زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (27)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

امام حسن مجتبى علیه السلام۔ مجلہ عشاق اہل بیت 10-شوال 1434ھ

امام حسن مجتبى علیه السلام  

شیخ ناصر مکارم شیرازی                   مترجم: سید صفدر حسین نجفی

بچپن كا زمانہ:

على (ع) اور فاطمہ (ع) كے پہلے بيٹے 15 رمضان 3ھ ق كو شہر مدينہ ميں پيدا ہوئے[1] _ پيغمبر (ص) اكرم تہنيت كيلئے جناب فاطمہ (ع) كے گھر تشريف لائے اور خدا كى طرف سے اس بچہ كا نام  “ حسن “ ركھا[2]

امام حسن مجتبى (ع)سات سال تك پيغمبر(ص) اسلام كے ساتھ رہے[3]

رسول اكرم (ص) اپنے نواسہ سے بہت پيار كرتے تھےكبھى كا ندھے پر سوار كرتے اور پھر فرماتے:خدايا ميں اس كو دوست ركھتا ہوں تو بھى اس كو دوست ركھ[4]

جس نے حسن(ع) و حسين(ع) كو دوست ركھا اس نے مجھ كو دوست ركھا _ اور جو ان سے دشمنى كرتا ہے وہ ميرا دشمن ہے[5]

امام حسن (ع) كى عظمت اور بزرگى كے لئے اتنا ہى كافى ہے كہ كم سنى كے باوجود پيغمبر (ص) نے بہت سے عہدناموں ميں آپ كو گواہ بنايا تھا واقدى نے نقل كيا ہے كہ پيغمبر(ص) نے قبيلہ  “ ثقيف “ كے ساتھ ذمہوالا معاہدہ كيا، خالد بن سعيد نے عہد نامہ لكھا اور امام حسن و امام حسين عليہما السلام اس كے گواہ قرار پائے[6]

والد گرامى كے ساتھ:

رسول (ص) اكرم كى رحلت كے تھوڑے ہى دنوں بعد آپ كے سرسے چاہنے والى ماں كا سايہ بھى اٹھ گيا _ اس بناپر اب تسلى و تشفى كا صرف ايك سہارا على (ع) كى مہر و محبت سے مملو آغوش تھا امام حسن مجتبى (ع)نے اپنے باپ كى زندگى ميں ان كا ساتھ ديا اور ان سے ہم آہنگ رہے_ ظالموں پر تنقيد اور مظلوموں كى حمايت فرماتے رہے اور ہميشہ سياسى مسائل كو سلجھانے ميں مصروف رہےجس وقت حضرت عثمان نے پيغمبر(ص) كے عظيم الشان صحابى جناب ابوذر كو شہر بدر كر كے رَبَذہ بھيجنے كا حكم ديا تھا، اس وقت يہ بھى حكم ديا تھا كہ كوئي بھى ان كو رخصت كرنے نہ جائے_ اس كے برخلاف حضرت على (ع) نے اپنے دونوں بيٹوں امام حسن اور امام حسين عليہما السلام اور كچھ دوسرے افراد كے ساتھ اس مرد آزاد كو بڑى شان سے رخصت كيا اور ان كو صبر و ثبات قدم كى وصيت فرمائي[7]36ھ ميں اپنے والد بزرگوار كے ساتھ مدينہ سے بصرہ روانہ ہوئے تا كہ جنگ جمل كى آگ جس كو عائشہ و طلحہ و زبير نے بھڑكايا تھا ، بجھاديں بصرہ كے مقام ذى قار ميں داخل ہونے سے پہلے على (ع) كے حكم سے عمار ياسر كے ہمراہ كوفہ تشريف لے گئے تا كہ لوگوں كو جمع كريں_ آپ كى كوششوں اور تقريروں كے نتيجہ ميں تقريباً بارہ ہزار افراد امام كى مدد كے لئے آگئے[8]

آپ نے جنگ كے زمانہ ميں بہت زيادہ تعاون اور فداكارى كا مظاہرہ كيا يہاں تك كہ اما م (ع) كے لشكر كو فتح نصيب ہوئي[9]

جنگ صفين ميں بھى آپ نے اپنے پدربزرگوار كے ساتھ ثبات قدم كا مظاہرہ فرمايا_ اس جنگ ميں معاويہ نے عبداللہ ابن عمر كو امام حسن مجتبى (ع) كے پاس بھيجا اور كہلوايا كہ آپ اپنے باپ كى حمايت سے دست بردار ہوجائيں توميں خلافت آپ كے لئے چھوڑ دونگا _ اس لئے كہ قريش ماضى ميں اپنے آباء و اجداد كے قتل پر آپ كے والد سے ناراض ہيں ليكن آپ كو وہ لوگ قبول كرليں گے _

ليكن امام حسن (ع) نے جواب ميں فرمايا:  “ نہيں ، خدا كى قسم ايسا نہيں ہوسكتا “_ پھر اس كے بعد ان سے خطاب كركے فرمايا: گويا ميں تمہارے مقتولين كو آج يا كل ميدان جنگ ميں ديكھوں گا، شيطان نے تم كو دھوكہ ديا ہے اور تمہارے كام كو اس نے اس طرح زينت دى ہے كہ تم نے خود كو سنوارا اور معطّر كيا ہے تا كہ شام كى عورتيں تمہيں ديكھيں اور تم پر فريفتہ ہوجائيں ليكن جلد ہى خدا تجھے موت دے گا [10]

