زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (24)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

انوار قدسیه۔مجلہ عشاق اہل بیت 8- شوال۔ 1433ھ

ابتدائیه:
امام جعفر صادق علیه السلام کی شخصیت اور علمی فیوض کے عنوان پر اس مقاله کو میں زیارت جامعه کے چند کلمات سے شروع کرنا چاهتا هوں۔
السلام علیکُم یا اَهل بیتِ النُبوَه و مو ضَع الرّساَلَه ... کلا مَکُم نُورُ وَاَمَرکُم رُشد، وَ صیّتکُم الّتقویٰ وَفعلُکُم خَیرَ عَادَتُکُم الا حَسانِ ...ان ذکِر الخَیر کُنتُم اَوّلَه وَاَصلَه وَفَرَعَه وَ مَعدَ نه وما وَایه و منتَهاه)
ترجمه: سلام هو آپ پر اے نبوت کے گهر والو اور پیغام ربانی کے مرکز۔ آپ کی گفتگو سر تاپائے نور، آپ کا فرمان هدایت کا سرچشمه ، آپ کی نصیحت تقویٰ کے بارے میں آپ کا عمل خیر هی خیر، آپ کی عادت احسان کرنے کی هے جب کبهی نیکیوں کاتذکره هو تو آپ حضرات سے هی ان کی ابتداء هوتی هے اور انتها بهی ۔ اس کی اصل بهی آپ هیں اور مخزن اور مرکز اور انتها بهی آپ هیں۔ ( ترجمه رضی جعفر)
زیارت جامعه محمد و آلِ محمد (ص) کا قصیده هے، حضرت امام علی النقی علیه السلام کا هم پر احسان هے که انهوں اپنے انتهائی فصیح و بلیغ کلام میں زیارت جامعه کی تدوین کی جو حقائق اور معرفت کا بے پایاں سمندر هے۔ حضرت امام جعفر (ع) صادق کی شخصیت زیارت جامعه میں بیان کرده ان خصائص کی مجسم تصویر هے۔
امام صادق(ع) کی همه گیر شخصیت کااحاطه نا ممکن هے ، اس مختصر مقاله اور تیز رفتار زندگی کے تقاضوں کے پیش نظر اختصاراً امام صادق(ع) کی شخصیت کے چند اهم گوشوں کا تعارف ، نشر علوم، تدوین ۔ فقه اور دانشگاه جعفری کے فیوض اور امام کے چند شاگردوں کی علمی خدمات کا ایک تعارفی جائزه مقصود هے۔
٢۔ مختصر حالات:
جعفر کے معنی نهر کے هیں۔ گو یا قدرت کی طرف سے اشاره هے که آپ کے علم و کمالات سے دنیا سیراب هو جائیگی۔ امام جعفر (ع) صادق کی تاریخ ولادت ١٧ ربیع الاوّل پر سب کو اتفاق هے مگر سال ولادت میں اختلاف هے روایت رجال کے بموجب سنه ولادت ٨٠ ه هے جبکه محمد ابن ِ یعقوب کلینی اور شیخ صدق کا اتفاق ٨٣ ه پر هے۔ آپ نے به فضل ِ خدا ٦٥ سال عمر پائی اور مدتِ امامت ٣٤ سال رهی ( ١١٤ ه تا ١٤٨ه) چهارده معصومین میں طویل عمر اور عهد امامت کے حواله سے آپ کی امتیازی خصوصیت هے۔ آپ کی مادر گرامی جناب اُمِ فروه بنت ِ قاسم بن محمد بن ابو بکر تهیں۔ اپنی والده کی عظمت کا ذکر کرتے هوئے خود امام صادق(ع) نے فرمایا'' میری والده ایک با ایمان با تقویٰ اور نیک خاتون تهی۔'' ( احمد علی ۔١) صاحب مروج الذهب کے حواله سے ان معظمه کی عظمت اور مرتبه کے لئے یه هی کافی هے که خود امام باقرؑ نے آپ کے والد قاسم سے اپنے لئے خواستگار ی کی تهی۔ آپ کی مشهور کنیت عبداﷲ هے اور بے شمار القاب میں ( الصادق) زیاده مشهور هے۔ آپ کے ٧ بیٹے یعنی اسماعیل ، عبداﷲ ، موسیٰ ( بن کاظم (ع)) اسحاق، محمد(الدیباج) ، عباس اور علی ، اور تین بیٹیاں ام فروه، اسماء و فاطمه تهیں۔ آپ کے دو ازواج مطهرات میں ایک فاطمه بنت الحسین امام زین العابدین کی پوتی تهیں۔
امام صادق(ع) کے دورِ امامت میں بنی امیه کے سلاطین میں هشام بن عبدالملک ، ولید بن یزید بن عبد الملک ، یزید بن ولید ، مروان حمار اور خاندان بنی عباس کے ٢، افراد ابو العباس السفاح اور منصور دوانیقی تهے۔ ان میں عبدالملک کے بیس سال کا عهد اور منصور دوانیقی کے دس سال شامل هیں۔ ( رئیس احمد ۔٢)
منصوردوانیقی ایک خود سر اور ظالم حکمران تها۔ آئمه اهلبیتؑ اور ان کے دوستوں پر حاکمان وقت کے  مظالم کے سلسلے میںصرف اتنا کهنا کافی هے که '' ایک سیل خوں رواں هے حمزه سے عسکری تک'' منصور نے امام کو قتل کرنے کی کئی مرتبه کوشش کی۔ بالآخر اس کے حکم پر حاکم بن سلیمان نے آپ کو زهر دے دیا جس سے ١٥ رجب ١٤٨ ه کو آپ کی شهادت واقع هوئی۔ بعض مورخین کے بموجب تاریخ شهادت ١٥ شوال هے۔ ( عنایت حسین جلالوی۔٣)
٣۔ شخصیت کی عظمت:
