زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (24)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

توحید اورشرک سوره کافرون کے آ ئینے میں۔ مجلہ عشاق اہل بیت 11-ربیع الثاني1435ھ

توحید و شرک

کاوش:ذاکر حسین ڈوروی

مقدمہ:

        ہر علم کی اہمیت اور قدرو قیمت کا دارو مدار اس کے موضوع پر ہوتاہے اور تمام علوم کے درمیان عقائد کا موضوع سب سے بہتر اور مہم تر ہے کیونکہ انسان کے تمام افکارو افعال کی بنیاد اس کے عقائد پر ہے اگر وہ صحیح و سالم ہوں تو ان کے اعمال وافکار شائستہ ہونگے۔

        اور اعتقادی مسائل میں بھی معرفت توحید اور گریز از شرک ایک خاص مقام رکھتے ہیں کیونکہ ایک موحد انسان کے تمام عقائد کی اصل بنیاد اور مرکزی نقطہ ،توحید کی معرفت ہے کیونکہ توحید تمام مذہبی اور دینی معارف کا محور ہے ۔اس کی اہمیت دین اسلام میں بالخصوص مکتب اہل بیت علیھم السلام میں بهت نمایاں ہے ، ہم جانتے ہیں کہ تمام انبیاء اور آئمہ طاہرین علیھم السلام کا مقصد اور ہدف لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دینا تھااور تمام انبیاء و مرسلین ا ور آئمہ طاہرین ؑ نے اپنی پوری زندگی توحید کے پرچار کے لئے صرف کی ہے ۔اس وظیفہ اور کردار کی نقشہ کشی امام صادق علیہ السلام یوں پیش کرتے ہیں کہ اگر لوگ معرفت خدا کی حقیقت سے آگاہ ہوجائے تو دنیا جس سے دشمنان خدا نے زیادہ استفادہ کیاہے اس کی رنگینوں کی جانب کبھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے اور دنیاان کی نگاہ میں پیروں سے روندی ہوئی خاک سے بھی زیادہ کم قیمت ہوگی۔

        توحیدو شرک کی لغوی تعریفیں:

            التوحیدفی اللغہ: الایمان بااللہ وحدہ لاشریک لہ واللہ الواحیدالاحدوالتوحیدوالو حدانیہ[1]

توحید لغت میں : خدائے وحده لا شریک پر ایمان لانا که وه ایک هے یکتا هے

            الشرک فی اللغہ:الشین والراء والکاف اصلان: الاول الشرکہ:وھوان یکون الشی بین اثنین لاینفردبہ احدھماویقال شارکت فلانافی الشیئ،اذاصرت شریکہ واشرکت فلانااذاجعلتہ شریکالک

شرک لغت میں : شین را اور کاف  کے لئے دو اصل هیں :  پهلا : کوئی چیز دو نفر کیلئے مشترک هوں صرف ایک کیلئے نه هو اگر آپ کسی کے ساتھ کسی چیز میں شریک هو جائے تو کها جاتا هے  شارکت فلانافی الشیئ اور اگر دوسرے کو اپنے ساتھ شریک کرے تو کها جاتا هے واشرکت فلانا[2]

        توحید کیاصطلاحی تعریف

        عربی زبان میں توحیدکامعنی کسی چیزکی یکتائی ویگانگی کوکہتے ہیں اورعلم کلام کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کایکتااوریگانہ ہونے کوتوحیدکہتے ہیں۔[3]

       شرک کی اصطلاحی تعریف:

        انسان میں دوطرح کا شرک پایاجاتاہے۔   ۱۔شرک عظیم۔یعنی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو شریک قراردیناجیسے۔کہاجاتاہے اشرک فلانابااللہ اوریہی معنیٰ بزرگترین کفر ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میںارشادفرماتاہے"ان اللہ لایغفران یشرک بہ"

