زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (27)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

انوار قدسیہ ۔مجلہ عشاق اہل بیت 10-شوال 1434ھ

انوار قدسیة :

آٹھویں برج امامت  ثامن الحجج حضرت امام علی بن موسی الرضا سلام الله علیه

مصطفی علی فخری

ولادت با سعادت : حضرت امام علی بن موسی الرضا علیه السلام کی ولادت با سعادت کے بارے میں مختلف اقوال موجود هیں آپ كي ولادت باسعادت كي تاريخ كے باب ميں ۱۴۸،۱۵۱ اور۱۵۳ ہجري قمري اور ۱۹ ماہ رمضان المارك بروز جمعہ ،۱۵ رمضان المبارك،۱۰ رجب المرجب بروز جمعہ اور ۱۱  ذيقعدۃ الحرام منقول ہے ،ليكن ظاہراً مشہور و معروف قول ۱۱ ذيقعدہ ۱۴۸ ہجري قمري ہے۔
شيخ مفيد،شيخ كليني،كفعمي،شہيد ثاني،طبرسي،شيخ صدوق،ابن زہرہ،مسعودي،ابوالفداء ابن اثير،ابن حجر،كساني اور بعض ديگر اہل قلم نے امام عليہ السلام كے سال ولادت با سعادت كو۱۴۸ ہجري قمري درج كيا ہے۔

کنیت اور القاب :

حضرت امام رضا عليہ السلام كے بهت سارے مقدس اورمبارك القاب موجود هیں جو آپ کے فضائل مختلف پهلووں کوبیان کرنے کیلئے کافی هیں آپ کی  مقدس  كنيت’’ابوالحسن‘‘ هے جبكہ القاب1-’’صابر،2-زكي،3-ولي،4- فاضل،5- وفي،6- صديق،7- رضي،8- سراج اللہ،9- نور الھديٰ،10- قرۃ عين المؤمنين،11- مکيدۃ الملحدين،12- كفوالملك،13- كافي الخلق، 14- ربالسرير،15- رئاب التدبير،16- رؤف،17- انيس النفوس،18- شمس الشموس،19- غريب الغرباء20-  رضا[1] 21- ضامن 22- غیظ ااملحدین 23- الامام الثامن  24- الهاشمی[2]
25- عالم آل محمد...ہيں.

’’رضا‘‘امام عليہ السلام كا مشہور ترين لقب ہے كہ حضرت كي شہادت كے بعد مدت مديد گذر جانے كے بعد بھي ابھي تك ہم سب اس مہربان امام عليہ السلام كو اسي مبارك لقب’’رضا‘‘سے ياد كرتے ہيں شايد آپ اس لقب كي دليل جاننا چاہتے ہوں:
وہ اس وجہ سے ’’رضا‘‘كہلائے كہ آسمانوں ميں پسنديدہ اور زمين ميں بھي خداوند متعال اس كے انبياء اور آئمۂ ہديٰ عليہم السلام اُن سے خوشنود ہيں‘‘۔اس مبارك لقب كي ايك اور وجہ يہ بيان كي گئي ہے كہ اس وجہ سے كہ موافق و مخالف تمام لوگ اس مہربان امام سے راضي و خوشنود تھے؛[3]

 والده  ماجده  :

آنحضرت          كي والدہ ماجدہ كے بهت سارے القاب اور اسماء تاریخ میں موجود هیں آپ کی کنیت   امُّ البنين، اور  1- اروی 2- نجمہ،3- خيزران،4- طاہرہ، 5- سكن،5- تكتم  6- شقرا 7- سمان  آپ كي والدہ ماجدہ كے مبارك اسماء ميں شامل ہيں.

آپ کی ولده کی  فضیلت ، ادب اور کمال عقل کیلئے یهی کافی هے که جب سےحضرت امام موسی کاظم کی والده ماجده  حضرت حمیده نے آپ کو خریدا ان کے احترام کی خاطر کبھی بھی ان کے سامنے نهیں بیٹھیں اسی لئے حضرت حمیده نے اپنا بیٹاحضرت امام موسی کاظم علیه السلام سے کها :یا بنيّ ! إنّ تُكتم جارية ما رأيت جارية قطّ أفضل منها ، ولست أشكّ أنّ اللّه تعالى سيطهر نسلها إن كان لها نسل ، وقد وهبتها لك فاستوص خيراً بها ، فلمّا ولدت له الرضا ( عليه السلام ) سمّاها الطاهرة .[4]میرا  بیٹا  هماری کنیز تکتم سے بهتر کسی کنیز کو نهیں دیکھا  مجھے یقین هے که اگر الله تعالی ان کو کوئی اولاد دے تو طاهر اور پاک اولاد عطاکرے گا  میں نے یه تمهیں بخش دیا  ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا او رجب حضرت امام رضا علیه السلام کی ولادت هوئی تو ان کو طاهره نام دیا .

