زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (24)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

شیعیان آل محمد کا خدا سے رابطه-مجلہ عشاق اہل بیت 8- شوال۔ 1433ھ

معرفت پروردگار:
 وَاِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ ِلَی الرَّسُولِ تَرَی أَعْیُنَهمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاهدِیْن
اور جب اس کلام کو سنتے هیں جو رسول(ص) پر نازل هو اهے تو تم دیکهتے هو که ان کی آنکهوں سے بیساخته آنسو جاری هو جاتے هیں که انهوں نے حق کو پهچان لیا هے اور کهتے هیں که پروردگار هم ایمان لے آئے هیں لهذا همارا نام بهی تصدیق کرنے والوں میں درج کر لے ۔(سوره مائده آیت٨٣)
عن نوف بن عبدالله البکالی قال قال لی علی یا نوف شیعتی والله العلماء بالله ۔۔۔
نو ف بن عبدالله بکالی نقل کرتے هیں که حضرت امیرالمؤمنین علیؑ نے فرمایا اے نوف!خدا کی قسم !میرے شیعه وهی هیں جو معرفت خدا رکهنے والے هوں ۔
عمل برای خدا:
فَِن تَوَلَّوْاْ فَقُلْ حَسْبِیَ الله لا ِلَه ِلاَّ هوَ عَلَیْْه تَوَکَّلْتُ وَهوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم
(اے رسول ) اگر اس پر بهی یه لوگ (تمهارے حکم سے )منه پهیر یںتو تم کهه دو که میرے لئے خد ا کافی هے اسکے علاوه کوئی معبود نهیں میں نے اس پر بهروسه رکها هے ۔ وهی عرش (ایسے ) بزرگ (مخلوق)کا مالک هے۔   (سوره توبه آیت١٢٩)
عن المفضل قال قال ابو عبدالله علیه السلام ۔۔۔فانما شیعة علی من۔۔۔عمل لخالقه۔۔۔
مفضل روایت کرتے هیں که حضرت امام جعفر صادق(ع)نے فرمایا علی امیرالمؤمنینؑ کے شیعه صرف وهی لوگ هیں جو هر کام اپنے خالق کی رضا وخوشنودی کے لئے کرتے هوں۔
قال ابو عبدالله علیه السلام ۔۔۔وما شیعة جعفر الا من۔۔۔عمل لخالقه ورجاسیده
حضرت امام جعفرصادق(ع)فرماتے هیں ''جعفرصادق  '' کا شیعه صرف وهی هو سکتا هے۔ جو هر کا م اپنے خالق کی رضا کے لئے بجا لائے اور اس کی( جزاء کی )امید بهی اسی سے رکهے۔
 بکثرت یاد خدا:
یَا أَیُّها الَّذِیْنَ آمَنُوا اذْکُرُوا اللَّه ذِکْراً کَثِیْراً
 اے ایماندارو ! بکثرت خدا کی یاد کیا کرو۔(سوره احزاب آیت ٤١)
وقال لشیعته اوصیکم بتقویٰ الله ۔۔۔اکثروا ذکرالله
حضرت امام حسن عسکری ؑنے اپنے شیعه کو وصیت کرتے هوئے فرمایا(اے همارے شیعه!)میں تمهیں وصیت کرتاهوں که الله سے ڈرتے رهو اور کثرت سے ذکر خدا بجا لاتے رهو۔
وروی ابو بصیر عن ابی عبدالله قال شیعتنا الذین اذا خلواذکروالله ذکرا کثیرا
ابوبصیر حضرت امام جعفر صادق ؑ سے روایت کرتے هیں که آپ نے فرمایا:
همارے شیعوں کی نشانی یه هے که وه لوگ تنهائی میں کثرت سے الله کا ذکر کرتے رهتے هیں۔
قول مترجم
تشریح: ذکر الهٰی دل کو جلا اور پاکیزگی بخشتا هے اور اس کو تجلّیات پروردگار کے لئے آماده کرتا هے ذکر خدا عبادت کی روح هے ۔اسی ذکر هی کی وجه سے انسان خدا سے مکالمه کرنے کے قابل هو جاتا هے حضرت امیرالمؤمنین علی ں  نهج البلاغه میں ارشاد فرماتے هیں :
