زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (24)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

انوار قدسیه۔مجلہ عشاق اہل بیت 12و 13۔ربیع الثانی 1436ھ

بسمه تعالی

انوار قدسیه : حضرت امام  علی النقی علیه السلام

از : مصطفی فخری

مقدمه:

دسویں امام ، سلسله عصمت وطهارت کی بارهویں کڑی اور اپنے زمانے میں پیغمبر خدا کے حقیقی جانشین اورخلیفه برحق  اورحضرت عیسی حضرت داؤد اور اپنے والد بزرگوار حضرت امام محمد تقی علیهم ا لسلام کے مانند کمسنی میں  منصب امامت پر فائز هونے والی هستی حضرت امام علی النقی الهادی هیں آپ (ع) کے والد حضرت امام محمد تقي الجواد عليہ السلام اور آپ کي والدہ ماجدہ کا نام "سيدہ سمانہ" ہے- محمد بن فرج اور علی بن مهزیار کی روایت کے مطابق حضرت امام ھادی علیہ السلام نے اپنی والدہ کے بارے میں فرمایا: میری والدہ میری نسبت عارفہ اور بهشتیوں میں سے تھی، شیطان کبھی بھی اس کے نزدیک نہیں جا سکتا اور جابروں کے مکر و فریب اس تک نہیں پہنچ سکتے، وہ اللہ کی پناہ میں هے جو سوتا نهیں اور وہ صدیقین اور صالحین کی ماؤں کو اپنی حالت پر نهیں چھوڑتا"[1]

ولادت با سعادت :

"صریا "نامی گاؤں میں جو حضرت امام موسی کاظم علیه السلام نے آباد کیا تھا اور مدینه سے تین میل کے فاصلے پر هے حضرت امام علی النقی علیه السلام نے  روئے زمین  پر قدم رکھا اور کائنات کو اپنے نور انور سے منور فرمایا  حضرت امام جواد علیه السلام نے جلدی سےتمام مستحبات کو انجام دیا دائیں کان میں اذان کهی اور بائیں میں اقامت کهی اور عقیقه کے لئے ایک مینڈھے کو ذبح کر دیا جس طرح  سارے ائمه علیهم السلام کی بھی یه عادت تھی.[2]

آپ کی ولادت باسعادت  نیمه ذی الحجه 212 هجری کو انجام پائی [3]   ابن عیاش کی روایت کے مطابق آپ پیر کے دن پنجم رجب کو پیدا هوئے [4]  مفسر کبیر علامه طبرسی فرماتے هیں: ولد علیه السلام بصريا من مدينة الرسول صلوات الله عليه وآله يوم الثلاثاء في رجب ويقال في النصف من ذي الحجة ويقال ولد لليلة بقين منه سنه 212 اثنتي عشرة ومأتين من الهجرة ، آپ علیه السلام مدینة الرسول کے صریا نامی جگه پر رجب المرجب کے مهینه میں پیر کے دن بعض کے کهنے کے مطابق پندره تاریخ کو اور دوسرے قول کے مطابق اسی مهینے کی انتیسویں تاریخ کو سنه 212 ھ میں پیدا هوئے .[5]

نام ، کنیت اور القاب :

 آپ کے والد گرامی حضرت امام جواد علیه السلام نے اپنے جد بزرگوار حضرت امام علی بن ابیطالب علیه السلام کے نام سے متبرک هوتے هوئے اپنے بیٹے کا نام علی رکھا  جوفصاحت بلاغت،جها اور راه خدا میں مشکلات برداشت کرنے میں اپنے جد امجد کے شبیه تھے[6]  

آپ کے القاب میں سے " نقي ،عالم ،فقيه ،امين اور  طيب،  [7] نجيب ، مرتضى ، هادي ،مؤتمن  ، متوكل اورفقيه العسكري وغیره تھے.[8]

آپ علیه السلام کی کنیت ابو الحسن هے چونکه آپ کے علاوه بھی ائمه علیهم السلام میں سے  دو هستیوں حضرت امیر المؤمنین علیه السلام اور حضرت امام علی الرضا علیه السلام کی کنیت بھی ابو الحسن هیں اس لئے آپ کو ابو الحسن الثالث کها جاتا هے.

آپ کی امامت :

حضرت امام محمد تقی علیه السلام کی سنه 220 ھجری میں شهادت پانے کے بعد حضرت امام علی النقی الهادی علیه السلام که جس کی ابھی 6 یا 8 سال سے زیاده عمر نهیں تھی مسند  امامت  کے وارث بنے اور یه عطیم ذمه داری اپنے کندھوں پر اٹھائی  تھوڑے بهت شیعوں  کے علاوه سب نے آپ کی امامت کو قبول  کر لیا چونکه کمسنی میں امامت پر فائز هونے کا مساله آپ کے والد حضرت امام محمد تقی علیه السلام سے حل هو چکا تھا  اور وه  بعض شیعه جو آپ کی امامت سے روگرداں هو کر موسی مبرقع کی امامت کے قائل هو گئے تھے  سعد بن عبدالله کے کتای المقالات والفرق کے نقل کے مطابق ، حضرت موسی مبرقع  علیه السلام نے ان سے اظهار برائت کرنے کی وجه سے  یه چند لوگ بھی حضرت امام علی النقی  کی امامت کی طرف واپس آگئے .[9]

