زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (28)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

دماغی موت کے حامل افراد کے اعضاء کی پیوند کاری۔مجلہ عشاق اہل بیت 10-شوال 1434ھ

دماغی موت کے حامل افراد کے اعضاء کی پیوند کاری

آیت اللہ محمد مہدی آصفی                        مترجم : سیدحسنین عباس گردیزی

(دوسری قسط)

دماغی موت،حقیقی موت ہے ،اس کی دلیل اور اس کے اعضاء کے انتقال کا جواز

موت کی تعریف:

بہت سے شرعی احکام کا موضوع موت ہے ۔جیسے وراثت ،قرض کی ادائیگی کے وقت کاپہنچنا ،میت پرظلم کرنے سے حکم قصاص کا برطرف ہونا ،اذن میت کا باطل ہو نا،میت کے وکیل کی وکالت کا ختم ہونا،نفقہ کے وجوب کا اس سے بر طرف ہو نا اور دیگر امور ۔
ان امور میں سے ایک ہمارا زیر بحث مسئلہ ہے ، اس کا تعلق بھی موت کے ساتھ ہے ۔ہماری بحث ا س میں ہے کہ کیا دماغی موت والے شخص کے حیاتی اعضاء مثلاً دِل یا جگر کو اس سے الگ کر کے ایسے مریض کے بد ن میں لگا نا جس کی جا ن خطرے میں ہے ،جائز ہے یا نہیں ؟
یقینا زندہ انسان کے حیاتی اعضاء جیسے دِل اور جگر کو آپر یشن کے ذریعے جدا کر کے کسی دوسرے زندہ انسان کے بدن میں پیوند کرنا ،کسی بھی لحاظ سے جا ئز نہیں ہے اور اس پر فقہا کا اجماع ہے ۔لیکن اس کی موت کے واضح ہو نے کے بعد اس کے حیاتی اعضاء کو کسی مسلمان مریض جس کی نجات ان اعضاء کی پیو ند کاری پر موقوف ہے، کی جان بچانے کے لیے جدا کیے جا سکتے ہیں ۔
پس اس مسئلے میں فقہی اعتبار سے موت کا ثبوت بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
موت کیا ہے ،کیا اس کی فقہی تعریف کی جا سکتی ہے؟یا موت کی تعریف کے لیے عام لو گوں کے فہم اور عرف پرانحصارکیا جا ئے گا کہ وہ موت کو کیا سمجھتے ہیں؟
یہ کہ میڈیکل کی رو سے موت کسے کہا جاتا ہے اور ڈاکٹر حضرات موت کے بارے میں
 کیا کہتے ہیں کہ مو ت یا پھر کس چیز کا نام ہے ؟
بحث کو سمجھنے کے لیے ان سوالا ت کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔
١۔ادلہ شرعی (قرآن ،سنت ،اجماع وعقل)میں موت کی کیا تعریف کی گئی ہے ؟
٢۔فقہی اور علمی اعتبار سے موت کے اسباب کیا ہے؟
٣۔شرعی احکام کے موضوعات کی وہ قسم جن کی ادلہ شرعی میں
 کوئی تعریف بیان نہیں کی گئی ان کے سمجھنے میں اگر عام لوگوں کے فہم اور علمی او ر اصطلاحی فہم میں تضاد پیدا ہو جائے تو موضوع کو جاننے کے لیے عرف کی رائے کو اہمیت دی جائے گی یا علمی رائے کو ؟
٤۔ادلہ شرعی میں موت کی علامتیں اور نشانیاں کو نسی ہیں؟کیا وہ نشانیاں قدیم طب کے نظریوں سے مطابقت رکھتی ہیں یا جدید میڈیکل سائنس کی تھیوری کے ساتھ میل کھا تی ہیں؟
٥۔کیا ایسے دیگر دلا ئل وقرائن موجود ہیں جو موت کے بارے میں میڈیکل سائنس کے نظریے کی تائید کر تے ہوں؟
٦۔موت کے بارے میں اگر شک ہو تو اس صورت میں حکم کیا ہے؟
انشا اللہ اس کے بعد ان سوالات کا مختصر جواب دیا جا ئے گا اور ان سوالوں کے جواب سے ہمارے پہلے سوال کا جواب بھی معلوم ہو جائے گا کہ کیا دماغی موت کے مریضوں کے بنیادی اعضاء کواُن مریضوں میں پیوند کاری کے لیے جنہیں ان اعضاء کی فوری ضرورت ہے،جدا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