اور دوسری روایت میں علی بن میثم اپنے باپ سے نقل کرتے هیں که انھوں نے کها : إن حميدة أم موسى ابن جعفر عليه السلام لما اشترت نجمة رأت في المنام رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول لها يا حميدة هبي نجمة لابنك موسى فإنه سيلد منها خير أهل الأرض فوهبتها له فلما ولدت له الرضا سماها الطاهرة.[5]حضرت امام کاظم علیه السلام کی والده حضرت حمیده  نے جب حضرت امام رضا کی والده حضرت نجمه کو خریدا تو خواب میں حضرت رسول خدا  ﷺ کو دیکھا  اور آپ ﷺ نے فرمایا : اے حمیده ، نجمه اپنے بیٹے موسی کو بخش دو اس سے روی زمین کا سب سے بهترین انسان پیدا هوگا  تو حضرت حمیده نے امام موسی کاظم کو بخش دیا او رجب حضرت امام رضا کی ولادت هوئی تو  حضرت نجمه کو  طاهره نام دیا .

رسول الله سے شباهت :

نقل هوا هے که لوگوں میں سب سے زیاده  آپ رسول الله کے شبیه تھے اور جو بھی خواب میں آنحضرت ﷺ کو دیکھتے تھے آپ  علیه السلام کی شکل میں دیکھتے تھے .[6]

همعصر خلفاء:

حضرت امام رضا علیه السلام چھه عباسی خلفاء 1-ابوجعفر منصور 2- مهدی 3- هادی 4- هارون 5- امین 6- مامون ۔[7] کے همعصر رهے هیں
حضرت امام رضا عليہ السلام كي امامت كا آغاز ہارون عباسي كي خلافت كے آخري دس سالوں كے معاصر ہوا،بعد از آن خليفہ ہارون الرشيد كے بيٹے امين كي خلافت كے دور ميں گذارے جبكہ عہد امامت كے آخري پانچ سال خليفہ مامون ملعون كي خلافت كے دوران بسر كيے۔

حضرت امام رضا عليہ السلام كي امامت كے دور كا آغاز ۱۸۳  سے ہو چكا تھا۔ اس وقت كي سياسي حكومت ہارون الرشيد كے ہاتھوں ميں تھي اور اس كا دارالحكومت بغداد تھا۔خليفہ ہارون كا طريق كار اور روش حكومت بھي ديگر ظالم و جابر حكمرانوں كي طرح شكنجے،جيل(زندان)اور قتل و غارت والي  تھي،ٹيكس وصول كرنے كے بہانے لوگوں كو اذيت و آزار پہنچانا،فاطمي سادات اور شيعيانِ اہلبيت عليہم السلام كو انواع و اقسام كي تكاليف پہنچانا، اسي ظالمانہ روش كے مطابق معصوم امام حضرت موسيٰ ابن جعفر عليہما السلام؛حضرت امام رضا عليہ السلام كے والد بزرگوار كو بصرہ اور بغداد كے زندانوں ميں قيد ركھا اور آخر كار زہر جفا سے اس بے گناہ قيدي امام عليہ السلام كو شہيد كرديا ۔يہ ايسا  دور تھا كہ جہاں حضرت رضا عليہ السلام كو اپنے والد بزرگوار كي جانسوز شہادت كا صدمہ اُٹھانا پڑا،وہاں ديگر علويوں كو بھي طرح طرح كے مصائب كاسامنا كرنا پڑا۔

اس نوعيت كے مظالم اور ايسي حاكم فضا كے پيش نظر حضرت امام رضا عليہ السلام ترجيح ديتے تھے كہ (بحكمِ خدا) اپني امامت كو آشكار و علني نہ كريں اورفقط اپنے بعض قابل اعتماد شيعوں كے ساتھ اس لحاظ سے رابطہ ركھيں ليكن چند سالوں كے بعد ہارون الرشيد كے خلاف ايك فضا بنتي ہے اور اس كے نتيجے ميں اس خليفے كي حكومت كمزور ہو جاتي ہے تو (بہ امر خدا) حضرت امام رضا عليہ السلام اپني بر حق امامت كو آشكار فرماديتے ہيں اور اعتقادي و معاشرتي ميدانوں ميں لوگوں كي مشكلات حل كرنا شروع كر ديتے ہيں۔
جب سال ۱۹۳ ھ۔ق ميں ايك مخالف كاروائي(شورش)كو مٹانے كيليے خراسان كوجاتا ہے تو وہيں پر دنيا سے گذرجاتا ہے اور طوس كے سناباد نامي علاقے ميں طوس كے گورنر‘‘حميد بن قحطبہ طائي’’كے محل كے نچلے حصے كے ايك كمرہ ميں دفن كر ديا جاتا ہے۔
ہارون كے دونوں بيٹے ’’امين اور مأمون‘‘حكومت كے مسئلہ و موضوع پر ايك دوسرے سے اُلجھ پڑتے ہيں ايك دوسرے كے خلاف نزاع و كشمكش كي فضا قائم ہو جائي ہے۔بغداد ميں امين حكومت اپنے ہاتھ ميں لے ليتا ہے تو دوسري طرف مرو ميں مأمون تخت پادشاہي پر بيٹھ جاتا ہے۔ان دونوں بھائيوں كے درميان پانچ سال تك يہ منازعات جاري رہتے ہيں اور آخر كار مأمون كي فوج بغداد پر حملہ آور ہوتي ہے اور ۱۹۸ ھ ميں امين قتل ہو جاتا ہے اور مأمون تمام علاقے كي حكومت پر قابض ہو جاتا ہے۔