آپ کي غيرمعمولي استعداد

حضرت امام علي نقي عليہ السلام اپنے عہد طفوليت ميں بڑے ذہين اور ايسے عظيم الشان تھے جس سے عقليں حيران رہ جا تي ہيں يہ آپ کي ذکا وت کا ہي اثر تھا کہ معتصم عبا سي نے امام محمد تقي کو شہيدکر نے کے بعد عمر بن فر ج سے کہا کہ وہ امام علي نقي جن کي عمر ابھي چھ سا ل اور کچھ مہينے کي تھي ان کے لئے ايک معلم کا انتظام کر کے يثرب بھيج دے اس کو حکم ديا کہ وہ معلم، اہل بيت سے نہايت  درجہ کا دشمن ہو، اس کو يہ گمان تھا کہ وہ معلم امام علي نقي کو اہل بيت سے دشمني کر نے کي تعليم دے گا ،ليکن اس کو يہ نہيں معلوم تھا کہ ائمہ طا ہر ين بندوں کے لئے خدا کاتحفہ ہيں جن کواس نے ہرطرح کے رجس و پليدي سے پاک قرار ديا ہے -

جب عمر بن فر ج يثرب پہنچا اس نے وہاں کے وا لي سے ملا قا ت کي اور اس کو اپنا مقصد بتايا تو اس نے اس کا م کيلئے جنيدي کا تعا ر ف کر ا يا چو نکہ وہ علوي سا دات سے بہت زيا دہ بغض و کينہ اور عدا وت رکھتا تھا - اس کے پاس نمائندہ بھيجا گيا جس نے معتصم کا حکم پہنچا يا تو اس نے يہ با ت قبول کر لي اور اس کے لئے حکومت کي طر ف سے تنخواہ معين کر دي گئي اور جنيدي کو اس امر کي ہدا يت ديدي گئي کہ ان کے پاس شيعہ نہ آنے پائيں اور ان سے کو ئي را بطہ نہ کر پا ئيں، وہ امام علي نقي کو تعليم دينے کے لئے گيا ليکن امام کي ذکا وت سے وہ ہکا بکا رہ گيا –

 محمد بن جعفر نے ايک مر تبہ جنيدي سے سوال کيا : اس بچہ (يعني امام علي نقي )کا کيا حا ل ہے جس کو تم ادب سکھا ر ہے ہو ؟

جنيدي نے اس کا انکار کيااور امام کے اپنے سے بزر گ و بر تر ہو نے کے سلسلہ ميں يوں گو يا ہو ا: کيا تم ان کو بچہ کہہ رہے ہو !!اور ان کو سردار نہيں سمجھ ر ہے ہو، خدا تمہا ري ہدا يت کر ے کيا تم مدينہ ميں کسي ايسے آدمي کو پہچا نتے ہو جو مجھ سے زيا دہ ادب و علم رکھتا ہو ؟ 

اس نے جوا ب ديا :نہيں 

سنو! خدا کي قسم جب ميں اپني پوري کوشش کے بعد ان کے سا منے ادب کا کوئي باب پيش کرتا ہوں تو وہ اس کے متعلق ايسے ابواب کھول ديتے ہيں جن سے ميں مستفيد ہوتا ہوں- لوگ يہ گمان کر تے ہيں کہ ميں ان کو تعليم دے رہا ہوں ليکن خدا کي قسم ميں خود ان سے تعليم حا صل کر ر ہا ہو ں -

زما نہ گذر تا رہا، ايک روز محمد بن جعفر نے جنيدي سے ملا قا ت کي اور اس سے کہا :اس بچہ کا کيا حا ل ہے ؟ 

اس با ت سے اس نے پھر نا پسنديدگي کا اظہار کيا اور امام کي عظمت کا اظہا رکر تے ہو ئے کہا :کيا تم اس کو بچہ کہتے ہو اور بزر گ نہيں کہتے جنيدي نے انھيں ايسا کہنے سے منع کر تے ہوئے اس سے کہا : ايسي بات نہ کہو خدا کي قسم وہ اہل زمين ميں سب سے بہتراور خدا کي مخلوق ميں سب سے بہترہيں،ميں نے بسا اوقات ان کے حجرے ميں حاضرہوکران کي خدمت ميں عرض کيا!يہاں تک کہ ميں ان کوايک سورہ پڑھاتا تو وہ مجھ سے فرماتے :''تم مجھ سے کون سے سورہ کي تلاوت کرانا چاہتے ہو؟''، تو ميں ان کے سامنے ان بڑے بڑے سوروں کا تذکرہ کرتا جن کو انھوں نے ابھي تک پڑھا بھي نہيں تھا تو آپ جلدي سے اس سورہ کي ايسي صحيح تلاوت کرتے جس کو ميں نے اس سے پہلے نہيں سنا تھا، آپ داؤ د کے لحن سے بھي زيادہ اچھي آواز ميں اس کي تلاوت فرماتے، آپ قرآن کريم کے آغاز سے لے کر انتہا تک کے حافظ تھے يا آپ کو سارا قرآن حفظ تھا اور آپ اس کي تاويل اور تنزيل سے بھي واقف تھے -

