زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (27)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

تشیع کی مضبوط بنیاد۔ مجلہ عشاق اہل بیت 11-ربیع الثاني1435ھ

تشیع کی مضبوط  بنیاد

نویسندہ: علی سردار

مقدمہ: دین اسلام انسانوں کی ہدایت  اور رہبری کیلئے خداکی طرف سے آیا ہوا  آخری دین ہے اوراس  کے آخری ہونے کا راز اسکے جامع اورکامل ہونے میں مضمرہے "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا"[1]

اگریہ کامل دین نہ ہوتا تو اس کو آخری بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔یہ دین کسی خاص مکان اورخاص زمان کے ساتھ مقید نہیں ہے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے بھیجاہواہے اوراس کو دوچیزوں کے اندر خلاصہ کیاگیا ہے ایک قرآن کریم اوردو۲سری سنت نبوی ﷺ اورآپ ﷺ کی سنت کی طرف خود کتاب خدانے دعوت دی ہے " وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا "[2] آیت مطلق ہے کہ رسول کی اطاعت کو کسی خاص مسئلہ سے مقید نہیں کرتی ہے بلکہ تمام امورمیں آپ کی اطاعت فرض ہے ۔اسی طرح ایک دوسری آیت میں بتایا گیا ہے کہ رسول خداکی اطاعت اصل میں خود خداکی اطاعت ہے مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ "[3]

اوربعض دوسری آیات میں واضح طورپر یہ ذکر ہواہے کہ انسان شخصی اورذاتی زندگی میں بھی رسول خداکے مقابلے میں کوئی اختیارنہیں رکھتاہے " وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ "[4] یادوسری آیت میں " النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ  "[5]

اسسے یہ معلوم ہوتاہے کہ مومنین کو زندگی کے تمام امورمیں چاہے فردی ہوں یااجتماعی ، عبادی ہوں یا سیاسی رسول خداﷺکی اطاعت کرنی ہوگی  اگرچہ رسول خدا ﷺ کومسلمانوں سے مشورت کا حکم ہواہے لیکن یہ حکم اس لئے نہیں ہےکہ مومنین کو رسول خداﷺ پر کوئی برتری ہو بلکہ اس سے مسلمانوں کی تربیت کرنامقصودہے کہ وہ اپنے امورمیں بھی مشورت سے کام لیں آیت کریمہ میں مشورت کاحکم دینے کے بعد آخری فیصلہ خودآنحضرت کےاختیارمیں دیاگیاہے۔

ضرورت رہبری

جیساکہ ذکرہوادین اسلام ،دین جاوید ہے اوریہ اسوقت  دین جاویدہوسکتاہے کہ وہ قیامت تک آنے والے انسانو ں کی تمام فردی،اجتماعی،سیاسی ،مذہبی اورثقافتی ضرورتوں کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو،عبارت انسانوں کی ہدایت اوررہبری ہے اوریہ ایک ایسی ضرورت ہے جس کو ہر باشعور انسان سمجھ سکتاہے لہذامعاشرے کونظم دینے کیلئے کسی رہبرکی ضرورت کوبیان کرتے ہوئے علی علیہ السلام فرماتے ہیں " لوگوں کیلئے کسی امام اورکسی رہبر کاہوناضروری ہے  چاہیے برحق امام ہویافاجر امام ہو"[6]

