زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (27)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

اقبال اورمحبت اہل بیت(ع)۔مجلہ عشاق اہل بیت 12و 13۔ربیع الثانی 1436ھ

اقبال اورمحبت اہل بیت علیہم السلام

نثار حسین یزدانی

خداوندعالم نے رسول ﷺ کی اطاعت کواپنی محبت کامعیارقراردیاہے ۔"قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم واللہ غفوررحیم "[1] اےرسول ﷺ ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم خداکو دوست رکھتے ہوتومیری پیروی کروکہ خدا(بھی)تم کو دوست رکھےگا۔اورتمہارے گناہ بخش دےگا، اوراللہ بڑابخشنے والامہربان ہے دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں پیغمبرکی اطاعت سے تعبیر کیا ہے۔"من یطع الرسول فقط اطاع اللہ"[2]جس نے رسولﷺ کی اطاعت کی توگویااس نے خداکی اطاعت کی۔

آل محمدعلیہم السلام کی محبت کواجر رسالت قراردیااورتبلیغ رسالت کے اجرکو اداکرنے کا حکم بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل کیاچنانچہ خداوندارشادفرماتاہے۔"قل لااسئلکم اجراالاالمودۃ فی القربیٰ"[3] اے رسول!تم کہدوکہ میں اس (تبلیغ رسالت)کااپنے قرابتداروں (اہل بیت علیہم السلام)کی محبت کے سواکوئی صلہ نہیں چاہتا۔

اب آئیے ذراہم اقبال کی اہل بیت علیہم السلام سے محبت پرایک اجمالی نظرڈالیں:علامہ اقبال مقام عبداورفلسفہ عظمت آدم کی گتھی سلجھانے کےبعدعبدکےوجودذی وجودکے عالم شہود میں آنے کاسبب "CAUSE"درحقیقت اس ذات بابرکت لائق صلوٰۃ احمدمجتبیٰ محمدمصطفیﷺکوبتاتے ہیں جن کے لئےحدیث قدسی میں ارشادرب العزت ہے۔"لولاک لماخلقت الافلاک"اے میرے محبوب بندے (محمد)اگرمیں (اللہ)تجھے پیدانہ کرتا توکائنات کی کوئی چیزپیدانہ کرتا یہ سب کچھ تیرے دم وقدم کی بدولت ہے ۔[4]

           طورموجے ازغبارخانہ اش              کعبہ را بیت الحرم کاشانہ اش [5]

اقبال عشق رسولﷺ میں بے خودہیں آپ کے نزدیک آنحضرت کے مقدس گھرسے اڑتی ہوئی خاک کاجھونکاکوہ طورپرنورالٰہی کی تجلی کی طرح انسانوں کے لئےراہ ہدایت کھولتاہے۔آپ کی رہائشگاہ درحقیقت کعبے کاکعبہ ہےیہاں اقبال اس حقیقت کی طرف اشارہ کناں ہیں کہ طورپرچمکنےوالے نورہدایت کی تکمیل آنحضرت ﷺ کےتوسط سے ہوئی اورکعبے کوصحیح مقام بھی آپ ہی کی بدولت ملا۔

علامہ اقبال کی تمام ترشاعری کی بنیادیہی عشق ہے اوراس کاروان کی عقیدت ومحبت کااحساس اس پرپوری طورپرچھایاہواہے کہیں وہ صدق خلیل کوعشق کہہ رہے ہیں توکہیں "صبرحسینؑ"کوامتیازی قدربتارہے ہیں ،کہیں عشق کے لئےعلی ؑکی ذات گرامی کوسرمایہ ایمان قراردے رہےہیں اورکہیں جھوم جھوم کرکہتےہیں:

                        جمال عشق ومستی نےنوازی             جلال عشق ومستی نے نوازی

                        کمال عشق ومستی نے نوازی            زوال عشق ومستی نے نوازی[6]

اورپھرمحمدوآل محمداورمرکزی نقطہ جناب زہراسلام اللہ علیہاکی ذات کے بارے میں اپنی مشہورمثنوی رموزخودی میں اعلان کرتے ہیں۔

                        مادرآن مرکزپرکارعشق                 مادرآن کاروان سالارعشق[7]

اقبال نے جابجا اس" قافلہ سالارعشق"کوامت مسلمہ کی عظمت کے"سمبل"(symbol)کےطورپراستعمال کیاہے۔اوران کے حضوراکثراپناخراج عقیدت پیش کیاہے ،حقیقت یہی ہےکہ یہ آسمان ہدایت کے وہ درخشندہ ستارے ہیں جن کےذریعے ہم صراط مستقیم پرگامزن ہوسکتے ہیں ۔اور فرمان رسول کے مطابق ان کی مثال دین ودنیامیں کشتی نجات کی ہے اگرمسلمان قوم کواس دنیامیں سرابھارکرجیناہے تواسے ضروراس کاروان عشق کےآستانے پرسرجھکاناپڑےگا۔[8]