جنيدي نے مزيد يوں کہا: اس بچہ نے مدينہ ميں کالي ديوارروں کے مابين پرورش پائي ہے اس علم کبير کي ان کو کون تعليم دے گا؟ اے خدائے پاک و پاکيزہ و منزہ!! جنيدي نے اہل بيت کے متعلق اپنے دل سے بغض و کينہ و حسد و عدوات کو نکال کر پھينک ديا اور ان کي محبت و ولايت کا دم بھرنے لگا-[10]

امام کا سفر سامراء :

باطل قوتوں کو همیشه حق سے ڈر رهتا هے اس لئے ان کی پوری کوشش حق کی سرنگونی  اور باطل کی پشت پناهی هوتی هے چونکه اسی میں ان کی بقاء نهفته هے طبیعی بات هے اگر حق کی حکومت اور راج هو تو باطل کیلئے سر چھپانے کی جگه نهیں هو گی اور باطل کو صفحه هستی سے مٹنے کے سوا اور کوئی  چاره نهیں هو گا همارے تمام ائمه کرام علیهم السلام کی  سیرت اورتاریخ کا مطالعه کرنے سے یهی منظر سامنے نظر آتا هے که باطل حکمرانوں کو یهی هستیاں خار چشم نظر آتے هیں اور انهی سے همیشه خطره محسوس کرتے هیں اور ان پاک هستیوں  کی زندگی کے چراغ گل کرنے کی کوشش میں رهتے هیں اور همه تن هشیار رهتے هیں که کهیں یه اقتدار تک نه پهنچ جائیں اور هماری قسمت کا  ستاره غروب کر جائے  متوکل عباسی نے بھی اپنے آباء کے نقش قدم پر چلتے هوئے بلکه دشمنی اهلبیت میں ان سے بھی  آگے بڑھ کر حضرت امام علی النقی علیه السلام  پر طرح طرح کی ستم دوانیاں کیں ان میں سے ایک آپ کو نظر بند  رکھنے کے لئے مدینه سے بظاهر احترام کے ساتھ اور اندر سے امام علیه السلام کو مجبور کر کے شهر سامراء میں لایا اور آپ 20 سال تک اس شهر میں زیر نظر رهے اور اسی شهر میں هی آپ کو شهید کیا گیا .

متوکل عباسی که جن  کے سیاه کارناموں میں شهداء کربلا ا ور امام حسین علیه السلام کے مزاروں  پر هل چلانا اورکھیتی کرنے کا جرم بھی شامل هے  حضرت امام علی النقی علیه السلام کی نگرانی کامنصوبه بنایا اور اسے ریا کے پرده میں پوشیده رکھا امام علی النقی کو نهایت هی محبت آمیز خط لکھا  اور آپ کو مرکز حکومت سامرا آنے اور وهیں قیام پذیر هونے کی دعوت دی   مجبورا امام متوکل کے گماشته یحیی بن هرثمه کے ساتھ سا  مرا کی سمت روانه هوئے متوکل نے یحیی بن هرثمه کو مدینه بھیجا تھا که جیسے بھی هو سکے امام کو سفر کے لئے تیار کرے اور هر جگه آپ پر نظر رکھے لیکن لوگوں کے رد عمل کو مد نظر رکھتے هوئے اور ادب واحترام کے ساتھ رکھنا . متوکل عام رد عمل کے خوف سے اس کو اس سفر پر مجبور نهیں کر سکتا تھا دوسرے لفظوں میں یوں کها جائے که اس لئے اس نے ریا ومکر کے پرده میں چھپ کر ان امام کو جلا وطن کیا ، یهی تدبیر ضروری بھی تھی کیونکه مدینه والوں کو امام کی شان میں چھوٹی سی بے حرمتی کا بھی احساس هو جاتا تو اس کا شدید رد عمل هوتا .[11]

زیارت جامعه یادگار امام هادی علیه السلام:

حضرت امام محمد تقی علیه السلام کے زمانے میں اعتقادی لحاظ سے مختلف فرقے وجود میں آرهے تھے اور مختلف قسم کی غلط افکار اور عقائد نے بهت ساروں کو بهکا دیا تھا خصوصا اهلبیت علیهم السلام کے بارے میں بهت سارے افراط وتفریط کے شکار هو گئے تھے کچھ لوگ بغض اهلبیت میں حد سے گزر چکے تھے تو کچھ نادان دوست بھی اهلبیت کو خدایی درجه تک لے جاکر غلو کا شکار هو گئے تھے ایسے میں امام علیه السلام نے  عالیة المضامین زیارت   ،زیارت جامعه کی تعلیم دی که اس میں تمام شبهات کے جواب موجود هیں ایک طرف اهلبیت علیهم السلام کی کما هو حقه صفات اور فضائل بیان کر دئے هیں تو ایک طرف یهی زیارت غالیوں کے منه پر ایک طمانچه کی  حیثیت رکھتی هے  .ا

غلو اور حضرت امام علی النقی علیه السلام:

امام علي النقي الہادي عليہ السلام کے زمانے ميں غالي سرگرم تھے اور اس زمانے ميں ان کے سرغنے بڑے فعال تھے جو اس گمراہ اور گمراہ کن گروپ کي قيادت کررہے تھے چنانچہ امام عليہ السلام نے اس کے سامنے خاموشي روا نہ رکھي اور مضبوط اور واضح و فيصلہ کن انداز سے ان کي مخالفت کي اور ان کے خلاف جدوجہد کا آغاز کيا- اس منحرف غالي گروہ کے سرغنے: على بن حسكہ قمى، قاسم يقطينى، حسن بن محمد بن باباى قمى، محمد بن نُصير فهرى اور فارِس بن حاكم تھے- احمد بن محمد بن عيسى اور ابراہيم بن شيبہ، امام ہادي عليہ السلام کے نام الگ الگ مراسلے روانہ کرتے ہيں اور اس زمانے ميں غلات کے عقائد اور رويوں و تفکرات کي طرف اشارہ کرتے ہيں اور ان کے بعض عقائد بيان کرتے ہيں اور اپنے زمانے کے دو بدنام غاليوں على بن حسكہ اور قاسم يقطينى کي شکايت کرتے ہيں اور امام عليہ السلام واضح اور دو ٹوک الفاظ ميں جواب ديتے ہيں کہ: "لَيْسَ هذا دينُنا فَاعْتَزِلْهُ"؛  ترجمہ: يہ ہمارا دين نہيں ہے چنانچہ اس سے دوري اختيار کرو- اور ايک مقام پر امام سجاد، امام باقر اور امام صادق عليہم السلام کي مانند غاليوں پر لعنت بھيجي:محمد بن عيسي کہتے ہيں کہ امام ہادي عليہ السلام نے ايک مراسلے کے ضمن ميں ميرے لئے لکھا: "لَعَنَ اللّه الْقاسِمَ الْيَقْطينى وَلَعَنَ اللّه‏ عَلِىَّ بْنَ حَسْكَةِ الْقُمىّ، اِنَّ شَيْطانا تَرائى لِلْقاسِمِ فَيُوحى اِلَيْهِ زُخْرُفَ الْقَولِ غُرُورا؛ ترجمہ: اللہ تعالي قاسم يقطيني اور علي بن حسکمہ قمي پر لعنت کرے- ايک شيطان قاسم اليقطيني کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور باطل اقوال اقوال کو خوبصورت ظاہري صورت ميں اس کو القاء کرتا ہے اور اس کے دل ميں ڈال ديتا ہے اور اس کو دھوکا ديتا ہے- نصر بن صبّاح کہتے ہيں: حسن بن محمد المعروف ابن بابائے قمي، محمد بن نصير نميرى اور فارس بن حاتم قزوينى پر امام حسن عسکري عليہ السلام نے لعنت بھيجي-

ہم تک پہنچنے والي روايات سے معلوم ہوتا ہے غلو اور دوسرے انحرافات کے خلاف کہ امام ہادي عليہ السلام کي جدوجہد اظہار برائت اور لعن و طعن سے کہيں بڑھ کر تھي اور آپ (ع) نے بعض غاليوں کے قتل کا حکم جاري فرمايا ہے- محمد بن عيسي کہتے ہيں: "إنَّ اَبَا الحَسَنِ العَسْكَرِى عليه‏السلام أمَر بِقَتلِ فارِسِ بْنِ حاتم القَزْوينىّ وَضَمِنَ لِمَنْ قَتَلَهُ الجَنَّةَ فَقَتَلَهُ جُنَيْدٌ؛ ترجمہ: امام ہادي عليہ السلام نے فارس بن حاتم قزويني کے قتل کا حکم ديا اور اس شخص کے لئے جنت کي ضمانت دي جو اس کے قتل کرے گا چنانچہ جنيد نامي شخص نے اس کو ہلاک کرديا-[12]

امام هادی اور زراعت:

حسن بن علی بن حمزه  اپنے باپ سے نقل کرتے هیں که اس نے کها : میں نے حضرت ابوالحسن (الثالث) کو اپنی کھیت میں  کام کرتے  دیکھا که آپ کا پسینه پاوں تک بهه رها هے .تو میں نے عرض کیا : آپ پرقربان هو جاؤں دوسرے لوگ کهاں هیں؟

آپ نے فرمایا : اے علی میرے اور میرے بابا سے افضل لوگوں نے اپنے هاتھوں سے اپنی زمینوں میں کام کیا  هے.

میں نے عرض کیا : وه کون هیں؟

فرمایا:رسول الله صلى الله عليه وآله، امیر المؤمنین اور میرے سارے آباء واجداد نے اپنے هاتھوں سے کام کئے هیں اور یه نبیوں ،رسولوں اور صالحین کا  کا م هے.[13]

حضرت امام علی النقی علیه السلام کا مضبوط تبلیغی نیٹ ورک:

حضرت امام علي نقي عليہ السلام نے بياليس سال کي مبارک عمر پائي جس ميں سے بيس سال سامراء ميں بسر ہوئے جہاں آپ کي کھيتي باڑي تھي اور اس شہر ميں وہ کام کرتے اور زندگي گزارتے تھے- سامراء در اصل ايک فوجي چھاؤني کي مانند تھا جس کي تعمير معتصم نے کروائي تھي تاکہ ترکستان، سمرقند اور منگوليا نيز مشرقي ايشيا سے اپنے لائے جانے والے قريبي ترک غلاموں کو، اس ميں رکھا جاسکے البتہ يہ ترک آذربائيجان اور ديگر علاقوں ميں رہنے والے ہمارے ترکوں سے مختلف تھے- يہ لوگ چونکہ نومسلم تھے اس ليے ائمہ عليهم السلام اور مومنين کو نہيں پہچانتے تھے بلکہ اسلام کو بھي بخوبي نہيں سمجھتے تھے- يہي وجہ تھي کہ وہ لوگوں کے لئے پريشانياں کھڑي کرتے تھے اور عربوں يعني بغداد کے لوگوں سے ان کے بہت اختلافات ہوگئے تھے- اسي سامراء شہر ميں حضرت امام علي نقي عليہ السلام کے زمانے ميں اچھي خاصي تعداد ميں شيعہ علماء جمع ہو گئے اور امام عليہ السلام نے ان کے ذريعے امامت کا پيغام پورے عالم اسلام ميں خطوط وغيرہ کي شکل ميں پہنچانے ميں کاميابي حاصل کي- قم، خراسان، رے، مدينہ، يمن اور ديگر دور دراز کے علاقوں اور پوري دنيا ميں ان ہي افراد نے شيعہ مکتب فکر کو پھيلايا اور اس مکتب پر ايمان رکھنے والوں کي تعداد ميں روز بروز اضافہ ہؤا- حضرت امام علي نقي عليہ السلام نے يہ تمام کام ان چھ خلفاء کي خونچکاں شمشيروں کے سائے تلے اور ان کي مرضي کے برعکس انجام ديئے-

آپ عليہ السلام کي شہادت کے بارے ميں ايک معروف حديث ہے جس کي عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ سامراء ميں اچھي خاصي تعداد ميں شيعہ اس طرح سے اکٹھا ہو گئے تھے کہ دربار خلافت انہيں پہچان نہيں پاتا تھا، کيونکہ اگر وہ انہيں پہچان جاتا تو ان سب کو تہ تيغ کر ديتا ليکن چونکہ ان افراد نے اپنا ايک مضبوط چينل بنا ليا تھا اس ليے خلافت بھي ان لوگوں کي شناخت نہيں کر سکتي تھي- ان عظيم شخصيات يعني ائمہ عليهم السلام کي ايک دن کي سعي و کوشش، برسوں کا اثر رکھتي تھي؛ ان کي مبارک زندگي کا ايک دن، معاشرے پر برسوں تک کام کرنے والے ايک گروہ کي کارکردگي سے زيادہ اثر انداز ہوتا تھا-

ائمہ نے اس طرح دين کي حفاظت کي ہے ورنہ جس دين کے علمبردار متوکل، معتز، معتصم اور مامون جيسے افراد ہوں اور جس کے علماء يحي'ي بن اکثم جيسے افراد ہوں جو دربار خلافت کے عالم ہونے کے باوجود انتہائي درجے کے فاسق و فاجر تھے، ايسے دين کو تو بالکل بچنا ہي نہيں چاہئے تھا اور ان ہي ابتدائي ايام ميں اس کي بيخ کني ہو جاني چاہئے تھي - ائمہ عليهم السلام کي اس جدوجہد اور سعي و کوشش نے نہ صرف تشيع بلکہ قرآن مجيد، اسلام اور ديني تعليمات کا تحفظ کيا؛ يہ ہے خدا کے خالص و مخلص بندوں اور اوليائے خدا کي خصوصيت- اگر اسلام ميں ايسے کمربستہ افراد نہ ہوتے تو بارہ سو، تيرہ سو برسوں کے بعد اسے حيات نو نہ ملتي اور وہ اسلامي بيداري پيدا کرنے ميں کامياب نہ ہوتا؛ بلکہ اسے دھيرے دھيرے ختم ہو جانا چاہئے تھا- اگر اسلام کے پاس ايسے افراد نہ ہوتے جنہوں نے پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے بعد ان عظيم اسلامي تعليمات کو انساني اور اسلامي تاريخ ميں موجزن کر ديا تو اسلام ختم ہو جاتا اور اس کي کوئي بھي چيز باقي نہ رہتي؛ اور اگر کچھ بچ بھي جاتا تو اس کي تعليمات ميں سے کچھ بھي نہيں بچنا چاہئے تھا؛ يہوديت اور عيسائيت کي طرح، جن کي اصل تعليمات ميں سے تقريبا کچھ بھي باقي نہيں بچا ہے - يہ کہ قرآن مجيد صحيح و سالم باقي رہ جائے، حديث نبوي باقي رہ جائے، اتنے سارے احکام اور تعليمات باقي رہ جائيں اور اسلامي تعليمات ايک ہزار سال بعد، انسان کي وضع کردہ تعليمات سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو ظاہر کريں، تو يہ غير معمولي بات ہے جو مجاہدت کي بدولت انجام پائي- البتہ اس عظيم کام کي راہ ميں زد و کوب کئے جانے، اسير ہوجانے اور قتل کئے جانے جيسي باتيں بھي ہيں تاہم ائمہ علیهم السلام انہيں کبھي خاطر ميں نہيں لائے-[14]

امام ھادی علیہ السلام کی عجیب کرامت اور تدبیر: 