اولاد کی تعداد:

امام کی اولاد کے سلسلہ میں مورخین میں دو امور پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ اولاً یہ کہ ام حبیبہ کے بطن سے امام کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ دیگر یہ کہ سبیکہ نامی خاتون امام تقی جواد کی والدہ ہیں۔ ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ ابن شہر آشوب، محمد بن جریر طبری، شیخ مفید اور طبرسی کے بموجب سوائے امام محمد تقی کے امام کی کوئی اور اولاد نہیں تھی۔ لیکن بعض روایات کے لحاظ سے امام (ع) کے دو فرزند محمد اور موسیٰ (ع) ، یا محمد و جعفر(ع) اور بعض کے مطابق پانچ فرزند اور ایک دختر تھی۔ امام کی اولاد کے سلسلہ میں جناب آغا مہدی لکھنوی ، (٣) نے اپنی کتاب ''الرضا '' میں ١٨ حوالوں سے یہ وضاحت کی ہے کہ امام (ع) کی ایک سے زیادہ اولاد تھی ان حوالوں میں صاحب کشف الغمہ، عبدالعزیز بن اخضر،ابن خشاب، سبط ابن جوزی اور شیخ ابراہیم کفعمی شامل ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ امام جعفر صادق (ع) کے بعد اسماعیل کے بارے جو غلط فہمی پیدا کی گئی اس کی تکرار کے سدباب کے لئے امام نے خود اپنی زندگی میں اولاد کو منتشر کردیا ہو اور خطرہ برطرف ہونے پر اپنے اولاد امام ہونے کا اظہار کردیا ہو۔

خراسان کا سفر :

 اگر چه مامون تمام اسلامی سرحدوں کا بلا منازع حاکم بنا تھا لیکن ايسے حالات تھے كہ عراق، حجاز اور يمن كے علاقوں ميں ہنگامے اور حكومت مخالف كاروائياں شروع ہو جاتي ہيں،وہ لوگ فقط ايك چيز كا مطالبہ كرتے تھے اور وہ يہ كہ حكومت خاندانِ آل محمد عليہم السلام كے ہاتھوں ميں ہوني چاہيے۔مأمون نہايت چالاكي و مكاري سے كام ليتے ہوئے حضرت امام رضا عليہ السلام كو خراسان آنے كي دعوت ديتا ہے۔اس تاريخي حادثے كو دہراتے ہوئے اذہان ميں ہميشہ پہلے سوال يہ اٹھتے ہيں كہ كيوں؟ اور مأمون كا ہدف كيا تھا؟
اس ليے كہ امام عليہ السلام كو اپنے پاس ركھتے ہوئے اپنے اعمال اور سياستوں پر ايك طرح سے مہر تائيد ثبت كروانا چاہتا تھا۔امام رضا عليہ السلام(حجت خدا تھے ،ان سازشوں سے آگاہ تھے اور غاصب خليفہ كے اہداف كو بخوبي سمجھتے تھے اس ليے) مامون كي دعوت كو مسترد كر كے نفي ميں جواب ديتے ہيں،يہ سلسلہ كچھ بڑھتا ہے اور آخر كار خليفہ سنجيدگي سے جان كي دھمكي دے ديتا ہے۔ اور امام علیه السلام کو مجبور کر کے خراسان کی طرف لے جاتا هے .