شیعه عقیده کی رو سے امامت کسبی نهیں بلکه وهبی وصف هے یعنی اس کا تعین خود اﷲ تعالیٰ کرتا هے اور ایک امام دوسرے آنے والے کی نشان دهی کرتا هے اس عمل کو (نص) کهتے هیں یعنی منشائے الهیٰ کا اظهار، امام صادق(ع) کے بارے میں امام باقر (ع) کی بے شمار نصوص معتبر کتابوں میں ملتی هیں( شیخ مفید ۔ الار شاد، بحار الانوار وغیره) ۔ امام جعفر ِ صادق کی عظیم شخصیت پر مسلسل اور انتهک کام کرنے کی ضرورت هے۔ آئمه علیه السلام کی زندگی کا هر قدم همارے لئے مشعل راه هے ان کی زندگی کا هر پهلو صحیفه رشد و هدایت هے۔ ان حضرات نے اپنی زندگیاں اطاعت خدا اور رسول(ص) میں وقف کردی تهی اور وحی الهٰی اور تعلیمات نبوی کو همیشه پیش نظر رکها ۔ امام کی حیاتِ طیبه کے مطالعه سے معلوم هوتا هے که تاریخ اسلام هی نهیں بلکه تاریخ بشریت کی یه قد آور شخصیت اپنے علم و عمل سے انسانیت کو کس قدر فیص بخشا هے۔ اس کا اندازه امام سے متعلق ان آراء سے هوسکتا هے ۔ جس کا اظهار مختلف مفکرین نے وقتاً فوقتاً کیا هے اس کی چند مثالیں حسب ذیل هیں۔ ( محسن نقوی ۔٤)
٤۔ تصانیف:
نور المشرقین منِ حیاۃ الصادقین میں آغا سلطان مرزا نے ( اعیان الشیعه) کے حواله سے امام کی تصانیف کی طویل فهرست دی هیں ان میں سے چند مشهور حسب ذیل هیں ۔ ( ١٥٠ تصانیف۔ ٨٠ بلاواسطه اور ٧٠ بالواسطه)
١۔رساله عبداﷲ ابن ِ النجاشی ۔ ٢۔رساله مروی عن الاعمش ٣۔ رساله توحید مفضل ٤۔کتاب الاهلیلجه
ان کے علاوه امام کے مختلف دینی اور لا دینی طبقات اور دهریوں سے مناظروں کی ایک طویل فهرست بهی هے جس میں اعترافات طبیب هندی، امام ابو حنیفه سے مناظره ، صوفیوں کے گروه سے مناظره اور مشهور دهریه ابو شاکر دیصانی سے مناظره قابل ِ ذکر هیں۔
٥۔ واقعه حضرت زید اور سیاسی بصیرت :
امام کی شخصیت کے مطالعه میں ان کی سیاسی بصیرت بهی زیر بحث آتی هے۔ اس ضمن میں قاتلانِ امام حسینؑ کے خلاف حضرت زید ابن ِ علی ابن الحسین کا معرکه ایک اهم واقعه هے۔ واقعه کربلا کے بعد بنو حسن اور بنو حسین مدینے میں نهایت قلیل آمدنی پر گوشه تنهائی میں گزاره کرتے تهے سیاست میں مطلقاً حصه نهیں لیتے تهے۔ ان کے علم و فضل اور زهد و عبادت کی وجه سے لوگ ان کی بهت عزت کر تے تهے جس کی وجه سے بنو امیه اور بنو عباس ان کے مخالف تهے۔ انهیں طرح طرح سے اذیت دیتے تهے۔ بالآخر زید اور ان کے لڑکے یحییٰ کو بنو امیه کے مسلسل ظلم نے تلوار سے اپنی حفاظت کرنے پر مجبور کردیا۔ ( جسٹس امیر علی، هسٹری آف سارا سن) جناب زید خاندانِ اهلبیتؑ کے ایک اهم فرد تهے اور علم حدیث اور فقه میں آپ کا رتبه بهت بڑا تها۔ ٤٢ سال کی بهر پور جوانی میں بنو امیه کے خلاف جهاد کیا اور ١٢٢ه میں شهادت پر فائزه هوئے زید کے بعد ان کے بیٹے یحییٰ نے ان کی تحریک کو جاری رکهنے کی کوشش کی لیکن ١٢٥ه میں وه بهی شهید هو گئے۔
زید کے مجاهده کے اس حساس معامله میں امام کی پالیسی سمجهنے کے لئے یه نکته پیش نظر رکهنا چاهئے که امام نے اپنی آنکهوں سے خوارج کا فتنه دیکها تها، اس فتنه نے اهلِ مدینه کو جس کرب میں مبتلا اور شدت و مصیبت سے دو چار کیا تها وه بهی دیکها۔ علم امامت سے وه محمد نفس  ذکیه اور ابراهیم اور یحییٰ بن زید کے مستقبل سے واقف تهے جس میں باطل کی سرنگونی کی کوئی علامت نهیں تهی۔ ان حالات میں گو امام زید کی تحریک میں عملاً شریک نهیں تهے وه ان کی کامیابی کے آرزو مند تهے۔ اس ضمن میں امام کا یه بیان قابل غور هے۔ '' اﷲ تعالیٰ زید پر رحم فرمائے، وه مومن تهے،عارف تهے۔ عالم تهے، صادق تهے۔ اگر وه کامیاب هو جاتے تو وفائے عهد کرتے، اگر حکومت ان کے هاته آجاتی تو اس ذمه داری کو خیر خوبی کے ساته وه انجام دیکر دکها دیتے۔'' اس بیان میں وفائے عهد کلیدی الفاظ هیں جو حضرت زید کی نیک نیتی پر سند هیں۔ زید کے ساته امام کی عدم شرکت کی ایک وجه یه بهی هوسکتی هے که وه اپنے آپ کو علم کی اشاعت اور فقه کی تدوین جیسے اعلیٰ اهداف کی تکمیل کے لئے وقف کرنا چاهتے تهے جس کے نتائج دوامی نوعیت کے تهے۔ ( رئیس احمد۔٢)
٦۔ تدوین فقه ایک جائزه :
امام جعفر صادق(ع) کے تذکره میں ذهن فوری فقه جعفری کی طرف متوجه هو جاتا هے کیونکه تدوین فقه کی کوشش امام صادق ؑ کے حواله کے بغیر نا ممکن سمجهی جاتی هے۔ مکتب تشیع کی فقه یعنی فقه جعفری تو اپنی وجه تسمیه هی سے امام صادق(ع) کی مرهون منت اور احسانمندی ظاهر کرتی هے۔
عربی میں فقه کے لغوی معنی علم و فهم هے اور فقیه کے معنی عالم هیں لیکن مرور زمانه کے ساته اصطلاحاً اس سے دینی مسائل اور استدلالی علم مراد لیا جاتا هے۔ جس میں احکام شریعه کو اجاگر کیا جاتا هے۔ یه احکام واجب ، مستحب ، حرام ، مکروه ، اور مباح کے محور کے اطراف اپنے میں سبب، شرط ، مانع ، صحت بطلان، رخصت اور عزیمت کے پهلو لئے هوئے هوتے هیں۔ یه تمام فقهی اصطلاحات هیں جن کی تفصیل متعلقه کتابوں میں دیکهی جاسکتی هے۔ فقه کی اس مختصر تشریح کے بعد اب تدوین کا مطلب جمع کرنا یا مرتب کرنا هے۔ اس لحاظ سے جب هم تددوین کی نسبت سے امام جعفرِ صادق(ع) کا نام لیتے هیں تو اس کا مطلب یه هے که اپ نے فقه محمدیه کے  احکام کو جمع اور مرتب کیا که وه ایک مستقل علم بن گیا۔ (مظفرحسن۔٣)