محمد بن طلحہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام ھادی علیہ السلام ایک اہم کام کے لئے سامرہ سے ایک گاؤں میں گئے ،ایک عرب شخص آپ کے دروازہ پر آیا جو آپ سے ملنا چاہتا تھا ، اس سے کہا گیا : کہ فلاں جگہ گئے ہیں ، چنانچہ وہ شخص وہاں پہنچ گیا ۔

جب حضرت امام ھادی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو آپ نے اس سے فرمایا : تمہاری حاجت کیا ہے : اس نے کہا : میں کوفہ کا رہنے والا  ایک عربی شخص ہوں  اور آپ کے جد علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت سے متمسک ہوں ،مجھ پر بہت زیادہ قرض ہے کہ جس کو میں برداشت نہیں کر سکتا ، آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو نہیں پاتا کہ وہ میرے قرض کو ادا کر دے ۔

 حضرت امام ھادی علیہ السلام نے فرمایا : خوش و خرم رہو ، اس کے بعد اس کو سواری سے اتارا اور اپنا مہمان بنا لیا ، جب صبح ہوئی تو امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا : تم سے ایک درخواست ہے اور ہرگز اس کی مخالفت نہ کرنا ! اس عرب نے کہا : میں آپ کی مخالفت نہیں کروں گا ۔

امام علیہ السلام نے ایک کاغذ پر اپنے قلم سے لکھا اور اقرار کیا کہ اس عرب کا مجھ پر قرض ہے لیکن اس کی مقدار اس عرب کے قرض سے زیادہ تھی، اس کے بعد فرمایا :

 یہ تحریر لے لو ، جب سامرہ پہنچو تو میرے پاس آنا ،وہاں چند لوگ میرے پاس بیٹھے ہونگے ، اس تحریر کے ساتھ مجھ سے سختی سے  اپنے پیسوں کا مطالبہ کرنا ،خدارا ہرگز میری مخالفت نہ کرنا ، چنانچہ اس عرب نے وہ تحریر لے کر کہا کہ : میں اسی طرح انجام دوں گا ۔

جب حضرت امام ھادی علیہ السلام سامرہ پہنچ گئے، آپ کے پاس خلیفہ کے بهت سے  دوست اور ان کے علاوہ دوسرے افراد بیٹھے ہوئے تھے کہ عرب وارد ہوا اور اس نے وہ تحریر دکھائی اور مال کا مطالبہ کیا اور جس طرح امام علیہ السلام نے تاکید فرمائی تھی گفتگو کی ۔

امام علیہ السلام نے نرمی کے ساتھ اس سے گفتگو کی اور اس کے ساتھ مہربانی کی اور اس سے معذرت چاہی اور ان کے قرض کو ادا کرنے اور اس کو خوش کرنے کا وعدہ کیا ۔

امام علیہ السلام اور اس  عرب کے اس واقعہ کی خبر متوکل تک پہنچی ،متوکل نے حکم دیا کہ تیس ہزار درہم حضرت امام ھادی علیہ السلام کے لئے لے جاؤ اور جب وہ درہم آپ (ع) کی خدمت میں پہنچائے گئے امام (ع) نے ان کو ہاتھ نہیں لگایا یہاں تک  کہ عرب آ گیا ، امام (ع) نے  اس سے فرمایا : یہ مال لے جاؤ اور اپنا قرض ادا کرو اور باقی کو اپنے اھل و عیال پر خرچ کرو اور ہمارے عذر کو بھی قبول کرو ۔

اس عربی نے کہا : یا بن رسول اللہ ! خدا کی قسم ،میری امید تو اس مال کا ایک تہائی حصہ تھی لیکن خدا جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کس جگہ قرار دے ، چنانچہ اس نے  مال لیا اور حضرت امام ھادی علیہ السلام کی خدمت سے رخصت ہو گیا ۔[15]

شراب کی محفل اور امام علی النقی علیه السلام :

دربار شاهی میں عین اس وقت آپ  کی طلبی هوتی هے که جب شراب سے محفل گرم هے  متوکل اور تمام حاضرین دربار طرب ونشاط میں غرق هیں . اس پر طرہ یہ کہ سرکش, بے غیرت اور جاهل بادشاہ حضرت علیہ السّلام کے سامنے جامِ شراب بڑھا کر پینے کی درخواست کرتا هے .

حضرت نےنهایت متانت اور صبروسکون کے ساتھ  فرمایا کہ »مجھے ا س سے معاف کرو , میرا میرے آباؤ اجداد کا خون اور گوشت اس سے کبھی مخلوط نھیں هوا هے۔

 اگر متوکل کے احساسات میں کچھ  بھی زندگی باقی هوتی تو وہ اس معصومانہ مگر پر شکوہ جواب کا اثر لیتا مگر اس نے کها کہ اچھا یہ نهیں تو کچھ گانی هم کو سنائیے. حضرت نے فرمایا کہ میں اس فن سے بھی واقف نهیں هوں۔ آٓخر اس نے کہا کہ آپ  کو کچھ  اشعار جس طریقے سے بھی آپ  چاھیں بهرحال پڑھنا ضرور پڑھیں گے .جب امام همام کو اس کام پر مجبور کر دیا  تو امام علیہ السّلام نے موعظہ وتبلیغ کے لیے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر اپنے دل سے نکلی هوئی پرُ صداقت آواز سے ایسے اشعار پڑھنا شروع کئے جنھوں نے محفل طرب میں مجلس وعظ کی شکل پیدا کردی .

