زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (27)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

زینب س) پیغام رسان عاشورا۔ مجلہ عشاق اہل بیت9۔ربیع الثانی 1434ھ

زینب )سلام اللہ علیها) پیغام رسان عاشورا

تحریر:  استاد محمد محمدی اشتہاردی

ترجمہ : سید حسن بخاری

ماہ صفر (جو کہ کربلا کے شہداء کے پیغام کے ابلاغ کا مہینہ ہے )کی مناسبت سے اس عظیم اور باجلال خاتون کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو حقیقت میں تحریک عاشورا کی غرض و غایت کو بیان کرنے اور اس تحریک کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے والی خاتون ہیں، اور اس حالت میں کہ جب بھائی کی جدائی اور قید و بند کی عظیم مصیبتیں آپ کا مقدر بنیں تو آپ نے ہر فرصت سے فایدہ اٹھاتے ہوئے تحریک عاشورا کے پیغام اور اہداف کو سب پر واضح کیا اور ستمگروں کے ظلم و ستم کو فاش کیا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے عصر عاشور ایک دلیر خاتون کی مانند کمر ہمت باندھی اور انواع و اقسام کے طوفانوں اور حادثات کے سامنے مضبوطی سے کھڑی ہو گئیں۔ آپ تھیں جنہوں نے تحریک عاشورا کے اس نونھال شجر کی پرورش کی، آپ اس تحریک کے پیغام کو کوفہ شام اور جہاں بھی گئیں اپنے ساتھ لے گئیں۔ آپ ہی وہ خاتون ہیں جنہوں نے ہجرت میں بھی نہ تھکنے والی جدوجہد سے اس شجر کی پرورش کی۔

اگر تحریک عاشورا کا آغاز امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد کا نتیجہ ہے تو اس تحریک کی اتنے احسن انداز میں پرورش حضرت زینب(س) کی محنتوں کا ثمرہ ہے۔ آپ ہی نے اس تحریک کے زندگی بخش پیغامات کودنیا والوں تک پہنچایا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ پیامبر اسلام (ص) نے حضرت زینب (س) کی صفات کو حضرت خدیجۃ الکبری(س) سے تشبیہ دی ہے۔ جس وقت پیامبر اسلام (ص) کو حضرت زینب(س) کی ولادت کی خبر دی گئی تو آپ(ص) نے فرمایا "نومولود کو میرے پاس لاو" جب حضرت زینب(س) کو آپ حضرت(ص) کے پاس لایا گیا تو آپ(ص) نے فرمایا "یہاں موجود اور غیرموجود سب کو وصیت اور تاکید کرتا ہوں کہ اس بچی کا بہت زیادہ احترام کریں بے شک یہ بچی شبیہ حضرت خدیجہ(س) ہے[1]

آنحضرت(ص) کیطرف سے دی جانے والی اس تشبیہ میں ایک گہرا راز چھپا ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ جس طرح حضرت خدیجہ(س) کا پر برکت وجود اسلام کے شجر کے لئے پر برکت اور بہت فائدہ مند تھا، جیسے آپ نے ایک ماں کی طرح اسلام کے اس شجر کی خدمت کی اور اس کی پرورش کے لئے بڑے ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، اسی طرح حضرت زینب(س) نے بھی اپنی نانی حضرت خدیجہ(س) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام کی خدمت اور شجر اسلام کی پرورش میں اسلام کی نجات کے لئے ہونے والے تاریخ کے اس عظیم سانحہ عاشورا پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔

زینب(س) وہ شخصیت ہیں جن کا نام رکھنے کے موقع پر پیامبر اسلام(ص) نے تاخیر کی تاکہ آپ کا نام خدا کی طرف سے عطا ہو جبرائیل پیامبر گرامی کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ خداوند کا درود و سلام ہو آپ پر اس بچی کا نام زینب(س) رکھ دیں چونکہ یہ نام لوح محفوظ پر لکھا ہوا ہے[2]