آئیے اقبال کوتلاش کریں ،اقبال علامہ ہیں ضرورکسی ایسی جگہ ملیں گے جہاں علم کی بارش ہورہی ہو،جہاں علم بول رہاہوہمیں معلوم ہے کہ اقبال دنیاکے تمام ماہرین علوم سے مل چکے ہیں اقبال نہ مغرب کے دانشوروں سے مطمئن ہوئے نہ مشرق کے نقطہ چینوں سے مطمئن ہوئے ، اقبال کی نگاہ کاسفرتمام ہواتو’’انامدینۃ العلم وعلی بابھا‘‘کی فضاوں میں تمام ہوا،کیااقبال کسی زرددھوپ کےپہاڑ یابرف کے پھولوں میں نظارہ کرتے ملیں گے،یادوشیزہ صحرہ سے ہمکلام نظرآئیں گے؟ نہیں ہرگزنہیں، اقبال تواس دربارمیں سجدہ ریزہیں جہاں انسانی عظمتوں کادرس دیاجارہاہے جہاں اشرف المخلوقات کے معنی بتائے جارہے ہیں تخلیق کائنات کامقصدبیان کیاجارہاہےاور’’وماخلقت الجن والانس الالیعبدون‘‘کی تفسیرسنائی جارہی ہے۔

یہ بارگاہ صرف محمدوآل محمدﷺ کی بارگاہ ہے اوراقبال کی درسگاہ ۔اقبال دنیاوی تاجروں کے سامنے سرنہیں جھکاتے بلکہ" انی جاعل فی الارض خلیفہ"کی مصداق ہستیوں کے آستانے پردستوراسلام کومنظوم کرنے کی دعائیں مانگ رہے ہیں ،اقبال کی دعائیں قبول ہوئی ،عاشق رسول نے آل رسول کووسیلہ اختیارکیااورسب کچھ پالیا،آج دنیااقبال اقبال کہہ کرپکاررہی ہے مگراقبال خودکن کوپکارتے رہے علامہ خودابراہیم وآل ابراہیم علیہم السلام کےبعدمحمدوآل محمدکاذکرکرتےرہے، دوربین نگاہیں صاف دیکھ سکتی ہیں کہ ان کے ’’سوزدروں‘‘ان کے ’’پیچ وتاب رازی ‘‘اوران کے ’’سوزسازروحی‘‘کے پیچھے یہی چبھن توہے جسے بے خودی میں وہ کبھی یوں بھی کہہ دیتے ہیں:

’’اس زمانے میں کوئی حیدری کراربھی ہے‘‘؟               ’’قافلہ حجازمیں ایک حسین بھی نہیں‘‘

یہ ہے اقبال فیض یادنام مرتضیٰ جس کیلئے‘‘۔۔۔[9]

کبھی پکارتے ہیں:

        میرے لئے فقط زورحیدرکافی            تیرے نصیب فلاطون کی تیزی ادراک[10]  

اورکبھی بے خودی سے چلاتے ہیں:

       دنیاکوہے اس مہدی برحق کی ضرورت             ہوجس کی نگاہ زلزلہ عالم افکار[11]

غرض اپنی شاعری ،اپنے فلسفہ ، اپنی فکر،اپنے دین، اپنے مقام ،اوراپنے مشن کیلئے علامہ کوایسے نمونہ تقلید،ایسے اسوہ حسنہ کی تلاش تھی جوہرہرپہلوسے ماڈلز’’Models‘‘اورمثالی ہوں اس سرگردانی میں وہ برسوں پھرتے رہے،بالآخران کاتجسس انہیں حق کی طرف لےگیااورانہیں دربارمحمدوآل محمد(ص)میں لے آیا۔جوبولتے قرآن کے (Embodiments)تھے۔جن کے کردارقرآنی سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے جن کاخلق قرآن تھاگویاوہ قرآن ناطق تھے عشق محمدتوپہلے ہی ان کے سرپرسوارتھاپنجتن پاک کے باقی افراد کے عشق سے بھی سرشارہوگئے ۔اب اقبال کے مقدرکاستارہ اقبال پرہوااورسارے مسلمانوں کے محبوب ہوگئے ۔اس دورکی ان کیفیات کوخودانھوں نے یوں شعربندکیاہے۔

               ازولائے دودمانش زندہ ام               درجہاں مثل گہرتابندہ ام[12]

میں تو مسلم اول شاہ مردان علی ہی کے خاندان کی ولاومحبت سے زندہ ہوں اوردنیامیں موتی کی طرح تابندہ ہوں اسی سے اقبال صاحب اقبال ہوں علامہ کوجہاں آنحضرت سےعشق تھا،وہاں علیؑ سے والہانہ محبت تھی ،حضرت علی ؑ کی محبت  کے اظہار بیان میں تووہ یہاں تک سرمست وبے خودہوتے ہیں کہ مدح (علیؑ)کی آخری حدودکوبھی پھاندجاتے ہیں۔

                شورعشقش درنئےخاموش من          می تپد صدنغمہ درآغوش من [13]

