زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں
■ سیدعادل علوی (27)
■ اداریہ (14)
■ حضرت امام خمینی(رہ) (7)
■ انوار قدسیہ (14)
■ مصطفی علی فخری
■ سوالات اورجوابات (5)
■ ذاکرحسین ثاقب ڈوروی (5)
■ ھیئت التحریر (14)
■ سید شہوار نقوی (3)
■ اصغر اعجاز قائمی (1)
■ سیدجمال عباس نقوی (1)
■ سیدسجاد حسین رضوی (2)
■ سیدحسن عباس فطرت (2)
■ میر انیس (1)
■ سیدسجاد ناصر سعید عبقاتی (2)
■ سیداطہرحسین رضوی (1)
■ سیدمبین حیدر رضوی (1)
■ معجز جلالپوری (2)
■ سیدمہدی حسن کاظمی (1)
■ ابو جعفر نقوی (1)
■ سرکارمحمد۔قم (1)
■ اقبال حیدرحیدری (1)
■ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری (1)
■ سید نجیب الحسن زیدی (1)
■ علامہ جوادی کلیم الہ آبادی (2)
■ سید کوثرمجتبیٰ نقوی (2)
■ ذیشان حیدر (2)
■ علامہ علی نقی النقوی (1)
■ ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی (1)
■ سید گلزار حیدر رضوی (1)
■ سیدمحمدمقتدی رضوی چھولسی (1)
■ یاوری سرسوی (1)
■ فدا حسین عابدی (3)
■ غلام عباس رئیسی (1)
■ محمد یعقوب بشوی (1)
■ سید ریاض حسین اختر (1)
■ اختر حسین نسیم (1)
■ محمدی ری شہری (1)
■ مرتضیٰ حسین مطہری (3)
■ فدا علی حلیمی (2)
■ نثارحسین عاملی برسیلی (1)
■ آیت اللہ محمد مہدی آصفی (3)
■ محمد سجاد شاکری (3)
■ استاد محمد محمدی اشتہاردی (1)
■ پروفیسرمحمدعثمان صالح (1)
■ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (1)
■ شیخ ناصر مکارم شیرازی (1)
■ جواہرعلی اینگوتی (1)
■ سید توقیر عباس کاظمی (3)
■ اشرف حسین (1)
■ محمدعادل (2)
■ محمد عباس جعفری (1)
■ فدا حسین حلیمی (1)
■ سکندر علی بہشتی (1)
■ خادم حسین جاوید (1)
■ محمد عباس ہاشمی (1)
■ علی سردار (1)
■ محمد علی جوہری (2)
■ نثار حسین یزدانی (1)
■ سید محمود کاظمی (1)
■ محمدکاظم روحانی (1)
■ غلام محمدمحمدی (1)
■ محمدعلی صابری (2)
■ عرفان حیدر (1)
■ غلام مہدی حکیمی (1)
■ منظورحسین برسیلی (1)
■ ملک جرار عباس یزدانی (2)
■ عظمت علی (1)
■ اکبر حسین مخلصی (1)

جدیدترین مقالات

اتفاقی مقالات

زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

بے مثال فداکاری۔مجلہ عشاق اہل بیت 14و 15 ۔ ربیع الثانی 1437 ھ

بے مثال فداکاری

نویسندہ : محمدعلی صابری

مقدمہ :دوست  اور دشمن  کی  پہچان  اسوقت   ہوتی ہے  جب  انسان   کسی  مشکل  پہنس   جاتا  ہے  جب  وہ  اپنے  دوست  سے    مدد  طلب  کرتا  ہے اگر  وہ  اس  شخص  کا  حقیقی   دوست  یا  عاشق ہو تو  اس  کی  مدد  پہ  لبیک  کہ  کر  اس کی  مدد  کو  جاتا  ہے   ہاں  اگر  ظاہر ی  دوست  مصلحت   کے مطابق  دوست  بنا ہو تو  اس  کی  مدد کی  بجائے  اپنی  فکر  میں  ہوتا  ہے۔

   یہاں  پر  بھی  ایک ایسی  شخصیت  کے  بارے  میں   گفتگو  کرنے  کی  کوشش  کرونگا  جو  ایک  حقیقی  دوست    اور  عاشق  رسول اللہ  ہے  جب  رسول  خدا نے  حکم  دیا  یا  علی ؑ  تم  میرے  بستر پہ  آج  رات  سونا   البتہ  یہاں  پہ  دوچیزیں    ثابت ہوجاتی  ہیں۔

  ایک  یہ  امیر المئو منین  حضرت علی ؑ  نفس  رسول  ہیں  جیساکہ  آیہ  کریمہ مباہلہ  میں  بھی  نفس  سے  تعبیر کیا ۔

دوسرا یہ  کہ  یہاں  واقعہ  غدیر  کا  ایک  مسئلہ  بھی  حل  ہوجا تا  ہے  کہ  رسول  ﷺ نے  حضرت علیؑ کو  اپنے  بستر  سولاکے اور  اپنی  تمام  تر  امور  انہیں  کے  ہاتھوں سپرد  کرکے  یہ  بتلایا  کہ   حضرت  علی ؑ  میرے وصی  ہیں  او ر میرا  خلیفہ  ہیں۔  