اوراسی ضرورت کااحساس اس وقت اورزیادہ ہوتا ہے جب انسانی زندگی کو اس دنیاکی زندگی میں منحصرنہ کریں اورایساہی ہےکہ اس کی ضرورتیں مادی ضرورتوں میں منحصرنہیں  ہےبلکہ مادی ضرورتوں سے زیادہ معنوی ضروریات اہمیت کے حامل ہیں اوراس کی ان معنوی ضرورتوں کو اس کا خالق ہی کامل طورپر جانتاہے  جب بھی کوئی  انسان دین اسلام کے بارے میں یہ جان لیتاہے کہ وہ آخری دین ہے توجہاں پر کچھ دوسرے سوالات اسکے ذہن میں ابھرآتے ہیں وہاں پریہ اہم سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اسلام نے قیادت اوررہبری کے مسئلے کوکیسے حل کیا ہے ؟ یہ تو سوچابھی نہیں جاسکتاہے کہ قرآن کریم اورپیغمبر خدا ﷺاس حوالے سے خاموش رہے ہوں یہ ایک ایسی ضرورت ہےجسکی اہمیت سے عا م مسلمان بھی غافل نہیں جیسا کہ رسول خداﷺ کی رحلت کے بعد مسلمان اس مشکل کو حل کرنے کیلئے اپنے محبوب رسول ﷺ کو بے غسل وکفن چھوڑ کر سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوتے ہیں ،توقرآن اورسنت اس حوالے سے کیسے خاموش رہ سکتے ہیں حتماً اس کا کوئی حل ہوگا یایہ کہ رسول خداﷺ نے اپنے جانشین کااعلان کیاہوگااگرکسی شخص کو نام لے کر اعلان نہیں کیا ہے تو حداقل اس جانشین کی شرائط اور اسکے انتخاب کاطریقہ تو بتایا ہوگا۔ عام مسلمان اس سوال کے جواب میں رسول خداﷺ کی طرف ایک ایسی چیز کی نسبت دیتے ہیں جونہ گذشتہ انبیاء کی روش کے ساتھ سازگار ہے اورنہ خود رسول خداﷺ کی سیرت کے ساتھ تاریخ واضح طورپر یہ بتاتی ہے کہ رسول خداﷺجب بھی مدینے سے باہرجاتے تھے تو اپنی جگہ پرکسی کواپناجانشین بناتے تھے ،لہذاہم جب اس سوال کے جواب کوتلاش کرتے ہوئے قرآن اورسنت کی طرف رجوع کرتےہیں تو شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ہے کہ نہ صرف قرآن اورسنت نے اس مسئلے میں کوتاہی نہیں کی ہے بلکہ واضح طریقے سے لوگوں کی رہنمائی کی ہے ۔قرآن کی نظرمیں  امامت اوررہبری کاانتخاب خداکے حکم اورانتخاب سے ہوگا نہ لوگوں کے انتخاب سے اورجوشخص پیامبراسلام ﷺ کاجانشین ہوگا اسں میں سوائے نبوت کے باقی تمام اوصاف کاہوناضروری ہےاوراسی طرح جانشین نبی کے وہی اختیارات ہونگے جوخودنبی کےلئے حاصل ہیں ۔قرآن کریم اورسنت نبوی سے اس مطلب کے لئے استدلال کرسکتے ہیں مثلاً

۱۔ قرآن کریم  جانشین رسول کی اطاعت کواسی طرح واجب قراردیتاہے جس طرح خدااوراس کے رسول کی اطاعت واجب ہے یہ صرف اس  صورت میں ممکن ہے کہ جانشین رسول بھی رسول کی طرح معصوم ہو ، وگرنہ یہ ہو نہیں سکتا ہے کہ خداکسی غیرمعصوم کی اطاعت کو بغیر کسی قید وشرط کے واجب قراردے اوریہ ایسی بات ہے جس کی طرف اہل سنت کے مفسرین بھی متوجہ ہوئے ہیں ،قرآن کریم فرماتاہے ۔"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ"[7] اے صاحبان ایمان اللہ کی اطاعت کرورسول کی اطاعت کرواورتم میں سے اولی الامرکی اطاعت کرو

        اوراولی الامر کون ہے اس کی وضاحت دوسری آیت میں اس طرح کرتاہے۔" إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ "[8] بے شک تمہاراولی اللہ ہے ،رسول ہے اورایسے صاحبان ایمان ہے جو نمازقائم کرتے ہیں اوررکوع کی حالت میں صدقہ دیتے ہیں ۔

اورمفسرین آیت مذکورہ کی تفسیرکرتے ہوئےکہتے ہیں کہ حالت رکوع میں صدقہ دینے والاشخص حضرت علی علیہ السلام کی ذات بابرکت ہے ایک اورآیت میں حضرت علی علیہ السلام کاتعارف نفس رسول کے طورپر کراتی ہے۔" فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ "[9]  ذات رسول یانفس رسول ہونے کاواضح جومعنی ہے وہ یہی ہے کہ یہ ذات ان تمام خصوصیات کاحامل ہے جوپیغمبراکرم ﷺ میں پائی جاتی ہے۔ سوائے نبوت کے جس کوخودرسول خداﷺنے اپنی معروف حدیث کے ذریعے خارج کیاہے ۔