اقبال عاشق رسول ہیں ،فرماتے ہیں محمدﷺ کے عشق نے میرے پرسکون دل میں ہیجان برپاکردیاجس کی بناپرمیرے سینے میں سینکڑوں نغمے بے تاب ہیں اقبال کادل سوزعشق حقیقی سے بیگانہ تھاجوں ہی عشق رسول اس کےدل میں پیداہواشعلہ عشق نے روح کوحقیقت سے آشناکرنے کیلئے سینے کی بھٹی میں خوب تپایااوراس طرح اس خاک کوکیمیابنادیااگرہم غوروحوض کریں تواس حقیقت کوپالیں گے کہ اقبال کی حقیقت طرازی اورحق گوئی عشق رسول کی ہی مرہون منت ہے۔

              من چہ گویم ازتولایش کہ چیست         خشک چوبے درفراق او گریست[14]

چنانچہ وہ آنحضرت کی جدائی کے دردکی بات نہ لاکررونے لگے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ اقبال نے عشق رسول میں سرشارہوکراحادیث نبوی کابڑی عقیدت سے مطالعہ کیاتھا۔

                        پیکرم راآفریدآئینہ اش                 صبح من ازآفتاب سینہ اش [15]

اقبال فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے پیکرکوحضرت محمدﷺ کاآئینہ بنایاہے،دوسرے لفظوں میں اقبال کادل آئینہ کی طرح صاف وشفاف ہے۔اورآفتاب نورہدایت (محمدﷺ)کی شعاعیں اس میں منعکس ہوکر روشنی پیداکرتی ہیں اقبال اپنے دل میں ہدایت کی روشنی کاباعث آنحضرت کی روشن ذات کوہی قراردیتے ہیں جیسے شفاف آئینے پرجب تک خورشیدکی روشنی نہ پڑے وہ روشن نہیں ہوتا ،بالکل اسی طرح اقبال کاشفاف دل اس وقت تک نورہدایت سے معرارہاجب تک آنحضرت سے رابطہ قائم نہیں ہواتھاجیسے ہی اس نے آنحضرت سے قلبی تعلق قائم کیاان پرحقائق روشن  ہوگئے،بات دراصل یہ ہےکہ اقبال آنحضرت کی محبت سے سرشار ہیں ان کے نزدیک آپ کی ذات ہی منبع نورہدایت ہے۔

           درتپید دم بہ دم آرام من               گرم ترازصبح محشرشام من [16]

اقبال کیلئے عشق رسول میں ہردم جلتے رہنا سکون قلب کاباعث ہے اس عاشق صادق کو سوزعشق میں ہی آرام ملتاہے اس کی روح گزارعشق کی عاری ہے اوریہی وجہ ہے کہ فراق رسول میں دل کی تڑپ روز محشرسے کہیں زیادہ ہے لیکن  درحقیقیت اس انتہائی سوز میں ہی اس اطمینان قلب میسرآتاہے سچ ہے عاشق رسول کیلئے سوزجگر عشق ہی سرمایہ حیات ہے۔

              ابر آذراست ومن بستان او              تاک من نمناک ازباران او[17]

علامہ فرماتے ہیں آنحضرت موسم بہارکے ابرکی مانندہیں اورمیں ان کاچمن ہوں۔جیسے ابرآذرکی پہلی بارش باغ کوپیغام فروغ دیتی ہے اوربرطرف موسم بہارکادوردورہ ہوجاتاہے بعینہ آنحضرت سے نورہدایت کی بارش ہوتی ہے جس سے میرے دل کی چمن میں بہارآجاتی ہے اورمیں حیات کوپالیتاہوں میری زندگی ترقی آنحضرت کے باران رحمت سے نورہدایت سے سیراب ہوکرنشونماپائی ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہ شراب معرفت کی فیض کی جوسبیل مجھ سے رواں ہے، اس کاخیرہ ،منبع وسرچشمہ آپ ہی ہیں۔خورشیدرسالت مآب سے انوارکی بارش ہوتی ہے اورمیرے دل ودماغ میں روشنی کاسمندر موجزن ہوجاتاہے علامہ اقبال نے حضرت علی ؑ کی شان میں بے شمارمنقبت اورمدحت کیاہے طوالت سے گریزکرتے ہوئے مختصرطورپرایک دوکاذکرکرتاچلوں،جوانھوں نے حضرت علیؑ کی منقبت میں بیان فرمایاہے:

                       مسلم اول شہ مرداں علی ؑ              عشق راسرمایہ ایمان علی ؑ[18]

علامہ اقبال حضرت علیؑ کی شان میں اس کے علاوہ اگر کچھ بھی نہ کہے تب بھی بلاشبہ مدحت علیؑ کاتاج سرپررکھ چکے ہوتے سب سے پہلے یہ کہ وہ مسلم اول ہیں دوسری یہ کہ وہ شہ مرداں اورتیسری یہ کہ وہ عشق حقیقی کیلئے ایمان کاسرمایہ ہے۔

                        ہرکہ دانائے رموززندگیست            سراسمائے علی ؑ داندکہ چیست [19]

اقبال فرماتے ہیں کہ وہ عقل مندجوزندگی کے بھیدجانتاہے وہی جان سکتاہے کہ حضرت علیؑ کے ناموں کے بھیدکیاہیں ۔علامہ کے نزدیک حضرت علیؑ کوحیات طیبہ کامل واکمل ہے اورہمارے لئے نمونہ ہے لہذاآپ کی شان وشوکت کووہی سمجھ سکتاہے جواسرارحیات سے آگاہ ہوعام شخص آپ کے مقام سے ناواقف اورآپ کی معرفت سے نابلدہے۔