        ۲۔شرک صغیر۔یعنی خداکوچھوڑکرغیرخداکی طرف رجوع کرنابعض امورمیں جیسے۔ریاکاری،منافقت وغیرہ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجیدمیں ار شادفرمارہاہے"فلمآ اٰتٰھماصالحاجعلالہ شرکاء فیمآاٰتٰھمافتعٰلی اللہ عمایشرکون"[4]توحیداورشرک دومتضادچیزیں ہیں اوران دونوں کاراستہ بالکل جدا ہے اورکوئی شباہت ان دونوں کے درمیان نہیں ہے،توحیدانسان کواللہ تعالیٰ تک پہنچادیتی ہے،جبکہ شرک انسان کواللہ تعالیٰ سے جداکرتی ہے۔

        تفسیرِسورہ کافرون:

        ۱۔"قل یاایھاالکافرون"اس سورہ کے آیات میں اللہ تعالیٰ پیغمبراکرم  ﷺ سے مخاطب ہوکرارشادفرمارہا ہے آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو "لااعبد ماتعبدون" میں ان خداؤں کی پرستش نہیں کرسکتاجن کی تم پوجاکر تے ہو "ولاانتم عٰبدون مااعبد" اورنہ تم میرے خداکی عبادت کر نے والے ہو.

یہی اسلام کا بنیادی عقیدہ  ہے جوخدا کی توحیداوراس کی بے نیازی کا عقیدہ ہے اور یہیں سے اسلام اورکفر کے عقیدہ کافرق واضح ہوجاتاہے۔

پیغمبراکرم  ﷺ صراحت کےساتھ فرمارہے ہیں کہ میں ہرگزبت پرستی نہیں کرسکتاجس طرح تم لوگ اپنی ضداورلجاجت کی وجہ سے اوراپنے آباء واجدادکی اندھی تقلیدکرتے ہوئے کبھی بھی الله کی پرستش نہیں کرسکتے۔  [5]

        ۲۔"لااعبدماتعبدون"اس آیۃمیں وہ سارےمعبودشامل ہیں جنکی عبادت دنیابھرکے کفاراورمشرکین کرتے رہے ہیں خواہ وہ ملائکہ ،جن ، انسان،انبیاءجیسےہوں یاسورج،ستارے،جانور،درخت،دریا،بت اورخیالی دیویاں اوردیوتا ہوں اس پر یہ سوال کیاجاسکتاہے کہ مشرکین عرب اللہ تعالی کوبھی تومعبودمانتے تھے اوردنیاکے دوسرے مشرکین نے بھی قدیم زمانے سے آج تک اللہ کے معبود ہونے کا انکارنہیں کیا  اوراهل کتاب بھی دراصل اللہ تعالی ہی کو معبود تسلیم کرتے ہیں پھر ان سب لو گوں کے تمام معبودوں کے مجموعے میں ایک معبودکی حیثیت سے شامل کرکے اگردوسروں کیساتھ اسکی عبادت کی جائے تو وہ شخص جو توحید پر ایمان رکھتا ہو لازماً اس عبادت میں اپنی برأت کا اظہار کرے گا ،کیونکہ اس کے نزدیک اللہ کے معبودوں کے مجموعے میں سے ایک معبود نہیں بلکہ وہی ایک تنہا معبود ہے اور اس مجموعے کی عبادت سرے سے اللہ کی عبادت ہی نہیں ہے ۔اگرچہ اس میں اللہ کی عبادت بھی شامل ہو ۔

         قرآن مجید میں اس بات کوصاف صاف کہاگیاہے کہ اللہ کی عبادت صرف وہ ہے جس کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کا شائبہ تک نہ ہو اور جس میں انسان اپنی بندگی کو بالکل اللہ ہی کے لئے خالص کر دے "وما امروا الّا اللہ "[6] وہ انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ خدا کی عبادت کریں اور اس عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھیں اور نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں اور یہی سچا اور مستحکم دین ہے ۔[7]