ولایت علی علیہ السلام کامسئلہ قرآن کی نظرمیں ایک ایسااہم مسئلہ ہے جس کی تبلیغ تمام رسالت کی تبلیغ کےبرابرہے یعنی رسول پاک ﷺ کی رسالت اگرولایت سے خالی ہو توایساہےکہ گویا رسول خداﷺ نے کار رسالت کوانجام ہی نہیں دیااوراس اہم فریضہ کی ادائیگی کی وجہ سے ہی دین کامل ہوجاتاہے اورخداکی نعمتیں پوری ہوئی ہیں اس اہم مسئلہ کےبغیرخداکویہ دین پسندہی نہیں ہےاورولایت کے بغیروہ اس دین سےراضی  بھی نہیں ہے۔

" يَـٰٓأَيُّهَا ٱلرَّ‌سُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِ‌سَالَتَهُۥ ۚ وَٱللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ ٱلنَّاسِ "[10] اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

اس فریضےکے انجام کے ساتھ جوتمام مورخین کے مطابق غدیرخم میں علی علیہ السلام کی امامت اورولایت کے اعلان کے ساتھ ہواآیہ اکمال دین نازل ہوئی" ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَ‌ضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَـٰمَ دِينًا"[11] آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا ہے۔

ان تمام آیات کاذکر جوصراحتاً یااشارتاًاس موضوع کومطرح کرتی ہیں اوروہ آیات جوشرائط خلیفہ وجانشین کوبتاتی ہیں اوروہ آیات جو تمام اہل بیت کے فضائل کوباالعموم اورعلی علیہ السلام کے فضائل کوبالخصوص بیان کرتی ہیں  اس مقالہ  کی گنجائش سے باہرہے لہذامیں سنت نبوی سے جو دین اسلام کادوسرااہم ماخذہے کچھ شواہد اوردلائل پیش کرتاہوں۔

سنت:

سنت رسول سے مراد رسول خداﷺکا قول آپ کا فعل اورتقریرہے تقریرسے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کےحضورکوئی فعل انجام دیاجائے اورآپ اس سے منع نہ کرے تویہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہ کام دین میں جائز ہے جب ہم ولایت کے موضوع کو سنت نبوی میں زیر بحث لاتے ہیں تو عقل وھنگ رہ جاتی ہے کہ رسول خدا نے ولایت کااہتمام نہ صرف غدیر خم میں کیا بلکہ اعلان نبوت کے دن سے ہی ولایت کااعلان بھی کیا ہے تاریخ کامطالعہ کرنے والے  جانتےہیں کہ رسول خداﷺ نے دعوت ذوالعشیرہ کے دن علی علیہ السلام کواپنے بھائی ،وصی اورخلیفہ کے طورپرمتعارف کرایااورمحفل میں شرکت کرنے والوں نے جناب ابوطالب کوطنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "لو کرواب اپنے بیٹے کی اطاعت "اس کے علاوہ جب فرصت بھی ملی رسول خداﷺنے اس موضوع کو بیان کیاہے ذیل میں کچھ ایسی احادیث کوبیان کیاجاتاہے جومتفق علیہ ہیں۔

1۔حدیث غدیر: رسول خداﷺ اپنا آخری حج انجام دے کر جب مدینے کی طرف واپس آرہے تھے تو خداکی طرف سے آیہ بلغ نازل ہوئی جس میں ایک شدیدلحن کے ساتھ خدائے تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب کوحکم دیا کہ آپ ایک ایسااہم فریضہ انجام دیں جس کاانجام نہ دیناپورے کاررسالت کوانجام نہ دینے کے برابرہے پیغمبراکرمﷺ نے حجاج کی ایک وسیع تعداد کے سامنے ایک طویل خطبہ دیا اوراس میں اس اہم فریضے کواپنے بیان اورعمل کے ذریعے سے انجام دیا لوگوں کواعلان کرکے بتایا " مَنْ کُنْتُ مُوْلَاہ' فَھَذَا عَلْی' مُوْلَاہ "[12]جس جس کامیں مولاہوں اس اس کا علی مولاہے۔ اورمولاکے معنی اس دورکے تمام مسلمان بخوبی جانتے تھے لہذا خلیفہ اول اوردوم آگے بڑھ کرعلی علیہ السلام کے ہاتھ پربیعت کرتے ہوئے کہنے لگے" بخ بخ یاعلی أَصْبَحْتَ مولى كل مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ "[13]