                        ہرکہ درآفاق گردد بوتراب             بازگرداند ز مغرب آفتاب [20]

اقبال کےنزدیک یہ امرمسلم ہے کہ جوشخص اس دنیامیں ’’بوتراب‘‘ہونے کاشرف پائے وہ آفتاب کومغرب سے لوٹانے پرقادرہوجاتاہے ۔اقبال نے اسلامی تاریخ واحادیث نبویﷺ کاگہرامطالعہ کیاہے ۔چنانچہ اس شعرمیں وہ حضرت علیؑ کی ایک کرامت ’’ردالشمش‘‘کاذکرکرتے ہیں،ارشادالقلوب میں حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ سورج حضرت علیؑ کی دعاسے لوٹاجوانھوں نے آنحضرت کے حکم سے کی تھی اسی کتاب (ارشادقلوب)میں جنگ صفین سے واپسی پربھی حضرت علیؑ کی کرامت ردالشمس کاذکرآپ کی بارگاہ ایزدی میں قربت کوظاہرکرنے کے لئے کیاہے۔[21]

                        نعرہ حیدرنوائے بوذراست              گرچہ ازحلق بلال وقنبراست[22]

دین اسلام نے مسلمانوں کوایسے محکم طریقہ پرایک لڑی میں پرودیاہے کہ ایک کادرد دوسرے کادرد، ایک کی خوشی دوسرے کی خوشی ،ایک کارنج دوسرے کارنج، ایک کی دشمنی دوسرے کی دشمنی اورایک کی صلح دوسرے کی صلح ہے۔اس دین اکمل نے مسلمانوں کویہاں تک فیض پہنچایا کہ وہ لاکھوں قالب ہوتے ہوئے بھی ایک جان تھے۔ان میں اخوت نے یہاں تک استحکام پکڑاکہ حضرت علیؑ اورحضرت ابوذرکی باتیں حضرت بلال اورحضرت قنبر(جوکبھی غلام رہ چکے تھے)کی زبان سے اعلان عام پاجایاکرتی تھی اقبال اس زمانہ میں بھی مسلمانوں سے عدم مساوات کوختم کرکے ان میں سابقہ اخوت کاقیام چاہیے ہیں ۔تاکہ یکجہتی اوراتفاق کی برکت سے وہ دوبارہ عروج حاصل کرسکیں۔

                        اے سر خط وجوب وامکاں             تفسیرتوسورہ ہائے قرات [23]

اقبال فرماتے ہیں:یاعلی مرتضیٰ:آپ ذات احدیت وکائنات کے درمیان رابطہ قائم کرنے والی شاہراہ مستقیم کی بنیادہیں ۔آپ کابیان قرآن کریم کی سورتوں کےمانندمحکم اورہدایت دینے والاہے سچ ہے کہ امیرعلیہ السلام قرآن ناطق ہیں اورمسلمانوں کے لئے نورہدایت آپ نے اپنی ذوالفقار سے دین اسلام کوقائم اورادیان باطل کوفناکیاہے ۔حضرت ابوذرسے مروی ہے کہ انھوں نے کہا:ہم منافقوں کوخدااوررسول کی تکذیب ،نمازسے پیچھے رہنے اورحضرت علی کے بغض سے پہچانتے ہیں حضرت علی کی شان میں علامہ نے بہت مدحت اورمنقبت نذرانہ عقیدت پیش کیاہے ان سب سےیہاں طوالت کی وجہ سے گریزکرتے ہوئے حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہاسے علامہ اقبال کاعقیدت ومحبت کاتذکرہ کرتاچلوں۔جس طرح مومن کے لئے اسوہ کامل علی ہی ہیں بالکل ویسے ہی حضرت فاطمہ (س)بھی ہیں اس بارے میں علامہ فرماتے ہیں:

                        مزرع تسلیم راحاصل بتول              مادراں رااسوہ کامل بتول [24]

چنانچہ ان کی اعلیٰ وارفع ذات،نمایاں صفات اورامتیازی خصوصیات کی بناپرانھیں جمیع اناث کے لئے اسوہ کاملہ قراردےدیا۔اب میں یہاں سے اس منقبت کوبیان کرتاہوں جوآپ نے حضرت فاطمہ الزہراء کی شان میں نظم فرمائی ہے جس میں آپ کی ذات ستودہ صفات کونساء اسلام کے لئے اسوہ کاملہ ٹھرایاہے۔ان میں سے بعض:

                        مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز           از سہ نسبت حضرت زہراعزیز[25]

اقبال فرماتے ہیں کہ حضرت مریم علیہاالسلام کاسب سے بڑاشرف یہ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں مسلمان ہوتے ہوئے حضرت عیسیٰ کی فضلیت کااقراراوران کااحترام ہم سب پرفرض ہے یہی فرض ہمیں حضرت مریم کے احترام پر آمادہ کرتاہے اوران کے مقابلہ میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہاتین واسطوں کے شرف سے ہمارے نزدیک محترم ومعززہیں ۔پہلی نسبت تویہ ہے:

                        نورچشم رحمۃ للعالمین                  آن امام اولین وآخرین [26]

آپ کے شرف کاسب سے پہلابزرگ واسطہ سیدنامحمدﷺ ہیں رسول مقبول،سیدالبشر، رحمۃ للعالمین اورخاتم النبین ہونے کے باعث دنیاوآخرت ہی امام الانس ہیں چنانچہ آپ خیرالبشرکی دخترنیک اختر ہونے کی بناء پراحترام اوراعزاز کی مستحق ہیں ۔

دوسری نسبت جوبتول ،عذرا،خاتون محشرکوجناب مریم سے بلندکرتی ہےوہ علامہ مرحوم کے مندرجہ ذیل شعرسے عیاں ہے فرماتے ہیں :

                        بانوے آں تاجدارھل اتیٰ              مرتضیٰ مشکل کشاءشیر خدا[27]

آپ بفضل خدااس مردحق سروش کی رفیق حیات ہونے کاشرف رکھتی ہیں کہ جس کے ان گنت القابات ہیں اورلامحدوداعزازات ہیں جس کانام نامی اسم گرامی خدائے بزرگ وبرتر کے اسماء مبارکہ میں سے ایک نام علی ہے یہی وہ ہستی ہے جوتمام عالمین کیلئے مشکل کشابھی ہیں اورشیرخدابھی ہیں صاحب زوالفقاربھی ہے ایسی آسمانی تلوارلیکرشاہ لافتیٰ کاگرانقدراعزازپایااورصاحب ھل اتیٰ بھی ہیں۔

تیسری نسبت کی طرف اقبال مرحوم کایہ شعرنشاندہی کرتاہے۔

                        مادرآں مرکزپرکارعشق                 مادرآں کارواں سالارعشق [28]

کون ہے جوبتول عذراء فاطمہ الزہراکی برابری کادعویٰ کرئے اقبال نے فاطمہ الزہرا کی شان میں بہت سے مدحت سرائی کی ہے ان سب کویہاں ذکرکرنامقصودنہیں ہے۔

اقبال کوامام حسن ؑ کی ذات سے بھی بے حد محبت تھی اقبال کے نزدیک حضرت امام حسن ؑ پرکارعشق کے مرکزہیں سیدناحسین ؑ وہ اعلیٰ ارفع ہستی ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو ماسواکی محبت پرترجیح دی۔اقبال:

                        آں یکی شمع شبستان حرم                حافظ جمعیت خیر الامم [29]

اقبال حضرت حسن ؑ کوشمع شبستان حرم قراردیتے  ہیں ان کے نزدیک آپ نے مسلمانوں سے خون ریزی دورکرکے کعبۃ اللہ کی رونق کودوبالاکردیاہے۔ آپ ہی نے مسلمانوں کی آپسی دشمنی کوختم کرنے کی کوشش میں حکومت جیسی متاع گرانمایہ کوچھوڑا اورامت مسلمہ کوتمام امتوں میں بہتر قراردی گئی امت کو نفاق سے بچاکراس کے اتحاد کی حفاظت کی اگرشاعرمشرق علامہ محمداقبال کے اس شعر کونہایت محتاط فکرکے ساتھ تواریخ عالم کی روشنی میں تعصب کی اندھی عینک اتارکرامعان نظر سے پڑھاجائے اورعقل کی کسوٹی پرپرکھاجائے تویہ بات بآسانی سمجھ آجاتی ہے کہ قائدین اقوام وملل کی زندگیوں کایہ طرہ امتیاز رہاہے کہ وہ جنگ وجدال سے ہمیشہ گریزکرتے رہے یہی تمام تاجداران سلطنت الٰہیہ کانصب العین نظر آتی ہے آدم سے لیکرخاتم تک سب کے سب امن وسلامتی اورصلح جوئی کی تعلیم دیتے رہے لفظ اسلام اپنے صوری اورمعنوی اعتبارسے امن وسلامتی صلح جوئی اورخیرسے عبارت ہے ۔

ہزارہاسال اس پیغمبرامن وسلامتی پراوردرودلامحدوداس شہزادہ گلگوں قباحسن مجتبیٰ علیہ السلام پرکہ جس نے اپنے پدربزگوارحیدرکرارکی طرح حکومت کوپرمگس کے برابربھی وقعت نہ دی بلکہ تاج وتخت شاہی کونہایت ہی حقارت کےساتھ ٹھکرادیا۔جنگ وجدل کی آگ سے مسلمانوں کومحفوظ کردیا۔علامہ اقبال کوخامس اہل کساء حضرت امام حسین علیہ السلام سے بے حدمحبت والفت تھی آپ نے مختلف مقامات پراس فرزند رسول کی شان میں بھی بہت سارے مدحت ومنقبت کے اشعارلکھے ہیں،مثلاًفرماتے ہیں:

                        نقش الااللہ برصحرا نوشت              سطر عنوان نجات مانوشت [30]

