زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (27)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

توحیدوشرک سورہ کافرون کےآئینہ میں۔مجلہ عشاق اہل بیت 12و 13۔ربیع الثانی 1436ھ

دوسراقسط

مراتب و اقسام شرک

کاوش:ذاکر حسین ڈوروی

        جس طرح توحید کے مراتب و اقسام ذکر ہوئے اسی طرح شرک کے بھی اقسام اور مراتب پائے جاتے ہیں ’’تعرف الاشیاء باضدادھا‘‘چیزوں کی پہچان ا ن کے متضاد سے ہوتی ہے،تاکہ توحید وشرک دونوں کی پہچان ہوسکے۔

        ۱۔شرک ذاتی

        بعض مذاہب و ملل ثنویت اور بعض تثلیث کے قائل ہیں اور جو لوگ دو خدا یا تین خدا کے قائل ہیں اور ان پر اعتقاد رکھتے ہیں ان کے نظام اجماعی بھی تثلیثی ہوتے ہیں بہرحال ایک سے زیادہ مبداء کے معتقد کو مشرک در ذات کہاجاتا ہے اوریہ توحید ذاتی کے مقابلے میں ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے "لو کان فیھما آلھۃ الّا اللہ لفسدتا" اگر زمین وآسمان میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو (زمین وآسمان) دونوں کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔

        ۲۔شرک در خالقیت

        بعض لوگ مخلوقات کو خالقیت میں خدا کے شریک قرار دیتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا وند عالم شرا ور برائیوں کے خالق نہیں ہے،بلکہ شربعض لوگوں نے لایا ہے اس قسم کی شرک کو شرک در خالقیت اور فاعلیت کہتے ہیں جو توحید افعالی کے مقابلے میں ہے۔[1]

        ۳۔شرک صفاتی

        شرک در صفات ،یہ مسئلہ دقیق ہونے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان مطرح نہیں ہوتاہے لیکن متکلمین اشاعرہ کے نزدیک یہ شرک خفی کی نوع میں سے ہے لہٰذا شرک در صفات اسلام سے خارج ہونے کا موجب نہیں بنتاہے ۔

        ۴۔شرک در پرستش

        غیر خدا کی پرستش،مثلاًلکڑی،پتھر،حیوان،ستارے،سورج ،درخت اور دریا وغیرہ کی پرستش کرتے ہیں ایسے لوگ دنیا میں فراواں طور پر پائے جاتے ہیں ،اب بھی اطراف میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اور اس قسم کی شرک کو شرک در پرستش کہتے ہیں جو توحید در عبادت کے مقابلے میں ہے اور اسلام میں ہر جگہ ہوا پرستی ،جاہ پرستی ،مقام پرستی اور شخص پرستی وغیرہ کو بھی شرک کہتے ہیں جیسے کہ ارشاد ہوتاہے"وتلک نعمۃ تمنّھا علیٰ ان عبدت بنی اسرائیل "[2] جب فر عون و مو سیٰ علیہ السلام میں جو مکا لمہ ہوا تو مو سیٰ علیہ السلام نے فر ما یا۔اور یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر جتا رہے ہیں کہ آپ نے بنی اسرا ئیل کو ’’ عبدت‘‘ غلام بنا رکھا ہے۔

آثارتوحید

۱۔احساس عشق ذات خدا سے محبت

        جو شخص یہ جانتا ہو کہ اس کے تمام کام کسی کے زیر نظرہے اور کوئی ایسی ہستی ہے جواس کے ہر کام پر ناظر ہے اور اس کا کوئی عمل بھی بے کار اور رائیگاں نہیں جائے گا کیونکہ وہ جانتاہے کہ خدا اسے دیکھ رہاہے خدا کی ذات ایسی ذات جو ایسے انسان کو اس کے اعمال کے نتیجے میں اپنی رضایت اور جنت کا مستحق قرار دیتاہے حتیٰ بعض اوقات فقط اچھی نیت کی وجہ سے خدا وند متعال اسے اجرو ثواب عطا کرتاہے یہ ایسے افراد ہونگے جو ذات خدا سے عشق و محبت کرتے ہونگے۔