امام حسن _اس جنگ ميں آخر تك اپنے پدربزرگوار كے ساتھ رہے اور جب بھى موقع ملا دشمن پر حملہ كرتے اور نہايت بہادرى كے ساتھ موت كے منہ ميں كود پڑتے تھے_

آپ (ع) نے ايسى شجاعت كا مظاہرہ فرمايا كہ جب حضرت على (ع) نے اپنے بيٹے كى جان، خطرہ ميں ديكھى تو مضطرب ہوئے اور نہايت درد كے ساتھ آواز دى كہ  “ اس نوجوان كو روكو تا كہ ( اسكى موت ) مجھے شكستہ حال نہ بنادے_ ميں ان دونوں_ حسن و حسين عليہما السلام _كى موت سے ڈرتا ہوں كہ ان كى موت سے نسل رسول (ص) خدا منقطع نہ ہوجائے[11]

واقعہ حكميت ميں ابوموسى كے ذريعہ حضرت على (ع) كے برطرف كرديئےجانے كى دردناك خبر عراق كے لوگوں كے درميان پھيل جانے كے بعد فتنہ و فساد كى آگ بھڑك اٹھى _ حضرت على (ع) نے ديكھا كہ ايسے افسوسناك موقع پر چاہيے كہ ان كے خاندان كا كوئي ايك شخص تقرير كرے اور ان كو گمراہى سے بچا كر سكون اور ہدايت كى طرف رہنمائي كرے لہذا اپنے بيٹے امام حسن(ع) سے فرمايا: ميرے لال اٹھو اور ابوموسى و عمروعاص كے بارے ميں كچھ كہو_ امام حسن مجتبى (ع) نے ايك پرزور تقرير ميں وضاحت كى كہ :

 “ ان گوں كو اس لئے منتخب كيا گيا تھا تا كہ كتاب خدا كو اپنى دلى خواہش پر مقدم ركھيں ليكن انہوں نے ہوس كى بناپر قرآن كے خلاف فيصلہ كيا اور ايسے لوگ حَكَم بنائے جانے كے قابل نہيں بلكہ ايسے افراد محكوم ( اور مذمت كے قابل) ہيں[12]

شہادت سے پہلے حضرت على (ع) نے پيغمبر(ص) كے فرمان كى بناء پر حضرت امام حسن (ع) كو اپنا جانشين معين فرمايا اور اس امر پر امام حسين (ع) اور اپنے تمام بيٹوں اور بزرگ شيعوں كو گواہ قرار ديا[13]

اخلاقى خصوصيات :

امام حسن (ع) ہر جہت سے حسن تھے آپ كے وجود مقدس ميں انسانيت كى اعلى ترين نشانياں جلوہ گر تھيں_ جلال الدين سيوطى اپنى تاريخ كى كتاب ميں لكھتے ہيں كہ  “ حسن(ع) بن على (ع) اخلاقى امتيازات اور بے پناہ انسانى فضائل كے حامل تھے ايك بزرگ ، باوقار ، بردبار، متين، سخي، نيز لوگوں كى محبتوں كا مركز تھے[14]

ان كے درخشاں اور غير معمولى فضائل ميں سے ايك شمہ برابر يہاں پيش كئے جار ہے ہيں:

پرہيزگاري:

آپ خدا كى طرف سے مخصوص توجہ كے حامل تھے اور اس توجہ كے آثار كبھى وضو كے وقت آپ كے چہرہ پر لوگ ديكھتے تھے جب آپ وضو كرتے تو اس وقت آپ كا رنگ متغير ہوجاتا اور آپ كانپنے لگتے تھے_ جب لوگ سبب پوچھتے تو فرماتے تھے كہ جو شخص خدا كے سامنے كھڑا ہو اس كے لئے اس كے علاوہ اور كچھ مناسب نہيں ہے[15]

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمايا: امام حسن(ع) اپنے زمانہ كے عابدترين اور زاہدترين شخص تھے_ جب موت اور قيامت كو ياد فرماتے تو روتے ہوئے بے قابو ہوجاتے تھے [16]

امام حسن(ع) ، اپنى زندگى ميں 25 بار پيادہ اور كبھى پابرہنہ زيارت خانہ خدا كوتشريف لے گئے تا كہ خدا كى بارگاہ ميں زيادہ سے زيادہ ادب و خشوع پيش كرسكيں اور زيادہ سے زيادہ اجر ملے[17]

سخاوت:

امام(ع) كى سخاوت اور عطا كے سلسلہ ميں اتنا ہى بيان كافى ہے كہ آپ نے اپنى زندگى ميں دوبار تمام اموال اور اپنى تمام پونجى خدا كے راستہ ميں ديدى اور تين بار اپنے پاس موجود تمام چيزوں كو دو حصوں ميں تقسيم كيا_ آدھا راہ خدا ميں ديديا اور آدھا اپنے پاس ركھا [18]

ايك دن آپ نے خانہ خدا ميں ايك شخص كو خدا سے گفتگو كرتے ہوئے سنا وہ كہہ رہا تھا خداوندا: مجھے دس ہزار درہم ديدے_ امام _اسى وقت گھر گئے اور وہاں سے اس شخص كو دس ہزار درہم بھيج ديئے[19]