انّ الله سبحانه جعل الذّکر جلاء للقلوب تسمع به بعد الوقرة وتبصر به بعد العشوة وتنقادبه بعد المعاندةهوما برح لِلَّه عزّت آلاؤه فی البرهة بعد البرهة وفی ازمان الفترات عبادنا جاهم فی فکرهم وکلّمهم فی ذات عقولهم
بے شک الله سبحانه وتعالےٰ نے اپنی یادکو دلوں کی صیقل قرار دیا هے جس کے باعث وه( اوامر ونواهی سے )بهرا هونے کے بعد سننے لگے اور اندهے پن کے بعد دیکهنے لگے اور دشمنی وعناد کے بعد فرمانبردار هو گئے همیشه یه هوتا رها اور هو رها هے که یکے بعد دیگرے هر عهد وزمانه میں اور جو زمانه انبیاءؑ سے خالی رها هے اس زمانے میں الله رب العزت کے کچه مخصوص بندے همیشه موجود رهے هیں که جنکی فکروں میں سرگوشیوں کی صورت میں وه( حقائق ومعارف کا) القاکرتا هے اور ان کی عقلوں کے ذریعے ان سے الهامی آوازوں کے ساتھ کلام کرتا هے۔(نهج البلاغه خطبه ٢١٩)
راه خد ا میں سعی وکوشش:
ِانَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِیْدُ مِنکُمْ جَزَآئً ا وَّلَا شُکُوراً ۔۔۔اِنَّ هَذَا کَانَ لَکُمْ جَزَآئً  وَّکَانَ سَعْیُکُم مَّشْکُوراً
هم تو تم کو بس خالص خدا کیلئے کهلاتے هیں هم نه تم سے بدله کے خواستگار هیں اور نه شکر گزاری کے ۔۔ یه یقینا تمهارے لیے هوگا (تمهاری کارگزاریوں کے)صله میں اور تمهاری کوشش قابل شکر گزاری هے ۔        (سوره دهر آیت٩۔٢٢)
وقال لشیعته اوصیکم بتقویٰ الله ۔۔۔والاجتهاد لله۔۔۔
امام حسن عسکری علیه السلام  اپنے شیعوں کو وصیت کرتے هوئے فرماتے هیں میں تمهیں وصیت کرتا هوں که الله کاتقویٰ اختیار کرو اور اپنی( تمام تر) کوششوں کو الله هی کے لئے خاص کر دو۔
خوف خدا:
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَان
جوشخص اپنے پروردگار کے سامنے کهڑے هونے سے ڈرتا رهااس کے لئے دو دو باغ هیں (سوره رحمٰن آیت ٤٦)
عن امیرالمؤمنین علیه السلام قال: قال رسول الله صلّی الله علیه وآله وسلم ۔۔۔یا علی شیعتک الذین یخافون الله فی السّرّ۔
حضرت امیرالمؤمنین علیؑ سے روایت هے که حضرت پیغمبر خدا صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا اے علی تمها رے شیعه وه هیں جو پوشیده طور پر( بهی) خدا کا خوف رکهتے هوں۔
قال ابو بصیر:قال لی مولای ابو جعفر علیه السلام اذا رجعت الی الکوفه یولدلک ولدو تسمیه عیسی ویولدلک ولد وتسمیه محمد وهما من شیعتنا۔۔۔قال فقلت وشیعتک معکم ؟قال نعم اذاخافواالله واتقوه۔۔
جناب ابو بصیر بیان کرتے هیں که میرے آقا ومولا حضرت امام محمد باقر(ع)نے فرمایا اے ابو بصیر! جب تم کوفه کی طرف پلٹ کر جاؤگے تو خداوندعالم تمهیں ایک بیٹا عطا کرے گا جس کا نام تم عیسیٰ رکهنا اس کے بعد پهر تمهارا ایک فرزند پیدا هو گا اس کا نام تم محمد رکهنا اور وه دونوں همارے شیعه هوں گے۔ میں نے عرض کیا مولا!کیا آپ کے شیعه آپ کے ساته هوں گے ؟آپ نے فرمایا هاں همارے ساته هوں گے بشرطیکه وه الله کے عذاب سے ڈرتے هوں اور اس کا تقویٰ اختیار کرتے هوں۔