        ۲۔دھوکہ بازی،پست اعمال اور بہانا بازی سے دوری

        جو انسان اپنے آپ کو خدا کے حضور میں پاتاہے اور ہروقت خدا کو شاہد مانتاہے اسے کوئی بھی شخص دھوکہ نہیں دے سکتاہے ۔

        ۳۔عزت

        جو شخص خدا کی بندگی کو قبول کرتاہے اپنے پورےوجود کے ساتھ خدا کے سامنے سر تسلیم خم ہوتاہے تو اس کو ایسی عزت خدا کی طرف سے عطا ہوتی ہے جو کسی اور کے اختیارمیں نہیں ہوتی ہے ۔

        ۴۔نقصانات سے محفوظ

        توحید پرست ہونے کے نتیجے میں انسان تمام دنیاوی اور اخروی نقصانات سے امن میں ہوتاہے کیونکہ کسی اور کے سہارے کے بجائے وہ ایسے سہارے کی طرف رجوع کرتاہے جس کی طرف تمام کائنات کی بازگشت ہوتی ہے ۔وہ نہ صرف نقصانات سے محفوظ ہوتاہے بلکہ اگرایسے انسان توحید کے پرچم تلے آجائے تو اسے دنیا میں سکوں اور قیامت میں بہشت کی نعمات جیسی خاص سہولیات کا وہ مستحق قرار پاتاہے ۔

       شرک کےآثار

        ۱۔ عملی اثرات

        شرک انسان کے اعمال کو نابود اور برباد کرنے کا سبب بنتاہے اور آیات  قرآن مجید کے مطابق شر ک کے ذریعے انسان کے تمام اچھے اعمال ختم اور حبط ہوجاتے ہیں ۔کبھی تو انسان کاچھوٹا برا عمل باقی سارے اچھے اعمال کو ضائع کردیتاہے ،اس مطلب کی وضاحت کیلئے مندرجہ ذیل مثالوں کی طرف توجہ کریں۔

        ۱۔ایک مریض تمام عمر احتیاط کرتاہے اور ہر چیز سے پرہیز کرتاہے لیکن ایک گھونٹ ٹھنڈا پانی اس کی زندگی بھر کی احتیاط کو ضائع کردیتاہے۔

        ۲۔ایک طالب علم کئی سال استاد کے محبوب اور عزیز شاگردوں میں سے شمار ہوتاہے لیکن اس کی ایک غلط حرکت سے اس کی تمام خوبیان کالعدم اور ختم ہوجاتی ہیں ،اسی طرح شرک بھی زندگی کے تمام نعمات کو محو کردیتی ہے ،جیسا کہ قرآن مجید میں ارشادہوتاہے "ولو اشرکوا لحبط عنھم ماکانوایعملون"[3] اگر وہ مشرک ہوجائیں تو جواعمال انجام دئے ہیں حبط ہوجائیں گے۔

        ۲۔ شرک کے نفسیاتی اثر ات

        مشرک انسان تمام انسانوں کی رضایت کو حاصل کرنے کی فکرمیں رہتاہے اور یہ ناممکنات میں سے ہے کہ ایک شخص کے پورےاعمال سے سارے دنیا والے راضی ہوں کیونکہ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہیں اور ہر ایک کے نظریات اور مسائل بھی جداجدا ہیں جبکہ انسان موحد کے لئے لوگوں کے راضی ہو نےیا نہ ہونےسےکوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ وہ صرف خدا کی رضاو خوشنودی چاہتاہے ،ارشاد خدا وندی ہے "ء ارباب متفرقوں خیر ام اللہ الواحد القہار"[4] ذرا یہ تو بتاو کہ متفرق قسم کے خدا بہتر ہوتے ہیں یا ایک خدائے واحد قہار۔

        ایک اور مقام پر ارشاد ذات باری تعالیٰ ہوتاہے "ضرب اللہ مثلا رجلاً فیہ شرکاءمتشاکسون"[5] اللہ نے اس شخص کی مثال بیان کی ہے جس نے بہت سے جھگڑا کرنے والے شرکاء ہوں۔