 یا تو اعلٰی قلل الاجبال تحرسھم                 ارہے پہاڑ کی چوٹی پہ پہرے بٹھلا کر

واستنز لوا بعد عز من معاقلھم              بلند قلعوں کی عزت جو پست ہو کے رہی

 نادا ہم صارخ من بعد ماد فنوا               صدا یہ ان کو دی ہاتف نے بعد دفن لحد   

 این الوجوہ التی کانت مجعبة                کہاں وہ چہرے ہیں جو تھے ہمیشہ زیر نقاب

فافصح القبر عنھم حین سائلھم             زبان حال سے بولے جواب میں مدفن

قد طال ما اکلوا فیھا و ہم شربوا             غذائیں کھائیں شرابیں جو پی تھیں حدے سوا

 غلب الرجال فما اغنتھم القلل               بہادروں کی حراست میں بچ سکے نہ مگر

الٰی مقابر ہم یا بکسما نزلوا                تو کنج قبر میں منزل بھی کیا بری پائی

این الاسیرة والتیجان والحلل                   کہاں ہیں تختوہ تاج اور وہ لباس جسد

 من دونھا تضرب الاستار و الکلل               غبار جن پہ کبھی آنے دیتے تھے نہ حجاب

تللک الوجوہ علیھا ادود تنتقل                 وہ رخ زمین کے کیڑوں کا بن گئے مسکن

فاصبحوا بعد طول الاکل قد اکلوا               نتیجہ اس کا ہے خود آج بن گئے وہ غذا

اشعار کچھ ایسے حقیقی تاثرات کے ساتھ امام علیہ السّلام کی زبان سے ادا ہوئے تھے کہ متوکل کے عیش ونشاط کی بساط الٹ گئی . شراب کے پیالے ہاتھوں سے چھوٹ گئے اور تمام مجمع زارو قطار رونے لگا . یہاں تک کہ خود متوکل ڈاڑھیں مار مار کر بے اختیار رو رہا تھا . جوں هی  یہ گریہ و زاری اور رونا موقوف هوا اس نے امام علیہ السّلام کو رخصت کر دیا اور آپ اپنے مکان پر تشریف لے گئے .

همعصر خلفاء:

دسویں امام(ع) سات عباسی خلیفاؤں یعنی مامون، معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین اور معتز کے هم عصر رهے۔

معتصم باللہ کے عھدخلافت۲۲۰ھ میں جب آپ کے والد ماجد امام نهم کو بغداد میں زهر دے کر شھید کردیا گیا تھا اس وقت آپ مدینہ منورہ میں تھے اور خدا کے حکم اور اپنے آباء و اجداد یعنی گزشتہ ائمہ علیهم السلام کے تعارف سے آپ امامت کے منصب پر فائز هوئے اور اسلامی تعلیمات دینا شروع کیں، یهاں تک کہ عباسی خلیفہ متوکل کا زمانہ آ گیا۔

خلیفہ متوکل عباسی، خاندان رسالت کی دشمنی میں دوسرے خلفاء کے مقابلے میں بے مثال تھا۔ خصوصاً حضرت علی(ع) کا سخت دشمن تھا اور آپ کی شان میں کھلم کھلا توھین آمیز الفاظ کھا کرتا تھا یا آپ کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ اس نے ایک شخص کو مامور کیا ھوا تھا جو بھری محفل میں آپ کی نقلیں اتارا کرتا تھا اور خلیفہ قهقهے مار کر هنسا کرتا تھا۔ ۲۳۷ھ میں اس کے حکم سے کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا مقبرہ، گنبد اور آس پاس کے کئی مکانات کو مسمار کرکے زمین کے ساتھ یکساں کردیا گیا۔ اس کے بعد اس کے حکم سے امام کے مقبرے پر پانی چھوڑا گیا۔ پھر اس نے حکم دیا کہ امام کے مقبرہ کی جگہ پر ھل چلا کر کھیتی باڑی کی جائے تاکہ امام(ع) کے مزار کی جگہ اور آپ کا نام بالکل مٹ جائیں۔[16]

متوکل کے زمانے میں علوی سادات کے حالات رقت بار اور ناگفتہ بہ ھوچکے تھے۔ یھاں تک کہ ان کی عورتوں کے پاس تن ڈھانپنے کے لئے کپڑے تک موجود نہ تھے اور بعض کے پاس صرف ایک بوسیدہ سی چادر ھوا کرتی تھی جس کو اوڑھ کر وہ باری باری نماز ادا کیا کرتی تھیں۔[17]

امام دھم متوکل کے شکنجوں کو برداشت کرتے رهے، یهاں تک کہ وہ اس دنیا سے چلا گیا، اس کے بعد منتصر، مستعین اور معتز باری باری خلیفہ بنے۔ معتز کے ایما ء پر آپ کو زهر دے کر شھید کر دیا گیا۔

 حضرت امام علی النقی کی شهادت : 

حضرت امام علی النقی علیه السلام سامرا میں غربت کے ساتھ زندگی گزارنے کے بعد  3 رجب اور دوسری روایت کے مطابق 25 جمادی الثانی سن 254 ھجری میں معتز عباسی کی خلافت کے دور میں خلیفہ کے بھائی معتمد عباسی کے هاتھوں  زهر دے کر شھید کیا گیا