وقال ابو عبدالله علیه السلام ۔۔وماشیعة جعفر الا من کف لسانه ۔۔۔وخاف الله حق خیفته
حضرت امام جعفر صادق(ع)نے فرمایا: همارا شیعه صرف وهی هے جو اپنی زبان کو فضول گفتگو سے روکے رکهے او ر الله سے اسی طرح ڈرے جیسے اس سے ڈرنے کا حق هے۔
قول مترجم
 تشریح: قرآن مجید میں خدا وند تعالیٰ نے خوف وخشیت کو انبیاء علیهم السلام کی صفت قرار دیا هے۔ چنانچه ارشاد قدرت هے :
الَّذِیْنَ یُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَیَخْشَوْنَهُ وَلَا یَخْشَوْنَ أَحَداً ِلَّا اللَّهَ
وه لوگ جو الله کے پیغام کو پهنچاتے هیں دل میں اسی کا خوف رکهتے هیں اور الله کے علاوه کسی سے نهیں ڈرتے۔ ( سوره  احزاب آیت ٣٩)
ایک اور آیت میں علما ء کے بارے میں کها گیا هے : انما یخشی الله من عباده العلماء ،،الله کے بندوں میں سے صرف علماء هی الله سے ڈرتے هیں ۔
یه واضح هے که جس قدر دل میں خدا کی عظمت زیاده هوگی اور قلوب محبت الهٰی سے لبریز هوں گے اسی قدر الله کا خوف بهی زیاده هو گا اور وه الله کے علاوه اور کسی سے خوفزده و هراساں نهیں هونگے بلکه انکی نظروں میں تمام طاقتیں اور اقتدار پست نظر آئیں گے اگر انسان خداسے ویسے هی خائف رهے جیسے خائف رهنے کا حق هے تو ساری مخلوق اس کی عظمت کی معترف هو جائے گی اور اسی سے خوفزده رهے گی لیکن اگر اس کے دل میں خوف پروردگار نه هوا تو وه هر شئی سے خوفزده رهے گا حضرت امام جعفر صادق ؑ  فرماتے هیں :من خاف الله اخاف الله منه کلّ شئی ومن لم یخف الله اخافه الله من کل شئی : جو خدا سے خائف رهتا هے الله هر شئی سے اسکے خوف کو ختم کردیتاهے ( اور هر شئی اس سے خوفزده نظر آتی هے ) اور جو الله سے نهیں ڈرتا توالله اس کو هر شئی کے خوف میں مبتلا کر دیتا هے (اور وه هر شئی سے خوفزده نظر آتا هے )۔ (اصول کا فی جلد ٢ ص٦٨)
محبت پروردگار:
 وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ أَشَدُّ حُبّاً لِّلّهِ
اور جو لوگ ایماندار هیں وه ان سے کهیں بڑه کر خد ا کی الفت رکهتے هیں ۔(سوره بقره آیت١٦٥)
عن نوف بن عبدالله البکالی قال:قال لی علی علیه السلام۔۔۔یا نوف شیعتی والله۔۔۔المهتدون بحبه
نوف بن عبدالله بکالی کهتے هیں که مجهے حضرت امیرالمؤمنین علی ؑنے فرمایا اے نوف!خدا کی قسم میرے شیعه وه هیں جو خدا کی محبت میں هدایت یافته هوں۔
خداکی مکمل اطاعت:
فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِیْعُوا۔۔۔۔
تو جهاں تک تم سے هو سکے خدا سے ڈرتے رهواور اسکے احکام سنو اور مانو۔(سوره تغابن آیت١٦)
عن جابر عن ابی جعفر علیه السلام قال انما شیعتنا من اطاع الله عزوجل
جناب جابر حضرت امام محمد باقر(ع)سے روایت کرتے هیں که آپ نے فرمایا همارے شیعه صرف اور صرف وهی لوگ هیں جو الله کے اطاعت گزار هوں۔
