خورشیدفقاہت  - آیۃ اللہ العظمیٰ السیدشہاب الدین المرعشی النجفی 20 صفرالمظفر سنہ 1315ہجری قمری کونجف اشرف میں پیداہوئے آپ کانسب شریف 33 واسطوں سے حضرت امام زین العابدین علیؑ ابن حسین ؑبن علی ابن ابی طالب  تک پہونچتاہے ۔
آپ کےوالدسیدمحمودشمس الدین مرعشی نجف اشرف کےجیدعلماء میں سے تھے اورآپ کے داداسیدالحکماء تھے۔
نجف اشرف میں آپ نے منارہ علم وفضل حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ ضیاءالدین عراقی سے اورطہران وقم میں موسس حوزہ قم حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری سے اپنی علمی تشنگی کوسراب کیا۔
حوزہ علمیہ قم میں آپ کاشمارعظیم ترین مدرسین میں تھا۔آپ کاپہلارسالہ عملیہ ذخیرۃ المعاد کے نام سے 1370ہجری میں شائع ہوا۔آپ جودوسخااورزہدوتقویٰ میں اتنامشہورہوئے کہ ضرب المثل قرارپائے۔آپ نے مختلف علوم وفنون میں ایک سوسے زائدکتابیں اوررسالے تالیف کئے ہیں جن میں سب سے اہم احقاق الحق پرآپ کی تعلیقات ہیں جو24 جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔آپ نے 7صفرالمظفرسنہ 1411ہجری قمری میں شب پنجشنبہ 96 سال کی عمرمیں وفات پائی اوراپنےکتابخانہ ہی میں دفن ہوئے۔

خورشیدفقاہت

آیۃ اللہ العظمیٰ السیدشہاب الدین المرعشی النجفی 20 صفرالمظفر سنہ 1315ہجری قمری کونجف اشرف میں پیداہوئے آپ کانسب شریف 33 واسطوں سے حضرت امام زین العابدین علیؑ ابن حسین ؑبن علی ابن ابی طالب تک پہونچتاہے ۔ آپ کےوالدسیدمحمودشمس الدین مرعشی نجف اشرف کےجیدعلماء میں سے تھے اورآپ کے داداسیدالحکماء تھے۔ نجف اشرف میں آپ نے منارہ علم وفضل حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ ضیاءالدین عراقی سے اورطہران وقم میں موسس حوزہ قم حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری سے اپنی علمی تشنگی کوسراب کیا۔ حوزہ علمیہ قم میں آپ کاشمارعظیم ترین مدرسین میں تھا۔آپ کاپہلارسالہ عملیہ ذخیرۃ المعاد کے نام سے 1370ہجری میں شائع ہوا۔آپ جودوسخااورزہدوتقویٰ میں اتنامشہورہوئے کہ ضرب المثل قرارپائے۔آپ نے مختلف علوم وفنون میں ایک سوسے زائدکتابیں اوررسالے تالیف کئے ہیں جن میں سب سے اہم احقاق الحق پرآپ کی تعلیقات ہیں جو24 جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔آپ نے 7صفرالمظفرسنہ 1411ہجری قمری میں شب پنجشنبہ 96 سال کی عمرمیں وفات پائی اوراپنےکتابخانہ ہی میں دفن ہوئے۔