ادّلہ شرعی میں موت کا تصو ر

قرآن میں موت کا تصور واضح ہے یعنی روح کا بدن سے جدا ہو نا ،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :''اَللّٰہُ یتَوَفّٰی الْاَ نْفُسَ حِینَ مَوْتِھَا'' ١[1]''موت کے وقت اللہ روحوں کو قبض کر تا ہے''
نیز ارشاد ہوتا ہے :
''قُلْ یَتَوَفَّکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الّذِی وُکِّلَ بِکُمْ ''[2] ''موت کے وقت اللہ روحوںکو قبض کر تا ہے '

مزید ارشاد ہو تا ہے : ''الَّذیْنَ َتتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰئِکَةُ ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ''[3] ''فرشتے جن کی روحیں اس حالت میں قبض کر تے ہیں کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کر رہے ہوں''
''توفی الملائکة''سے مراد روح کا نکال لینا اور قبض کرنا ہے او ر یہ بات اس مسئلہ سے مربوط آیات سے انتہائی واضح ہے ،پس جب موت روح کے جسم سے جدا ہو نےکا نام ہے تو حیات روح کے جسم کے ساتھ رہنے کو کہا جائے گا۔

شرعی اور سائنسی لحاظ سے موت کے اسباب

ادلہ شرعی کی رو سے موت کے تصور کو ہم نے جا ن لیا ،لیکن فقہی مسئلہ کے جواب کے لیے اتنا کافی نہیں ہے لہذا اس سوال کے جواب کے لیے مجبوراً ہمیں موت کے اسباب کو بھی جا ننا ہوگا چونکہ ادلہ شرعی میں موت کے اسباب کے بارے میں کو ئی اشارہ نہیں کیا گیا اسی لیے ان اسباب کی شناخت بہت اہمیت کی حامل ہے۔
موت کے سبب کی تعیین میں ڈاکٹروں میں اختلاف پا یا جاتا ہے،قدیم طب کی نگاہ میں مو ت کا عامل حرکت قلب کا بند ہو نا ہے،جب کہ جدید میڈیکل سائنس مو ت کا عامل اور سبب دماغ کے مفلوج ہو نے کو سمجھتی ہیں البتہ ہمیشہ حرکت قلب کے بند ہونے کے ساتھ دماغ بھی کام کرنا چھوڑدیتا ہے ،لیکن بعض اوقات دماغ بالکل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جب کہ دل طبیعی طور پر یا طبی آلات کے ذریعے کام کر تا رہتا ہے عرف عام (یعنی عام لوگ)حرکت قلب کے بند ہونے کو موت سمجھتے ہیں۔
اس بنا پر جب دما غ مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ دے لیکن مریض کا دِل طبیعی طور پر یا میڈیکل کے آلا ت کے ذریعے کام کر تا رہے ،حرکت قلب اور بدن میں گردش خون کو کچھ وقت کے لیے جاری رکھے تو قدیم طب کی رُوسے اور عرف عام میں ایسا انسان زندہ سمجھا جا ئے گا ۔اگرچہ اس کا دماغ مکمل طور پر مفلو ج ہو گیا ہو ،جب کہ جدید میڈیکل کے مطابق یہ انسان مر گیا ہے ۔شرعی لحاظ سے اس اختلاف کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور بہت سے شرعی احکام نفی و اثبات کے لحاظ سے اس اختلاف نظر پر مترتب ہو تے ہیں ،مثلا ً اس کے قرض کی ادائیگی کے وقت کا پہنچنا ، وراثت کے عنوان سے اس کے اموال کی ورثا ء کے درمیان تقسیم،اس کے اذن اور وکالت کا لغو ہو جا نا ،اس کی بیویوں کے لیے عدت وفات کی مد ت کا حساب کرنا ،زندگی میں وصیت کیے جا نے والے ایک تہائی اموال کا اوصیا ء کی طرف منتقل ہو نا ، اس کے قضا شدہ نمازورں اور روزوں کے بجالانے کاصحیح ہو نا ۔