شھادت کے وقت امام علیہ السلام کے سر هانے ان کے فرزند حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے سوا کوئي نہ تھا، 

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے والد گرامی کی شھادت پر بہت روئے اور گریبان چاک کیا اور آنحضرت کا خود هی غسل دیا کفن اور دفن کیا، اور کچھ نادان اور متعصب لوگوں نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام پر تنقید کی کہ آپ  نےکیوں گریبان چاک کیا؟ ، آنحضرت نے ان کو جواب دیا کہ" آپ احکام خدا کے بارے میں کیا جانتے هیں؟ حضرت موسی بن عمران علیہ السلام نے اپنے بھائی هارون علیہ السلام کے ماتم میں گریبان چاک کیا"[18]



[1] دلائل الامامة ص 410 محمد بن جرير الطبري ( الشيعي ) مركز الطباعة والنشر في مؤسسة البعثة ط الالی 1413ھ

روى محمد بن الفرج وعلي بن مهزيار ، عن السيد ( عليه السلام ) أنه قال : أمي عارفة بحقي ، وهي من أهل الجنة ، لا يقربها شيطان مارد ، ولا ينالها كيد جبار عنيد ، وهي مكلوءة  بعين الله التي لا تنام ، ولا تتخلف  عن أمهات الصديقين والصالحين

[2] - نفحات من سیرة ائمة اهل البیت (ع) ص 331 محمد باقر شریف القرشی ، المؤسسة الاسلامیة للبحوث والمعلومات ط السادسة 1428ه

[3] - كشف الغمة في معرفة الأئمة ج3 ص190 علي بن أبي الفتح الإربلي ،دار الأضواء - بيروت - لبنان موسوعة الإمام الهادي ( ع ) ص 23 تحقيق : بإشراف : سماحة السيّد محمد الحسيني القزويني ... ط الأولى محرم الحرام 1424 مؤسّسة وليّ العصر ( عليه السلام ) للدراسات الإسلاميّة - قم المشرّفة

[4] - كشف الغمة في معرفة الأئمة ج3 ص190 علي بن أبي الفتح الإربلي ،دار الأضواء - بيروت – لبنان -معارج الوصول إلى معرفة فضل آل الرسول ( ع ) ص 169 الشيخ محمد الزرندي الحنفي(م 750ھ) تحقيق : ماجد بن أحمد العطية

[5] - تاج المواليد ( المجموعة ) ص55  الشيخ الطبرسي مكتب آية الله العظمى المرعشي النجفي – قم ط 1406

[6] - نفحات من سیرة ائمة اهل البیت (ع) ص332 محمد باقر شریف القرشی ، المؤسسة الاسلامیة للبحوث والمعلومات ط السادسة 1428ه

[7] - كشف الغمة في معرفة الأئمة ج3 ص190 علي بن أبي الفتح الإربلي ،دار الأضواء - بيروت - لبنان

[8] مناقب آل أبي طالب ج3 ص505 ابن شهر آشوب ،مطبعة الحيدرية - النجف الأشرف ط  : 1376 - 1956 م -امام علیه السلام نے متوکل کے لقب سے نهی فرمایا تھا ( پیشوایان هدایت ص52)

[10] نفحات من سیرة ائمة اهل البیت (ع) ص332 محمد باقر شریف القرشی ، المؤسسة الاسلامیة للبحوث والمعلومات ط السادسة 1428ه

[11] - تاریخ اسلام  سیرت امیر المؤمنین و معصومین ص566 اهل قلم کی ایک جماعت

[12] - باقر شريف قرشي - تبيان سایٹ

[13] من لا يحضره الفقيه ج 3 ص 162الشيخ الصدوق تحقيق : تصحيح وتعليق : علي أكبر الغفاري مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة  ط الثانیة 1404

 عن الحسن بن علي بن أبي حمزة ، عن أبيه قال : " رأيت أبا الحسن عليه السلام يعمل في أرض له وقد استنقعت قدماه في العرق ، فقلت له : جعلت فداك أين الرجال ؟

فقال : يا علي عمل باليد من هو خير مني ومن أبي أرضه ، فقلت له : من هو ؟

فقال : رسول الله صلى الله عليه وآله وأمير المؤمنين وآبائي عليهم السلام كلهم قد عملوا بأيديهم وهو من عمل النبيين والمرسلين والصالحين " .

[14] - خامنه ای سید علی ، الحسنین ڈاٹ کام

[15] فرش نشین فرشتے، حسین انصاریان ترجمہ : اقبال حیدر حیدری ،شعبه  تحریر و پیشکش تبیان

[16] مقاتل الطالبيين ص 395- 396  أبي الفرج الأصفهاني منشورات المكتبة الحيدرية ومطبعتها - النجف الأشرف ط  الثانية 1385 - 1965 م

[17] مقاتل الطالبيين ص 395- 396  أبي الفرج الأصفهاني منشورات المكتبة الحيدرية ومطبعتها - النجف الأشرف ط  الثانية 1385 - 1965 م

[18] - منتهی الآمال ج2 ص 460شیخ عباس قمی ، سید الشداء انتشارات قدس ط الثانیة 1378ش .

سوال بھیجیں