        کہیے اے کافر لوگو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جس کی عبادت تم کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتاہوں اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن عبادت تم نے کی ہے اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میراد ین ہے ۔  اس کی اصل عبارت کے ساتھ کیاربط هے؟

        چونکہ اس وقت ان لوگوں کے جنہوں نے یہ پیش کش کی تھی کہ کچھ زمانے تک آپ ہمارے معبودوں کی پرستش کیجئے اور کچھ زمانے تک ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں ،مخاطب پیغمبر اکرمؐ تھے لہٰذا خالق نے جو کہنے کا حکم دیا ہے اس کے مخاطب بھی رسول اکرم ؐ ہیں ۔لیکن اصول بہر حال اصول ہیں اور اس لئے یہ کہنے پر  ہر مسلمان مامورہے جس کے سامنے ایسی پیش کش ہو ۔

        صیغہ مضارع عربی میں حال اور استقبال میں مشترک ہوتاہے اور اسم فاعل اسی سے بنتاہے اس لئے اس میں بھی دونوں زمانوں کا اشتراک ہے یہاں ان میں سے ہر ایک کو جو دہرایا گیاہے پہلی جگہ اس سے حال مراد ہے اور دوسری جگہ استقبال،یعنی نہ اس وقت ایسا ممکن ہے کہ میں تمہارے معبودوں کی عبادت کروں اور نہ آئندہ کبھی ایسا ہونے کی امید رکھواس طرح ان کی توقع کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیاکہ اب ان کے لئے اپنی اس بات پر اصرار کا دروازہ بند ہوجائے نہ وہ کسی بھی تبدیلی کے ساتھ آئندہ اس طرح کی کوئی متبادل تجویز پیش کریں ،یہ غلط فہمی نہ رہنا چاہیے کہ مشرکین بتوں کے ساتھ ساتھ اللہ کی عبادت کر لیتے تھے اور یہ کیوں کہا گیا ہے کہ تم اس کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں عبادت کرتاہوں اس لئے چاہے نام کو اللہ کی عبادت قبول کرتے ہوں مگر اسلام جس طرح خالص عبادت اللہ چاہتا ہے اس کے ساتھ کوئی معبود نہ مانا جائے لیکن وہ لوگ اس کے قائل نہیں تھے۔

        لہٰذا دوسروں میں شامل کر کے اللہ کی عبادت نام کو وہ کرتے بھی تو یہ وہ عبادت نہیں جسے اسلام اللہ کی عبادت قرار دیتا ہے اب یہ امکان ِرواداری ہے جس صرف کی گئی ہے لفظ دین کو دونوں طرف یکساں طور پر استعمال کر دیا گیا ہے کہ تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرادین حالانکہ حقیقت کے لحاظ سے وہ مشرکین ہی کا عمل ہے جو بے دینی کا مصداق ہے جس میں کوئی دین نہیں۔[8]

        مفرادت آیات کی تشریح

        ۱۔کافرون:کفر کے معنی چھپانے اور ڈھاپنے کے ہیں اور اس کے معنی انکار کرنے کے بھی ہیں ،قرآن مجید میں کفر،متعدد مقامات پر ایمان کے مقابلے میں آیاہے اور کافر مومن کے مقابلے میں ہے اور کافر اسے کہاجائے گا جو ٹھوس سچائیوں کو پس پردہ رکھتاہے ۔اور کافرون کافر کے گروہ کو کہاجاتا ہے یعنی کافر کی جمع کافرون۔[9]

        ۲۔عبادۃ :بنیادی مفہوم کے اعتبار سے عبادت کے معنی ایسا کام کرنا ہے جو دل کے شوق اور رغبت سے انجام دیاجاتاہے ،قرآن مجید میں بھی عبادت کے اس مفہوم کو واضح کر دیاہے "وما خلقت الجن و الانس الّا لیعبدون[10]"اور میں نے جنات اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیاہے ۔