اسلامی تاریخ میں فقه کی تدوین کے چند واضح ادوار نظر آتے هیں ، امام صادق(ع) کی علمی فیوض کو سمجهنے کےلئے فقه اسلامی کے تدریجی ارتقاء کا مطالعه ضروری هے۔ اس کا سب سے پهلا عهد حضرت ختمی مرتبت کی ظاهری رسالت سے ١١ه تک محیط هے جس میں سوائے چند استثنائی واقعات ( صلح حدیبیه ، حدیث قرطاس) کے بظاهر مسلمانوں میں کوئی اختلاف نظر نهیں آتا۔ رحلت سر کار کائنات کے فوری بعد سب سے بڑا فقهی اختلاف آنحضرت کی جانشینی کے سلسله میں نمودار هوا اس دور میں جو پهلے تین خلفائے راشدین کے زمانه یعنی تقریباً ٢٤ سال(٣٥ه) تک پهیلا هوا هے قرآن اور سنت کے علاوه فقه کے ماخذ میں قیاس اور اجماع کا اضافه هوا اور ساته ساته روایت حدیث پر کڑی پابندی لگادی گئی جس کی وجه سے قیاس پر زیاده انحصار هوا۔ تیسر ادور ٣٥ه تا ٤٠ ه میں خلافت امیر المومنینؑ کے دوران قرآن و سنت هی ماخذ فقه رهے اور اس پر سختی سے عمل کیا گیا۔ ( شبیهه الحسن۔٣) تدوین فقه کا ایک اهم اصول فکر کی یکسانیت هے فقه کی تدوین میں احکامات الهیه اور منشائے قدرت یعنی نص کے تعین کے لئے وصل قول بهی ایک اهم اصول رها هے۔ احکام فقه میں نص کے تعین اور تلاش کے طریقوں پر تفصیلی بحث علامه رشید ترابی نے ( اسلام میں اجتهاد) کے عنوان پر اپنے ایک مقاله میں کی هے جو ١٩٥٧ء میں ایک بین الاقوامی سیمنار میں پیش کیا گیا۔
اثنائے عشری شیعه عقیده کی رو سے اسلام کی اصل تشریح وهی هے جو وفاتِ پیغمبر(ص) کے بعد حضرت امیر المومنین ؑسے لے کر بار هویں امامت تک بلا فصل جاتی هے۔ بالآخر هر حکم کا منبع قول معصوم هوتا هے اور جو کچه راوی کی زبان پر آئے گا وه عصمت ِ فکر اور معیار صداقت پر پورا اتریگا۔ ( اسد اریب ۔٥) حضرت علی سے امام حسین تک یه وصل قول انتهائی بهر پور انداز میں عیاں هے۔
چوتها دور ٦٠ ه تا ١٣٣ ه کا هے جو بنی امیه کی خلافت کا زمانه هے اس دور میں شهادت امیر المومنین ، امام حسن کی ظاهری خلافت سے دستبرداری اور شهادت، سانحه کربلا و مکه مکرمه اور مدینه منوره کی تاراجی کے واقعات دیکه کر انسان یه سوچنے پر مجبور هو جاتا هے که سلاطین بنو امیه کس فقه کے پابند تهے۔ جس میں ان باتوں کی انهیں اجازت تهی۔ عمر بن عبدالعزیز کے دور میں البته فدک واپس کیا گیا لیکن یه ثابت نهیں هوسکا که کس فقه کے تحت چهینا گیا تها۔
پانچواں طویل دور ١٣٥ه سے ٢٦٠ه یعنی ١٢٥ سال پر محیط هے دور امام صادق ؑکی امامت کے ابتدائی زمانے سے شهادت امام حسن عسکریؑ کے بعد تک پهیلا هوا هے، سیاسی اور فکری اعتبار سے تاریخ اسلام کا یه نهایت اهم دور تها اس زمانے میں بے شمار تاریخ ساز واقعات اور تحریکات رونما هوئے جس کے نتیجے میں امت مسلمه بشمول شیعه فقهی اعتبار سے مختلف مسلکوں میں بٹ گئی ۔ اس دور میں روایت حدیث پر کوئی پابندی نهیں تهی اور وقتی مصلحتوں اور حاکمانِ وقت کی سرپرستی کے نتیجے میں وضع حدیث ایک مشغله اور پیشه بن گیا تها۔ اس دور میں امام حنبل ،امام بخاری ،امام مسلم ، ابو داؤد، ابن ماجه اور نسائی کی مسانید کی تدوین هوئی اب وه صحابه اور تابعین بهی نهیں رهے جنهوں نے یه احادیث سنے تهے اور اصل اور نقل میں تمیز کر سکتے تهے۔ مزید برآں فتوحات اور اسلامی سلطنت کی توسیع اور بڑهتے هوئے بیرونی روابط کے نتائج میں ایک نیا خفلشار اسلامی فلسفه میں ایران، روم اور یونان کے فلسفوں کی آمیزش کی صورت میں نمودار هوگیا تها۔ ( شبیه الحسن ۔٣)
٧۔ تدوین فقه اور امام صادق(ع)
یهاں یه سوال پیدا هوتا هے که اس افرا تفری کے عالم میں فقه اسلامی کو اس اصل روح میں محفوظ رکهنا کس کی ذمه داری تهی؟ واقعه کربلا اور اس کے تسلسل میں دربارِ شام میں جناب زینب (س)کے خطبه نے ثابت کردیا که حق اور نا حق اورر استی اور گمراهی میں حد فاصل قائم رکهنے کا فریضه آئمه حق نے اپنے ذمه لے لیا تها۔ یه ذمه داری ان آئمه نے نهایت منصوبه بندی سے انجام دی۔ اس کی خاموش ابتداء امام زین العابدین (ع) نے اپنی دعاؤں سے کی جن کے ذریعے امت کے افراد کے ذهنوں کی تربیت کا انتظام کیا گیا۔ بعد ازاں امام محمد باقر (ع) نے مدینے میں اپنی درس گاه میں با قاعده درس کا آغازکیاجس کی بنیادوں کو امام جعفر ِ صادق(ع) نے استوار کیا۔ امام جعفر صادق(ع) کی یه امتیازی خصوصیت هے که آپ کو اپنی ٦٥ سال عمر میں سے تقریباً ١٢ سال اپنے دادا حضرت علی ابن الحسینؑ کی معیت میں اور پهر ١٩ سال اپنے والد ماجد کے زیر سایه گزار نے کا موقع ملا اور پهر خود اپنی امامت کے ٣٤ سال میسر هوئے۔ اس دوران بنو امیه اور بنو عباس کو اپنی لڑائیوں میں مشغولیت نے آل محمد (ص) کے ساته تعرض کا موقع نهیں دیا۔ امام صادق(ع) نے اس موقعه کا فائده اٹهاتے هوئے اس درس گاه کو ایک عظیم دانش گاه کے رتبه تک پهنچا دیا۔ میرے راقم کے اندر کا استادیه کهه رها هے که اس دانشگاه کے نصاب کا دستاویز بهت پهلے هی امام زین العابدینؑ نے صحیفه کامله کی شکل میں تیار کردیا تها۔ بظاهر یه دعاؤں کا مجموعه اپنے اندر حکمت اور دانائی ، احکام خداوندی ، عبد اورمعبود کے تعلقات ، حقوق الناس اور تخلیق کائنات جیسے کثیر الجهت عنوانات پر مشتمل تها جو پڑهنے والوں کو دعوت فکر دیتا هے۔ محمد ابن ِ یعقوب کلینی نے ١٦١٩٩ احادیث پر مشتمل اصول کا فی بطور تدریسی مواد مهیا کیا جس کو من لا یحضر الفقیه ، تهذیب اور استبصار نے مزید و سعت دی اور اس طرح تقریباً ٦٠ هزار احادیث پر مشتمل یه مایه ناز سر مایه بنا جس کی موجودگی میں همارے علماء کو قیاس اور رائے پر عمل کرنے کی ضرورت نهیں تهی۔ امام صادق(ع) کی تدوین فقه کی انهی کوشش کی بنا ء پر فقه محمدی کو فقه جعفری سے موسوم کیا گیا کیونکه اس کو فقه حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی سے ممتاز کیا جاسکے۔ یه بهی ایک تاریخی حقیقت هے که جب باقی فقهوں کو ریاست کی سرپستی حاصل تهی فقه جعفری پُر زور مخالفتوں کا مقابله کرتی هوئی پهیلی اور یوں اپنی ترقی کی راهیں طے کرتی رهی( محمد حسین ۔٦) اس کی ارتقاء میں قابل ِ ذکر سنگِ میل علامه حلی( ساتویں صدی) علامه بهبهانی ( گیارهویں صدی) شیخ مرتضیٰ (تیرهویں صدی) اور پهر موجوده دور میں ایران ، عراق، بیروت اور دمشق کے حوزه علمیه نے اس کی آبیاری کا فریضه سنبهالا هواهے۔
موجود دور میں فقه جعفری کی اعلیٰ علمی حلقوں میں پذیر آئی کی ایک قابل ذکر مثال مصر کی عظیم دانشگاه جامعه ازهر کے چانسلر مفتی علامه شیخ محمود شلتوت کا ایک منصفانه اور جرات مندانه قدم هے۔ تقریباً بیس سال پهلے انهوں نے یه نظریه پیش کیا که اجتهاد کا دروازه کهلاهے اور قوی دلیل کی موجودگی میں ایک مذهب یافقه کے ماننے والوں کے لئے دوسرے مذهب کی طرف رجوع کرنے میں کوئی امر مانع نهیں هے اور اس بناء پر انهوں نے قانونی طور پر فتویٰ دیا که دوسرے مذهب کی طرح شیعه فقه پر بهی عمل صحیح هے۔ ان کا یه اقدام قدر و منزلت کا متقاضی هے۔ (عقیقی۔٧)
فقه جعفری کی برتری کے لئے یه کهنا کافی هے که دیگر تمام فقهوں کے بانی بالواسطه یابلا واسطه امام صادق ؑکے شاگرد تهے اور اس پر ان کو نازل بهی تها۔ فقه جعفری میں دور جدید کی ضروریات کے مطابق اجهتاد کے ذریعے انسانی مسائل کے حل کی تمام صلاحتیں موجود هیں۔ یه ایک عادلانه نظام هے جو نیکی اور بدی میں تمیز کی راه بتاتا هے جهاں سرور کے موقعوں پر خوشی کے اظهار کا ڈهنگ اور آلام و مصائب میں تعزیت کے اسلوب بتائے جاتے هیں۔ جهاں اکابرین کے کارناموں کو اجاگر کیا جاتا هے اور عبرت کے نشانات سے دوری سکهائی جاتی هے یه ایک صالح معاشرے کے قیام میں مدد دیتا هے۔ ( عبدالکریم مشتاق ۔٣)
٨۔امام جعفر صادق(ع) کے علمی فیوض:
مخلوقات کی هدایت کی غرض سے انبیاء اور پیغمبروں کا ایک سلسله تخلیق کیا گیا جو هم تک آنحضرت اور آئمه اهلبیت کی صورت میں پهنچا۔ باوجود یکه ختمی مرتبت کے بعد کسی بهی امام کو کام کرنے کا موقع نه ماحول میسر هو سکا هر امام نے اپنے عهد میں فیوض امامت امت تک پهچانے کا مناسب انتظام کیا۔ کربلا کے مصائب کے بعد امام زین العابدین (ع) نے ایک انوکهے انداز میں تبلیغ دین کی جو صحیفه کامله کی صورت میں آثارِ علمیه کا ایک شاهکار هے۔ امام محمد باقر (ع) وه کوهِ علم هیں جس بلندیوں تک انسان کی نگاهیں پهنچنے سے قاصر هیں۔ آپ کا شریعت کده علم و حکمت کا سرچشمه تها۔ امام جعفر صادق(ع) کی شخصیت کا اهم رخ یه هے که آپ نے اپنے علمی انقلاب سے معارف اسلام کے افق کو اتنی زیاده وسعت دی که دیکهتے هی دیکهتے ایک نسل بعد جب حضرت امام رضاؑ نیشا پور میں قدم رکهتے هیں تو هزار ها افراد امام ؑ کی اواز سننے اور ارشاد کوکاغذ پر محفوظ کرنے سراپا مشتاق تهے ( احمد علی۔١) یوں تو سلسله امامت کے هر فرد نے جس قدر ممکن هوسکا ظلم و ستم اور قیدو بند کی فضاؤں میں بهی فرائض امامت کو انجام دیا، لیکن امام صادق(ع) کو اپنے عهد میں موقع مل گیا تهاکه آنحضرت کے مقصد یعنی ( کتاب و حکمت کی تعلیم) کو فروغ دیں۔ اس دور میں علم کا پهیلا ؤ اس حد تک هوا که انسانی فکر کا جمود ختم هو گیا اور فلسفی مسائل کهلی مجلسوں میں زیر بحث آنے لگے ۔ اس ضمن میں جسٹس امیر علی لکهتے هیں۔ '' یه تحریک امام صادق(ع) کی سر کردگی میں آگے بڑهی جن کی فکر و سیع ، نظر عمیق اور جنهیں هر علم کی دستگاه حاصل تهی حقیقت تو یه هے که آپ اسلام کے تمام مکاتب فکرکے موسس اور بانی کی حیثیت رکهتے هیں آپ کی مجلس بحث ودرس میں صرف وهی افراد نهیں آتے تهے جو بعد میں امام مذهب بن گئے بلکه تمام اطراف سے بڑے بڑے فلاسفر استفاده کرنے حاضر هوتے تهے۔ ''