اور دیگر شرعی احکام جو اس کی موت پر مترتب ہو تے ہیں،ان احکام میں سے ایک جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ، اس کے حیاتی اعضاء جیسے دل،جگر ،پھپھڑے کودوسرے زند ہ انسان کے جسم میں پیوند کاری کی غرض سے جدا کرنے کاجواز جو میڈیکل کی قطعی ضروریات کی بنا پر عمل میں آئی ہے کیونکہ کسی کے زندہ ہونے کی صورت میں اس کے عضو کوجدا کرنا بنا بر اجماع فقہا جائز نہیں ہے ۔
لیکن دوسری رائے کے مطابق یہ تمام احکام اور ان کے اثرات اس انسان پر مترتب ہوں گے جو مکمل طور پر دماغی موت کا شکار ہوا ہے حالانکہ اس کا دِل طبیعی طورپریا میڈیکل کے آلات کی مدد سے کام کر رہا ہے (جیسا کہ اکثر ایسا ہو ا ہے )پہلی رائے کے مطابق اگر چہ اس انسان کے حواس ،شعور نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور اس کا بدن بے حس و حرکت ہو گیا ہے اور دماغ بالکل مر گیا ہے اس کے باوجود یہ انسان زندہ شمار ہو گا اور مردوں کے مذکورہ احکام میں سے کو ئی بھی اس پر لاگو نہیں ہو گا ۔
اب ہم موت کے حوالے سے کس نکتہ نظر کو قبول کریں ؟
اول الذکرنکتہ نظر کو جو عام لو گو ں میں مشہور ہے یا پھر ثانی الذکر کو جو جدید میڈیکل سائنس کا نکتہ نظر ہے ؟ [4]