        اور دعا ئے کمیل میں مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب فرماتے ہیں ’’یا سریع الرضا‘‘اے جلدی راضی ہونے والے اور دوسری دعاوں میں بھی آیاہے "یا من اظہر الجمیل وستر القبیح"اے وہ جو خوبیوں کو ظاہر کرنے والا ہے اور عیبوں کو چھپانے والا ہے ۔

        ۳۔ شرک کے اجتماعی اثر ات

        توحید ی معاشرے میں انفرادی طریقہ کار اور قوانین اور اجتماعی طریقہ کاراور قوانین دونوں کا حکم اور دونوں کا راستہ ایک ہے اور وہ قانون خدا وندی اور راہ خدا ہے،دونوں کیلئے ایک ہی سرپرست ہے وہ خدا وند متعال کی ذات ہےلیکن شرک کے معاشرے میں ایک راہ میں سو قوانین اورمقرارت ہوتے ہیں اور ہر کوئی اپنی فکر کے مطابق قوانین جعل کرتاہے ۔

        اس کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے "لذھب کل الہٍ بما خلق"[6]    ہر خدا اپنی مخلوقات کولے کر الگ ہوجاتاہے۔

        ۴۔ اخروی اثرات

        دوزخ کی آگ میں جلنایہ شرک کے کم ترین اخروی آثارمیں سے ہے جیساکہ بارہا قرآن مجیدمیں اس کی طرف اشارہ ہواہے کہ مشرکین قیامت کے دن عذاب خداوندی کے حق دار ہیں کیونکہ یہ لوگ دنیامیں غیر خدا کی پرستش کرتے تھے یہ سمجھتے تھے کہ یہی قیامت کے دن ہماری مدد کریں گے ارشاد خدا ہوتاہے"ولا تجعل مع اللہ الھاً آخر"تم خدا کے ساتھ کسی دوسرے کو خدا قرار نہ دو۔

        عقیدہ توحیدکے ثمرات

        عقیدہ عام طورپر کسی مذہب کے ان نظریات کو کہاجاتاہے جن کا تسلیم کرنا اہل مذہب کے لئے ضروری ہوتاہے اور جن کے بغیر کوئی انسان دائرہ مذہب میں نہیں رہ سکتاہے ،چاہیے وہ عقائداورنظریات درست اورفطرت انسان کے مطابق ہویانہ ہولیکن  اسلام میں عقیدہ ان حقیقی نظریات کا نام ہے جن کی بنیادیں فطرت بشر،قوانین عقل و منطق پر قائم ہیں انسان کا کام ان نظریات کی طرف متوجہ ہونا اور ان کا اعتراف و اقرار کرلینا ہے ،اسلام کو دین فطرت اس لئے کہاجاتاہے کیونکہ اس کی بنیادیں فطرت بشر میں موجود ہیں اور انسان اسی فطرت پر پیدا ہوتاہے اس کے بعد ماں باپ اسے دوسرے راستوں پرلگا دیتے ہیں اور وہ اپنی فطرت سے منحرف ہوتاہے ۔

        اسلام کے دین فطرت ہونے کے بعد اس کے حقائق ومعارف کو تسلیم کرناانسانی فطرت کا تقاضاہے لیکن کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ فطرت پرمادیت کا غلاف چڑھ جاتاہے اور حالات حقائق کے اعتراف کی راہ میں حائل ہوجاتی ہیں اس لئے ان حقائق کو تسلیم کرانے کے لئےان کے اثرات ونتائج کی طرف بھی اشارہ کر دیناضروری ہوتاہے تاکہ اگر مادیت یا مصلحت اس راہ میں حائل ہونا چاہے تو اثرات ونتائج انسان کا ہاتھ پکڑکر اسے راہ حق کی طرف کھینچ لائیں۔ان میں سے بعض  آثار مندرجہ ذیل ہیں۔

        ۱۔بلندی فکری

        انسان فطری طور پراس حقیقت سے باخبر ہے کہ اسے اس کائنات میں اشرف المخلوقات کا شرف حاصل ہے اور کائنات کاکوئی عنصر اس سے بلندو برتر نہیں ہے وہ جمادات سے بھی بالاتر ہے اور نباتا ت سے بھی اور حیوان و ملائکہ سے بھی بلند تر ہے لیکن اس کے باوجود جب اس کی آنکھوں پر عقیدت کا غلاف چڑھ جاتاہے تو وہ اس قدر پست ہوجاتا ہے کہ تمام مخلوقات سے اشرف و بالاتر ہونے کے باوجودکبھی پتھروں کو سجدہ کرنے لگتاہے اور کبھی درختوں کو اور کبھی حیوانات میں خدائی کا جلوہ دیکھنے لگتاہے اور کبھی جنات اور ملائکہ میں ۔