دوسری صدی کی ابتداء یعنی ١٣٣ه میں اموی خلافتوں کے خاتمه پر عباسی دور شروع هوا۔ یه عبوری دور انتقال و تحویل اقتدار کی کشمکش کا وقفه تها، جس کو استعمال کرتے هوئے امام صادق(ع) نے علوم و معارف اسلام کی ترویج و اشاعت کا اهم کام انجام دیا۔ یه وه دور تهاجب فتوحات اور بیرونی دنیا سے بڑهتے هوئے روابط کے نتیجے میں رومی اور یونانی فکری اثرات عربستان میں مختلف فنون، علوم اور نظریاتی رجحانات کو متاثر کر رهے تهے جو اسلام کے خلاف ایک بیرونی یلغار ثابت هو رهے۔ ( موجوده عالمگیر یت یا گلوبلائزیشن کی ایک صورت میں) یه ایک ایسی سرد جنگ تهی جس کے زهر یلے اثرات اور هلاکت سے مسلمانوں کو محفوظ رکهنا صرف تلوار کی دهار اور اسلحه کی طاقت سے ممکن نه تها کیونکه علم و فکر کا مقابله علم و دانش هی سے کیا جاسکتا هے۔ نسلی تعصب اور جهالت سے فکری اور علمی طوفان پر بنده نهیں بانده سکتے ( علامه رضی۔٣) امام صادق ؑ واقف تهے که ایسی صورت میں سب سے بهتر حکمت عملی امت مسلمه کو حصول علم و دانش کی طرف راغب کرنا هے۔ ان فیوض کے اجراء کے لئے مدینے میں آپ کا گهر اور مسجد نبوی ایک بڑے علمی تحقیقی مرکز کی شکل اختیار کر گئے اوراس حلقهئ تعلیم ، تدریس و تحقیق میں کم از کم چار هزارطلباء مختلف شهروں اور ملکوں سے آکر زیر تعلیم تهے۔ شیخ طوسی کے بموجب یه تعداد ٣١٩٧ مرد اور ١٢ خواتین پر مشتمل تهی۔ حسن بن علی بن زیاد جو شاگرد امام رضا (ع) تهے اور خود بهی اساتذه حدیث میں شمار هوتے تهے فرماتے تهے که '' میں نے مسجد کوفه میں نوسو استاد حدیث کو دیکها هے جو امام صادق(ع) سے حدیث نقل کرتے تهے'' صاحبان ِ اصول یعنی وه لوگ جو اصل کتاب جس میں راوی اور معصوم کے درمیان صرف ایک واسطه هوتا هے امام کی خدمت میں حاضر هو کر ارشادات قلم بند کرتے جاتے۔ اس طرح ایسی چارسو کتابیں تیار هوئیں جن کو'' اصول اربعماۃ''(چار سو اصول) کها جاتا هے۔ محمد ابن یعقوب کلینی نے چار سو کتابوں کی مدد سے '' اصول کافی'' مرتب کی جو فقه جعفریه کی بنیادی کتاب هے۔( محمد محمدی۔٨) یه امام صادق(ع) کا فیض تها آج همارا حدیثوں کا سرمایه اتنا مستند اور مستحکم هے۔
امام صادق(ع) کے علمی فیوض کے ضمن میں یه عرض هے که علم تو آئمه کی میراث هے جس شعبه سے بهی متعلق هو سوال کرنے والے کو مطمئن کردیا۔ ان کے ذاتی تقدس اور دینی نظام میں ان کے مقام کے حوالے سے امام سے حصولِ فیوض کو زیاده تر دینی معاملات تک محدود رکها گیا۔ یه هماری بصیرت کی کوتاهی هے۔ ورنه علوم طبعیه اور کونیه (کائناتی معلومات) علوم میں بهی هم اپنے آئمه کو انتهائی مقام پر فائز دیکهتے هیں۔ نهج البلاغه اور صحیفه سجادیه میں اس ضمن میں بے شمار اشارے موجود هیں۔ خوش قسمتی سے امام جعفر صادق کو درس و تدریس ، بالمشافه افهام و تفهیم ، مناظرون اور مواعظه حسنه کی صورت میں ایسا ما حول اور موقع میسر هو اکه علوم جدیده کے شعبه میں بهی اپنے فیوض سے مستفید کر سکے بلکه یه کهنا بر محل هوگا که اس سلسله میں بهی انهیں ایک امتیازی مقام حاصل هے۔ (محسن نقوی ۔٤) 
٩۔مغز متفکر اسلام :
مختلف علوم میں امام کی دسترس کا بنیادی راز یه هے که آئمه اور معصومینؑ کا علم لدنی هوتا هے اور کائنات کی هر چیز ان کے سامنے ایک کهلی کتاب کی طرح هے۔ یه الهامی علم هے جس کی بنیاد روحانیت ، تزکیه نفس اور معارف الهیه هیں اس موقع پر ایک اهم کتاب کا حواله مقصود هے جس کا همارے علمی حلقوں میں بے حدچرچا هے، فرانس کے شهر اسٹراسبرگ کی یونیورسٹی کے مطالعاتی مرکز سے شائع هونے والی کتاب کا فرانسیسی زبان سے ذبیح اﷲ المنصوری نے ''مغز متفکر جهانِ شیعه '' کے نام سے فارسی ترجمه کیا تها۔ همارے دانشور محمد موسیٰ رضوی نے اس کتاب کی اردو زبان میں تلیخض '' حضرت امام جعفر صادقؑ کے بارے میں ٢٣ یورپی دانشوروں کی تحقیق'' کے عنوان سے دو حصوں میں اداره تبلیغات ِ اسلامی کے ذریعه شائع کروائی۔ اردو داں طبقه کے لئے ان کی یه خدمت لائق تحسین هے۔ بعد ازاں قیام پبلی کیشنز لاهور نے ١٩٩٤ء میں اصل فارسی کتاب کا مکمل اردو ترجمه شائع کیاجس کے مترجم سید کفایت حسین هیں۔ اصل کتاب کی مناسبت سے اس کا نام '' مغز متفکر اسلام '' هے لیکن اس کا عوامی نام '' سپر مین اِن اسلام '' زیاده زبان زد عام هے ۔