اورپیغمبرخداﷺنے صرف گفتار پراکتفاء نہیں کیابلکہ عملا علی علیہ السلام کےہاتھ پکڑکر سب کو دکھایااورفرمایا " میں جس کامولاہوں اس کا یہ علی مولاہے "

2۔حدیث ثقلین:حضورپاک ﷺ نے اپنی معروف حدیث میں اپنے اہل بیت کوکہ جن کی عصمت اورطہارت کی قرآن نے گواہی دی ہے۔ اِنَمَا یُرِید اللہ لِیُذھِبَ عِنکُم اَلّرِجسِ اَھل البَیت وَ یطھر کُم تَطھِیراً "[14]کوہمطراز قرآن قراردے کر فرمایاإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوابعدی أَبَداً  "[15]اس کاصاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح قرآن کتاب ہدایت ہے اسی طرح اہل بیت بھی رہبران امت ہیں ان کی موجودگی میں کسی دوسرے کی اطاعت گویاایسے ہے کہ کوئی مسلمان قرآن کی موجودگی میں کسی دوسری کتاب سے ہدایت لے۔

3۔"علی مع الحق والحق مع علی "[16]علی حق کے ساتھ اورحق علی ساتھ ہے۔

4۔"علی مع القرآن والقرآن مع علی"[17]علی قرآن کےساتھ اورقرآن علی کے ساتھ ہے یہ ایک دوسرے سے کبھی جدانہیں ہوسکتے ہیں اس کامطلب یہ ہے کہ علی اورقرآن دونوں ایک ہی ہدف اورمقصد کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جہاں قرآن لے کرجاتاہے علی بھی وہاں لے کرجاتاہےعلی قرآن سے نہ مقام تفسیرمیں  اورنہ مقام عمل میں قرآن سے جدا ہوسکتاہے علی کاہرکام قرآن کاحکم ہے اگرایسانہ ہوتوقرآن سے جداہوناصدق آتاہے۔ جوروایت کے سراسرمخالف ہے۔اسی طرح کئی دوسری احادیث جوصراحت کے ساتھ علی کی منزلت اورآپ کی ولایت اورامامت کااعلان کرتی ہیں جیسے حدیث منزلت ، حدیث داروغیرہ۔

ان تمام دلیلوں سے ثابت ہواکہ جوشخص صفات کے لحاظ سے بھی سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے شبیہ ہے اور خودرسول ﷺ نے بھی اسی کواپناجانشین تقررفرمایاہے وہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات ہے پس ان کی امامت کوبلافصل مانناعین اسلام ہے لہذامعلوم یہ ہوا کہ تشیع ہی عین اسلام ہے۔اورشیعہ سے مرادوہ شخص ہے جوخدااوررسول کے حکم کےمقابلے سرتسلیم خم ہوکر ان معصوم رہبروں کی پیروی کرتاہے جن کو خداکے حکم سے رسول خداﷺ نے مشخص کیاہے۔تشیع رسول خداﷺکی وفات کے بعدوجودمیں نہیں آیابلکہ یہ خودرسول خداﷺ ہیں جنہوں اس جماعت کاتعارف کرایااوررسول خداکی ذات بابرکت ہے جس نے شجرہ طیبہ تشیع کی بنیاد رکھی ،جلال الدین سیوطی جابربن عبداللہ انصاری سے اوراسی طرح عبداللہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ پیامبراکرمﷺنے اس آیہ کریمہ" إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ  "[18]کی تفسیرمیں علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا"والذی نفسی بیدہ ان ھذاوشیعتہ ھم الفائزون یوم القیامہ "اس خداکی قسم جس کے اختیار میں میری جان ہے یہ (علی)اوراس کے شیعہ ہی قیامت کے دن کامیاب ہونگے۔[19]