جب لاکی تیغ سے ارباب باطل کوفناکرچکے تونقش الااللہ کی مستحکم بنیادرکھنے کےلئے بڑھے اوراپنے خون سے جلی حروفوں میں ہمیشہ کے لئے صفحہ گیتی پر’’لاالہ الااللہ محمدالرسول اللہ‘‘نقش کرگئے اوریہی وہ نقش ہے جومنزل عرفان وآگہی کاپتہ دیتاہے یہیں سے صراط مستقیم ملتی ہے یہ خاک کربلاپر خون حسین سے لکھاہوانقش’’الااللہ‘‘اقبال کے نزدیک اس کی اورامت مسلمہ کی بخشش کاواحد ذریعہ ہے حسین ؑ نےاعلائے کلمۃ الحق کے لئے جان کی بازی لگادی مگرغیرخداکے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیااوریہی مردان حق کاروزازل سے شیوہ رہاہے ۔دنیاجانتی ہے کہ حسینؑ کااقدام حق کاپیغام ،اسلام کاتحفظ ،دین کی بقااورتوحیدورسالت کی آبروثابت ہوا۔

                        سرابراہیم واسماعیل بود                         یعنی آن اجمال راتفصیل بود[31]

امام عالی مقام حسین علیہ السلام نےسراسماعیل وابراہیم کوپائے تکمیل تک پہنچادیا’’وفدیناہ بذبح عظیم ‘‘کی تشریح وتوضیح اورتفسیربیان کردیاادھرامام حسین علیہ السلام کے جذبہ ایثار وقربانی کاذکرسنتے ہیں یاپڑھتے ہیں تویہ پتہ چلتاہے کہ میدان کربلامیں سیدالشہداء نے اپنے جداعلیٰ سیدناحضرت ابراہیم کاکرداراداکیااورآپ کے فرزندجناب علی اکبرنے تاسی جناب اسماعیل میں سرتسلیم خم کیااس شعرمیں علامہ کااشارہ ابراہیم واسماعیل کااس جرات مندانہ اقدام کی طرف ہے جوانھوں نے عشق الٰہی میں مقام منیٰ پراداکیااس خواب کی جلی تعبیرجگرگوش رسول فرزندعلی وبتول نے قربانی جناب علی اکبر سے پیش کردی ۔عشق حسین علیہ السلام میں آپ ایک مقام پرآپ اس طرح اظہارمحبت کررہے ہیں ملاحظہ ہو:

جس طرح مجھ کوشہیدکربلاسے پیارہے            حق تعالیٰ کویتیموں کی دعاسے پیارہے [32]

ہرذی شعورکوسرکارامام حسین علیہ السلام سے ویسے ہی عقیدت ومحبت ہے جس کااظہارمفکرروزگارشاعراہل بیت حکیم الامت ڈاکٹرمحمداقبال نے اپنے اس شعرمیں کیاہے علامہ فرماتے ہیں کہ مجھے سرکارسیدالشہداء ،امام ھدیٰ، نوردیدہ مرتضیٰ ،لخت دل فاطمہ سے ویسے ہی پیارہے جیسے خداوندمتعال کویتیموں کی دعاسے ہوتاہے یتیم کی لب سے نکلی ہوئی دعاکبھی رائیگان نہیں جاتی بلکہ اس کی دعاکے خیرمقدم کودراجابت بارگاہ ایزدی ہمیشہ کھلتاہے۔

رونے والاہوں شہیدکربلاکے غم میں میں          کیادرمقصودنہ دیں گے ثاقی کوثرمجھے[33]

اللہ اللہ! اس خوبصورت اندازمیں علامہ نے اپنادلی مدعابیان کیاہے پہلے توپیارپھراس کے بعدمرکزکی خبر اورمثال کے لئے یتیم کی دعاکوسامنے رکھااوراب اس شعرمیں اپنادلی مدعابیان کرتے ہیں تاجدارھل اتیٰ ،مشکل کشا،شیرخداحضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں اوراس دعویٰ کے ساتھ کہ میں (اقبال)عزادارسیدشہداء ہوں ان کے غم میں اشک فشاں ماتم کناں ہوں ۔علامہ کے نزدیک ابن رسول کی قربانی خواب ابراہیم کی تعبیرہیں،اس سلسلہ میں علامہ مرحوم نے کیاخوبصورت کہاہے۔

                        غریب وسادہ ورنگیں ہے داستان حرم              نہایت اس کی حسین ابتداء ہے اسماعیل [34]

علامہ اقبال کاخیال بالکل درست ہے بلاشبہ بیت اللہ شریف کی داستان عجیب،سادہ اوردلچسپ ہے، اس واقعہ کے عجیب وغریب اورسادہ وسلیس اوردلفریب ودلچسپ ہونے کاواحدسبب یہ ہےکہ اس حرم مطہرکے قیام کےلئے حضرت اسماعیل نے وادی غیرذی زرع میں شدت تشنگی سے ایڑیاں رگڑی تھی آنحضرت نے اسے بتوں سے پاک کرکے اس کی حرمت کوبام عروج پرپہنچایااورحضرت امام حسین ؑ نے اپنے جان کی قربانی دے کراس کی حرمت کوقیامت تک کےلئے محکم بنادیادوسرے لفظوں میں یہ کہ بیت اللہ کے حق حرمت کی ادائیگی کاآغاز حضرت اسماعیل نے اپنی جان راہ خدامیں پیش کرکےکیااورحضرت امام حسین ؑنے اس قربانی کافدیہ اپنی جان قربان کرکے ذبح عظیم کی صورت سے انتہائی کمال تک پہنچایامولاناابوالکلام آزاد نے اسی مضمون کویوں اداکیاہے:’’وہ حقیقت جس کا حضرت اسماعیل ؑ کی ذات سے ظہورہواتھااوروہ بتدریج ترقی کرتی ہوئی حضرت عیسیٰ تک پہنچ کرگم ہوگئی تھی اس کوحضرت امام حسین ؑ نے اپنی سرفروشی سے مکمل کردیا‘‘بلاشک وشبہ حضرت امام حسینؑ کی قربانی عشق حقیقی کی نوازشات کا منتہاتھی۔