اس کتاب میں ایسے مطالب درج هیں جو پهلی مرتبه عام قاری تک پهنچے هیں، یه کتاب ایک علمی کاوش هے جو ٢٥ دانشوروں کی تحقیق کا نتیجه هے جس میں صرف دو مسلمان هیں ( حسین نصر، موسیٰ صدر) باقی یورپ اور امریکه کی مختلف جامعات سے منسلک پروفیسر اور مستشرقین هیں۔ اس کا وش کا پس منظر یه هے که ستر هویں صدی عیسوی سے اسلامی مسائل یورپ کے دانشوروں کی توجه کا مرکز بنے هوئے تهے ۔ اسٹر اسبرگ یونیورسٹی کا تحقیقاتی مرکز جوادیاں عالم پر ریسرچ کرتا هے دوسری جنگ عظیم کے بعد اهل تشیع اور ان کے مذهب کی عظیم شخصیات کی علمی سطح ، خدمات اورفیوضات کا جائزه لیا اور اس جائزه کے دوران مختلف کتب خانوں میں موجود شیعه دانشوروں کی علمی تحقیقات اور دستاویزات کے مطالعه کے نتیجه میں ان دانشوروں کو امام جعفر ِ صادق ؑکی آفاقی شخصیت کا پهلی مرتبه انداز هوا۔ (موسیٰ رضوی ۔٩)
یه بهی ایک اتفاق هے که ممتاز دانشور محمد ابوزهرا مصری کے مطابق'' اختلاف فکر و نظر اور اختلاف حزب و طائفه کے باوجود علماء اسلام کسی امر پر اس درجه متفق نهیں هوئے جتنے امام جعفر صادق کے علم و فضل پر یعنی حق زیاده دیر تک پوشیده نهیں ره سکتا ۔ یهاں یه جاننا بهی ضروری هے که اس کتاب کے مندرجات کے انتخاب کی اساس امام صادق ؑ کی روحانیت نهیں هے اور نه یه توقع رکهنی چاهئے کی متذکره غیر مسلم دانشور امام کی ذاتی ، مذهبی یارو حانی شخصیت کی طرف کوئی جهکا ؤ رکهتے تهے۔ اس وجه سے امر باعث طمانیت هے جو نتائج اخذ کئے گئے اور جو انکشافات پیش کئے گئے بالکلیه علم و فضل اور سائنسی علوم کی جانچ کے عالمی معیار پر پورے اترے، یهی اس کتاب کی پذیرائی کا منفرد پهلو هے۔ اس کتاب میں علوم جدیده سے متعلق انکشافات اور مندرجات پڑه کر ایک فخر محسوس هوتا هے جب امام ایک استاد کی طرح نهایت دقیق مسائل مثلاً ماحول کا تحفظ ، دنیا کے حالات میں بد نظمی کے اسباب ، کائنات کا متحرک هونا، تخلیق کائنات ، وائرس ، جراثیم اور اینٹی باڈیز( ضد اجسام) اور ماده کی دوامیت جیسے نظریات کے اسباب و علل اور توضیحات نهایت آسان پیرایه میں سمجها تے هیں ۔ تیره سو سال پهلے جب انسانی ذهن میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا کوئی واضح تصور موجود نه تها اور نه صحت کے ساته جانچنے والے آلات موجود تهے اس وقت امام جعفر صادق(ع) نے حیات و کائنات کے حواله سے ایسے افکار و نظریات پیش کئے جو صدیوں بعد علمی اور سائنسی تجربات کی پیش رفت کے نتیجے میں حاصل هونے والی معلومات سے حد درجه مطابقت رکهتے هیں۔ ( کفایت حسین ۔١٠)
١٠۔ چند مثالیں
اس مقاله میں ان امور پر تفصیلی بحث کی گنجائش نهیں لیکن صرف سر سری طور پر چند نظریات کی طرف اشاره مقصود هے تاکه تجس کو مهمیز ملے۔
١۔ عناصر اربع: امام نے واضح کیاکه عناصر اربع میں هوا ایک مجرو عنصر نهیں اور نه هی پانی ، بلکه یه مرکبات هیں آج همارے پاس ١٠٩ عناصر کی ایک طویل فهرست هے ۔
ب۔ زمین کی حرکت: امام نے آیاتِ قرآنی کی روشنی میں ثابت کیا که سورج اپنی جگه قائم هے اور زمین سورج کے اطراف اپنے محور کے گرد گهومتی هے جس سے دن رات اور موسم تبدیل هوتے هیں ، یه ایک انقلابی دریافت هے۔
ج۔ ماحول کے تحفظ کے سلسله میں آپ نے فرمایا که آدمی کو زندگی اس طرح گزارنی چاهئے که اس کا ماحول آلوده نه هو ورنه بالآخر زندگی گزارنا مشکل بلکه نا ممکن هو جائیگا۔ آج ماحولیات سب سے بڑا مسئله هے۔
د۔ امام کی نظر میں طوفان، سیلاب ، زلزله کائنات کی بدنظمی نهیں هے بلکه ایک مستقل ناقابل ِ تسخیر اور تغیر قواعد کی اطاعت کا نتیجه هے جس کے خلاف انسان کو ئی تدارک نهیں کرسکتا۔ ( ثقلین ۔١١)
خلاصۃ ً عرض هے که امام صادق(ع) نے کلیات کی طرف اشاره کردیا هے اگر ان کی جزئیات پر موجود سائنس علوم اور وسائل کے ساته تحقیق کی جائے تو انسانیت کی بهلائی کے اسباب مهیا هو سکتے هیں۔
١١۔ امام صادق(ع) کے شاگر د اور اصحاب:
ایک درخت اپنے پهل سے، ایک آدمی اپنے ساتهیوں سے اور ایک استاد اپنے شاگردوں کی صلاحیتوں سے پهچانا جاتا هے۔ امام صادق(ع) کے شاگرد اور اصحاب کی ایک طویل فهرست هے ان میں چند معروف نام آبان بن تغلب ، هشام ابن الحکم، مفضل بن عمر، حماد بن عیسیٰ ، زرارۃً بن اعین، محمد بن علی المعروف مومن طاق اور آخر میں لیکن بهت قابل احترام جابر بن حیان هیں۔
امام جعفر صادق ؑسے پهلے تحصیل علم کے لئے لوگوں میں خاص رغبت نهیں پائی جاتی تهی اس عدم تو جهی کا ایک سبب درس و تدریس کا طریقه تها، مسلمانوں میں حصول ِ علم کا جذبه اور شوق پیدا کرنے کے لئے امام صادق(ع) نے باهمی ربط کا موثر طریقه رائج کیا جس کو موجوده زمانه میں Intractive طریقه کهتے هیں اس میں شاگرد کو سوالات کرنے کی آزادی تهی امام سے مختلف افراد کے مناظروں میں اس طریقه کی جهلک نظرآتی هے، امام کی دانشگاه میں مختلف علوم یعنی فقه، حدیث ،اصول، علم کلام اور تفسیر کے علاوه علوم طبیعی اور علمِ ابدان سے متعلق امور پر درس و تدریس اور بحث و مباحثے هوتے تهے۔ امامؑ اپنے شاگردوں کو تاکید فرماتے تهے که جو کچه سمجهو اور سنو لکه لو کیونکه جب تک لکهو گے نهیں اس وقت تک حفاظت نه کرسکو گے۔ علم و حکومت کو زمانے کی دست برد سے محفوظ رکهنے کے لئے ضبط تحریر میں لانا ضروری هے، انسان کا حافظه کتنا هی قوی کیوں نه هو تحریر کا مقابله نهیں کرسکتا۔ امام صادقؑ کا منشایه تهاکه ذهن کی دی هوئی دولت اور بصیرت کی نعمت کو الفاظ کے مکتوبی حصار میں محفوظ کرلینا چاهئے۔ ( مظفر حسن ۔٣)
امام کے چند شاگردوں کا مختصر تذکره حسب ذیل هے۔
الف۔ آبان بن تغلب ابو سعد الکوفی: انهوں نے ٣ آئمه کا زمانه دیکها۔ یعنی امام زین العابدین، سے امام صادق(ع) ، وه قاری بهی تهے اور فقیه بهی۔قرآن ، حدیث،لغت اورتجوید میں دوسروں پر سبقت رکهتے تهے ان کے بارے میں اتنا کهنا کافی هے که امام محمدباقر (ع) نے ان سے فرمایا تها که مسجد مدینه میں بیٹهو اور لوگوں کو فتوے دو اس کے علاوه سوائے صحیح بخاری کے دیگر تمام صحابه میں ان کے حواله سے روایتیں موجود هیں یعنی یه بین الفریقین قابل ِ اعتماد هیں۔ ان کی اهم کتاب (غریب القرآن) هے جو اس موضوع پر پهلی کتاب هے جس میں الفاظ قرآنی کے مفهوم پر اشعار عرب سے استدلال کیا گیا هے۔ اس کے علاوه ''کتاب الفضائل'' اور'' کتاب القرات'' آپ کی اهم تالیفات هیں۔ (محسن نقوی۔٤)
ب: هشام بن الحکم البغدادی لکندی: ان بزرگ هستی کا تاریخ اور رجال کی کتب میں خاص تذکره کیا گیا هے ان کی علمیت کے اندازه کے لئے یه کافی هے که انهوں نے ''الردعلیٰ ارسطا طالیس'' نامی کتاب میں ارسطو کے فلسفه پر تنقید کی هے ۔ ان کی پوری زندگی مناظروں میں گزری جس میں جاثلیق نصرانی عالم سے مناظره، امامت حق کی اطاعت کا وجوب اور ابو حنفیه سے مناظرے شامل هیں۔ امام صادق(ع) سے رسائی کے بعد انهوں نے اپنے آبائی مذهب کو تبدیل کردیا اور مکمل طور پر اپنے آپ کو خدمت امام کے لئے وقف کردیا اور آخری وقت تک پاسداران ولایت هی رهے۔ ان کی تصانیف بصورت مناظر ے کے حوالے موجود هیں۔ هشام کے متعلق امام صادق(ع) کا قول هے ''هشام همارے حق کا سراغ رساں هے هماری صداقت کا موئد همارے اعدا کی باطل قوتوں کا دفع کرنے والا  هے۔'' امام محمد تقی (ع) نے هشام کے متعلق کها۔ '' اﷲ ان پر رحمت کرے وه کسی طرف سے هم پر حرف نهیں آنے دیتے تهے۔''(محسن نقوی ۔٤)
ج۔ جابر بن حیان: امام جعفر صادق(ع) کی شخصیت اور علمی فیوض کے سلسلے میں جابر بن حیان طوسی کے ذکر کو خصوصیت حاصل هے، جابر ١٠٤ ه میں پیدا هوئے اور ٢٠٢ه میں ان کا انتقال هوا۔ حجاج بن یوسف کے هاتهوں اپنے والد کی شهادت کے بعد مدینه آگئے اور امام کی خدمت میں پهنچے۔ جابر نے امام سے کسب فیض کے بعد علم کیمیا میں اهم انکشافات اور نظریات پیش کئے جس کی بناپر ان کو ''بابائے کیمیا'' کے لقب سے یاد کرتے هیں جابر نه صرف علم کیمیا کے ماهر تهے بلکه حیاتیات اور نباتات ، علم حجر( جیالوجی) اورنفسیات پربهی ان کی متعدد کتابیں اور رسالے موجود هیں۔
جابر کی سائنس کی بنیاد کلام الهی پر هے۔ جابر نے امام صادق(ع) سے روایت کی که ( پاره چاندی) هے جو آگے چل کر تمام عناصر میں یگانگت اور صرف ایٹمی نمبر کے فرق کے نظرئے کی توثیق کرتا هے۔ جابر کلام معصوم کے حواله سے ایک سائنسدان کی صفت کا پروفائل یوں بناتے هیں '' که علوم عقلیه پر تحقیق کرنے والے کے لئے ضروری هے که وه صالح هو اور کلام مجید اور کلام معصومین ؑسے آگاهی رکهتا هو۔ ایسے شخص کو فاضل هونا چاهئے، اور بصیرت والی آنکهیں هونی چاهئے اسے آلات کے استعمال کا علم هونا چاهئے۔ ( علی سرور ۔٣)