اوراصحاب رسول کی ایک خاص جماعت جو صحابہ کے درمیان اپنی منزلت اورکمال کی وجہ سے معروف تھے شیعہ علی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ابوحاتم رازی کہتے ہیں،،سب سے پہلے جولقب اورکلمہ رسول خداﷺ کے زمانے میں ظاہر ہواوہ کلمہ"شیعہ"تھااوریہ صحابہ میں سے چارنفرکا لقب تھاجوعبارت ہے۔ابوذر، سلمان ،مقداد،اورعمارسے"[20]اس بطورمثال ذکرکیاورنہ جوتفصیل سے جانناچاہتاہے وہ ان کتابوں کی طرف رجوع کرے جوشیعہ شناسی کے اوپرلکھی گئی ہیں۔

پس یہ ثابت ہوا کہ تشیع کا بیج خودرسول خدانے بویا ہے اورشجرہ طیبہ کی آبیاری بعد میں آنے والی کئی پاک ہستیوں نے اپنے مقدس خون کے ذریعے سے کی ہے اورائمہ اطہارنے اس کی حفاظت اوروضاحت کرتے ہوئے فقہائے شیعہ کومنتقل کیاہے اورتشیع کے اندرپیداہونے والے عظیم فقہاء نے دن رات محنت کرکے اس کی پوری پوری حفاظت کی ہیں۔اوروہ پہلانفر جس نے علنی طورپر اس مکتب کادفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیاوہ حضرت زہرامرضیہ(س)کی ذات اطہر ہے کہ جس کی رضاخداکی رضااورجس کی ناراضگی خداکی  ناراضگی ہے ،یہ ایک ایسی حدیث ہے جس کو اہل سنت کی صحیح ترین کتابوں نے نقل کیاہے۔[21]

اورتاریخ نے یہ بھی ثابت کیاکہ پیامبرکے بعد حضرت زہرا (س)خلیفہ اول اوردوم سے ناراض ہوکر اس دنیاسے چل بسی۔[22] اورعلی علیہ السلام کووصیت کرنے لگی کہ ان کو رات کودفنایاجائے اورٓپ کی قبر اطہرطول تاریخ میں پوشیدہ رہی اوریہ ایسااقدام ہے جوہربیدارمسلمان کے ذہن کوجھنجوڑکررکھتاہے ،پیامبرسے پہلے شہید ہونے والے صحابہ اوربعدمیں وفات پانے والے تمام اہم افراد کی قبریں معلوم ہیں ایسی کیاوجہ تھی کہ پیامبر خداﷺکی لاڈلی بیٹی قبر مطہر معلوم نہیں ؟ یہی وہ سوال ہے جس کے جواب میں تشیع کی حقانیت سامنے آجاتی ہے ،تشیع سقیفہ کےبعد وجودمیں نہیں آیابلکہ سقیفہ نے تشیع کوجس کاباقاعدہ اعلان خم میں ہواتھاکونظرانداز کیا ،تشیع کوکربلانے وجود نہیں بخشابلکہ یہ تشیع ہے جس نے کربلاکووجود میں لاکر اپنی حقانیت ثابت کردیا۔

تشیع اس شجرہ طیبہ کانام ہے جس میں عقل اورمعنویت کاحسین امتزاج ہے اس مکتب میں اگر کسی کی پیروی واجب ہے تووہ معصوم ہونا چاہیے یامعصوم کاتعیین کردہ ہو ناچاہیے،اوراس خصوصیت کی تشخیص خداکے علاوہ کوئی نہیں دے سکتاہے لہذاہمارے تمام ائمہ قرآن کی واضح آیات اورپیامبر خدا کی خبر کے مطابق معصوم ہیں اوران سےمودت اورمحبت رسالت کا اجرہے " قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ٰ"[23]