عن عمرو بن سعید بن بلال قال:دخلت علی ابی جعفر علیه السلام ونحن جماعة فقال ۔۔۔واعلموا یا شیعة آل محمد ما بیننا وبین الله من قرابة ولا لنا علی الله حجة ولا یقرب الی الله الا بالطاعة من کان مطیعاً تنفعه ولایتنا ومن کان عاصیا لم تنفعه ولایتنا۔
عمرو بن سعید کهتے هیں که میںکچه لوگوں کے ساته حضرت امام محمد باقر ؑکی خدمت میں حاضر هوا ۔آپ نے فرمایا اے آل محمد کے شیعه!جان لو که همارے اور الله کے درمیان کوئی رشته داری نهیں هے۔اورنه الله پر هماری کوئی حجت قائم هے۔الله کی اطاعت کے بغیر اس کا تقرب حاصل نهیں کیا جا سکتا۔جو شخص الله کا اطاعت گزار هو گا اس کوهماری ولایت ومحبت فائده دے گی اور جو الله کا نافرمان هو گا اسے هماری ولایت ومحبت کوئی فائده نهیں دے گی۔
عن جابر:عن ابی جعفر علیه السلام قال:قال لی یا جابر أیکتفی من ینتحل التشیع ان یقول بحبنا اهل البیت فوالله ما شیعتنا الّا من اتقی الله واطاعه۔۔۔لیس بین الله وبین احد قرابة احب العباد الی الله عزوجل(واکرمهم علیه) اتقاهم واعملهم بطاعته،یا جابر فوالله ما یتقرب الی الله تبارک وتعالی الا بالطاعة وما معنا برأةمن النار ولا علی الله لأحد من حجة من کان  لِلّٰه مطیعافهولناولی ومن کان لِلّٰه عاصیافهولناعدوولاتنال ولایتنا الابالعمل والورع۔
جابر بیان کرتے هیں که حضرت امام محمدباقر(ع) نے مجھے فرمایا اے جابر!کیاهمارے شیعوں نے یه کافی سمجه رکها هے که وه هم اهلبیت کی محبت کا صرف اقرار کر لیں ۔خدا کی قسم هماراشیعه فقط وهی هے جو الله سے ڈرتا هو اور اس کی اطاعت کرتا هو۔ الله کے اور کسی شخص کے درمیان کوئی قرابتداری نهیں هے بندگان خدا میں سے الله کا زیاده محبوب اور اس کے نزدیک زیاده صاحب عزت وهی هو سکتا هے جو ان میں سے سب سے زیاده صاحب تقویٰ هو اور زیاده اطاعت گزار هو۔اے جابرخدا کی قسم !الله کا تقرب صرف اس کی اطاعت وفرمانبرداری سے هی حاصل هو سکتا هے  همارے پاس جهنم سے برأت کا کوئی پروانه نهیں هے اور نه هی الله پر کسی کی کوئی حجت هے ۔جو شخص الله کا اطاعت گزار هے وه همارا دوست هے اور جو شخص الله کا نافرمان هے وه همارا دشمن هے هماری ولایت ومحبت بغیر عمل وپرهیزگاری کے حاصل نهیں کی جاسکتی۔
خوف و امید:
تَتَجَافَی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفاً وَطَمَعاً وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ یُنفِقُون
(رات کے وقت )ان کے پهلو بستروں سے آشنا نهیں هوتے اور (عذاب کے) خوف اور(رحمت کی )امید پر اپنے پروردگار کی عبادت کرتے هیں اور هم نے جو کچه انهیں عطا کیا هے اس میں سے (خدا کی راه میں )خرچ کرتے هیں۔  (سوره سجده آیت١٦)
عن ابی عبدالله علیه السلام قال:والله ما شیعة علی علیه السلام الامن عمل لخالقه ورجا ثوابه وخاف عقابه
حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے هیں خدا که قسم علی کا شیعه صرف وهی هو سکتا هے جو اپنا هرکام اپنے خالق کی رضاجوئی کے لئے کرے اور اس کے ثواب کاا میدوار هو۔ اور اسی کے عذاب سے ڈرنے والا هو۔
خد اکے حضور عاجزی:
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ یَحْیَی وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ ِنَّهُمْ کَانُوا یُسَارِعُونَ فِیْ الْخَیْْرَاتِ وَیَدْعُونَنَا رَغَباً وَّرَهَباً وَکَانُوا لَنَا خَاشِعِیْنَ
پس هم نے ان کی دعا قبول کرلی اور انکو یحییٰ (سا بیٹا ) عطا کیا اور انکی خاطر انکی زوجه میں (جننے کی )صلاحیت پید اکردی بیشک وه سب کے سب نیک کاموں میں جلدی کیا کرتے تهے اور امید وبیم کے ساته هم سے دعا مانگا کرتے تهے اور همارے لیے عاجزی کرنے والے تهے ۔   (سوره انبیاء آیت٩٠)
عن عیسی بن داؤد النّجار:عن ابی الحسن موسٰی بن جعفر علیه السلام قال ۔۔۔والله شیعتنا الذین۔۔۔وصفهم الله بالعبادة والخشوع ورقة القلب،فقال واذا تتلی علیهم آیت الرحمن خرّواسجداوبکیا۔
عیسی بن داؤد نے حضرت ابولحسن امام موسی کاظمؑ سے روایت بیان کی هے که آپ نے فرمایا خداکی قسم همارے شیعه فقط وهی لوگ هیں جن کی خداوندعالم نے عبادت وانکساری اور نرم دلی جیسی صفات بیان کی هیں چنانچه( سوره مریم میں )ارشاد فرماتا هے''اور جب ان کے سامنے رحمن(الله) کی آیات تلاوت کی جاتی هیں تو وه سجده کرتے هوئے اور روتے هوئے جهک جاتے هیں۔
روی انّ امیرالمؤمنین علیه السلام خرج ذات لیلةمن المسجد۔۔۔ ولحقه جماعة یقفون اثره فوقف علیهم ثم قال من انتم؟قالواشیعتک یا امیرالمؤمنین ۔۔۔قال فما لی لا أری علیکم سیماء الشیعة، قالوا وماسیماء الشیعة یا امیرالمؤمنین؟فقال،علیهم غبرة الخاشعین۔
روایت بیان کی گئی هے که ایک رات حضرت امیرالمؤمنین علی ں  مسجد سے نکلے تو کچه لوگ آپ کے پیچهے چلتے هوئے آپ کے قریب آگئے ۔آپ ان کے سامنے ٹههر گئے اور ان سے دریافت کیا که تم کون لوگ هو ؟وه کهنے لگے مولا!هم آپ کے شیعه هیں۔آپ نے فرمایا مجهے کیا هو گیا هے که میں تم میں اپنے شیعه کی ایک نشانی بهی نهیں دیکه پارها۔وه کهنے لگے یا امیرالمؤمنین ؑشیعه کی علامتیں کیا هیں ؟تو آپ نے وه علامتیں بیان کرتے هوئے فرمایا که ان میں سے ایک یه هے که ان پر خشوع کرنے والوں کا غبار نمایاں هو۔
قول مترجم :تشریح:خاشعین خشوع سے مشتق هے اس کے معنی اس جسمانی اور روحانی خاکساری کے هیں که جو کسی عظیم شخصیت کے سامنے یا کسی اهم حقیقت کی وجه سے انسان کے اندر پیدا هوتی هے اور اس کا اثر بدن سے ظاهر هوتا هے۔                         (آئینه حقوق)
قرآن مجید میں خداوندتعالے نے خشوع کو مؤمنین کی صفت قرار دیا هے اور اسی کے ذریعے مؤمنوں کا تعارف کرایا گیا هے چنانچه ارشاد هے:
  قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ
یقینا ان مؤمنوں نے فلاح پائی که جو اپنی نماز میں خشوع کرتے هیں ۔ (سوره مؤمنون آیت١،٢)