شرعی احکام کے موضوعات کی تشخیص

جب ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ گزشتہ سوال کے مثبت یا منفی جواب کا دارومدار موت کے عامل یا سبب کی تعیین پر ہے خواہ پہلی رائے کی بنا پر یا دوسری کی بنا پر ،اور یہ بھی مشخص ہو گیا کہ حکم شرعی کا موضوع یعنی موت بھی دونوں آراء میں کسی ایک کی وجہ سے معین ہو گا ۔
اگرعرف عام کے مطابق ہو تو ہم کہیں گے کہ موت حرکت قلب کے بند ہونے کانام ہے اور گزشتہ شرعی احکام دماغی موت کے حامل انسان پر لاگو نہیں ہو ں گے اور اگر میڈیکل سائنس کے مطابق ہو تو موت کا مطلب دماغ کا مرجانا ہے اگر چہ دِل کی دھڑکن جاری ہو،اس صورت میں موت کے تمام احکام اس دماغی موت کے مریض پرلا گو ہوں گے مذکورہ بالاوضاحت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ شرعی احکام یا ان کے متعلقات کے بارے میں اگر شرعی ادلہ میں ان کی جامع تعریف یاوضاحت موجود نہ ہو تو اس صورت میں ان کی تعریف اوروضاحت کے لیے عرف عام کی طرف رجوع کیاجائے گا یا خاص علمی اصطلاح کو مدنظر رکھا جا ئے گا ؟
اگر حکم سے متعلق موضوع کی تشخیص اور تعیین میں ان دونوں کے درمیان اختلاف پایا جائے (جیسا کہ یہ اختلاف بعض اوقات عرف عام اور لغوی معنی میں مشاہدہ کیاجاتا ہے )تو کس کو عمل کامعیار قرار دیا جا ئے گا ؟
اِس بات کی وضاحت کے لیے یہ کہنا ضروری ہے کہ شرعی احکام کے موضوعات اورمتعلقات دو طرح کے ہیں :
پہلی قسم ان موضوعات اور متعلقا ت کی ہے جنہیں شارع نے بیان کیا اور انہیں اپنے معانی کا لباس پہنایا اورخاص اصطلاح قرار دیا اور شرعی اصطلاح سے پہلے عوام یا علماء کے درمیان اس قسم کا خاص معنی اور اصطلاح قطعاً رائج نہ تھی ،جیسے بلوغ ،نصاب زکوة ،حیض ،استحاضہ ،اور نفاس (ان کی شرعی حدودکے ساتھ)قبلہ،نماز،زکوة ،روزہ ، حج،وغیرہ
دوسری قسم ان موضوعات اور متعلقات کی ہے جنہیں شارع نے خاص معانی عطا نہیں کیے بلکہ شریعت سے پہلے وہ معانی عام لوگوں کے درمیان رائج تھے،شارع نے عوام سے ان معانی کوان کی حدود وقیود کے ساتھ حاصل کیاجیسے استطاعت ،خوف ،ضرر،عسر،حرج ،فجر ،زوال ،ماہ رمضان،سچ،جھوٹ،
 خیانت ،معروف،منکر،وغیرہ
پہلی قسم کا حکم واضح ہے چونکہ ان موضوعات کو شارع نے وجود بخشا ہے لہذا ن کی تفسیر بھی خود شارع سے حاصل کرنی چاہیے خواہ وہ شبہا ت مصداقی ہو ں جیسے قبلہ میں غلطی ،یا شبہات مفہومی ہو ں ،ہماری بحث کا تعلق اس قسم سے نہیں ہے ۔
رہی بات دوسری قسم کی یعنی وہ موضوعات اور متعلقات جو عوام کے درمیان متداول اور رائج تھے اور شارع نے انہی کو حکم کاموضوع قرار دیا ،ان کی دو قسمیں ہیں۔
١۔وہ موضوعات جن کی تشخیص کے لیے عرف عام کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے اور ان کی تشخیص اور تعیین کامعیار اور کسوٹی ''عرف'' ہے ۔
٢۔وہ موضوعات جن کی تشخیص اور وضاحت کے لیے علمی پیمانو ں،عقلی ظرافتوں ،سائنسی اصولوں،اور ریاضی کے فارمولوں سے مدد لینی پڑتی ہے ۔

پہلی قسم کے مثالیں :

مشہور حدیث ''لاضررولا ضرار فی الاسلام '' میں ''ضرر'' مشہور حدیث نبوی  ''نھی عن البیع الغرر ''میں ''غرر'' اسی طرح معروف حدیث ''رفع عن امتی تسع ...'' میں ''اضطرار '' اور قرآن مجید کی اس آیت '' ھُوَ اجْتَبٰکُمْ ومَا جَعَلَ عَلَےْکُم فِی الدِّینِ مِنْ حَرَجٍ ''[5] میں''حَرَجْ'' اور آیت حج ''وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیه سَبِیلاً ''[6] میں استطاعت جو کہ وجوب حج کاموضوع ہے۔ اس طرح قدرت اوروسعت کامفہوم اور معنی اس آیت میں ''لایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَھَا''[7]اور اس طرح کے او ر عناوین جوشرعی حکم اولیہ یا ثانویہ کاموضوع یا اس کے متعلق ہیں،ان عناوین کی تشخیص کے لیے مکلف کو ''عرف ''کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

دوسری قسم کی مثالیں:

ماہ رمضان ،ذی الحجہ،اوقات نمازوغیرہ ،اس قسم کے عناوین اگر چہ عرفی ہیں پھر بھی ان کی تشخیص کے لیے علمی معیاروں پرجانچنے اور عقلی باریک بینی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے ۔مکلف زوال کے عین وقت جس میں دو تین منٹ پہلے یا بعد کا فرق ہو سکتاہے ،کی تعیین کے لیے کبھی بھی عرف کی طرف رجوع نہیں کر تا ،بلکہ علمی جدول اور فلکیات کے حساب و کتاب کومدنظر رکھتا ہے ۔
ان دو قسموں کے درمیان فرق صاف ظاہر ہے اور اس میں ہمیں کو ئی توقف کر نے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ نہایت آسانی کے ساتھ ہم ان دوقسم کے عناوین میں فرق کر سکتے ہیں۔لیکن کس لیے ؟اور اس کی دلیل کیا ہے ؟یہا ں پرکچھ غور وفکر کرنا چاہیے کہ کیوں ہم بعض عناوین کے لیے براہ راست عرف کی طرف رجوع کر تے ہیں او صراحت کے ساتھ عرف سے جواب حاصل کر تے ہیں جب کہ بعض دوسرے موضوعات کے لیے تحقیقات ،غور و فکر اور ریا ضی کے فارمولوں کا سہارا لیتے ہیں ؟
اگر ہم اس مسئلے میں گہرا غور وفکر کر یں تو اس بات کی دلیل ہم یوں دریافت کرتے ہیں کہ پہلی قسم کے موضوعات اور عناوین کے مختلف اورمتعدد وجودی مراتب اور درجا ت ہیں ۔
اس طرح کے احکام کے موضوعات اورمتعلقات مشکک ہیں ان کے بعض درجے صفر کی حد تک کمزور ہیں اور بعض اس قدر قوی اور واضح ہیں کہ وہ کسی پر مخفی نہیں ہیں ،لہذا ان موضوعات اورمتعلقات جو وجوب حج کا موضوع ہے ،سے مراد وہ استطاعت ہے جسے عرف سمجھے اور جانے اور اسی طرح باقی موار د ہیں ۔
دوسری قسم کے موضوعات میں تشکیک اور درجا ت و مراتب نہیں پا ئے جا تے اور ان میں بات وجو د یا عدم کی ہو تی ہے ،یعنی ہے یا نہیں ہے ،اوراپنے مراتب وجود میں بھی کمی یا زیادتی کو قبول نہیں کر تے ،جیسے نماز کے اوقات ،
'' اَقِمِ الصَّلاةَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ اللَّیلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ''[8] اس کی وجہ یہ ہے کہ ''دلوک الشمس "یعنی زوال آفتاب '' اور '' فجر''ایسے اوقات ہیں جو گھنٹوں ،منٹوںاور سیکنڈوں میں مقید نہیں کیے گئے ،ان سے پہلے حتی ایک سیکنڈ بھی ،نمازصحیح نہیں ہے اسی طرح شرعی مسافت ہے جو سفر میں نمازقصر اور روزہ نہ رکھنے کاموجب ہے ،کیونکہ یہ مسافت کیلومیٹر اورمیٹر کے ساتھ متعین ہے اس سے پہلے ذرا سا بھی فاصلہ ہو تو شرعی مسافت واقع نہیں ہو گی ،اور بعینہ یہی بات بلوغ کے متعلق ہے کہ پندرہ سال مکمل ہونے کے بعد لڑکا بالغ ہو تا ہے اور لڑکی نو سال ختم ہونے کے بعد بالغ ہو تی ہے ۔لہذامتعین شدہ عمر سے ایک دن پہلے یااس سے بھی کمتر ،بلوغ حاصل نہیں ہو گا اور شرعی واجبات ان پر واجب نہیں ہو ں گے ۔اس قسم کے موضوعات اور متعلقات پہلی قسم سے مختلف ہیں،کیونکہ یہ قسم ان امور پر مشتمل ہے جو یا تو وجود رکھتے ہیں یا وجود نہیں رکھتے، امروجود اور عدم کے درمیان دائر مدار ہو تا ہے ۔لہذا ان موضوعات اورمتعلقات کی تشخیص کے لیے فہم عرفی کی طرف رجوع کرنے کا کوئی معنی نہیں بنتا بلکہ ان کی تشخیص کے لیے ہمیں فکرو نظراورتحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے ۔موت بھی اسی قبیل سے ہے ۔