        انسان میں یہ شعور بالکل مردہ ہوجاتاہے کہ اس کا مرتبہ ان تمام مخلوقات سے بالاتر ہے اور وہ اس بات کا حق دار ہے کہ یہ پوری کائنات اس کے قبضہ میں ہو اور تسخیر کائنات کا عمل انجام دے ،اور اس بےشعوری  کے نتیجے میں وہ ان سب کی خدائی کا اعتراف کرلیتاہے ،اسلام نے عقیدہ توحید کے ذریعہ انسان کی فکر کو فطری بلندی سے آشنا بنانا چاہاہے اور اسے یہ شعور دیا ہے کہ تیرا خضوع وخشوع اور تیری بندگی صرف اس ذات کو زیب دیتی ہے جو ساری کائنات سے بالاتر ہے اور اس کے علاوہ کائنات کی کوئی شئی تیری بندگی کی حقدار نہیں ہے کلمہ"لاالہ الّااللہ" ایک عقیدہ اور مذہب نہیں ہے یہ ایک فطری شعور ہے جسے اسلام نے بیدار کرنا چاہا ہے ،عقیدہ توحید مٹ جائے تو انسانی شعور پست اور مردہ ہوجاتاہے اوریہ عقیدہ زندہ ہوجائیں تو انسانی شعور کو عجیب و غریب ارتقاء حاصل ہوتاہے اور وہ ان بلندیوں پر نگاہ رکھنے لگتاہے جسکے آگے ساری کائنات پست دکھائی دیتی ہے اور اس کی نگاہ کے سامنے مالک کائنا ت کے علاوہ کوئی شئی نہیں رہ جاتی ہے ۔[7]

        ۲۔ خالق ومخلوق کا امتیاز

        انسان کی ایک فکری کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ خالق اورمخلوق کے فرق سے بھی غافل ہے اور کبھی مخلوقات کو خالق کادرجہ دے دیتاہے اور کبھی خالق کو مخلوق کی صف میں لاکر کھڑا کر دیتاہے ،دنیا کے مذاہب میں یہی دونوں کمزوریاں پائی جاتی ہیں کہ بعض مذاہب نے مخلوقات کو خدا تسلیم کر کے انہیں خالق کا درجہ دیاہے جیسا کہ یہودیوں نے حضرت عزیر کو اس منزل پر فائز کر دیاہے اسلام نے عقیدہ توحید کے ذریعے ان دونوں کمزوریوں کا علاج کر دیاہے ۔

        ہندووں کے دھرم میں پتھر،درخت اور گائے وغیرہ خالق کی منزل پر آگئے ہیں اور ستارہ پرستوں میں ستارے اس درجہ کے مالک ہوگئے ہیں ،عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو یہ درجہ دے دیا ہے،لیکن عقیدہ توحید نے خالق ومخلوق کے درمیان فرق کو سمجھنے کی دعوت دی ہے اور انسانوں کو بہت بڑی جہالت اور فکری کمزوریوں سے بچالایاہے ،اسلام ہی کے ذریعے خالق اور مخلوق کے درمیان امیتاز کو پہچان سکتے ہیں ۔

       ۳۔غنائے مطلق

        اہل فلسفہ نے اس نکتہ کا اعتراف کیاہے کہ دو خداوں کا تصور خداوں کو بھی محتاج بنا دیتاہے کہ دو خدا وں میں یقینا ایک شئی مشترک ہوگی اور ایک شئی امتیازی ہوگی جس کی بناء پر انہیں دو کہاجاتاہے ورنہ دونوں ایک ہوجائیں گے اور دوہونے کا تصور ہی ختم ہوجائے گا اور جب کوئی شئی دو اجزاء سے مرکب ہوتی ہے (ایک شیء مشترک دوسراشیء مختص )اورہرمرکب اپنے اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اور محتاج خدا ئی کے قابل نہیں ہوتاہے۔