حضرت امام رضا عليہ السلام کو جب ظاهری طور پر ولایت عهدی کیلئے اور اندر سے مجبور کر کےخراسان کی طرف لے جانے لگا اور سید الشهداء حضرت امام حسین علیه السلام کی طرح آپ کو  مدینة الرسول چھوڑنا پڑا  تو اپنے جد بزرگوار كے مقدس  روضے سے ايسےخدا حافظي كي،آخري وداع كيا كہ باربار پلٹ كر پھر جد بزرگوار كي قبر اطہر كے پاس چلے جاتے تھے اور گريہ و زاري كي آوازيں بلند ہو جاتي تھيں۔ محول بجستاني نقل كرتا ہے که  ميں امام عليہ السلام كے نزديك پہنچا سلام کیا تو امام نے جواب دیا اور میں نے (ولايت عہدي كي پيكش ہونے كي مناسبت سے)مباركباد كہي۔امام عليہ السلام نے فرمايا:" ذرني فاني أخرج من جوار جدي ( صلى الله عليه وآله ) فأموت في غربة وادفن في جنب هارون " [8]جھے چھوڑ دو!ميں اپنے جد بزرگوار كے جوار(ہمسائيگي)سے بہت دور لے جايا جا رہا ہوں اور اسي غربت (كي سرزمين )ميں شہيد كر ديا جاؤں گا۔
محول کهتا هے :" فخرجت متبعا طريق الامام حتى مات (بطوس ) ، ودفن بجنب هارون " میں امام علیه السلام کے ساتھ نکلا یهاں تک که آپ طوس میں شهید هو گئے اور هارون کے جوار میں دفن هو گئے .

آپ کی غربت اور مجبوری  کی ایک اور بڑی دلیل  یه هے که آپ نے سفر خراسان سے پهلے اپنے خاندان والوں کو جمع  کر کے آخری وداع کیا اور ان سے کها که آپ پر گریه کریں اور روئیں اور   آپ سن رهے تھے اور ان کے درمیان 12 هزار دینار تقسیم کردیا اور انهیں بتا دیا که آپ واپس نهیں پهنچیں گے .[9]

حدیث سلسلة الذهب :

 رجب ۲۰۰ ہجری میں حضرت مدینہ منورہ سے مرو”خراسان“ کی جانب روانہ ہوئے اہل وعیال اورمتعلقین سب کومدینہ منورہ ہی میں چھوڑا اس وقت امام محمد تقی علیہ السلام کی عمرپانچ برس کی تھی آپ مدینہ ہی میں رہے مدینہ سے روانگی کے وقت کوفہ اورقم کی سیدھی راہ چھوڑکر بصرہ اوراہوازکاغیرمتعارف راستہ اس خطرہ کے پیش نظراختیارکیاگیاکہ کہیں عقیدت مندان امام مزاحمت نہ کریں غرضکہ قطع مراحل اورطے منازل کرتے ہوئے یہ لوگ نیشاپور کے نزدیک جا پہنچے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ جب آپ کی مقدس سواری نیشاپورکے قریب پہنچی توجملہ علماء وفضلاء شہرنے بیرون شہر حاضرہوکرآپ کی رسم استقبال اداکی ، داخل شہرہوئے توتمام خورد وبزرگ شوق زیارت میں امنڈپڑے،مرکب عالی جب  شہر کے مرکز میں پہنچاتو خلائق سے زمین پرتل رکھنے کی جگہ نہ تھی۔اس موقع پرامام المحدثین حافظ ابوزرعہ رازی اورمحمدبن اسلم طوسی آگے بڑھے، اوران کے پیچھے اہل علم وحدیث کی ایک عظیم جماعت حاضرخدمت ہوئی اور اے تمام مومنوں کے امام اوراےمرکز پاکیزگی ،آپ کورسول اکرم کاواسطہ، آپ اپنے اجدادکے صدقہ میں اپنے دیدارکاموقع دیجئے اورکوئی حدیث اپنے جدنامدارکی بیان فرمائیے یہ کہہ کرمحمدبن رافع ،احمدبن حارث،یحی بن یحی اوراسحاق بن راہویہ نے آپ کے خاطرکی باگ تھام لی۔ان کی استدعا سن کرآپ نے سواری روک دئیے جانے کے لیے اشارہ فرمایا، اور اشارہ کیا کہ حجاب اٹھا د ئیے جائیں فوراتعمیل کی گئی حاضرین نے جونہی اپنے پیارے رسول کے جگرگوشہ کا نورانی چہرہ دیکھا سینوں میں دل بیتاب ہوگئے دوزلفیں چہرہ انور پر مانندگیسوئے مشک بوئے جناب رسول خداچھوٹی ہوئی تھیں کسی کویارائے ضبط باقی نہ رہا سب کے سب بے اختیار دھاڑیں مارکر رونے لگے۔  بعض آپ کی سواری کے گرد گھومنے لگےاور جھک کر مرکب اقدس اورعماری کابوسہ دینے لگے غرضکہ عجیب طرح کاولولہ تھاکہ جمال باکمال کودیکھنے سے کسی کوسیری نہیں ہوئی تھی یہاں تک دوپہر ہوگئی اس وقت علماء وفضلاء کی جماعت نے بآوازبلندپکارکرکہاکہ مسلمانوں ذراخاموش ہوجاؤ، اورفرزندرسول کے لیے آزارنہ بنو، ان کی استدعاپرقدرے شوروغل تھما تو امام علیہ السلام نے فرمایا:

میرے پدربزرگوارحضرت امام موسی کاظم نے مجھ سے بیان فرمایااوران سے امام جعفرصادق علیہ السلام نے اوران سے امام محمدباقرنے اوران سے امام زین العابدین نے اوران سے امام حسین نے اوران سے حضرت علی مرتضی نے اوران سے حضرت رسول کریم جناب محمدمصطفی صلعم نے اوران سے جناب جبرئیل امین نے اوران سے خداوندعالم نے ارشادفرمایاکہ ”لاالہ الااللہ “ میراقلعہ ہے جواسے زبان پرجاری کرے گا میرے قلعہ میں داخل ہوجائےگا اورجومیرے قلعہ میں داخل ہوگا میرے عذاب سے محفوظ ہوجائے گا۔ یہ کہہ کرآپ نے پردہ کھینچوادیا، اورچندقدم بڑھنے کے بعد فرمایا بشرطہاوشروطہاوانامن شروطہا کہ لاالہ الااللہ کہنے والانجات ضرورپائے گالیکن اس کے کہنے اورنجات پانے میں چندشرطیں ہیں جن میں سے ایک شرط میں بھی ہوں۔

آپ علیه السلام کی ولی عهدی :

مدینه سے مجبور کر کے خراسان لانے کے بعد مامون حضرت امام رضا علیه السلام کے سامنے  اقتدار کی پیشکش کر رہا تھا  مورخین متفق ہیں کہ آپ نے انکار فرمایا کثرت سے گفتگوئیں ہوئیں اور مامون نے بار بار اصرار کیا اور آپ ہر مرتبہ انکار فرماتے تھے  اورآپ کا ارشاد تھا کہ میں اللہ کی بندگی ہی کو بس اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہوں اور اقتدار دنیا سے تو کنارہ کشی ہی کرکے بارگاہ الٰھی میں بلندی کی امید رکھتا ہوں اور جب وہ اصرار کرتا تھا توآپ کہتے تھے:   اَللّٰہمَّ لَا عَہدَ اِلَّا عَہدِکَ وَ لاولایۃ اِلَّا مِنْ قَبْلِکَ فَوَفْقنِیْ الِاقامَۃ دِیْنکَ واحیّآءِ سُنَّتِہ نبِیّکَ نِعْمَ الْمَوْلیٰ وَ نعْمَ النَّصِیْر

پروردگار! عہدہ تو وہی عہدہ جو تیری طرف سے ہے اور حکومت وہی حکومت ہے جو تیری جانب سے ہے ہاں مجھے توفیق عطا فرما کہ تیرے دین کے شعائر کو قائم کروں اور تیرے رسول (ص)کی سنت کو زندہ کروں  تو بہترین مالک اور بہترین مددگار ہےاس میں ایک طرف صحیح اسلامی نظریہ حکومت کی تبلیغ ہو رہی تھی جس سے آپ کے انکار کا پس منظر واضح طور پر نمایاں ہو رہا تھا اور دوسری طرف اقامت دین اور احیائے سنت کے لئے اپنے جذبہ بے قرار کا مظاہرہ تھا جو بعد از اصرار بسیار ولی عہدی کے قبول کرنے کے پس منظر کی ترجمانی کر رہا ہے

          پھر آپ نے جب ولی عہدی قبول کی تو یہ شرط کر لی کہ میں حکام کے عزل و نصب کا ذمہ دار نہ ہوں گا نہ امور سلطنت میں کوئی دخل دوں گا  ہاں جس معاملہ میں مشورہ لیا جائے گا کتاب خدا و سنت رسول(ص)کے مطابق مشورہ دے دیا کروں گا یہ وہ کام تہا جو آپ کے جد بزرگوار حضرت علی بن  ابی  طالب(ع)  خلفائے  ثلاثہ  کے دور میں بغیر کسی عہدہ و منصب کے انجام دیتے تھے اب وہی حضرت امام علی بن موسی الرضا(ع) ولی عہدی کے نام کے بعد انجام دیں گےمعلوم ہوتا ہے کہ شخصیت ایک ہی ہے صرف زمانہ کا فرق ہے اور سامنے کی حکومت کے رویہ کا فرق ہے کہ پہلے دور والوں نے کسی عہدہ کی پیشکش جناب امیر کے لئےاپنے سیاسی مفاد کے خلاف سمجھی اور اب عہدہ کی پیشکش اپنے سیاسی مصالح کے لئے مناسب سمجھی جا رہی ہے معلوم ہوتا ہے کہ جو اختلاف ہے وہ سلطنت وقت کے رویہ میں ہے مگر رہنمائے دین کے موقف میں کوئی فرق نہیں ہے