جیسا کہ ہم نے ذکرکیا ہے موت وسیع احکام شرعی کاموضوع ہے اور اس میں درجا ت اور مراتب نہیں پائے جاتے بلکہ امر وجود اور عدم کے درمیان منحصر ہے،موت ہے یا موت نہیں ہے،لہذا موت کی تشخیص اور تعریف میں عرف عام کی طرف رجوع کرنا درست نہیں ہے بلکہ اس کی تشخیص میں علمی تحقیق اور جستجو کی ضرورت ہے اوراس کے بغیر چارہ کار نہیں ہے۔

موت اورحیات کی نشانیاں شرعی ادلہ کی زبانی

دماغی موت ( اگرچہ حرکت قلب اور گردش خون جاری رہے)کی حالت میں،موت کے وقو ع پذیر ہو نے کو ترجیح دینے والی وہ روایات ہیں جن میں آیا ہے کہ حمل اگر زندہ پیدا ہو ا تو وراثت پاتا بھی ہے اوراس سے وراثت ملتی بھی ہے اور دنیا میں زندہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ روئے یا اختیاری حرکت انجام دے بصورت دیگر وہ وراثت کاحق دار نہیں ہے۔
وسائل الشعیہ کے مصنف نے 
''میراث الخنثی وما اشبھہ'' کے ابواب کے ساتویں باب کو مذکورہ مسئلہ سے مختص کیا ہے ان احادیث کی روشنی میں،حرکت کرنا،چیخنا ،اور رونا نومولود کے زندہ ہو نے کی علامتیں ہیں اسی وجہ سے وہ دوسروں سے وراثت پاتا ہے اور دوسرے بھی اس کے وراث بنتے ہیں۔
ان میں چند روایا ت یہاں ذکرکی جا تی ہیں:
نومولود کا دیت سے وراثت پانے کے بارے میں عبد اللہ بن سنان کی موقوفہ موثق روایت نومولود میراث نہیں پا تا مگر یہ کہ وہ گریہ کرئے اور اس کی آواز سنائی دئے۔[9]
ابن عون نقل کر تے ہیں کہ میں نے نو مولود کے بارے میں امام سے سُنا ہے :"نومولود دیت سے ہرگز میراث حاصل نہیں کر تا مگر یہ کہ وہ روئے اور اسکی آواز سنائی د ے".[10]  صحیحہ ربیع بن عبد اللہ،میں اس نے امام صادق(ع)سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نو مولود کے بارے میں فرمایا :اگر وہ حرکت کر ئے تو میراث پائے گا۔[11]ربیع کی ہی ایک اور صحیح حدیث میں بیان ہو اہے کہ میں نے امام صادق(ع)سے سُنا ہے کہ انہوں نے جنین جب وہ دنیا میں آتا ہے اور واضح طور پرحرکت کر تا ہے ،کے بارے میں فرمایا:وہ وراثت کا حق دار ہے اور دوسرے اس کی وراثت کے حق دار ہیں کیونکہ ممکن ہے وہ گونگا ہو .[12] عبد اللہ بن سنان ،امام صادق(ع)سے نقل کر تے ہیں کہ آپ نے فرمایا :
ہر نومولودجو نہ تو روئے اورنہ چیخے،اس پرنماز نہیں پڑھی جائے گی اور وہ دیت اور دوسری چیزوں میں سے میراث نہیں پائے گا اگر وہ روئے (اورپھر مرجائے)تو اس کی نماز جناز ہ پڑھی جا ئے گی اور وہ وراثت کا حق دار بھی ہو گا ۔[13] اس باب میں اور بھی روایات موجو د ہیں جن میں سے بعض صحیح ہیں اور بعض موثق۔.[14] چنانچہ وسائل کے موئف نے کتاب طہارت کے ''احتضار ''کے ابواب میں سے ٤٦باب کو 
''حکم موت الحمل دون اُمّہ وبالعکس ''کے عنوان سے درج کیا ہے۔اس باب میں چند روایات اس پر دلا لت کر تی ہیں کہ حرکت کرنا ،زندگی کی علامت ہے اور حرکت نہ کرنا موت کی نشانی ہے،ان میں سے بعض کا یہاں تذکر ہ کیا جا تا ہے ۔
الف: کلینی نے صحیح سند کے ذریعے ابن ابی عمیر سے اور اس نے اپنے اصحاب کے ذریعے امام صادق 
ـ سے نقل کیا ہے کہ امام سے ایک مردہ عورت جس کے پیٹ میں بچہ حرکت کر رہا تھا ،کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اس کے پیٹ کو چاک کر کے بچہ باہر نکالا جا سکتا ہے ؟
امام 
ـنے فرمایا :ہاں(بچے کو با ہر نکالنے کے بعد )عورت کے شکم کو سی دیا جا ئے .[15]
ب:۔ امام صادق 
ـسے وھب بن وھب کی روایت :امیر المومنین علی علیه السلام نے فرمایا : اگر کوئی عورت مر جائے اور اس کے پیٹ میں بچہ ہو جو حرکت کر رہا ہو تو اس کے پیٹ کو چاک کیا جا ئے اور بچے کو با ہر نکا لا جا ئے۔[16]
اسی مطلب پرمشتمل دیگر روایات بھی اسی باب میں مذکور هیں جن میں سے بعض معتبر ہیں . [17]
ان تمام روایات کوملاحظہ کرنے کے بعد نیتجہ یہ حاصل ہو تا ہے کہ زندگی کی علاما ت ،رونا،چیخنا ،حرکت کرنا ہیں اور یہ سب دماغ کی زندگی کے اثرات ہیں اگر دماغ کام کر نا بند کردے تو انسان چیخنے ،رونے اور حرکت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اگر چہ دل کی دھڑکن جاری ہو ،ان میں سے کسی روایت میں ذرا بھی اشارہ نہیں ہو اکہ دل کی دھڑکن بھی زندگی کی علامات میں سے ہے حالانکہ اس زمانے میں ڈاکٹر (طبیب )دل کی دھٹر کن کوزندگی کی نشانی سمجھتے تھے ۔