        شرک نے انسان کو غنائے مطلق اور حقیقی بے نیازی کے تصور سے بھی محروم کر دیاہے اور اس کی نظر میں خدا ہی کئی اجزاء کے محتاج کا نام ہے مالک بے نیاز کانام نہیں ہے اور ظاہرہے کہ جب خدا ہی محتاج ہوجائے گا تو بندوں میں کائنات سے بے نیازی کی فکرکیسے پیدا ہوگی اوراسے کون بے نیاز کرے گا۔

        نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان فطری طور پر گداگر ہوجائے گا اور اسے بھی اپنا کمال ہی تصور کرنے لگے گا اس لئے کہ گدائی خدائی میں بھی پائی جاتی ہے اور وہ بھی اجزاء کی بھیک لے کر خدا بنا ہے ،لیکن اسلام کا عقیدہ توحید اس لئے کہیں زیادہ بلندتر اور پاکیزہ ترہے اس نے انسان کو ایک غنی مطلق اور بے نیاز حقیقی کا تصور دیا ہے جس سے انسان کے ذہن میں بے نیازی کا شعور پیدا ہوتاہے اور وہ یہ سمجھتاہے کہ اگر اس بے نیازی سے رابطہ پیدا کر لیا اوراس کا تقرب حاصل کر لیا تو اس کے بعد اس کائنات سے بے نیازی حاصل کی جاسکتی ہے اور انسان اس مرتبہ تک پہنچ سکتاہے جس کا کفرو شرک میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتاہے ۔

       ۴۔کمال مطلق کے ساتھ رابطہ

        عالم شرک کے خدا محتاج ہونے کی بناء پر یہ بے نیاز کہے جاسکتے ہیں اورنہ باکمال ،اس لئے چونکہ کمال مطلق کے لئے ہر طرح کے نقص اور عیب سے پاک ہونا ضروری ہے اور جو محتاج ہوتاہے اس میں بہر حال احتیاج کا نقص ہوتاہے ،اسلام کا عقیدہ توحید اس کمزوری سے کہیں زیادہ بلندتر ہے اور اس کا خدا کمال مطلق کا مالک ہے جہاں کسی طرح کا کوئی عیب یا نقص نہیں پایاجاتاہے اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ انسان جس قدر بھی اس دنیا سے قریب تر ہونا چاہے گا فطری طور پر اتنا ہی کمال سے قریب تر ہوجائے گا اور کمال سے قرب انسان کو باکمال بننے کا شعور بھی عطا کرتاہے اور باکمال بھی بنا دیتاہے ۔

کمال مطلق سے قریب تر ہونے کی خواہش ہر انسان کی فطرت میں پائی جاتی ہے اور کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو فطری طور پر زیادہ سے زیادہ باکمال بننے کی تڑپ نہ رکھتاہو۔

        لیکن انسان اس کے وسیلہ اور ذریعہ سے ناآشنا ہے اور وہ سمجھتاہے کہ یہ کام علم یا مال کے ذریعے انجام دیاجاسکتاہے حالانکہ یہ ایک خیال خام ہے علم اور مال میں بھی کمال مطلق کا تصور اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک خدائے وحدہ لاشریک کا تصور ذہن میں نہ ہواس لئے کہ اس کے علاوہ ہر ایک کا علم غیر ذاتی ہے اور اللہ کے علاوہ ہر ایک کا مال و منصب عطائی ہے اور جس کے پاس غیر کی دی ہوئی دولت ہوتی ہے اور عطائی کمال کا مالک ہوتاہے وہ کمال مطلق کا حامل نہیں ہو سکتاہے ۔

        کمال مطلق کے لئے مالک کائنات سے وابستہ ہونا ضروری ہے اور یہ تصور اور ادارک توحید پروردگار عالم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتاہے۔