        لہٰذا عبادت کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو سرکش و بے باک رکھنے کے بجائے قوانین خدا وندی کے قالب میں ڈھال کر ایک سدھائے ہوئے گھوڑے کی طرح منشائے خدا وندی کے مطابق صرف کرے جس کا نتیجہ منفعت عامہ ہوگا۔[11] 

        ۳۔دین:یہ لفظ بہت سے معنوں میں استعمال ہوتاہےمن جملہ،غلبہ،اقتدار،حکومت،مملکت،آئین،قانون،نظم و نسق،فیصلہ،ٹھوس نتیجہ،جزا و سزااور یہ لفظ اطاعت اور فرمانبرداری کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے ۔

        قرآن مجید میں بھی غلبہ،اقتداراور قانون کے مفہوم کو ظاہر کر رہی ہے ،حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں نظام معاشرہ،ضابطہ زندگی اور آئین وحکومت وغیرہ مختلف اصطلاحات آئی ہیں جبکہ قرآن مجید میں ان سب کے لئے ایک لفظ یعنی دین استعمال ہواہے ۔

        شان نزول:

        روایات میں آیاہے کہ یہ سورہ مشرکین قریش کے بڑے رہبروں کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہواہے جن میں ،ولید بن مغیرہ،عاص بن وائل،حارث بن قیس،امیۃ بن خلف وغیرہ شامل تھے ،انہوں نے کہا:اے محمدؐ آؤ اور ہمارے آئین کی پیروی کرواور ہم آپ کے آئین کی پیروی کریں گے اور تجھے ہمارے ہر قسم کے امتیازات میں شریک بنائیں گے ،اورانہوں نے کہا:کہ آپ ایک سال ہمارے خداؤں کی عبادت کرو اور دوسرے سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے اور اس سے بہرہ مند ہوجائیں گے ،اگر آپ کا آئین بہتر رہے تو ہم بھی آپ کے آئین میں بھی آپ کے شریک ہونگے اور اگر ہمارا آئین و قانون بہتر رہے تو آپ ہمارے ساتھ شریک ہوجائیں اور ہم سے بہرہ مند ہوجائیں ۔

        پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:میں پناہ مانگتاہوں خدا سے کہ کسی چیز کو خدا کا شریک اور برابر ہرگز قرار نہیں دے سکتا۔پھر انہوں نے کہا:اگر آپ ہمارے بعض خداؤں کو بھی لمس کریں اور تبرک کریں تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ کے خدا کی پرستش کریں گے ۔

        پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:میں فرمان پروردگار کا منتظر ہوں ،اس وقت یہ سورہ "قل یاایھا الکافرون"نازل ہوااور رسول اکرمؐ مسجد الحرام میں تشریف لائے جہاں مشرکین قریش کے بڑے بڑے رہبر موجود تھے وہاں بیٹھے ان کے سامنے اس سورہ مبارکہ کی تلاوت کی جب انہیں اس سورہ کے پیغام کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ مکمل طور پر مایوس ہوگئے اور آپ اور آپ  کے چاہنے والوں پر ظلم کرنا اور اذیتیں دینا شروع کر دیا۔[12]

        جن تفاسیر میں یہ شان نزول اس سورہ کے لئے بیان کیاہے ان میں سے بعض یہ ہیں،تفسیر البصائر،ج۶۰،ص۱۴،تفسیر مجمع البیان،تفسیر المیزان،تفسیر نور۔

        اقسام و مراتب توحید:

        معرفت توحید اور گریز از شرک دینی معارف میں اور مسائل اعتقادی میں مہم ترین مسئلہ ہے اور تمام مذہبی اور دینی معارف کا محور ہے اور اس کی اہمیت دین اسلام میں اور بالخصوص مکتب اہل بیت ؑ میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں ۔

        جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام انبیاء علیھم السلام کی بعثت کا ہدف لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دینا تھا اور تمام انبیاء ؑ نے اپنی پوری زندگی دعوت توحید کے پرچار کے لئے صرف کی ہے سابقہ انبیاء ؑ کے اس وظیفہ اور کردار کی قرآن مجید یوں نقشہ کشی کرتاہے ۔

"وما ارسلنا من قبلک من رسول الّا نوحی الیہ انّہ لا الہ الّا انا فاعبدون"[13]اورہم نے آپ سے پہلے بھی جو رسول بھیجے ہیں ان کی طرف یہی وحی کی ہے،بتحقیق میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم صرف میری عبادت کرو۔

        پس ثابت ہوا کہ تمام ادیان الہٰی میں توحید کا کلیدی کردار تھا لیکن جس طرح مذہب اسلام میں توحید کے بارے میں تاکید کی گئی ہے اس طرح تاکید سابقہ ادیان میں نہیں ملتی ہے ۔توحید کا مطلب اللہ تعالیٰ کی یکتا اور یگانہ ہونا ہے اور اس کی یکتائی کی مختلف قسمیں متصور ہوسکتی ہے ۔

        ۱۔توحید در ذات:

        توحید در ذات سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات کا واحد اور یکتا  هونا ہے اوراس کی مانند، نظیر ،شبیہ اور کفو کا ہونا محال اور ناممکن ہے خدا وند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے "لیس کمثلہ شئی وھو السمیع البصیر"[14] اس کے جیسا کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سب کی سننے والا اور ہر چیز کا دیکھنے والا ہے۔

        اور اسی طرح سورہ توحید میں ارشاد ہو رہاہے "بسم اللہ الرحمن الرحیم قل ھو اللہ احد اللہ صمد لم یلد و لم یولد و لم یکن لہ کفواً احد"[15] اے رسول کہہ دیجئے!وہ اللہ ایک ہے ،اللہ برحق اور بے نیاز ہے ،اس کی نہ کوئی اولاد ہے اورنہ والد اور نہ کوئی اس کا کفو اور ہمسر ہے ۔

        ۲۔توحید در خالقیت:

        یعنی کائنات کی ہر شئی کا پیدا کرنے والا یا وجود میں لانے والا خدا وند عالم ہے کوئی اور غیر نہیں ہے اور ہر چیز کو وجود کا جامہ پہنایاہے جیسے آسمان اورزمین ،پہاڑ،دریا ،سمندر،معادن،سرسبزدرخت وغیرہ۔۔۔۔یہ سب کے سب مخلوق خدا ہیں ان تمام امور میں اصل وجود اللہ تعالیٰ ہے اور تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کردار ہے ،یعنی ان تمام کا در حقیقت فاعل خدا ہی ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے "قل من ربّ السمٰوٰت والارض قل اللہ"[16]اے پیغمبر کہہ دیجئے!بتاؤ کہ زمین اور آسمان کا پروردگار کون ہے اور بتا دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔

دوسری جگہ ارشاد ہورہاہے "اللہ خالق کل شئی وھو علی کلّ شئی وکیل"[17]اللہ ہی ہر شئی کا خالق ہے اور وہی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے ۔

        ایک اور جگہ ارشاد خدا وندی ہو رہاہے "ذالکم اللہ،ربکم لاالہ الّا ھو خالق کل شئی فاعبدوہ وھو علیٰ کل شئی وکیل"[18]وہی اللہ تمہارا پروردگار ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہو ہر شئی کا خالق ہے اسی کی عبادت کرو وہی ہر شئی پر نگہبان ہے ۔

       ۳۔توحید در ربوبیت:

        اس جہان کی خلقت اور تدبیر میں وہ تنہا ہے یہ کام خدا وند متعال کی ذات کے ساتھ خاص ہے اور غیر خدا کااس کام میں کوئی حصہ نہیں ہے جیسا کہ ارشاد ہوتاہے"انّ ربّکم اللہ الذی خلق السموٰات والارض فی ستۃ ایام ثم استویٰ علیٰ العرش یدبّر الامر"[19]بے شک تمہارا پروردگار وہ ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیاہے پھر اس کے بعد عرش پر اپنا اقتدار قائم کیاہے وہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے ۔