علامتوں سے استدلال:تیسری دلیل ،قیاس مساوات ہے ، اس بیان کے ساتھ :
١۔ قرآن موت کو روح کی بدن سے جدائی سے تعبیر کرتا ہے
'' اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَ نْفُسَ حِینَ مَوْتِھَا''.[18]بدیہی ہے کہ زندگی کامطلب روح کا بدن کے ہمراہ ہونا ہے۔
٢۔ حرکت،غریزہ،جذبات اور احساس و شعور (مختلف مراحل کے لحاظ سے)نفس جوان اورروح کی نشانیاں میں ، بنا برایں حیات اورزندگانی کامطلب حرکت،حواس اور خواہشات نفسانی ہیں۔
نیتجہ کے طور پر پہلی بات تو ثابت ہو ئی کہ موت کا مطلب احساس ،حرکت اور خواہشات کا (غریزہ)کامعدوم ہوناہے،دوسری بات یہ ثابت ہو ئی کہ چونکہ حس و حرکت اور غریزہ دماغ کی زندگی کے اثرات میں لہذا ان کا نہ ہو نا لامحالہ دماغ کی موت پر دلا لت کر تا ہے۔اس بنا پر دماغی مو ت سے حقیقی موت واقع ہو جاتی ہے اگر چہ دل کی دھڑکنیں جاری رہیں ۔