زینب(س) دو کلموں" زین" اور " اب "سے مرکب ہے جس کا معنی والد کی زینت کے ہیں۔ یہ نام اس بات کا عکاس ہے کہ حضرت زینب(س) کا کردار و رفتار اپنے والد حضرت علی(ع) کی زینت اور سرفرازی کا باعث ہے۔ ہم اس مقایسہ میں حضرت زینب(س) کی عظمت پر بھی ایک نظر ڈالیں گے چونکہ حضرت علی(ع) کا وجود اسلام کے لئے اتنا پر برکت تھا کہ آپ پیامبر گرامی(ص) کے تنہا حامی،سب سے پہلے ایمان لانے والے،دین اسلام کے سب سے عظیم فدا کار حتی یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں اسلام پیامبر گرامی(ص) کے اخلاق حضرت علی(ع) کی تلوار اور حضرت خدیجہ(س) کے مال سے پھیلا ہے۔ لہذا حضرت زینب(س) اس قدر اپنے والد گرامی حضرت علی(ع) کے نزدیک تھیں کہ آپ کا رفتار و کردار حضرت علی(ع) کے رفتار و کردار کو آراستہ کرتا تھا اور حضرت علی(ع) کی سرفرازی اور سر بلندی کا موجب تھا۔

حضرت زینب(س) کا بچپن اور زندگی کا عرفانی پہلو:

ماہرین نفسیات کے مطابق انسان کی شخصیت کی تشکیل اور تکمیل میں تین عناصر بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ۱۔ وراثت ۲۔ تربیت ۳۔ ماحول

یہ تینوں عناصر حضرت زینب(س) کی شخصیت کی پرورش میں مکمل طور پر تاثیر گزار تھے۔ آپ نے ساری اقدار والد گرامی حضرت علی(ع) اور مادر گرامی حضرت فاطمہ(س) سے ورثہ میں پائی تھیں۔ آپ نے ان دو بزرگوار شخصیتوں کے زیر سایہ پرورش پائی۔ آپ(س) نے ایسے ماحول میں پرورش پائی کہ انس و مہربانی اور فضائل و کمالات کا مرکز تھا۔ آپ(س) نے مدینہ کے سب سے ممتاز خاندان نبوت اور اس کے مہذب افرادکے سائے میں پرورش پائی۔ اسی وجہ سے انسانیت کی درخشاں خصوصیات اور اسلامی و انسانی اعلی اقدار آپ کے وجود میں شکوفا تھیں۔ یہ ہی وہ وجہ تھی کہ آپ(س) نے معنویت کا سالوں پر مشتمل سفر ایک رات میں طے کیا۔ اس حوالے سے حضرت علی(ع) سے ایک روایت نقل ہے کہ ایک دن آپ نے زینب(س) کو کہ جب وہ بچی تھیں گود میں لیا، بیٹی سے پیار کرتے ہوئے آپ(ع) نے فرمایا بیٹا کہو "دو" زینب(س) نے کوئی جواب نہ دیا حضرت علی(ع) نے کہا بیٹا تم جواب کیوں نہیں دے رہی؟ جواب دو اور بولو دو، حضرت زینب(س) نے اپنی خاص مٹھاس بھری زبان سے فرمایا بابا جان جس زبان کو ایک کہنے کی عادت ہو جائے وہ کیسے کلمہ دو ادا کرے "حضرت زینب(س) کا اشارہ خدا کی وحدانیت کی طرف تھا کہ آپ کے وجود مبارک کے تمام اعضاء و جوارح توحید الہی کی گواہی دے رہے ہوتے"

حضرت علی(ع) حضرت زینب(س) کے اس ذو معنی جواب پر بہت خوش ہوئے، آپ(ع) نے حضرت زینب(س) کو گلے لگایا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا۔

ایک اور موقع پر حضرت زینب(س) نے حضرت علی(ع) سے ایک سوال پوچھا کہ اے بابا جان کیا آپ اپنے بیٹوں سے محبت کرتے ہیں؟ حضرت علی(ع) نے اپنی صاحبزادی کے جواب میں فرمایا جی میرے بیٹا، مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں تم سے محبت نہ کروں جبکہ تم میرے دل کا ٹکڑا ہو "زینب(س) اس لحظہ خداوند متعال کی توحید افعالی کی طرف متوجہ تھیں " فرماتی ہیں میرے پیارے بابا جان ایک دل میں دو محبوب کیسے سما سکتے ہیں، محبت خالصتاً صرف خدا کی ذات کے لئے ہے، لطف و مہربانی ہمارے لئے ہے[3]