        دوسری جگہ ارشادہوتاہے"اللہ الذی رفع السمٰوٰت بغیر عمد ترونھا ثم استویٰ علیٰ العرش و سخّر الشمس و القمر کل یجری لاجل مسمی،یدبّر الامر"[20]اللہ ہی وہی ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کر دیاہے جب کہ تم دیکھ رہے ہو اس کے بعد اس نے عرش پر اقتدار قائم کیاور آفتاب و ماہتاب کو مسخر بنایا کہ سب ایک معین مدت تک چلتے رہیں گے وہی تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے ۔

        ۴۔توحید در تشریع و قانون گزاری:

        قانون گزاری کا حق فقط اور فقط خدا وندعالم کی ذات کو حاصل ہے اور خدا کے ساتھ مختص ہے، جامع بشری کی قانون گزاری کی صلاحیت اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے کہ "ان الحکم ا لّا للہ امر اَلّا تعبدوا الّا ایاہ ذالک الدین القیم"[21]

جبکہ حکم کرنے کا حق صرف خدا کو ہے اور اسی نے حکم دیاہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے یہی مستحکم اور سیدھا دین ہے ۔

        دوسری جگہ پر ارشاد ہوتاہے"افحکم الجاھلیۃ یبغون ومن احسن من اللہ حکماً لقوم یوقنون"[22]کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں جبکہ صاحبان یقین کے لئے اللہ کے فیصلے سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتاہے ۔

        ۵۔توحید در بندگی:

        یعنی اطاعت اور فرمانبرداری صرف خدا وند عالم کی واجب ہے اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو ترک کرنے کا حکم دیاہے ان کو چھوڑ دیاجائے اور جن چیزوں کا امر کیاہے ان کوضرور انجام دیاجائے ،اطاعت جز خدا کے کسی اور کی نہیں ہو سکتی مگر خود خدا وند عالم کی طرف سے اذن یا امر ہو اس کے علاوہ کسی کی اطاعت حرام اور موجب شرک ہے ،خدا وند عالم ارشاد فرما رہاہے "وما امروا الّا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء و یقیموا الصلاۃ و یوتو الزکاۃو ذالک دین القیمّۃ"[23]اور انہیں صرف اس بات کا حکم دیاگیاہے کہ خدا کی عبادت کرے اور اس عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھے اور نماز قائم کریں ،زکات ادا کریں یہی سچا اور مستحکم دین ہے ۔

        اس آیہ شریفہ میں دین ،اطاعت کے معنی میں آیاہے یعنی اطاعت فقط خدا کی واجب ہے نہ کہ غیر خدا کی ،البتہ پیغمبر ؐ کی اطاعت بھی واجب ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ کیونکہ خود خدا وند عالم نے حکم دیاہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے"وما ارسلنا من رسول الّا لیطاع باذن اللہ"[24]اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر صرف اس لئے کہ حکم خدا سے اس کی اطاعت کی جائے ۔

       ۶۔توحید در حاکمیت:

        انسانوں کے اوپر حکومت کرنے کا حق خدا وند عالم کے ساتھ مخصوص ہے اور دوسروں کی حکومت خدا وند عالم کی حکومت میں آکر ختم ہوجاتی ہے ،بغیر کسی تردید کے ولایت حقیقی فقط خدا کی ولایت ہے اور مالک حقیقی انسانوں کی خلقت اور تدبیر میں تنہااور یکتاہے ۔اللہ تعالیٰ کی اذن کے بغیر کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بندگان خداپر حکمرانی کریں،ارشاد باری تعالیٰ ہے"ان الحکم الّا للہ یقصّ الحق وھو خیر الفاصلین"[25]حکم صرف اللہ کے اختیار میں ہے وہی حق کو بیان کرتاہے وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔

        دوسری جگہ پر خدا وند عالم فرماتا ہے "ثم ردوا الیٰ اللہ مولٰھم الحق الا لہ الحکم وھو اسرع الحاسبین"[26]پھر سب اپنے مولائے برحق پروردگار کی طرف پلٹا دئیے جائیں گے،آگاہ ہوجائے کہ فیصلہ کا حق صرف اسی کو ہے اور وہ بہت جلدی حساب کرنے والا ہے۔

        ۷۔توحید در عبادت:

        عبادت منحصر ہے فقط خدا وند عالم کے ساتھ یعنی عبادت فقط اللہ کی ہونی چاہیے اوریہ مورد بقیہ موارد میں سے اصل اور قابل قبول ہے اور تمام مذاہب اسلامی کا اس میں اتفاق ہے اور فقط اللہ کی عبادت کو قبول کرنے سے انسان حقیقت اسلام میں شامل ہوتاہے اور اسے مسلمان کہاجاسکتاہے اسی وجہ سے اگر انسان غیر خدا کی پرستش کرے اور غیر خدا کو عبادت میں شامل کرے تو وہ انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے "ایاک نعبد وایاک نستعین"پروردگار ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد چاہتے ہیں ۔

        دوسری جگہ ارشاد ہوتاہے"ولقد بعثنا فی کل امۃرسولاان اعبداللہ واجتنبوا الطاغوت"[27]یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ تم لوگ اس کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ایک اور جگہ پر آواز قدرت آتی ہے"وما خلقت الجن والانس الّا لیعبدون"میں نے جنات اور انسانوں کو میری عبادت کے لئے خلق کیاہے۔[28]

جاری هے....


[1] ۔ ابی الحسین ابن فارس ابن زکریا،معجم مقائیس اللغۃ ج۳ ص ۱۹۳۰

[2] ۔ التعریفات ،مولف جرجانی ص۹۶

[3] ۔ معجم مقائیس اللغۃ ج۳ ص ۲۶۵

[4] ۔راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، مترجم خسروی حسینی،ص ۱۵۴

[5] ۔آیۃ اللہ ناصرمکارم شیرازی، تفسیرنمونہ ،ج۲۷ ص ۳۸۵

[6] ۔ سورہ بینہ ،۵

[7] ۔ ابوالاعلی مودودی،تفہیم القرآن ،ج ۶ص ۵۰۴

[8] ۔ سیدالعلماء مولاناسیدعلی نقی نقوی، فصل الخطاب،ج۶ ص۷۷۱

[9] ۔غلام احمدپرویز،لغات القرآن، ج۳ ص۱۴۳۸

[10] ۔سورہ زاریات ،۵۶

[11] ۔لغات القرآن،ج۳ص ۱۱۲۱

[12] ۔ لغات القرآن،ج۲ ص۶۸۱

[13] ۔ تفسیرنمونہ ،ج۲۷ ص ۳۸۴

[14] ۔ سورہ شوریٰ ،۱۱

[15] ۔تمام سورہ توحید

[16] ۔سورہ رعد،۱۶

[17] ۔سورہ زمر،۶۲

[18] ۔ سورہ انعام،۱۰۲

[19] ۔ سورہ یونس، ۳

[20] ۔سورہ رعد،۲

[21] ۔سورہ یوسف،۴۰

[22] ۔مائدہ، ۵

[23] ۔سورہ بینہ،۵

[24] ۔سورہ نساء،۶۴

[25] ۔سورہ انعام،۵۷

[26] ۔ سورہ انعام،۶۲

[27] ۔سورہ نحل،۳۶

[28] ۔جعفرسبحانی ،رمزھای توحیدوشرک مترجم مہدی عزیزان،ص۳۱

سوال بھیجیں