آیت میں اگرچه حالت نماز کا ذکر کیا گیا هے لیکن یه واضح هے که انکساری وخاکساری کا تعلق صرف نماز کے ساته خاص نهیںبلکه زندگی کے هر معاملے میں انسان کوخشوع کا مظاهره کرنا چاهئے اور یه مؤمنین کی صفات میں سے ایک اهم صفت هے۔
 گناهوں سے اجتناب:
الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُونَ کَبَائِرَ الِْثْمِ وَالْفَوَاحِشَ ِلَّا اللَّمَمَ ِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۔۔۔جو صغیره گناهوں کے سوا کبیره گناهوں سے اور بے حیائی کی باتوں سے بچتے رهتے هیںبیشک تمهارا پروردگار بڑی بخشش والا هے۔(سوره نجم آیت٣٢)
عن المفضل قال:قال ابو عبدالله علیه السلام یا مفضل ایاک والذنوب وحذّرها شیعتنا
مفضل کهتے هیں که امام جعفر صادقؑ نے مجھے ارشاد فرمایا اے مفضل گناهوں سے بچو اور همارے شیعوں کو بهی ان سے بچنے کی تلقین کرو۔
عن ابی بصیر قال:قال الصادق علیه السلام شیعتنا اهل الورع۔۔۔ویجتنبون کل محرم
ابو بصیر سے روایت هے که حضرت امام جعفرصادق(ع)نے فرمایا که همارے شیعه وه هیں جو پرهیزگار هوں اور هر حرام چیز سے اجتناب کرنے والے هوں۔
عن عبدالرحمن بن کثیر قال:قال ابو عبدالله علیه السلام یا عبدالرحمن شیعتنا والله لا یتیحهم الذنوب والخطایا هم صفوة الله الّذین اختارهم لدینه وهو قول الله ماعلی المحسنین من سبیل
عبدالرحمن بن کثیر بیان کرتے هیں که حضرت امام جعفر صادق(ع)نے ارشاد فرمایا: اے عبدالرحمن خدا کی قسم !گناه اور خطائیں همارے شیعه کو اپنی گرفت میں نهیں لے سکتیں۔ (همارے شیعه) وه خالص لوگ هیں جنهیں الله نے اپنے دین کیلئے منتخب کر لیا هے اور یه الله تعالیٰ کے اس فرمان سے ظاهر هے که ''نیک کردار لوگوں پر کوئی الزام نهیں هوتا''
حلال وحرام کی پابندی:
قَاتِلُواْ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلاَ یَدِیْنُونَ دِیْنَ الْحَقِّ
 ان لوگوں سے جهاد کروجو خدا اور روز آخرت پر ایمان نهیں رکهتے اور جس چیز کو خدا ورسول نے حرام قرار دیا هے اسے حرام نهیں سمجهتے (اوراهل کتاب هوتے هوئے بهی ) دین حق کو قبول نهیں کرتے۔ (سوره توبه آیت٢٩)
عن ابی خالد المکفوف:عن بعض اصحابه قال:قال ابو عبدالله علیه السلام ینبغی لمن ادّعیٰ هذاالامر فی السّر أن یأتی علیه ببرهان فی العلانیة قلت وما هذا البرهان الذی یأتی به فی العلانیة؟قال یحل حلال الله ویحرّم حرام الله ویکون له ظاهر یصدّق باطنه
ابو خالد مکفوف نے اپنے بعض ساتھیوں سے روایت نقل کی هے که حضرت امام جعفر صادق ؑنے فرمایا جو شخص پوشیده طور پر اپنے شیعه هونے کا دعویٰ کرے اسے چاهئے که اپنے اس دعوے پر ظاهر بظاهر کوئی دلیل قائم کرے۔(راوی کهتا هے )میں نے عرض کیا مولا!وه دلیل کیا هو گی جسے وه ظاهر بظاهر قائم کرے ؟آپ نے فرمایا وه حلال خدا کو حلال او رحرام خدا کو حرام سمجهے اور اس کا ظاهر اس کے باطن کی تصدیق کرتا هو۔

سوال بھیجیں