 اوریہی وہ حضرات ہیں جن کی شان میں سورہ ھل اتیٰ نازل ہوئی ، آیہ مباہلہ نازل ہوئی اورکئی دوسری آیات۔تشیع اس مکتب کا نام ہے جس میں اجتہاد ہے قیاس نہیں ،تشیع میں جہادہے کشورگشائی نہیں ،اس میں تقیہ ہے نفاق نہیں ،اس میں توحید ہے لیکن تمثیل وتجسیم نہیں ہےاس میں اختیارہے لیکن جبروتفویض نہیں۔تشیع میں صلح ہے چاپلوسی اورغداری نہیں شجاعت ہے لیکن ظلم نہیں یہ ہمیشہ مظلوم کاحامی اورظالم کاخصم رہاہے۔تشیع میں بردباری اورحلم ہے بزدلی نہیں ،تشیع کا ایک اہم وطیرہ یہ رہاہے کہ اس کے رہبروں اورپیشواوں نے سب سے زیادہ اس مکتب کیلئے قربانیاں دی ہیں۔اوران کی علمی عظمت،تقوی، کرامت ،اورتمام نیک انسانی صفات کی گواہی ان کے مخالفوں نے بھی دی ہیں ۔

تشیع کاآغاز معصوم کی ذات سے ہے پیامبر خدا کے بعد علی علیہ السلام کی ذات جن کی اسلام کیلئے دی ہوئی قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہے،جو علم رسول کے دروازہ ،رسول خداکابھائی،وصی اورقرآن کے روح سے وہ ذات جس کے پاس علم کتاب ہے۔" وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَسْتَ مُرْسَلاً قُلْ كَفَى بِاللّهِ شَهِيداً بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِندَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ "[24] جن کی شہادت خداکی شہادت کے بعدرسول خداکی رسالت کیلئے کافی ہے چاہیے کفارآپ کی رسالت کاانکارکریں ۔آپ کی ذات مبارک وہ ہےجس نے شب ہجرت بستر رسول پر سوکر رسول خداکی جان بچائی تو آپ کی ثنا کرتے ہوئے خدانے یہ آیت کریمہ نازل کی " ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضاۃ اللہ واللہ رءوف باالعباد"[25]رسول گرامی اسلام نے آپ سے محبت کوایمان کی علامت اورآپ سے بغض ودشمنی کو نفاق کی علامت قراردی۔[26] اوراس مکتب کاآخری پیشوا امام مہدی (عج)کی ذات بابرکت ہے جو نہ صرف اہل اسلام اوراہل تشیع کی امیدوں کامرکز ہے بلکہ تمام مستضعفین جہاں کی امیدوں کامحورہے جن کی آمد کی خبر رسول ﷺنے دی ہے ان کی آمد اورظہور پرتمام مسلمانوں کااتفاق ہے اگر کسی کواختلاف ہےتو آپ کی ولادت پرہے جن کی آمد سے دین خداتمام دوسرے ادیان پرغالب آئےگا اوروہی  دنیا کوعدل وانصاف سے اس طرح بھر دےگاجس طرح ظلم وجورسے بھر چکی ہوگی۔[27]



[1] ۔مائدہ ۳

[2] ۔ حشر۷

[3] ۔ النساء ۸۰

[4] ۔ احزاب ۳۶

[5] ۔ احزاب ۶

[6] ۔ نہج البلاغہ خطبہ ۴۰

[7] ۔نساء۵۹

[8] ۔سورہ مائدہ ۵۵

[9] ۔آل عمران ۶۱

[10] ۔مائدہ ۶۷

[11] ۔مائدہ ۳

[12] ۔مسنداحمدج۶ص۴۰۱ح ۱۸۵۰۶

[13] ۔الغدیرعلامہ امینی ج۱ص۹

[14] ۔ احزاب ۳۳

[15] ۔صحیح ترمذی ج۵ ص۶۲۱

[16] ۔ ایضاً

[17] ۔امام شناسی ،علامہ حسینی تہرانی، ج۷ ص۱۵

[18] ۔بینہ ۷

[19] ۔الدرالمنثورج۸ ص ۵۳۸،داراحیاءالتراث

[20] ۔حاضرعالم اسلامی ج۱ ص۱۸۸

[21] .صحیح بخاری ج۴ص ۲۱۰،۲۱۹

[22] ۔الامامۃ والساسۃ ج۱ ص ۱۴

[23] ۔شوری ۲۳

[24] ۔رعد۴۳

[25] ۔بقرہ ۲۰۷

[26] ۔صحیح مسلم ج۱ص۱۲۰ ح ۱۳۱ کتاب الایمان

[27] ۔منتخب الاثر،آیۃ اللہ صافی

سوال بھیجیں