پھر ولی عہدی کے بعد آپ نے اپنی سیرت بھی وہی رکھی جو شہنشاہ اسلام ما نے جانے کے بعد حضرت علی بن ابی طالب(ع) کی سیرت رہی  آپ نےاپنے دولت سرا میں قیمتی قالین بچھوانا پسند نہیں کئے  بلکہ جاڑے میں بالوں کا کمبل اور گرمی میں چٹائی کا فرش ہوا کرتا تھا کھانا سامنے لایا جاتا تھا تو دربان،  سائیس اور تمام غلاموں کو بلا کر اپنے ساتھ کھانے میں شریک فرماتےتھےپھر اسی عباسی سلطنت کے ماحول کو پیش نظر رکھ کر جہاں صرف قرابت رسول(ص) کی بنا پر اپنے کو خلق خدا پر حکمرانی کا حقدار بنایا جاتا تھا اور کبھی اپنے اعمال و افعال پر نظر نہ کی جاتی تھی آپ اپنے اوپر رکھ کر برابر اس کا اعلان فرماتے تھے کہ قرابت رسول کوئی چیز نہیں ہے جب تک کردار انسان کا ویسا نہ ہو جو خدا کے نزدیک معیار بزرگی ہے چنانچہ جب ایک شخص نے حضرت سے کہا کہ:  خدا کی قسم آباؤاجداد کے اعتبار سے کوئی شخص آپ سے افضل نہیں  حضرت نے فرمایا: میرے آباؤاجداد کو جو شرف حاصل ہوا وہ بھی صرف تقوی اور اطاعت خدا سے  ایک دوسرے موقع پر ایک شخص نے کہا کہ واللہ آپ بہترین خلق ہیں

علمی کمالات :

ویسے تو ائمه علیهم السلام سب کے سب وارث علم نبوت هیں هر ایک اپنے زمانے کے سب سے بڑے اور بینظیر عالم هیں لیکن بعض ائمه کو اپنا علمی جوهر د کھانے کی فرصت ملی انهی میں سے حضرت امام رضا علیه السلام  بھی هیں مخصوصا جب آپ خراسان آئے تو اپنےعلم سے لوگوں کو فیضیاب کرنے کی زیاده فرصت ملی چونکه ایک طرف  مختلف علوم کا عربی زبان میں ترجمه اپنے عروج پر تھا اور دوسری طرف خود خلیفه امام علیه السلام کو شکست دینے کی غرض سے ایسےعلمی مناظروں کا اهتمام کرتا تھا که جن میں مختلف مکاتب فکر اور مختلف ادیان کے سب سے بڑے علماء کو امام سے مناظره کرنے کیلئے بلاتے تھے .

جيساكہ مأمون نے ’’سلمان مروزي‘‘خراسان كے معروف متكلم سے كہا:’’اِنّما وَجَّھتُ اليك لِمَعرِفَتي بقوّتك وَلَيس مُرادِي اِلاّ اَن تقطعہ عن حجّۃٍ واحدۃٍ فقط‘‘[10]يعني ميں نے تمہيں مناظرہ كرنے كي دعوت فقط اس ليے دي ہے كيونكہ ميں تمہاري علمي قدرت سے آشنا و آگاہ ہوں اور ميري خواہش و مراد فقط يہ ہے كہ فقط اورفقط ايك علمي دليل ايسي لاؤ جس كے سامنے وہ (امام رضا عليہ السلام)لاجواب ہوكر رہ جائيں’’ليكن مأمون كي خام خيالي كے برعكس امام عليہ السلام كي شخصيت كے علمي پہلو زيادہ واضح طور پر جلوہ گر ہورہے تھے اور اس طرح رسولِ خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے اہلبيت كي لياقت و برتري عوام اور اہل علم افراد پر زيادہ واضح و نماياں ہورہي تھي جيسا كہ خود امام عليہ السلام نے ’’نوفلي‘‘سے فرمايا:’’ يا نوفلي أتحب أن تعلم متى يندم المأمون ، قلت : نعم ، قال : إذا سمع احتجاجي على أهل التوراة بتوراتهم وعلى أهل الإنجيل بإنجيلهم وعلى أهل الزبور بزبورهم وعلى الصابئين بعبرانيتهم وعلى الهرابذة بفارسيتهم وعلى أهل الروم بروميتهم وعلى أصحابالمقالات بلغاتهم ، فإذا قطعت كل صنف ودحضت حجته وترك مقالته ورجع إلى قولي علم المأمون أن الموضع الذي هو بسبيله ليس هو بمستحق له ، فعند ذلك تكون الندامة منه ، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم .[11]