زندہ حق ازقوت شبیری است            باطل آخرداغ حسرت میری است

اقبال امام حسین ؑ سے والہانہ عشق کے دعویدارہیں وہ آپ کی حیات طیبہ کوزندگی کی معراج قراردیتے ہیں دشت کربلامیں اثبات حق اورابطال باطل کے لئے آپ کی سرفروشانہ جنگ اورقربانی مرداں حق کے واسطے تاقیامت مشعل راہ ہے انھیں امام عالی مقام کی ذات ستودہ صفات سے بے پناہ محبت تھی چنانچہ انھوں نے اسی محبت کی شدت سے مجبورہوکراکثروبیشتراپنی وارنگی کااظہاربھی کیاہے ڈاکٹر صاحب کوسعی پیہم ،طلب صادق،اخلاص عمل،عشق حقیقی،اوربے لوث قربانی جیسی اعلیٰ اقدارسےلگاورہاہے۔لہذاان خصوصیات سے مزین ذات ان کیلئے قابل صدستائیش ہے انھوں نے ان تمام قدروں کوآپ کی شخصیت میں بطریق احسن نمایاں پایا،چنانچہ آپ کے عشق کوسرمایہ حیات قراردیکرعقیدت کے وہ پھول نچھاورکئے جورہتی دنیاتک تازہ وخوشبوداررہیں گے۔

                        اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر               معنی ذبح عظیم آمدپسر[35]

قرآن کاخلاصہ سورہ فاتحہ اس کاخلاصہ بسم اللہ شریف اس کاخلاصہ باء اوراس کاخلاصہ باء کانقطہ ہے چنانچہ ینابیع المودۃ میں عبداللہ ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت علیؑ نے دوران تدریس فرمایابسم اللہ کا نقطہ جوخلاصہ قرآن ہے وہ میں علیؑ ہی ہوں ۔بلاشبہ حضرت علیؑ ناطق قرآن ہیں رسول مقبول نے فرمایاتھا’’انامدینۃ العلم وعلی ؑبابھا‘‘کہ میں علم کاشہرہوں اورعلی اس کا دروازہ ہیں۔

اقبال نے حضرت علیؑ کوبائے بسم اللہ سے تعبیرکیاہے اقبال فرماتے ہیں،کہ اللہ اللہ !حضرت امام حسین ؑ کے والدحضرت علی ؑ کی ذات کتنی اعلیٰ وارفع تھی کہ علوم قرآنی کے شہر کادروازہ قراردئے گئے ۔جب والد اتنی شان کے حامل تھے توبیٹابھی ایسی ذات کامالک تھااورحضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کافدیہ کرکےذبح عظیم قرارپائے ’’وفدینہ بذبح عظیم،وترکناعلیہ فی الآخرین‘‘۔اوراس کابدلہ دیاہم نے ایک عظیم ذبیحہ اورباقی رکھااسے پچھلی خلق میں اقبال نے حضرت امام حسینؑ کی کربلامیں شہادت کوذبح عظیم قراردیاہے جس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔

۱۔حضرت امام حسینؑ بنی اسماعیلؑ میں سے ہیں۔  ۲۔آپ فرزندنبی آخرالزمان ہیں،لہذاآپ کاشمارآخرین میں ہے۔ ۳۔آپ کربلامیں شعائراللہ کی حفاظت کےلئے شہیدہوئے۔  ۴۔آپ کربلامیں قربانی کےلئے ماننداسماعیلؑ خوداپنی خوشی سے تشریف لےگئے۔ ۵۔آپ نے اپنی قربانی اللہ کے مطالبے پرپیش کی، جوقبول ہوئی۔

بلاشبہ حضرت امام حسین ؑ ہی ذبح عظیم ہیں ،جنہوں نے کربلامیں اپنی قربانی پیش کرکے اس شرف کاتاج اپنے سرپررکھا۔

امام زمانہ (عج)سے اقبال کااظہارمحبت:

اقبال امام زمانہ کوکبھی سواراشعب دوران کانام دیتاہے ،توکبھی نگاہ زلزلہ عالم افکارسے تعبیرکرتاہے۔اورکبھی مہدی برحق کوقوموں کی حیات کامرکزی نقطہ گردانتاہےاورعالم انسانیت میں اس حقیقت کوبے نقاب دیکھنے کاخواہاں دکھائی دیتاہے اورکبھی یہ کہتاسنائی دیتاہے:

                        اگراورانیابی درطلب خیز               اگریابی بدامانش درآویز [36]

اگرصاحب دوران ،مہدی برحق(عج)کی معرفت حاصل نہیں توحاصل کر،اوراگرایسے نہیں پایاتوجستجوکرورنہ ازروئے حدیث رسالت مآب جہالت کی موت تیرامقدرہوگی،لہذاایسی موت سے بچ ،وقت کے امام کوتلاش کراورجب پالے تو اس کے دامن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وابستہ ہوجا،اسی میں خیرہے۔

                        حاضریم ودل بغایت بستہ ایم             پس زبنداین وآن وارستہ ایم [37]

اقبال اپنے اورراسخ العقیدہ مسلمانوں کے ایمان کایقین امام وقت کودلاتے ہیں کہ صاحب العصرہم آپ کے حضور،حاضرہیں آپ کی غیبت پریقین کامل رکھتے ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ ہم نے اپنے دل کواین وآن جھگڑوں سے محفوظ کرلیاہے کوئی دنیاکی طاقت اب ہمیں اس راہ سے ہٹانہیں سکتی اس لئےآپ کی غیبت پرہمیں پختہ یقین ہے یہی یقین دین کی اصل ہے اس میں فلاح اخروی کاراز پوشیدہ ہے اسی میں دین ودنیا کی سعادت پنہاں ہے۔

معتمدعباسی نے پوری کوشش کی کہ اس شمع رشدوہدایت کوبھی گل کردے مگر :

                        وہ شمع کیابجھے جسے روشن خداکرے

پروردگارعالم نے ضروری سمجھاکہ اس کووقت معلوم تک پردہ غیبت میں محفوظ کرلیاجائے ۔تاکہ زمانہ حجت خداسے خالی نہ رہے اوراللہ تعالیٰ کاوعدہ ہے کہ اسلام غالب ہوکررہے گا۔آخرمیں میری دعاہے اللہ تعالیٰ علامہ ڈاکٹرمحمداقبال (رحمۃ اللہ علیہ)کوجزائے خیردے کہ انھوں نے مدحت ومحبت اہلبیت علیہم السلام کواپناشعار بنائے رکھااورمسلمانوں کوان کی روش پرچلنے کی ہدایت کرکے دنیاوعقبیٰ کی بہتری کاسامان فراہم کرے۔ آمین



[1] ۔ آل عمران  ۳۱

[2] ۔النساء ۸۰

[3] ۔شوری۲۳

[4] ۔اقبال درمدح محمدوآل محمدمصنف سیداحسن عمرانی

[5] ۔اسرارورموز،ص۳۱ ناشرشیخ محمدبشیراینڈسنزاردوبازار(لاہور)

[6] ۔بال جبرئیل ص۳۱،الفیصل ناشران وتاجران کتب اردوبازارلاہور

[7] ۔رمزبے خودی ،ص۲۴۷،ناشرشیخ محمدبشیراینڈسنز

[8] ۔ اقبال درمدح محمدوآل محمد،ص ۳۱مصنف سیداحسن عمرانی

[9] ۔کلیات اقبال ،بال جبرئیل ص،۹۱، باقیات اقبال ص۱۴۸

[10] ۔ضرب کلیم ص۱۲۲

[11] ۔ضرب کلیم ص۴۲

[12] ۔ اسرارورموز،ص۷۵ناشرشیخ محمدبشیراینڈسنزاردوبازار(لاہور)

[13] ۔ اسرارورموز،ص۳۵ناشرشیخ محمدبشیراینڈسنزاردوبازار(لاہور)

[14] ۔ ایضاً

[15] ۔ ایضاً

[16] ۔ ایضاً

[17] ۔ ایضاً

[18] ۔ اسرارورموز،ص۷۵ناشرشیخ محمدبشیراینڈسنزاردوبازار(لاہور)

[19] ۔ایضاً

[20] ۔ایضاً

[21] ۔تذکرۃ الیعسوب،ترجمہ ارشادقلوب ص،۲۹

[22] ۔ اسرارورموز،ص۱۷۱ناشرشیخ محمدبشیراینڈسنزاردوبازار(لاہور)

[23] ۔باقیات اقبال،ص۲۰۱

[24] ۔رموزبے خودی ،ص۲۴۷

[25] ۔ رموزبے خودی ،ص۲۴۵

[26] ۔ رموزبے خودی ،ص۲۴۷

[27] ۔ ایضاً

[28] ۔ ایضاً

[29] ۔ ایضاً

[30] ۔ رموزبے خودی ،ص۱۷۹

[31] ۔ رموزبے خودی ،ص۱۷۷

[32] ۔باقیات اقبال ص،۵۷

[33] ۔ایضاً

[34] ۔بال جبرئیل ص،۶۰،ناشرمحمدطارق چودھری،جیم پرنٹرز(لاہور)

[35] ۔ رموزبے خودی ،ص۱۷۷،ناشرشیخ محمدبشیراینڈسنزاردوبازار(لاہور)

[36] ۔زبورعجم،ص ۱۷۹

[37] ۔کلیات اقبال

سوال بھیجیں