ايك دن آپ كى ايك كنيز نے ايك خوبصورت گلدستہ آپ كو ہديہ كيا تو آپ(ع) نے اس كے بدلے اس كنيز كو آزاد كرديا_ جب لوگوں نے اس كى وجہ پوچھى تو آپ نے فرمايا كہ خدا نے ہمارى ايسى ہى تربيت كى ہے پھر اس كے بعد آپ(ع) نے آيت پڑھي_ و اذاحُيّيتم بتحيّة: فحَيّوا باحسن منہا [20]جب تم كو كوئي ہديہ دے تو اس سے بہتر اس كا جواب دو[21]

بردباري :

ايك شخص شام سے آيا ہوا تھا اور معاويہ كے اكسانے پر اس نے امام (ع) كو برا بھلا كہا امام (ع) نے سكوت اختيار كيا ، پھر آپ نے اس كو مسكرا كر نہايت شيرين انداز ميں سلام كيا اور كہااے ضعيف انسان ميرا خيال ہے كہ تو مسافر ہے اور ميں گمان كرتا ہوں كہ تو اشتباہ ميں پڑگيا ہے _ اگر تم مجھ سے ميرى رضامندى كے طلبگار ہو يا كوئي چيز چاہيے تو ميں تم كو دونگا اور ضرورت كے وقت تمہارى راہنمائي كروں گا _ اگر تمہارے اوپر قرض ہے تو ميں اس قرض كو ادا كروں گا اگر تم بھوكے ہو توميں تم كو سير كردونگا ... اور اگر ، ميرے پاس آؤگے تو زيادہ آرام محسوس كروگےوہ شخص شرمسار ہوا اور رونے لگا اور اس نے عرض كي:  “ ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ زمين پر خدا كے خليفہ ہيں _خدا بہتر جانتا ہے كہ و ہ اپنى رسالت كو كہاں قرار دے_ آپ اور آپ كے والد ميرے نزديك مبغوض ترين شخص تھے ليكن اب آپ ميرى نظر ميں سب سے زيادہ محبوب ہيں[22]

مروان بن حكم _ جو آپ كا سخت دشمن تھا_ آپ (ع) كى رحلت كے بعد اس نے آپ كى تشيع جنازہ ميں شركت كى امام حسين _نے پوچھا_ ميرے بھائي كى حيات ميں تم سے جو ہوسكتا تھا وہ تم نے كيا ليكن اب تم ان كى تشييع جنازہ ميں شريك اور رورہے ہو؟ مروان نے جواب ديا “ ميں نے جو كچھ كيا اس شخص كے ساتھ كيا جس كى بردبارى پہاڑ ( كوہ مدينہ كى طرف اشارہ) سے زيادہ تھي[23]

خلافت :

21/ رمضان المبارك 40 ھ ق كى شام كوحضرت على (ع) كى شہادت ہوگئي _اس كے بعدلوگ شہر كى جامع مسجد ميں جمع ہوئے حضرت امام حسن مجتبى (ع) منبر پر تشريف لے گئے اور اپنے پدربزرگوار كى شہادت كے اعلان اور ان كے تھوڑے سے فضائل بيان كرنے كے بعد اپنا تعارف كرايا_ پھر بيٹھ گئے اور عبداللہ بن عباس كھڑے ہوئے اور كہا لوگو يہ امام حسن (ع) تمہارے پيغمبر (ص) كے فرزند حضرت على (ع) كے جانشين اور تمہارے امام (ع) ہيں ان كى بيعت كرلوگ چھوٹے چھوٹے دستوں ميں آپ كے پاس آتے اور بيعت كرتے رہے[24]

نہايت ہى غير اطمينان نيز مضطرب و پيچيدہ صورت حال ميں كہ جو آپ كو اپنے پدربزرگوار كى زندگى كے آخرى مراحل ميں در پيش تھے آپ نے حكومت كى ذمہ دارى سنبھالي_ آپ نے حكومت كو ايسے لوگوں كے درميان شروع كيا جو مبارزہ اور جہاد كى حكمت عملى اور اس كے اعلى مقاصد پر چنداں ايمان نہيں ركھتے تھے چونكہ ايك طرف آپ (ع) پيغمبر (ص) و على (ع) كى طرف سے اس عہدہ كے لئے منصوب تھے اور دوسرى طرف لوگوں كى بيعت اور ان كى آمادگى نے بظاہر ان پر حجت تمام كردى تھى اس لئے آپ نے زمام حكومت كو ہاتھوں ميں ليا اور تمام گورنروں كو ضرورى احكام صادر فرمائے اور معاويہ كے فتنہ كو سلادينے كى غرض سے لشكر ا ور سپاہ كو جمع كرنا شروع كيا، معاويہ كے جاسوسوں ميں سے دو افراد كى شناخت اور گرفتارى كے بعد قتل كراديا_ آپ(ع) نے ايك خط بھى معاويہ كو لكھا كہ تم جاسوس بھيجتے ہو؟ گويا تم جنگ كرنا چاہتے ہو جنگ بہت نزديك ہے منتظر رہو انشاء اللہ[25]

معاويہ كى كارشكني :

جس بہانہ سے قريش نے حضرت على (ع) سے روگردانى كى اور ان كى كم عمرى كو بہانہ بنايا معاويہ نے بھى اسى بہانہ سے امام حسن (ع) كى بيعت سے انكار كيا[26]وہ دل ميں تو يہ سمجھ رہے تھے كہ امام حسن (ع) تمام لوگوں سے زيادہ مناسب ہيں ليكن ان كى رياست طلبى نے ان كو حقيقت كى پيروى سے باز ركھا _