اعتراض:

اگر ہمیں معلوم ہو کہ بدن میں روح کا باقی رہنا یا نہ رہنا ،دماغ کی فعالیت اور زندگی کالازمہ ہے ،یہ توخود مدعی کوتسلیم کرناہے اور پھر قیاس مساوات کی ضرورت بھی نہیں رہتی ۔
جواب :یہ اعتراض درست نہیں ہو سکتا ،کیونکہ ہم نے قیاس مساوات کے ذریعے ہی جا نا ہے کہ روح کا باقی رہنا یا نہ رہنا لازمہ ہے دماغ کی حیات کا ۔

...جاری هے

 



[1] ۔الزُّمَر ،٤٢

[2] ۔السَّجْدَة، ١١

[3] ۔نحل۔٢٨

[4] ۔بعض افراد کا کہنا ہے کہ یہ شبہہ مصداقیہ ہے نہ کہ مفہومیہ: کیونکہ موت جو کہ بعض شرعی احکام کا موضوع ہے ،اس سے مراد روح کابدن سے جدا ہو نا ہے ،لہذا اس کے مفہوم ومعنی میں ہمیں کو ئی شک نہیں ہے ،بلکہ ہمیں شک اس بات میں ہے کہ دماغی موت پر موت کے اس معنی کا اطلاق ہو تا ہے یا نہیں ؟
اس شبہہ کا سبب اس حقیقت کا عدم ادارک ہے کہ اس حالت میں دماغ ادراک وشعور، احساس و ارادہ اور تحریک کی بالکل قابلیت نہیں رکھتا اور دماغی موت نیند یا بے ہو شی کی طرح نہیں کہ عارضی طور پر اسکی سرگرمیاں معطل ہو جا تی ہیں،میڈیکل کی رو سے یہ حالت بے ہو شی سے مشابہہ ہے بلکہ طولا نی اور مسلسل بے ہو شی ہے ،ممکن ہے کہ ایک لمبے عرصے کے بعد یا کچھ مدت کے بعد اس کااحساس و شعور واپس آجائے۔اگر ڈاکٹر اس حقیقت کو جانتے کہ اس حالت میں دماغ مکمل احساس و شعور اور ارادے کی صلاحیت سے عاری ہے تو انہیں یہ تر دید نہ ہو تی کہ یہ حالت موت کے برابر ہے ۔کیونکہ یہ حالت روح کے بدن سے جدائی کا حقیقی اوردقیق مصداق ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ روح احساس و شعور ،ادراک اور ارادے کی تو انائی کے علاوہ کو ئی اور چیز نہیں ہے ۔

[5] ۔حج ٧٨

[6] ۔آل عمران ٩٧

[7] ۔بقرہ ٢٨٦

[8] ۔ بنی اسرائیل،٧٨

[9] وسائل الشیعہ ،ج١٧،ص٥٨٦،باب ٧،از ابواب میراث الخنثی ومااشبھہ،ح1

[10] - ایضاً۔ح٢

[11] - ایضاً۔ح3

[12] - وسائل الشیعہ ،ج١٧،ص٥٨٦،باب ٧،از ابواب میراث الخنثی ومااشبھہ،ح4

[13] ایضاً۔ح5

[14] وسائل الشیعہ ،ج١٧،ص٥٨٦،باب ٧،از ابواب میراث الخنثی ومااشبھہ

[15] وسائل الشیعہ ، ج٢،ص٦٧٣

[16] وسائل الشیعہ ، باب ٤٦،از ابواب الا ختضار ،ح١،

[17] وسائل الشیعہ ،باب ٤٦،ص٦٧٣،ح٣ (وسائل الشیعہ ،ج١،ص٦٧٤،٦٧٣)

[18] سورہ زمر، آیت42

سوال بھیجیں