آپ(س) کے اس فصیح و بلیغ شیوہ بیان نے در اصل حضرت علی(ع) هی کے فرمان کی وضاحت کی کہ آپ(ع) نے فرمایا ظاہری محبت وہی مہربانی ہے جبکہ حقیقی محبت صرف اور صرف خدا کی ذات سے مربوط ہے۔ حضرت علی(ع) اس طرح کے سوالات کے ذریعے حضرت زینب(س) کے ملکوتی مقام کو دوسروں کے لئے بیان فرماتے تھے، اور درست بھی ہے وہ خاتون جو پنج تن آل عبا کے سائے میں پرورش پائے کیونکر نہ ایسی اعلی و ملکوتی صفات کی مالک ہو۔

ایک دن حضرت علی(ع) کے گھر پر ایک مہمان آیا گھر میں کھانا نہیں تھا حضرت علی(ع) نے حضرت فاطمہ(س) سے پوچھا کیا گھر میں کچھ کھانے کے لئے ہے؟ حضرت فاطمہ(س) نے فرمایا گھر میں ایک عدد روٹی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اور وہ بھی میں نے اپنی بیٹی زینب(س) کے لئے رکھی ہے حضرت زینب(س) اس وقت تقریبا پانچ سال کی تھیں حضرت زینب(س) نے جب اپنی والدہ گرامی  کی بات سنی تو فرمایا میرے حصے کی روٹی مہمان کو دے دیں، میں صبر کر لوں گی[4]

بچپن سے ہی عظمت و جلال کے آثار آپ(س) کے چہرہ مبارک سے عیاں تھے۔ بچپن ہی سے پتہ چل رہا تھا کہ آپ(س) مستقبل میں ایک با عظمت و ارجمند خاتون کے روپ میں سامنے آئیں گئیں۔ آپ(س) کا بچپن بتا رہا تھا کہ آپ کا با برکت وجود خدا کے جلووں کی تجلی گاہ قرار پائے گا۔

زینب(س) عاشور کے آئینے میں:

تحریک عاشورا اور فرہنگ عاشورا کے آغاز اور تکمیل میں حضرت زینب(س) امام حسین(ع) کے ساتھ شریک تھیں۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس عظیم تحریک میں امام حسین(ع) کے بعد سب سے بڑھ کر آپ(س) شریک تھیں۔ آپ(س) مدینہ سے مکہ اور پھر وہاں سے سرزمین کربلا تک تحریک عاشورا میں امام حسین(ع) کی مخلص مددگار و یاور تھیں، یہاں تک کہ روز عاشور آپ(س) نے اپنے دو نوجوان بیٹے محمد و عون اپنے بھائی پر قربان کر دئیے۔ جب امام حسین(ع) ان دو نوجوانوں کے خون میں غلطاں پیکر میدان سے خیموں کی طرف لائے تو آپ(س) اپنے خیمے سے باہر نہ آئیں تاکہ آپ کو دیکھ کر امام حسین(ع) کی پریشانی میں اضافہ نہ ہو جائے، مگر جب حضرت علی اکبر کا پیکر لایا گیا تو آپ اپنے خیمے سے باہر ٹکڑے ہوئے اس جنازے کی طرف دوڑ پڑیں اور اپنے بھائی کے ساتھ ہمنوا ہو گئیں، روایت کے ایک حصے کے مطابق حضرت زینب(س) امام حسین(ع) کو تسلی دینے  کی خاطر جلدی سے حضرت علی اکبر کے سرہانے پہنچیں، جب امام حسین(ع) قتل گاہ پہنچے تو آپ کی نگاہ حضرت زینب(س) پہ پڑی حضرت زینب(س) کی یہ تدبیر امام حسین(ع) کے غم و اندوہ کو کم کرنے میں تاثیر گزار ثابت ہوئی[5]

حضرت زینب(س) نے عاشور کے بعد تین اہم اور حساس ذمہ داریوں کو اپنے ذمہ لیا اور بڑے احسن انداز میں نبھایا۔