معاويہ نے نہ صرف يہ كہ بيعت سے انكار كيا بلكہ وہ امام (ع) كو درميان سے ہٹا دينے كى كوشش كرنے لگا كچھ لوگوں كو اس نے خفيہ طور پر اس بات پر معين كيا كہ امام (ع) كو قتل كرديں_ اس بناپر امام حسن (ع) لباس كے نيچے زرہ پہنا كرتے تھے اور بغير زرہ كے نماز كے لئے نہيں جاتے تھے، معاويہ كے ان مزدوروں ميں سے ايك شخص نے ايك دن امام حسن (ع) كى طرف تير پھينكا ليكن پہلے سے كئے گئے انتظام كى بناپر آپ كو كوئي صدمہ نہيں پہونچا[27]

معاويہ نے اتحاد كے بہانہ اور اختلاف كو روكنے كے حيلہ سے اپنے عمال كو لكھا كہ  “ تم لوگ ميرے پاس لشكر لے كر آو “ پھر اس نے اس لشكر كو جمع كيا اور امام حسن (ع) سے جنگ لڑنے كے لئے عراق كى طرف بھيجا[28]

امام حسن (ع) نے بھى حجر بن عدى كندى كوحكم ديا كہ وہ حكام اور لوگوں كو جنگ كے لئے آمادہ كريں[29]

امام حسن (ع) كے حكم كے بعد كوفہ كى گليوں ميں منادى نے  “ الصّلوة الجامعة  “ كى آواز بلند كى اور لوگ مسجد ميں جمع ہوگئے امام حسن (ع) منبر پر تشريف لے گئے اور فرمايا كہ :  “ معاويہ تمہارى طرف جنگ كرنے كے لئے آرہا ہے تم بھى نُخَيلہ كے لشكر گاہ كى طرف جاؤ ... “ پورے مجمع پر خاموشى طارى رہى _

حاتم طائي كے بيٹے عدى نے جب ايسے حالات ديكھے تو اٹھ كھڑا ہوا اور اس نے كہا سبحان اللہ يہ كيسا موت كا سناٹا ہے جس نے تمہارى جان لے لى ہے؟ تم امام (ع) اور اپنے پيغمبر (ص) كے فرزند كا جواب نہيں ديتے ... خدا كے غضب سے ڈرو كيا تم كو ننگ و عار سے ڈر نہيں لگتا ...؟ پھر امام حسن (ع) كى طرف متوجہ ہوا اور كہا “ ميں نے آپ كى باتوں كو سنا اور ان كى بجا آورى كے لئے حاضر ہوں_ پھر اس نے مزيد كہا_ اب ميں لشكرگاہ ميں جارہا ہوں، جو آمادہ ہو وہ ميرے ساتھ آجائے_ قيس بن سعد، معقل بن قيس اور زياد بن صَعصَعہ نے بھى اپنى پرزور تقريروں ميں لوگوں كو جنگ كى ترغيب دلائي پھر سب لشكر گاہ ميں پہنچ گئے[30]

امام حسن (ع) كے پيروكاروں كے علاوہ ان كے سپاہيوں كو مندرجہ ذيل چند دستوں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے:

1۔خوارج، جو صرف معاويہ سے دشمنى اور ان سے جنگ كرنے كى خاطر آئے تھے نہ كہ امام(ع) كى طرف دارى كے لئے_

2۔حريص اور فائدہ كى تلاش ميں رہنے والے افراد جو مادى فائدہ اور جنگى مال غنيمت حاصل كرنے والے تھے_

3۔شك كرنے اور متزلزل ارادہ كے حامل افراد جن پر ابھى تك امام حسن (ع) كى حقانيت ثابت نہيں ہوئي تھي، ظاہر ہے كہ طبعى طور پر ايسے افراد ميدان جنگ ميں اپنى جاں نثارى كا ثبوت نہيں دے سكتے تھے_

4۔وہ لوگ جنہوں نے اپنے قبيلہ كے سرداروں كى پيروى ميں شركت كى تھى ان ميں كوئي دينى جذبہ نہ تھا[31]

امام حسن (ع) نے لشكر كے ايك دستہ كو حَكَم كى سردارى ميں شہر انبار بھيجا، ليكن وہ معاويہ سے جاملا اور اس كى طرف چلاگيا_ حَكَم كى خيانت كے بعد امام (ع) مدائن كے مقام  “ ساباط “ تشريف لے گئے اور وہاں سے بارہ ہزار افراد كو عبيداللہ بن عباس كى سپہ سالارى ميں معاويہ سے جنگ كرنے كے لئے روانہ كيا اور قيس بن سعد كو بھى اس كى مدد كے لئے منتخب فرمايا كہ اگر عبيداللہ بن عباس شہيد ہوجائيں تو وہ سپہ سالارى سنبھال ليں_

معاويہ ابتداء ميں اس كو شش ميں تھا كہ قيس كو دھوكہ ديدے_ اس نے دس لاكھ درہم قيس كے پاس بھيجے تا كہ وہ اس سے مل جائے يا كم از كم امام حسن (ع) سے الگ ہوجائے، قيس نے اس كے پيسوں كو واپس كرديا اور جواب ميں كہا:  “ تم دھوكہ سے ميرے دين كو ميرے ہاتھوں سے نہيں چھين سكتے[32]

