری ‏پهلو آشکار اور باطنی ‏پهلو ‏پوشیده هے ظاهری پہلو وهی هے جسے هم دیکھ رهے هیں اور اس ‏پر عمل بھی کر رهے هیں ۔ احکام باطنی هر ایک کے لیے روشن اور واضح نهیں هیں انہیں حواس ظاہری اور سرسری مطالعه کےذریعه حاصل نهیں کیاجا سکتاہے بلکه احکام باطنی،اسرار الهی اور تعلیمات قدسی میں سے هیں۔باطنی پہلو تک رسائی کیلئے علمائے ربانی کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ پاکیزہ اور نورانی دلوں کی بھی ضرورت ہے دینی تعلیمات اور قوانین الہی کے پیچھے ایک ایسا عالم موجود ہےجو مفاہیم اور معانی سے سرشار ہےاور حیرت انگیز رموز سے بھرا ہوا ہے مختلف ادیان کا احکام کوبیان کرنے اور قوانین کو تدوین کا مقصدلوگوں کو مفاہیم و معانی اور حیرت انگیز اسرار و رموز سے آگاہ کرنا ہے۔ دین کا اصل ہدف انسان کو کمال کے اعلٰی درجہ تک پہنچا نااور خداکے نزدیک کرنا ہے۔ اور دنیا میں انسان کوصفات میں اور اسما ء کے اعتبار سے اللہ تبارک وتعالیٰ کا جانشین بناناہے۔ حج احکام دین میں سے ایک ہے اور خا ص اہمیت کا حامل ہےحج اعمال ظاہری اور اسرار باطنی کے اعتبار سے بھی اہمیت ہے حج ایک ایسا عظیم مکتب ہے جو انسان کی تربیت اور پرورش میں بہت ہی اعلی کردار ادا کرتا ہے انسان کو چاہے کہ جتنی معرفت رکھتا ہے اسی اعتبار سے خالصانہ قدم اٹھائے۔ انسان کو اس بات کا علم ہو نا چاہیے کہ حج کے اندار کتنے اہم اسرار پوشیدہ ہیں تا کہ حج کو خالصتاً خدا کے لیے بجا لائے۔اگرانسان اسرار اور فلسفہ حج سے جاہل رہے تو جتنا بھی خلوص سے حج کو انجام دیں اس کا خلوص فضول و بے فائدہ ہے ہاں جب بھی انسان اسرار اور فلسفہ حج سے آ گاہ ہوگااس وقت سےاخلاص کا آغا ز ہو گا۔اس لئے نیت اور اخلاص حج سے پہلے انسان کو فلسفہ حج اور اسکے اسرار سے آگاہ ہونا چاہیے۔
خورشیدفقاہت  - آیۃ اللہ العظمیٰ السیدشہاب الدین المرعشی النجفی 20 صفرالمظفر سنہ 1315ہجری قمری کونجف اشرف میں پیداہوئے آپ کانسب شریف 33 واسطوں سے حضرت امام زین العابدین علیؑ ابن حسین ؑبن علی ابن ابی طالب  تک پہونچتاہے ۔
آپ کےوالدسیدمحمودشمس الدین مرعشی نجف اشرف کےجیدعلماء میں سے تھے اورآپ کے داداسیدالحکماء تھے۔
نجف اشرف میں آپ نے منارہ علم وفضل حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ ضیاءالدین عراقی سے اورطہران وقم میں موسس حوزہ قم حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری سے اپنی علمی تشنگی کوسراب کیا۔
حوزہ علمیہ قم میں آپ کاشمارعظیم ترین مدرسین میں تھا۔آپ کاپہلارسالہ عملیہ ذخیرۃ المعاد کے نام سے 1370ہجری میں شائع ہوا۔آپ جودوسخااورزہدوتقویٰ میں اتنامشہورہوئے کہ ضرب المثل قرارپائے۔آپ نے مختلف علوم وفنون میں ایک سوسے زائدکتابیں اوررسالے تالیف کئے ہیں جن میں سب سے اہم احقاق الحق پرآپ کی تعلیقات ہیں جو24 جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔آپ نے 7صفرالمظفرسنہ 1411ہجری قمری میں شب پنجشنبہ 96 سال کی عمرمیں وفات پائی اوراپنےکتابخانہ ہی میں دفن ہوئے۔

خورشیدفقاہت

آیۃ اللہ العظمیٰ السیدشہاب الدین المرعشی النجفی 20 صفرالمظفر سنہ 1315ہجری قمری کونجف اشرف میں پیداہوئے آپ کانسب شریف 33 واسطوں سے حضرت امام زین العابدین علیؑ ابن حسین ؑبن علی ابن ابی طالب تک پہونچتاہے ۔ آپ کےوالدسیدمحمودشمس الدین مرعشی نجف اشرف کےجیدعلماء میں سے تھے اورآپ کے داداسیدالحکماء تھے۔ نجف اشرف میں آپ نے منارہ علم وفضل حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ ضیاءالدین عراقی سے اورطہران وقم میں موسس حوزہ قم حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری سے اپنی علمی تشنگی کوسراب کیا۔ حوزہ علمیہ قم میں آپ کاشمارعظیم ترین مدرسین میں تھا۔آپ کاپہلارسالہ عملیہ ذخیرۃ المعاد کے نام سے 1370ہجری میں شائع ہوا۔آپ جودوسخااورزہدوتقویٰ میں اتنامشہورہوئے کہ ضرب المثل قرارپائے۔آپ نے مختلف علوم وفنون میں ایک سوسے زائدکتابیں اوررسالے تالیف کئے ہیں جن میں سب سے اہم احقاق الحق پرآپ کی تعلیقات ہیں جو24 جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔آپ نے 7صفرالمظفرسنہ 1411ہجری قمری میں شب پنجشنبہ 96 سال کی عمرمیں وفات پائی اوراپنےکتابخانہ ہی میں دفن ہوئے۔