آخر میں عرض یه هے که مغرب کے علمی سفر کا آغاز سولهویں صدی سے هو تا هے جبکه لوگ نو جوانوں کو مشوره دیتے تهے که تهذیب یا علم کے لئے عربی سیکهو جس کی بنیاد وه معلومات یا نکات هیں جن کو امام صادق کے فیض اور سرپرستی میں حاصل کر کے جابر جیسے شاگرد وں نے سائنس کو مالا مال کردیا، جابر کے ٥٠٠ رسائل اور کتابوں کا جرمن زبان میں ترجمه کیا گیا کچه کتابیں فرانسیسی تراجم کے ساته ایران ، مصر، ترکی ، جرمنی اور فرانس کے کتب خانوں کی زینتیں هیں۔ اب انٹر نیٹ اور ویب کی سهولتوں کے ذریعے امام کے فیوض دنیا کے هر کونے میں علم کے پیاسوں کی دسترس میں هیں۔
١٢۔ فقه جعفری میں گروهی تقسیم:
مقاله کے اختتامی مرحله پر فقه جعفری میں گروهی تقسیم کے اسباب و عمل کا جائزه ضروری هے، بڑے فرقوں میں مرور زمانه کے ساته تفریق و تقسیم تعجب کی بات نهیں شیعیت میں گروهی تقسیم کے واقعات عهد امام جعفر ِ صادق(ع) سے پهلے بهی رونما هوئے تهے لیکن امام صادق ؑکی شهادت کے بعد یه مسئله شدت اختیار کر گیا جس کے نتیجے میں شیعه بالآخر اسماعیلی ، بوهری اور اثنا عشری مسلکوں میں تقسیم هو گئے۔ اس کی اصل وجه یه هے که منصب امامت '' بذریعه نص'' کے بارے میں جو وحدت فکر تهی اس میں بتدریج تبدیلی ظهور پذیر هوئی اور منصب امامت بطورایک کسبی رتبه کے نظریه کا فروغ هوا۔ اس رجحان سے متوازی قیادت کا تصور ابهرا جو امامت ازروئے نص کے اصول سے متصادم تها۔
شیعیت میں تفریق کا ایک اور ممکنه سبب بهی قابل غور هے، امام صادق(ع) نے شیعیت کو ایسے نقطه عروج پر پهنچادیا تها که هر کوئی طالع آزما اس کو اپنے مفاد میں اپنا نا چاهتا تها لیکن مجبوری یه تهی که ان میں کوئی بهی اس پایه کا عالم یا محدث نهیں تهاکه فقه جعفری سے بهتر تصور پیش کرسکے۔ بالآخر انسانی ذهن کی تخریبی صلاحیتوں کے ذریعے ایک عظیم الشان مسلک میں شکست و ریخت کے سامان پیدا کئے گئے۔ اس منصوبه کو انجام دینے کے لئے امام صادق ؑ کے سب سے بڑے بیٹے اسماعیل کی وفات کو نزاعی مسئله بنادیا جب که اسماعیل امام کی زندگی میں ٢٦ سال کی عمر میں ١٣٣ه میں وفات پا چکے تهے۔ اس ضمن میں یه بهی کها جاتا هے که اسماعیل کو منصور دوانیقی کے ظلم سے بچانے کے لئے ان کی وفات کا شهره کیا گیا لیکن اس ضمن میں تاریخ خاموش هے۔ کسی کمزور یا بے بنیاد نص کی بناء پر امام صادق کی شهادت کے بعد ایک گروه نے امامت کو اسماعیل کے ذریعه ان کے بیٹے محمد تک پهنچادیا اور انهیں اپنا ساتواں امام مان لیا اور  سبعیه کهلائے۔ یه ١٣٣ه میں محمد ابن اسماعیل کی وفات کے بعد امامت ختم سمجهتے هیں اور هدایت کے لئے ایک حاضر امام کا وجود ضروری سمجهتے هیں۔ اپنے اس عقیدے کی ترویج کے لئے انهوں نے افریقه کو مناسب سمجها کیونکه یه عباسیوں کی دسترس سے دور تها۔ مزید یه که افریقه میں امام جعفر صادق ؑنے ١٤٥ ه میں عقائد اهلبیت ؑکی تعلیم کے لئے دو داعی بهیجے ۔ مصری فاطمئین کے دور میں اسماعیلی عقیدے کو رواج ملا۔ ان کے ایک نامور امام نزار( عزیز باﷲ) کے انتقال پر ٣٤٤ه ١١٩٥ء میں نیابت کے مسئله پر ان میں دو شاخیں هوگئیں۔ ایک گروه آغا خانی اور اسماعیلی اور دوسرا نزار کے بهائی مستعلی کی تقلید کی نسبت سے مستعلیه کهلایا۔ موخر الذکر نے فقه جعفری کی تقلید میں اپنے هاں ایک مهدی غائب کا تصور پیش کیا اور هدایت کے امور ایک داعی کے سپرد کردیئے جو ابهی تک جاری هے۔ ( زاهد علی ۔١٢) عام زبان میں شش امامی داؤدی بو هره کهلاتے هیں۔ دیگر فقهی امور میں یه فقه جعفری سے قریب هیں اس کے برعکس اسماعیلی عقائد میں فقه جعفریه سے انحراف هے، دونوں گروه دنیوی آسائش اور نجات اُخروی کے وعدوں پر پیرؤں کو اپنی طرف کهنچتے هیں۔ شیعوں کا وه گروه جو امام صادق(ع) کی نص کی بنیاد پر حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) کے ذریعه سلسله امامت کو بارهویں هادی تک مسلسل رکها وه شیعه اثنا عشری کهلائے اور یهی اپنے آپ کو اعلانیه فقه جعفری سے متمسک قرار دیتا هے۔ شیعوں میں گروهی تقسیم کی اس بحث کے منطقی انجام میں یه عرض هے که تاریخ امامت حقه میں ایسا کبهی نهیں هوا که ایک امام کے بیٹوں کے درمیان امامت پر فائز هونے کے مسئله پر اختلاف هو جائے یا جس بیٹے کو امام نے جانشین قرار دے دیا وه باپ کی زندگی میں هی وفات پا جائے اور نص کی تنسیخ هو جائے۔ اس لحاظ سے بحمد اﷲ فقه جعفری پر عامل مومنین کو اپنی فقه کی حقانیت پر صد فیصد یقین اور اطمینان قلب هے، خدا هم کو اس مسلک پر ثابت قدم رکهے ۔

سوال بھیجیں