ليكن عبيداللہ بن عباس صرف اس پيسہ كے وعدہ پر دھوكہ ميں آگيا اور راتوں رات اپنے خاص افراد كے ايك گروہ كے ساتھ معاويہ سے جاملا صبح سويرے لشكر بغير سرپرست كے رہ گيا، قيس نے لوگوں كے ساتھ نماز پڑھى اور اس واقعہ كى رپورٹ امام حسن (ع) كو بھيج دى [33]

قيس نے بڑى بہادرى سے جنگ كى چونكہ معاويہ نے قيس كو دھوكہ دينے كے راستہ كو مسدود پايا اس لئے اس نے عراق كے سپاہيوں كے حوصلہ كوپست كردينے كے لئے دوسرا راستہ اختيار كيا_ اس نے امام حسن (ع) كے لشكر ميں، چاہے وہ مَسكن[34]  ميں رہا ہو يا مدائن ميں ، چند جاسوس بھيجے تا كہ وہ جھوٹى افواہيں پھيلائيں اور سپاہيوں كو وحشت ميں مبتلاكريں_

مقام مَسكن ميں يہ پروپيگنڈہ كرديا گيا كہ امام حسن (ع) نے معاويہ سے صلح كى پيشكش كى ہے اور معاويہ نے بھى قبول كرلى ہے[35]اور اس كے مقابل مدائن ميں بھى يہ افواہ پھيلادى كہ قيس بن سعد نے معاويہ سے سازباز كرلى اور ان سے جاملا ہے[36]

ان افواہوں نے امام حسن (ع) كے سپاہيوں كے حوصلوں كو توڑ ديا اور يہ پروپيگنڈے امام (ع) كے اس لشكر كے كمزور ہونے كا سبب بنے جو لشكر ہر لحاظ سے طاقت ور اور مضبوط تھا _

معاويہ كى سازشوں اور افواہوں سے خوارج اور وہ لوگ جو صلح كے موافق نہ تھے انہوں نے فتنہ و فساد پھيلانا شروع كرديا_ انھيں لوگوں ميں سے كچھ افراد نہايت غصّہ كے عالم ميں امام (ع) كے خيمہ پر ٹوٹ پڑے اور اسباب لوٹ كرلے گئے يہاں تك كہ امام حسن (ع) كے پير كے نيچے جو فرش بچھا ہوا تھا اس كو بھى كھينچ لے گئے [37]

ان كى جہالت اور نادانى يہاں تك پہنچ گئي كہ بعض لوگ فرزند پيغمبر كو ( معاذ اللہ) كافر كہنے لگے_ اور  “ جراح بن سَنان “ تو قتل كے ارادہ سے امام (ع) كى طرف لپكا اور چلّا كربولا، اے حسن (ع) تم بھى اپنے باپ كى طرح مشرك ہوگئے ( معاذاللہ) اس كے بعد اس نے حضرت كى ران پروار كيا اور آپ (ع) زخم كى تاب نہ لاكر زمين پر گرپڑے ، امام حسن (ع) كو لوگ فوراً مدائن كے گور نر  “ سعدبن مسعود ثقفي “ كے گھر لے گئے اور وہاں كچھ دنوں تك آپ كا علاج ہوتا رہا[38]

اس دوران امام (ع) كو خبر ملى كہ قبائل كے سرداروںميں سے كچھ نے خفيہ طور پر معاويہ كو لكھا ہے كہ اگر عراق كى طرف آجاؤ توہم تم سے يہ معاہدہ كرتے ہيں كہ حسن (ع) كو تمہارے حوالے كرديں

معاويہ نے ان كے خطوط كو امام حسن (ع) كے پاس بھيج ديا اور صلح كى خواہش ظاہر كى اور يہ عہد كيا كہ جو بھى شرائط آپ (ع) پيش كريں گے وہ مجھے قبول ہيں[39]

ان دردناك واقعات كے بعد امام (ع) نے سمجھ ليا كہ معاويہ اور اس كے كارندوں كى چالوں كے سامنے ہمارى تمام كوششيں نقش بر آب كے سوا كچھ نہيں ہيں_ ہمارى فوج كے صاحب نام افراد معاويہ سے مل گئے ہيں لشكر اور جانبازوں نے اپنے اتحاد و اتفاق كا دامن چھوڑديا ہے ممكن ہے كہ معاويہ بہت زيادہ تباہى اورفتنے برپا كردے۔

مذكورہ بالا باتوں اور دوسرى وجوہ كے پيش نظر امام حسن (ع) نے جنگ جارى ركھنے ميں اپنے پيروكاروں اور اسلام كا فائدہ نہيں ديكھا_ اگر امام (ع) اپنے قريبى افراد كے ہمراہ مقابلہ كيلئے اٹھ كھڑے ہوتے اور قتل كرديئے جاتے تو نہ صرف يہ كہ معاويہ كى سلطنت كے پايوں كو متزلزل كرنے يا لوگوں كے دلوں كو جلب كرنے كے سلسلہ ميں ذرّہ برابر بھى اثر نہ ہوتا، بلكہ معاويہ اسلام كو جڑ سے ختم كردينے اور سچے مسلمانوں كا شيرا زہ منتشر كردينے كے ساتھ ساتھ اپنى مخصوص فريب كارانہ روش كے ساتھ لباس عزا پہن كر انتقام خون امام حسن (ع) كے لئے نكل پڑتا اور اس طرح فرزند رسول(ص) كے خون كا داغ اپنے دامن سے دھوڈالتا خاص كر ايسى صورت ميں جب صلح كى پيشكش معاويہ كى طرف سے ہوئي تھى اور وہ امام (ع) كى طرف سے ہر شرط قبول كرلينے پر تيار نظر آتا تھا_ بنابرايں ( بس اتنا) كافى تھا كہ امام (ع) نہ قبول كرتے اور معاويہ ان كے خلاف اپنے وسيع پروپيگنڈے كے ذريعہ اپنى صلح كى پيشكش كے بعد ان كے انكار كو خلاف حق بناكر آپ (ع) كى مذمت كرتا_ اور كيا بعيد تھا_ جيسا كہ امام (ع) نے خود پيشين گوئي كردى تھي_ كہ ان كو اور ان كے بھائي كو گرفتار كرليتا اور اس طريقہ سے فتح مكہ كے موقع پيغمبر(ص) كے ہاتھوں اپنى اور اپنے خاندان كى اسيرى كے واقعہ كا انتقام ليتا_ اس وجہ سے امام (ع) نے نہايت سخت حالات ميں صلح كى پيشكش قبول كرلی [40]