۱۔ شہداء کربلا کے لواحقین کی سرپرستی۔

۲۔ امام وقت حضرت سجاد(ع) کی حمایت اور حفاظت ۔

۳۔شہداء کربلا کے پیغام کا ابلاغ۔

حضرت زینب(س) کے کوفہ میں ابن زیاد کے دربارہ میں خطبے اور شام میں یزید کے سامنے خطبہ غراءاور آپ(س) کی ہر کوچہ وبازار اور کوہ و دمن میں کی جانے والی قہر آمیز اور عمیق تقریریں ،ستمگروں اور سفاک درندوں پر بجلی بن کر گری اور ان کی سر نوشت کو جلا کر راکھ  کردیا، اور سورج کے نور کی طرح فرہنگ عاشورا کو لوگوں کے لئے روشن کر دیا۔ آپ ہی کے یہ خطبے اور تقریریں تھیں کہ جس نے لوگوں کو عاشورا کے پیغام کی طرف کھینچا۔ گیارہ محرم کے دن جب آپ اپنےے بھائی امام حسین(ع) کے ٹکڑے ہوئے بدن کے پاس آئیں تو آپ(س) نے بھائی کے بدن کو اپنے ہاتھوں سے تھوڑا اوپر اٹھایا اور فرمایا " «اِلهي تَقَبَّلْ مِنّا هذَا الْقُرْبانَ"[6]

ترجمہ:خدایا ہماری اس قربانی کو قبول فرما۔

ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا " «اَللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنّا هذَا قَليلَ الْقُرْبانَ؛ "[7]

ترجمہ:خدایا ہماری اس ادنیٰ سی قربانی کو قبول فرما۔

آپ(س) کی یہ تعبیر خداوند متعال کی بارگاہ میں شکر و انکساری کا عظیم مظہر ہے۔ اور اس طرح یہ تعبیر دشمن کے قلب پر شہاب ثاقب کی مانند تیز رفتار تیر کی سی تھی۔ آپ(س) نے اس تعبیر کے ذریعے بتا دیا کہ دشمن یہ خیال نہ کرے کہ ہم اہل بیت پیامبر(ص) خوار و ذلیل ہوئے بلکہ ہم سرفراز ہوئے ہیں چونکہ ہم نے خدا کے لئے یہ قربانی دی ہے۔

اسی وجہ سے جب کوفہ کے دربار میں ابن زیاد نے سرزنش کرنے کے انداز میں حضرت زینب(س) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "تم نے دیکھا خدا نے تمہارے بھائی حسین اور تمہارے خاندان کے ساتھ کیا کیا؟" تو حضرت زینب(س) نے ابن زیاد کے جواب میں فرمایا "ما رایت الا جمیلا"(میں نے اچھائی اورخوبصورتی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا)۔ آپ(س) نے فرمایا یہ وہ لوگ تھے کہ جن کے لئے خداوند متعال نے شہادت جیسا عظیم مقام انتخاب فرمایا تھا، اسی وجہ سے یہ لوگ رضا کارانہ اور آگاہانہ اپنی آرام گاہ کہ طرف گئے ہیں۔ خداوند متعال بہت جلد تمہیں اور ان کو اکٹھا فرماَئے گا تاکہ تمہارے اور ان کے درمیان انصاف کیا جا سکے۔ اب تم ہی سوچو اس انصاف کے فیصلے میں کون کامیاب ہوگا اور کس کی شکست هو گی؟ تیری ماں تیرے غم میں روئے اے مرجانہ کے بیٹے[8]

حضرت زینب(س) کے کوفہ میں خطبہ سے چند اقتباسات:

حضرت زینب(س) نے کوفہ میں دو خطبے دئیے۔ حذیم بن شریک اسدی کہتا ہے میں نے حضرت زینب(س) کی طرف دیکھا خدا ئے بزرگ کی قسم کہ میں نے اس دن تک اس جیسے جاہ وجلال کی مالک خاتون نہیں دیکھا تھی کہ ایسے دو ٹوک اور شیرین انداز میں بات کر رہی تھیں گویا اس کے الفاظ حضرت علی(ع) کی زبان سے جاری ہو رہے ہوں۔ حذیم کہتا ہے اس خاتون جلی نے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا خاموش ہو جائیے۔ یہ بات کہنا تھی کہ لوگوں کی سانس جیسے سینے میں رک گئی ہو، اونٹوں اور گھوڑوں کے گلوں میں موجود گھنٹیاں بجنا رک گئیں۔ اس وقت اس خاتون جلی نے خداوند متعال کی حمد و ثناء اور پیامبر(ص)اور آپ کے خاندان پر درود سے اپنے خطبے کا آغاز کیا۔