‘‘اے نوفلی کیا یه جاننا چاهتے هو که کب مامون پشیمان هو گا ؟ اس نے کها : جی هاں . امام نے فرمایا : جب اهل تورات کے خلاف  تورات سے دلیل لاوںانجیل والوں کو  انجیل سے زبور والوں کو زبور سے صابئین کو ان کے اپنے عبرانیت سے هرابزه کو فارسی سے روم والوں کو اپنے رومی سے اور باقی زبان والوں کو اپنی اپنی زبانوں سے دلیل لاوں يعني جب تمام مناظرہ كرنے والوں پر ميں حجت تمام كر كے لاجواب كردوں گا اور ان كي دليلوں كے جواب دے كر انھيں رد كر دوں گا تو مأمون خود سمجھ جائے گا كہ جو مقام اس نے اپنےليے انتخاب كيا ہے،خود اس كے لائق نہيں ہے اس وقت وه پشیمان هو جائیگا‘‘
امام رضا عليہ السلام اور جاثليق مسيحي كا مناظرہ
اس مناظرہ ميں حضرت امام رضا عليہ السلام كے نہايت تعجب انگيز اور خوبصورت انداز ميں اس مسيحي اہل علم (دانشمند)كو خداوندمتعال كي وحدانيت كا قائل ہونے كي طرف راغب فرمايا اور انہيں كے قابل قبول مطالب كا حوالہ دے كر توحيد كو ان پر ثابت فرماديا چنانچہ مناظرے كے دوران حضرت نے فرمايا:مجھے عيسيٰ ميں كوئي ناپسند امر نظر نہيں آيا ليكن فقط يہ كہ حضرت كے نماز و روزہ قليل تھے،مسيحي عالم برہم ہوگيا اور كہنے لگا:آپ كے علم كا كوئي فائدہ نہيں كيونكہ عيسيٰ ہميشہ دنوں ميں روزہ دار اور راتوں ميں عبادت گذار ہوتے تھے،اس موقع پر حضرت امام رضا عليہ السلام نے فرمايا:عيسي كس ليے نماز و روزہ كي عبادات انجام ديتے تھے؟

اس مقام پر مسيحي عالم لاجواب ہوكررہ گيا اور كچھ بول نہيں سكا كيونكہ وہ اس بات كي طرف متوجہ ہوگيا كہ حضرت عيسيٰ كيليے يہ بات قبول كرلينا كہ وہ اس قدر نمازيں پڑھتے تھے،اس قدر روزے ركھتے تھے جيسا كہ ان كي كتب ميں بھي ذكر ہوا ہے؛تو اس سے يہ ثابت ہوتا ہے كہ حضرت عيسيٰ اپنے آپ كو خداوند كا بندہ سمجھتے تھے، حضرت امام رضا عليہ السلام نے سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے فرمايا: كيوں نہيں قبول كرتے ہو كہ عيسيٰ خداوند كے اذن سے مردے زندہ كرتے تھے؟

مسيحي انديشمند نے جواب ديا:اس ليے كہ جو خود مردے زندہ كرتا ہے،مادرزاد اندھوں كو بينائي و بصارت ديتا ہے اور مريض كو شفا ديتا ہے وہ خدا ہے اور اس قابل ہے كہ اس كي پرستش كي جائے۔حضرت نے فرمايا:يسع پيغمبر نے بھي يہي عيسيٰ والے كام انجام ديے ہيں،وہ پاني پر چلتے تھے، مردے زندہ كرتے تھے،مادر زاد (پيدائشي)اندھوں كو بينائي ديتے تھے،مريض كو شفا ديتے تھے،لوگوں نے انھيں تو خدا نہيں كہا،حزقيل نبي نے بھي وہ كام كيے جو عيسيٰ كرتے تھے اور انہوں نے پينتيس ہزار(۳۵۰۰۰)مردوں كو زندہ كيا۔خليل الرحمٰن حضرت ابراہيم نے چار پرندوں كو ٹكڑے كرديا،ايك ايك حصے كو ايك ايك پہاڑ پر ركھ ديا پھر پرندوں كو پُكارا اور تمام پرندے(كامل و سالم)ان كي طرف آگئے اور موسيٰ ابن عمران جو اپنے ستر اصحاب كے ساتھ كوہ طور پر گئے ہوئے تھے اسي وقت آسماني بجلي نے انہيں آليا اور سب جل گئے،موسيٰ نے عرض كي:اے پروردگار!ميں نے بني اسرائيل ميں سے ستر افراد كا انتخاب كيا اور يہاں لايا،اب اگر اكيلا واپس جاؤں اور انہيں يہ خبر سناؤں تو وہ ميري تصديق نہيں كريں گے؛پس خداوند نے ان سب كو زندہ كرديا۔
اے جاثليق جو واقعات ميں نے ذكر كيے كسي ايك كا بھي تم انكار نہيں كرسكتے كيونكہ يہ واقعات تورات، انجيل،زبور اور قرآن مجيد ميں مذكور و موجودہيں،اگر معيار يہ ہو كہ جو بھي مردہ زندہ كردے،مادرزاد اندھوں كو بينائي دے دے اور مريض كو تندرست كردے؛وہ پرستش و عبادت كے لائق ہو تو ان تمام حضرات كو اپنا خدامان لو،كيا كہتے ہو؟
جاثليق نے كہا:آپ كا عقيدہ برحق ہے اور خدائے واحد كے علاوہ كوئي خدا نہيں ہے۔