معاہدہ صلح :

معاہدہ صلح امام حسن (ع)كا متن، اسلام كے مقدس مقاصد اور اہداف كو بچانے ميں آپ كى كوششوں كا آئينہ دار ہے_ جب كبھى كوئي منصف مزاج اور باريك بين شخص صلح نامہ كى ايك ايك شرط كى تحقيق كرے گا تو بڑى آسانى سے فيصلہ كرسكتا ہے كہ امام حسن (ع) نے ان خاص حالات ميں اپنى اور اپنے پيروكاروں اور اسلام كے مقدس مقاصد كو بچاليا

صلح نامہ كے بعض شرائط ملاحظہ ہوں:

1 -حسن (ع) زمام حكومت معاويہ كے سپردكر رہے ہيں اس شرط پر كہ معاويہ قرآن وسيرت پيغمبر(ص) اور شائستہ خلفاء كى روش پر عمل كرے[41]

2- بدعت اور على (ع) كے لئے ناسزا كلمات ہر حال ميں ممنوع قرار پائيں اور ان كى نيكى كے سوا اور كسى طرح يادنہ كيا جائے [42]

-كوفہ كے بيت المال ميں پچاس لاكھ درہم موجود ہيں، وہ امام مجتبى (ع)كے زير نظر خرچ ہوں [43]گے اور معاويہ  “ داراب گرد “ كى آمدنى سے ہر سال دس لاكھ درہم جنگ جمل و صفين كے ان شہداء كے پسماندگان ميں تقسيم كرے گا جو حضرت على (ع) كى طرف سے لڑتے ہوئے قتل كرديئے گئے تھے[44]

4۔معاويہ اپنے بعد كسى كو خليفہ معين نہ كرے [45]

5۔ہر شخص چاہے وہ كسى بھى رنگ و نسل كا ہو اس كو مكمل تحفظ ملے اور كسى كو بھى معاويہ كے خلاف اس كے گذشتہ كاموں كی بناپر سزا نہ دى جائے[46]

6۔شيعيان على (ع) جہاں كہيں بھى ہوں محفوظ رہيں اور كوئي ان سے معترض نہ ہو [47]

امام (ع) نے اور دوسرى شرطوں كے ذريعہ اپنے بھائي امام حسين (ع) اور اپنے چاہنے والوں كى جان كى حفاظت كى اور اپنے چند اصحاب كے ساتھ جن كى تعداد بہت ہى كم تھى ايك چھوٹا سا اسلامى ليكن با روح معاشرہ تشكيل ديا اور اسلام كو حتمى فنا سے بچاليا_

معاويہ كى پيمان شكني :

معاويہ وہ نہيں تھا جو معاہدہ صلح كو ديكھ كر امام(ع) كے مطلب كو نہ سمجھ سكے_ اسى وجہ سے صلح كى تمام شرطوں پر عمل كرنے كا عہد كرنے كے باوجود صرف جنگ بندى اورمكمل غلبہ كے بعد ان تمام شرطوں كو اس نے اپنے پيروں كے نيچے روندديا اور مقام نُخَيلہ ميں ايك تقرير ميں صاف صاف كہہ ديا كہ “ ميں نے تم سے اس لئے جنگ نہيں كى كہ تم نماز پڑھو، روزہ ركھو اور حج كے لئے جاؤ بلكہ ميرى جنگ اس لئے تھى كہ ميں تم پر حكومت كروں اور اب ميں حكومت كى كرسى پر پہنچ گيا ہوں اور اعلان كرتا ہوں كہ صلح كے معاہدہ  ميں جن شرطوں كو ميں نے ماننے كيلئے كہا تھا ان كو پاؤں كے نيچے ركھتا ہوں اور ان كو پورا نہيں كروں گا[48]

لہذا اس نے اپنے تمام لشكر كو اميرالمؤمنين(ع) كى شان ميں ناسزا كلمات كہنے پر برانگيختہ كيا_ اس لئے كہ وہ جانتا تھا كہ انكى حكومت صرف امام كى اہانت اور ان سے انتقامى رويہ كے سايہ ميں استوار ہوسكتى ہے_ جيسا كہ مروان نے اس كو صاف لفظوں ميں كہہ ديا كہ  “ على كو دشنام ديئےبغير ہمارى حكومت قائم نہيں رہ سكتى [49]