حضرت زینب(س) کے اس خطبے نے لوگوں کو اس قدر تحت تاثیر لیا کہ ان کے گریہ و فغاں کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ سب لوگ غم و حزن میں غرق ہو گئے۔ وہاں موجود لوگ حیرانی کے عالم میں اپنے آپ پر اظہار پشیمانی کرنے لگے کہ کیوں امام حسین(ع) کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے نہ ہوئے۔

اس خطبے کا ایک حصہ یوں ہے " «يا اَهْلَ الْخَتَلِ وَالْغَدَرِ وَالْخَذَلِ أَتَبْكُون؟... اِنَّما مَثَلُكُمْ كَمَثَلِ الَّتي نَقَضَتْ غَزْلَها مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكاثَا؛ "

ترجمہ: اے حیلے گر، بے وفا اور بکھرے ہوئے لوگو کیا تم لوگ ہمارے حال پر گریہ کر رہے ہو؟ تمہاری مثال اس عورت کی سی ہے جو اپنے ہی بنے ہوئے دھاگوں کو بننے کے بعد کھول دیتی ہے۔ تم لوگوں نے عہد باندھا اور پھر اسے توڑ دیا۔

اسی خطبے کے ایک اور حصے میں آپ نے یوں فرمایا " «وَيْلَكُمْ يا اَهْلَ الْكُوفَةِ اَتَدْروُنَ اَيَّ كَبَدٍ لِرَسُولِ اللهِ فَرَيْتُمْ، وَ اَيَّ كَريمَةٍ لَهُ اَبْرَزْتُمْ...؟ "

ترجمہ:وای ہو تم پر اے کوفہ کے لوگو، کیا تم جانتے ہو تم لوگوں نے رسول خدا کے کس جگر پارے کو ٹکڑے کر دیا ہے؟ اور کن با حجاب حرموں کو بے حجاب کر دیا ہے اور ان کےکس خون کو بہایا ہے، اور اس کے کس بااحترام مقام کی توہین کی ہے؟ کیا تم لوگوں کے لئے یہ حیرت انگیز ہے کہ آسمان اس ماجرے پر خون برسائے؟ بے شک آخرت کا عذاب اور شکنجہ بہت ننگ آور ہو گا اور کوئی بھی تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ اور تم لوگوں کو جو مہلت دی گئی تھی تم نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

زینب(س) نے اسی خطبے کے آخری حصے میں اپنے پیارے بھائی امام حسین(ع) کے جانسوز مصائب پر شعر پڑھا اور گریہ کیا، آپ اس دوران اس قدر احساساتی اور منقلب ہو گئی تھیں کہ امام سجاد(ع) نے ان جملات کے ساتھ آپ کو تسلی دی " «يا عَمَّة! اُسْكُتي اَنْتِ بِحَمْدِاللَّهِ عالِمَةٌ غَيْرُ مَعَلَّمَة، وَ فَهِمَةٌ غَيْرُ مُفَهَّمَة...».[9]

ترجمہ: اے پھوپھی آپ بحمد للہ عالمہ غیر معلمہ ہیں آپ خود دانا و عالم ہیں صبر کریں اور جان لیں کہ ہمارا گریہ و نالہ چلے جانے والوں کو واپس نہیں لا سکے گا۔

حضرت زینب(س) نے امام سجاد(ع) کی اس بات کے احترام میں خاموشی اختیار کی۔

یزید کے سامنے حضرت زینب(س) کے خطبے سے چند اقتباسات:

یزید کے دربار میں ظاہرا تمام چیزیں یزید کے حق میں جا رہی تھیں مگر جب حضرت زینب(س) نے خطبہ دیا تو دربار کی ساری قضا تبدیل ہو گئی، اور یزید کی شام کو شام غریباں میں تبدیل کر دیا۔ یہ خطبہ یزید کی ننگ و عار سے بھری زندگی پر جلا کر رکھ دینے والی بجلی کی طرح گرا۔ یہاں حضرت زینب(س) کے اس خطبے کے ایک حصے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔کہ آپ نے فرمایا:

" «وَ كَيْفَ يُرْتَجي مُراقَبَةَ ابْنِ مَنْ لَفَظَ فُوهُ اَكْبادَ الاَزْكياء، وَ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ دِماء الشُّهَداء "

ترجمہ:اس شخص  سے کیسے کوئی توقع یا امید رکھی جا سکتی ہے جس کی ماں نے پاک و پاکیزہ افراد کے جگر کو چبایا اور پھر منہ سے باھر پھینک دیا ہو، اور اس کے بدن کا گوشت شہدا کے خون سے بنا ہو۔

یزید اس خطبے سے پہلے اپنے آپ پر فخر کر رہا تھا کہ وہ خندف کے فرزندوں میں سے ہے کہ یزید تیرہویں نسل سے اس سے جا ملتا تھا۔ خندف ایک خیر اندیش خاتون کے طور پر معروف تھی۔

حضرت زیبنب(س) نے اس سلسلے میں یزید سے اسی کی مانند مقابلہ کیا اور فرمایا کہ اپنی نسل کی تیرہویں جد پر ناز نہ کرو بلکہ اپنی نزدیک کی دادی "ہند" معاویہ کی ماں کے بارے سوچو کہ اس نے جنگ احد میں حضرت حمزہ(ع) کا سینہ چاک کر کے ان کا جگرنکال کر چبا دیا، اور خون خوار کے طور پر معروف تھی تم کیوں دور جاتے ہو۔

" «فَوَاللّهِ ما فَرِيتَ اِلاّ جِلْدَكَ، وَ لا جَزَرْتَ اِلاّ لَحْمَكَ..."

ترجمہ: خدا کی قسم تو نے اپنی چمڑی ادھیڑنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا، اپنا گوشت کاٹنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا، اور تو اسی خاندان رسالت کے خون بہانے اور ان کی حرمت کی توہین کے گناہ کے ساتھ رسول خدا کی بارگاہ میں پیش ہو گا، اس وقت کہ جب اللہ سب کو اکھٹا کر کے ان کا حق واپس لے گا۔

" «حَسْبُكَ بِاللّهِ حاكِمَا، وَ بِمُحَمَّدٍ خَصِيما، وَ بِجبْرَئيلَ ظَهِيرا، وَ سَيَعْلَمُ مَنْ سَوَّلَ لَكَ وَ مَكَّنَكَ رِكابَ الْمُسْلِمينَ، بِئْسَ لِلظّالِمينَ بَدَلاً"

ترجمہ: اور یہی عذاب تیرے لئے خدا کی عدالت میں ہے۔ خداوند حاکم اور منصف ہے، اور محمد ہماری طرف سے مدعی ہیں، اور حضرت جبرائیل ہمارے مددگار ہوں گے، اور اس وقت جس نے تجھے فریب دیا اور تجھے لوگوں کے اوپر مسلط کیا، سمجھ جائے گا کہ ظالموں اور ستمگروں کے لئے بہت برا بدلا ہے۔

" «وَ لَئِنْ جَرَتْ عَلَيَّ الدَّواهِيُ مُخاطَبَتُكَ، اِنّي لاَسْتَصْغِرُ قَدْرَكَ "

ترجمہ:اگرچہ زمانے کی ستم ظریفی نے مجھے تم سے بات کرنے پر مجبور کیا مگر میری نظر میں تم بہت حقیر اور پست ہو۔

" «اَلا فَالْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ بِقَتْلِ حِزْبُ اللّهِ النُّجَباءِ بِحِزْبِ الشَّيْطانِ الطُّلَقاء"

ترجمہ:جان لو کہ حیرانی اور تعجب کی بات ہے کہ خداکے لشکر کے افراد شیطان کے لشکر کے افراد (کہ آزاد شدہ غلام ہیں) کے ہاتھوں قتل ہو جائیں۔

" «فَكِدْ كَيْدَكَ، وَاْسَع سَعْيَكَ، وَ ناصِبْ جُهْدَكَ، فَواللّهِ لاتَمْحُوا ذِكْرَنا وَ لاتُمِيتُ وَحْيَنا، وَ لاتُدْرِكُ اَمَدَنا..."