پھر امام دوسرے ادیان کے علماء کی طرف متوجه هوکر ان سے مناظره کیا اور سب پر غالب آگئے- اور وه مامون کے پچھتانے کا موقع تھا –

شهادت امام علیه السلام:

واقعہ شہادت کے متعلق مورخین نے لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام نے فرمایاتھا کہ ”فمایقتلنی واللہ غیرہ“ خداکی قسم مجھے مامون کے سواء کوئی اورقتل نہیں کرے گا اورمیں صبرکرنے پرمجبورہوں۔ ایک روزمامون نے حضرت امام رضاعلیہ السلام کواپنے گلے سے لگایااورپاس بٹھاکران کی خدمت میں بہترین انگوروں کاایک طبق رکھا اوراس میں سے ایک خوشااٹھاکرآپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہایابن رسول اللہ یہ انگورنہایت ہی عمدہ ہیں تناول فرمائیے آپ نے یہ کہتے ہوئے انکارفرمایاکہ جنت کے انگوراس سے بہتر ہیں اس نے شدید صرارکیااورآپ نے اس میں سے تین دانے کھالیے یہ انگورکے دانے زہرآلودتھے انگورکھانے کے بعد آپ اٹھ کھڑے ہوئے ،مامون نے پوچھا آپ کہاں جارہے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا جہاں تونے بھیجاہے وہاں جارہا ہوں قیام گاہ پر پہنچنے کے بعد آپ تین دن تک تڑپتے رہے بالآخرانتقال فرما گئے۔ انتقال کے بعدحضرت امام محمدتقی علیہ السلام باعجازتشریف لائے اورنمازجنازہ پڑھائی اورآپ واپس چلے گئے مامون  نے بڑی کوشش کی کہ آپ سے ملے مگرنہ مل سکا اس کے بعد آپ کوبمقام طوس محلہ سنابادمیں دفن کردیاگیا جوآج کل مشہدمقدس کے نام سے مشہورہے اوراطراف عالم کے عقیدت مندوں کامرکزہے۔


[1]مسند الامام الرضا ( ع ) جلد : 1 ص 14 عزيز الله عطاردي المؤتمر العالمي للإمام الرضا (ع) ربيع الآخر 1406

[2]موسوعة مكاتيب الأئمة  جلد : 1 ص125الشيخ عبد الله الصالحي النجف آبادي ط الأولى

[3]مسند الامام الرضا ( ع ) جلد : 1 ص 14 عزيز الله عطاردي المؤتمر العالمي للإمام الرضا (ع) ربيع الآخر 1406

[4]كشف الغمة في معرفة الأئمة جلد : 3 ص 105 علي بن أبي الفتح الإربلي دار الأضواء - بيروت – لبنان وبحار الأنوار المجلسي جلد : 49 ص5 تحقيق : محمد الباقر البهبودي دار إحياء التراث العربي الثانية المصححة 1403 - 1983م

[5]- ا علام الورى بأعلام الهدى جلد :2 ص 41 الطبرسي مؤسسة آل البيت (ع) لإحياء التراث - قم المشرفة ط الأولى ربيع الأول 1417

[6]موسوعة مكاتيب الأئمة  جلد : 1 ص125 عبد الله الصالحي النجف آبادي ط الأولى

[7]- پیشوایان بعد از رسول ج1-2 ص186 حسینعلی حسینی دار التفسیر ط اول 1386

[8]حياة الإمام الرضا ( ع )جلد : 2ص 286 باقر شريف القرشي انتشارات سعيد بن جبير -1372 ش قم

[9]حياة الإمام الرضا ( ع )جلد : 2ص 286 باقر شريف القرشي انتشارات سعيد بن جبير -1372 ش قم

[10]التوحيد ص442 الشيخ الصدوق السيد هاشم الحسيني الطهراني مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة

[11]- التوحيد ص 419 الشيخ الصدوق السيد هاشم الحسيني الطهراني مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة 

سوال بھیجیں