دوسرى طرف اميرالمؤمنين (ع) كے چاہنے والے جہاں كہيں بھى ملتے ان كو مختلف بہانوں سے قتل كرديتا تھا _ اس زمانہ ميں تمام لوگوں سے زيادہ كوفہ كے رہنے والے سختى اور تنگى سے دوچار تھے_ اس لئے كہ معاويہ نے مغيرہ كے مرنے كے بعد كوفہ كى گورنرى كو زياد كے حوالہ كرديا تھا اور زياد شيعوں كو اچھى طرح پہچانتا تھا، وہ ان كو جہاں بھى پاتا بڑى بے رحمى سے قتل كرديتاتھا[50]

مدينہ كى طرف واپسي :

معاويہ ہر طرف سے طرح طرح كى امام _كو تكليفيں پہنچانے لگا_ آپ(ع) اور آپ(ع) كے اصحاب پر اس كى كڑى نظر تھى ان كو بڑے سخت حالات ميں ركھتا اور علي(ع) و خاندان على (ع) كى توہين كرتا تھا_

يہاں تك كہ كبھى تو امام حسن (ع) كے سامنے آپ كے پدر بزرگوار كى برائي كرتا اور اگر امام(ع) اس كا جواب ديتے تو آپ (ع) كو بھى ادب سكھانے كى كوشش كرتا[51]كوفہ ميں رہنا مشكل ہوگيا تھا اس لئے آپ نے مدينہ لوٹ جانے كا ارادہ كيا_

ليكن مدينہ كى زندگى بھى آپ كے لئے عافيت كا سبب نہيں بنى اس لئے كہ معاويہ كے كارندوں ميں سے ايك پليد ترين شخص مروان مدينہ كا حاكم تھا، مروان وہ ہے جس كے بارے ميں پيغمبر(ص) نے فرمايا تھا:  “ھو الوزغ بن الوزغ، الملعون بن الملعون[52]

اس نے امام (ع) اور آپ كے اصحاب كا جينا مشكل كرديا تھا يہاں تك كہ امام حسن (ع) كے گھر تك جانا مشكل ہوگيا تھا، باوجوديكہ امام (ع) دس برس تك مدينہ ميں رہے ليكن ان كے اصحاب ، فرزند پيغمبر كے چشمہ علم و دانش سے بہت كم فيض ياب ہوسكے_مروان اور اس كے علاوہ دس سال كى مدت ميں جو بھى مدينہ كا حاكم بنا اس نے امام حسن (ع) اور ان كے چاہنے والوں كو تكليف و اذيت پہونچانے ميں كوئي كمى نہيں كي_

شہادت:

معاويہ جو امام (ع) كى كمسنى كے بہانہ سے اس بات كے لئے تيار نہيں تھا كہ آپ(ع) كو خلافت دى جائے وہ اب اس فكر ميں تھا كہ اپنے نالائق جوان بيٹے يزيد كو ولى عہدى كے لئے نامزد كرے تا كہ اس كے بعد مسند سلطنت پر وہ متمكن ہوجائے_اور ظاہر ہے كہ امام حسن (ع) اس اقدام كے راستہ ميں بہت بڑى ركاوٹ تھے اس لئے كہ اگر معاويہ كے بعد امام حسن (ع) مجتبى زندہ رہ گئے تو ممكن ہے كہ وہ لوگ جو معاويہ كے بيٹے سے خوش نہيں ہيں وہ امام حسن (ع) كے گرد جمع ہوجائيں اور اس كے بيٹے كى سلطنت كو خطرہ ميں ڈالديں لہذا يزيد كى ولى عہدى كے مقدمات كو مضبوط بنانے كے لئے اس نے امام حسن (ع) كو راستہ سے ہٹادينے كا ارادہ كيا_ آخر كار اس نے دسيسہ كارى كا مظاہرہ كرتے ہوئے امام حسن (ع) كى بيوى  “ جعدہ بنت اشعب “ كے ذريعہ آپ(ع) كو زہر ديد يا اور امام معصوم (ع) سينتاليس سال كى عمر ميں 28/ صفر 50ھ ق كو شہيد ہوگئے اور مدينہ كے قبرستان بقيع ميں دفن ہوئے[53]


-[1] ارشاد مفيد ص 187_ تاريخ الخلفاء سيوطى /188

[2] بحار جلد 43/238

-[3] دلائل الامامہ طبرى /60

[4]تاريخ الخلفاء /188 ، تذكرة الخواص /177 “ اللہم انى احبّہ فاحبّہ

-[5] بحار جلد 43/ 264، كشف الغمہ جلد 1/550 مطبوعہ تبريز سنن ترمذى جلد 5/7 “من احبّ الحسن و الحسين(ع) فقد احبّنى و من ابفضہا فقد ابغضني

[6] طبقات كبير جلد 1 حصہ 2/23

[7]حياة الامام حسن جلد 1 ص 20، مروج الذہب جلد 2/341، تاريخ يعقوبى جلد 2 ص 172_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد 8/252_ 55  

[8]كامل ابن اثير جلد 3/227_ 231  

[9]حياة الامام الحسن جلد 1/396_ 399_

[10]وقعہ صفين /297_

[11] نہج البلاغہ فيض الاسلام خطبہ 198 ص 11660 ،املكو عنّى ہذا الغلام لا يہدّنى فانّنى انفس بہذين يعنى الحسن و الحسين على الموت لئلا ينقطع بہما نسل رسول اللہ