        خد اکی وحدانیت

        انبیاء کی تبلیغ میں توحید ،اور شرک سے پرہیز میں چند چیزوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے آیات الہیہ میں غورو فکر اور آسمانی کتابوں کے مطالعے سے اس حقیقت تک پہنچاجاسکتاہے کہ انبیاء کا وحدانیت کی تبلیغ میں اتنا زیادہ اہتمام اور تاکید کی وجہ یہ ہے کہ توحید کائنات کے نظام کی بنیاد ہے اس کے پرتو میں انسان تمام فضائل و برکات کے سرچشمہ تک پہنچ سکتاہے اور بس اسی راہ سے اپنے عقیدہ ،نفسیات،رفتار وکرادر میں اعتدال باقی رکھ سکتاہے ،نیزبعینہ بشر اور انسانی سماج کی حقیقی سعادت و خوش بختی توحید ہی کی مرہون منت ہے اور انسانوں میں ہر طرح کا اختلاف،انتشار،گمراہی ،زوال اور تباہی و بربادی شرک سے پیدا ہوتی ہے ۔       

        توحید اور کائنات کا نظم و نسق

        پوری کائنات ایک منظم اور مجسم مجموعہ ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں چنانچہ خدا وند عالم فرماتاہے۔تم رحمان کی خلقت میں کسی طرح کا فرق نہیں دیکھو گے پھر دوبارہ نگاہ اٹھاکر دیکھوکہیں کوئی خلل یا شگاف نظر آتاہے ۔[8]

        یہ نظم ونسق خدا وند عالم کی یکتائی اور یگانگی کا پتہ دیتی ہے چونکہ اگراس کائنات کے نظام کی تدبیر میں دو یا اس سے زیادہ ارادے کار فرما ہوتے تو یقینا اس میں بد نظمی اور خرابی پانا حتمی تھا جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے "لوکان فیھما آلھۃ الّا اللہ لفسدتا"اگر زمین و آسمان میں ایک اللہ کے علاوہ اور بھی خدا ہوتے تو زمین و آسمان دونوں برباد ہوجاتے ،اور دنیا کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔

        توحید اور آسمانی شریعتوں کا ایک ہونا

        خداکی وحدانیت جس طرح نطام کائنات میں اعتدال واتحاد کا سبب ہے اسی طرح نظام تشریع و قانون اور آسمانی شریعتوں کی وحدت کا باعث بھی ہے ۔

        حضرت علیؑ اپنے فرزند ارجمند امام حسن ؑ کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں "واعلم یا بنی انہ لوکان لربک شریک لا تتک رسلہ ولرأیت آثارہ و سلطانہ"[9] اے میرے لال!آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر آپ کے پرور دگارکاکوئی شریک ہوتا تو اس کی طرف سے بھی آپ کے پاس رسول آتے اور آپ اس کی قدرت وسلطنت کے آثار و علامات کو بھی دیکھتے ۔

        آسمانی شریعتیں اگرچہ انسانوں کے فکری رشد و نبوع اور اجتماعی روابط و تعلقات سے ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے فرعی احکام اور حدود میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن اصول دین اور عقیدوں کے لحاظ سے ایک جیسی اور بالکل متحدہیں جیسا کہ خدا وند عالم پیغمبر اکرمؐ سے فرماتے ہیں۔"وما ارسلنا من قبلک من رسول الّا نوحی الیہ انّہ لا الہ الّا انا فاعبدون"[10] اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ بھی اس کی طرف وحی کرتے ہوئے کہ میرے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے لہٰذا سب لوگ میری ہی عبادت کرو۔

        توحید اور انسانی معاشرےمیں اتحاد

        خدائے واحد پر ایمان ایک ایسی زنجیر ہے جوتمام لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے ،نسلی،علاقائی اور قومی اختلافات کو ختم کر دیتی ہے اور مختلف انسانی سماجوں کو اختلاف و تفرقہ سے جو کمزوری و تنزل و انحطاط کا باعث ہے نجات بخشتی ہے ۔

        توحید کی تبلیغ فقط کافروں کو ہی شرک سے نجات نہیں دیتی ہےبلکہ توحید آسمانی ادیان کی مشترکہ تبلیغ ہے لہٰذا ان تمام ادیان کے ماننے والوں کوا یک مضبوط مرکز پر مشترک جدو جہد کی طرف دعوت دیتی ہے ،خدا وند عالم قرآن کریم میں اپنے پیغمبر ؐکو بھی حکم دیتاہے"قل یااھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمۃ سواء بیننا و بینکم ان لا نعبد الّااللہ و لانشرک بہ شیئا و لا یتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون اللہ "[11] اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ  اے اہل کتاب آوایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کر لیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں کسی اور اس کا شریک نہ بنائے آپس میں ایک دوسرے کو خدائی کا درجہ نہ دے ۔