ترجمہ: ہر مکر جوکرنا چاہتے ہو کر لو، ہر اقدام جوکر سکتے ہو کر لو، اور کسی قسم کی کوشش سے دریغ نہ کرو، خدا کی قسم نہ تم ہمارا نام مٹا سکتے ہو اور نہ ہماری وحی کو خاموش کر سکتے ہو، اور نہ ہمارے مقام کوپہنچ سکتے ہو، اور ہرگز اس ظلم وستم کی ذلت کو اپنے سے دور نہیں کر سکتے ہو۔ تیری رائے کمزور اور تیری حکومت کے دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں، تیری یہ جمعیت بکھر جائے گی، اور وہ دن "روز قیامت" آن پہنچے گا جب ندا دینے والا ندا دے گا جان لو ستم گروں پر خدا کی لعنت ہے[10]

حضرت زینب(س) کے اس خطبے نے یزید کے دربار بلکہ پورے شام کی حالت کو بدل کر رکھ دیا، سب چیزیں دگر گون ہو گئیں، مضبوط دلیلیں اور نفس قدسی حضرت زینب(س) باعث بنا کہ یزید اور یزیدیوں پر ایسا رعب و وحشت طاری ہو گئی کہ یزید حضرت زینب(س) کے شعلہ سخن کو ان کے ذہن میں خاموش رکھنے کی ہمت نہ کر سکا، کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ دربار میں موجود افراد حضرت زینب(س) کے شعلہ ور کلام کے سحر میں گرفتار ہو چکے ہیں۔

اس کے بعد یزید کی ظاہری سیاست عوض ہو گئی وہ ظاہرا پشیمانی کا اظہار کیا کرتا، اور اس گناہ کو ابن زیاد کی گردن پر ڈال دیتا[11]

یزید نے حکم دیا کہ اہل بیت امام حسین(ع) کے ساتھ نرمی اور شایستگی سے پیش آیا جائے  اور انہیں احترام کے ساتھ مدینہ راوانہ کیا جائے، یزید نے حکم دیا کہ اونٹوں کے کجاوے زرق برق کے غلافوں سے مزین کیے جائیں، حضرت زینب (س) جو کہ اعلی فہم و فراست کی حامل تھیں سمجھ گیئں کہ یزید اس طرح کی ظاھری فضا بنا کر شھیدوں کے خون کے اثر کو زایل کرنا چاہتا ہے۔ حضرت زینب (س) نے بڑی دو ٹوک انداز میں  فرمایا کجاوں پر سیاہ کپڑے ڈالے جائیں تاکہ لوگ جان لیں کہ ہم فرزند زہرا(س) کے سوگ میں ہیں۔ حضرت زینب (س) کی اس بات نے لوگوں میں شدید اضطراب اور پریشانی ایجاد کر دی.[12]



[1] عباسقلی خان سپھر، الطراز المذھب، ص۴۴ شیخ ذبیح اللہ محلاتی، ریاحین الشریعہ،ج۳،ص۳۸

[2] ایضا

[3] آیت اللہ جزائری، الخصائص الزینبیہ،ص۳۵۱

[4] شیخ ذبیح اللہ محلاتی، ریاحین الشریعہ،ج۳ص۶۴

5] آیت اللہ جزائری، الخصائص الزینبیہ،ص۳۵1

[6]علامہ سید عبدالرازاق مقرم،مقتل الحسین،ص۳۷۹

[7] علامہ بیر جندی، کبریت الاحمر، ص۳۷۶

[8] علامہ طبرسی،اعلام الوری،ص۲۴۷، کامل ابن اثیر،ج۴،ص۸۲

[9] علامہ طبرسی، احتجاج،ج۲،ص۳۱،محدث قمی، نفس المھموم، ص۲۱۵ و۲۱۷

[10] سید بن طاووس، لھوف،ص۲۱۵تا۲۱۷، علامہ طبرسی، احتجاج،ج۲،ص۳۴و۳۵

[11] عباسقلی خان سپھر، الطراز المذھب، ص۸۰و۸۱

[12] ایضا ص۴۸۰

سوال بھیجیں