[12] الامامہ و السياسة جلد 1 ص 119، حياة الامام الحسن جلد 1 ص 444_

[13] اصول كافى جلد 1/ ص 297_

[14]تاريخ الخلفاء /189_

[15] مناقب ابن شہر آشوب جلد 4/14 “ حقٌ على كل من وقف بين يدى رب العرش ان يصفر لونہ و ترتعد مفاصلہ”_

[16]بحار جلد 43/331_

[17] بحار جلد 43/331، تاريخ الخلفاء /190، مناقب ابن شہر آشوب 4/14_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد 16/10 ، تذكرة الخواص /178_

[18] تاريخ يعقوبى جلد 2/215، بحار جلد 43/ 332، تاريخ الخلفاء /190، مناقب جلد 4/14 _

[19] كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد 1/558_

[20] سورہ نساء /86_

[21] بحار جلد 43/342_

[22] بحار جلد 43 /344_

[23] تاريخ الخلفاء /191 ، شرح ابن ابى الحديد جلد 16 / 13 ، 51 واقعہ كے آخرى حصہ ميں تھوڑے فرق كے ساتھ_

[24] ارشاد مفيد /188 شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد 16/30 مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت 50 _ 52_

[25]ارشاد مفيد 189 ، بحارجلد 44/45 ، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد 16 / 31 مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت / 53 اما بعد فانك دسَّست الرجال للاحتى ال و الاغتيال و ارصدت العيون كانك تحت اللقاء و ما اشك فى ذالك فتوقعہ انشاء اللہ

[26] امام حسين (ع) كے مقابل معاويہ كى منطق سے واقفيت كے لئے امام حسن (ع) كے نام معاويہ كا وہ خط پڑھاجائے جس كو ابن ابى الحديد نے اپنى شرح كى ج 16 / 37 پر درج كيا

[27] بحار جلد 44/23_

[28] شرح شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج 16/ 37 و 38 مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت /60_

[29] ارشاد مفيد /189 ،بحار جلد 44 / 46 شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد 16 / 38 مقاتل الطالبين / 61_

[30] شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد 16 / 37 _ 40 ،بحار جلد 44 / 50_

[31]ارشاد مفيد /189 ، بحار 44/ 46_

[32] تاريخ يعقوبى ج 2 / 214_

[33]ارشاد مفيد 190_

[34] مسكن منزل كے وزن پرہے _ نہر دجيل كے كنارے پر ايك جگہ ہے جہاں قيس كى سپہ سالارى ميں امام حسن (ع) كا لشكر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا

[35] تاريخ يعقوبى جلد 2 / 214_

 [36]تاريخ يعقوبى ج 2 / 214_

[37] ارشاد مفيد /190 ، تاريخ يعقوبى جلد 2 / 215 ، بحار جلد 44 / 47 ، شرح ابن ابى الحديد جلد 16/ 41 مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت

[38] ارشاد مفيد /190 ، تاريخ يعقوبى ج 2 / 215 ، بحار جلد 44 / 47 شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج 16/ 41 مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت /63

[39] ارشاد مفيد /190 _ 191 ، تاريخ يعقوبى جلد 2 / 215_

[40] بحار جلد 44/ 17 ، شرح ابن ابى الحديد 16 / 41_ 42، مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت /14_

[41] بحار جلد 44/ 65_

[42] ارشاد مفيد /191 ،مقاتل الطالبين ،حياة الامام الحسن بن على جلد 2 / 237 شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد 16 / 4_

[43] تاريخ دول الاسلام جلد 1/ 53 ،حياة الامام الحسن بن على ج 2 / 238، تذكرة الخواص ابن جوزى /180 ، تاريخ طبرى ج 5 / 160_

[44] جوہرة الكلام ، حياة الامام الحسن بن على جلد 2/ 337_

[45] بحارالانوار جلد 44/65_

[46] مقاتل الطالبين / 43_

[47] ارشاد مفيد حياة الامام الحسن بن على جلد 2/237 شرح ابن ابى الحديد 16/4_

[48] حياة الامام الحسن بن على جلد 2/237 مقاتل الطالبين / 43 ، ذخائر العقبى ميں اتنا مزيد ہے كہ معاويہ نے شروع ميں ان شرائط كو مطلقاً قبول نہيں كيا اور دس آدميوں كو منجملہ قيس بن سعد كو مستثنى كيا اور لكھا كہ ان كو جہاں بھى ديكھوں گاان كى زبان اور ہاتھ كاٹ دوں گاامام حسن(ع) نے جواب ميں لكھا كہ : ايسى صورت ميں، ميں تم سے كبھى بھى صلح نہيں كرونگا، معاويہ نے جب يہ ديكھا تو سادہ كاغذ آپ كے پاس بھيجديا اور لكھا كہ آپ جو چاہيں لكھديں ميں اسكو مان لونگا اور اس پر عمل كرونگا

[49] بحار 44/ 49 ، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج 16/ 14_ 15 ، 46 مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت /70 ارشاد، مفيد 91_

[50] الصواعق المحرقہ / 33 ( لا يستقيم لنا الامر الا بذالك اى بسبّ علي_

[51]حياة الامام الحسن ابن على جلد 2/ 356_

[52]ارشاد مفيد /191 شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد 16/ 47_

[53] حياة الامام الحسن بن على جلد 1/239 ، مستدرك حاكم جلد 4/ 479_

سوال بھیجیں