        دوسری جگہ ارشاد خدا وند ی ہوتاہے"فمن یکفر بالطاغوت و یومن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقیٰ لانفصام لھا واللہ سمیع علیم"[12] جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لائے تو وہ مضبوط رسی سے متمسک ہوگیاہے جس کے ٹوٹنے کا امکان نہیں اور اللہ سننے اور جاننے والاہے ۔

        لہٰذا فقط توحید پروردگار پر ایمان کے پرتو میں ہی مختلف انسانی سماجوں کے اختلاف کو ختم کر سکتے ہیں اور اس صورت میں انسانوں کی ایک دوسرے پر فوقیت و برتری کا معیار فقط تقویٰ ،پرہیز گاری اور الہٰی و انسانی اقدار کی رعایت ہوگی جیسا کہ ارشاد خداوندی ہورہاہے"یا ایھا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثی ٰ وجعلنا کم شعوباًو قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم"[13] اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیاہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بے شک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگارہے۔

        توحید اور علمی کمال

        توحید کا عقیدہ انسان کے علمی کمال اور فرشتوں سے ہم صف و ہم جماعت ہونے کی علامت ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوتاہے"شھد اللہ انّہ لا الہ الّا ھو والملائکۃ واولوالعلم قائماً بالقسط لاالہ الّا ھو العزیز الحکیم"[14] اللہ خود گواہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ،ملائکہ اور صاحبان علم گواہ ہے وہ عدل کے ساتھ قائم ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہ صاحب عزت وحکمت ہے ۔

        لہٰذا آیات الہیہ اور کائنات کی عظمت کو دیکھنے کے بعد بھی اگر کوئی خداوند عالم اوراس کی وحدانیت پرایمان نہ لائے تو یہ اس کی جہالت و نادانی کی علامت ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے"ء الہ مع اللہ بل اکثرھم لا یعلمون"[15] کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی خدا ہے ،ہرگز نہیں ،اصل یہ ہے کہ ان کی اکثریت جاہل ہے ۔

        اس لئے جن کا اللہ پر ایمان نہیں ہے وہ لوگ عصری علوم و فنون میں چاہے کسی رتبہ و مقام پر کیوں نہ ہو ں انسانی سماج میں ان کی چاہے جو بھی حیثیت ہو قرآن کی نقطہ نگاہ سے وہ سفیہ ،کم عقل اور بے شعور ہے ،خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے"واذا قیل لھم آمنوا کما آمن الناس قالوا انومن کما آمن السفھاء الا انہھم ھم السفہاء ولکن لا یعلمون"[16] جب ان سے کہاجاتاہے کہ دوسرے مومنین کی طرح ایمان لاو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم بے وقوفوں کی طرح ایمان اختیار کریں ،حالانکہ اصل میں یہی بے وقوف ہے اور انہیں اس کی واقفیت بھی نہیں ہے۔

        چونکہ توحید واضح اور غیر قابل انکار حقیقت ہے لہٰذا اگر کوئی شرک کا قائل ہوجائے تو گویا اس نے ایک بہت بڑا اور نہ بخشا جانے والا گناہ کیاہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے"ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ و یغفر مادون ذالک لمن یشاء ومن یشرک باللہ فقد افترا اثما عظیما"[17] اللہ اس بات کو معاف نہیں کر سکتاہے کہ اس کا شریک قرار دیا جائے اور اس کے علاوہ جس کو چاہے بخش سکتاہے اور جو بھی اس کا شریک بنائے اس نے بہت بڑا گناہ کیا۔

        توحید کا انسان کے نفسیات پر اثر

        انسانوں کی اکثریت چونکہ زندگی کے مقصد وہدف سے ناواقف ہے اور اسے نہیں معلوم کہ کس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے لہذا اضطراب پریشانی اور سرگردانی میں مبتلا ہے ان تمام تر پریشانیوں اور سرگردانیوں کی اصل وجہ شرک ہے اس لئے کہ شرک اختیار کرنے میں انسان کیلئے متعددافراد اور مختلف مقاصد ہر ایک مسقتل حیثیت رکھتے ہیں ۔اور اسے سب کا خیال رکھنا پڑتاہے جوکہ پریشانی کا سبب ہے ۔

        حالانکہ اگر انسان تمام حالات میں بس خدا کو مدنظر رکھے اور تمام امور میں خدا کی مرضی کا خیال رکھے تمام کاموں میں توحید کو محور قرار دے تو یقینا اسے ذہنی سکون بھی نصیب ہوگا اور اس میں اعتدال بھی رہے گا ،خدا وند عالم نے قرآن مجید میں اس حقیقت کو اجاگر کرنے کے لئے کہ شرک سرگرانی اور اختلاف کاباعث ہے اس طرح مثال دی ہے "وضرب اللہ مثلاً رجلاً فیہ شرکائو ا متشاکسون ورجلاً سلماً لرجل ھل یستویٰن مثلاً،الحمد للہ بل اکثرھم لا یعلمون"[18] اللہ نے اس شخص کی مثال پیش کی ہے جس کے بہت سے جھگڑا کرنے والے شرکاء ہوں اور وہ شخص جو ایک ہی شخص کے سپرد ہوجائے کیا دونوں حالات کے اعتبار سے ایک جیسے ہوسکتے ہیں ،ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں مگر ان کی اکثریت سمجھتی نہیں ہے ۔

        اور حضرت یوسف کی زبانی اس طرح بیان فرماتاہے"ء ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القہار"[19] ذرایہ تو بتاو کہ متفرق قسم کے خدا بہتر ہوتے ہیں یا ایک خدا ئے واحد قہار۔

        اورپھر خدا ند عالم دل کے سکون و اطمینان کو ذکر خدا اور اس کی طرف متوجہ رہنے کا نتیجہ قرار دیتاہے "الا بذکر اللہ تطمئن القلوب"[20] آگاہ ہوجاو کہ اطمینان قلب یاد خدا سے ہی حاصل ہوتاہے۔

        نتیجتاً جو لوگ بھی ذکر خدا کے ذریعے سکون واطمینان حاصل کر لیتے ہیں اور عمل میں اعتدال برقرار رکھتے ہیں پھر کوئی بھی شئی انہیں اپنی طرف مائل نہیں کر پاتی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے "رجال لا تلھیھم تجارۃ و لابیع عن ذکر اللہ واقام الصلوٰۃ وایتاء الزکاۃ یخافون یوما تتقلب فیہ القلوب والابصار"[21] وہ مرد جنہیں کاروبار یا دیگر خریدو فروخت ذکر خدا قیام نماز ار ادائے زکات سے باز نہیں کر سکتی یہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن کے ہول سے دل اور نگاہیں سب الٹ جائیں گی ۔



[1] ۔شہیدمرتضی مطہری ،جہان بینی اسلام،ص ۱۰۵

[2] ۔سورہ شعرا ء ۲۲

[3] ۔سورہ انعام،۸۸

[4] ۔سورہ یوسف،۳۹

[5] ۔سورہ زمر،۲۹

[6] ۔سورہ مومنون،۹۱

[7] ۔اسلامی تعلیمات کے فروع واصول،علامہ ذیشان  حیدرجوادی

[8] ۔سورہ نحل،۵۱

[9] ۔نہج البلاغہ،مکتوب۳

[10] ۔سورہ انبیاء،۱۲۵

[11] ۔سورہ آل عمران،۶۴

[12] ۔سورہ بقرہ،۲۵۶

[13] ۔سورہ حجرات،۱۳

[14] ۔سورہ آل عمران،۱۸

[15] ۔سورہ نمل،۶۱

[16] ۔سورہ بقرہ،۱۳

[17] ۔سورہ نساء،۴۸

[18] ۔سورہ زمر،۲۹

[19] ۔ سورہ یوسف،۳۹

[20] ۔سورہ رعد،۲۸

[21] ۔سورہ نور،۳۷

سوال بھیجیں