بے مثال فداکاری

ہر انسان کے اعمال و کردار کا پتہ اس کے فکر اور عقیدے سے ہوتا ہے ،اورقربانی اور فداکاری اہل ایمان کی علامت ہے .اگر انسان کا ایمان کسی چیز پر اس منزل تک پہونچ جائے کہ اسے اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھے توحقیقت میں اس چیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دے گا. اور اپنی ہستی اور تمام کوششوں کواس پر قربان کرے گا قرآن مجیدنے اس حقیقت کو اس اندازسے بیان کیاہے:"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتابُوا وَ جاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَ أَنْفُسِهِمْ في‏ سَبيلِ اللَّهِ أُولئِكَ هُمُ الصَّادِقُون‏"[1]

 سچے مومن تو بس وہی ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے ، پھر انہوں نے اس میں سے کسی طرح کا شک وشبہ نہ کیا اور اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیا یہی لوگ ( دعوائے ایمان میں ) سچے ہیں۔

بعثت کے ابتدائی ایام میں مسلمانوں نے بہت زیادہ شکنجے اور ظلم و بربریت کواپنی کامیابی کی راہ میں برداشت کیا تھا جس چیز نے دشمنوں کو خدا کی وحدانیت کے اقرار سے روک رکھا تھا وہی بیہودہ خاندانی عقائد اوراپنے خداؤں پر فخر و مباہات اور قوم پرستی پر تکبر و غرور اور ایک قبیلے کا دوسرے قبیلے والوں سے کینہ و عداوت تھیم یہ تمام موانع مکہ اور اطرافیان مکہ میں اسلام کے نشر و اشاعت میں اس وقت تک رہے جب تک پیغمبر(ص) نے مکہ فتح کر نہ لیا تھا اور صرف اسلام کی قدرت کاملہ سے ہی یہ تمام موانع ختم ہوئے۔مسلمانوں پر قریش کی زیادتی سبب بنی کہ ان میں سے کچھ لوگ حبشہ اور کچھ لوگ مدینہ کی طرف ہجرت کریں، اور پیغمبر اسلام ﷺاور حضرت علی ؑ جنہیں خاندان بنی ہاشم خصوصاً حضرت ابوطالب کی مکمل حمایت حاصل تھی لیکن جعفر بن ابی طالب مجبور ہوئے کہ بعثت کے پانچویں سال چند مسلمانوں کے ساتھ مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کریں اور ہجرت کے ساتویں سال (فتح خیبر کے سال) تک وہیں پررہیں۔

بعثت کا دسواں سال پیغمبر اسلام(ص) کے لئے بہت سخت تھا، جب آپ کے حامی اور پشت پناہ اور مربی اور عظیم چچا کا انتقال ہوگیا. ابھی آپ کے چچا جناب ابوطالب کی وفات کو چند دن نہ گزرے تھے کہ آپ کی عظیم و مہربان بیوی حضرت خدیجہ کا بھی انتقال ہوگیا. جس نے اپنی پوری زندگی اور جان و مال کو پیغمبر کے عظیم ہدف پر قربان کرنے پر کبھی دریغ نہیں کیا، پیغمبر اسلام (ص)ان دو باعظمت حامیوں کی رحلت کی وجہ سے مکہ کے مسلمانوں پر بہت زیادہ ظلم و زیادتی ہونے لگی ، یہاں تک کہ بعثت کے تیرہویں سال تمام قریش کے سرداروں نے ایک میٹنگ میں یہ طے کیا کہ توحیدکی آواز کو ختم کرنے کے لئے پیغمبر(ص) کو زندان میں ڈال دیا جائے یا انھیں قتل کردیا جائے یا پھر کسی دوسرے ملک میں قیدکردیاجائے تاکہ یہ آواز توحید ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائے، قرآن مجید نے ان کے ان تینوں ارادوں کا تذکرہ کیاہے۔ ارشاد قدرت ہے:"وَإِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِیُثْبِتُوکَ أَوْ یَقْتُلُوکَ أَوْ یُخْرِجُوکَ وَیَمْکُرُونَ وَیَمْکُرُاﷲُ وَاﷲُ خَیْرُ الْمٰاکِرِیْنَ "[2] اور (اے رسول وہ وقت یاد کرو) جب کفار تم سے فریب کر رہے تھے تاکہ تم کوقید کرلیں یاتم کومار ڈالیں یا تمہیں (گھر سے) باہر نکال دیں وہ تو یہ تدبیر کر رہے تھے اور خدا بھی (ان کے خلاف) تدبیر کر رہا تھا اور خدا تو سب تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے۔ قریش کے سرداروں نے یہ طے کیا کہ ہر قبیلے سے ایک شخص کو چنا جائے اور پھر یہ منتخب افراد نصف شب میں یکبارگی محمد ﷺکے گھر پر حملہ کریں اور انھیں ٹکڑے ٹکڑے کردیں اور اس طرح سے مشرکین بھی ان کی تبلیغ اور دعوت حق سے سکون پا جائیں گے اور ان کا خون پورے عرب کے قبیلوں میں پھیل جائے گا. اور بنی ہاشم کا خاندان ان تمام قبیلوں سے جو اس خون کے بہانے میں شامل تھے جنگ و جدال نہیں کرسکتے، فرشتۂ وحی نے پیغمبر(ص) کو مشرکوں کے اس برے ارادے سے باخبر کیا اور حکم خدا کو ان تک پہونچایا کہ جتنی جلدی ممکن ہو مکہ کو چھوڑ کر یثرب چلے جائیں۔ ہجرت کی رات آگئی ،مکہ اور پیغمبر اسلام(ص) کا گھر رات کے اندھیروں میں چھپ گیا ،قریش کے مسلح سپاہیوں نے چاروں طرف سے پیغمبر(ص)کے گھر کا محاصرہ کرلیا اس وقت پیغمبر(ص) کے لئے ضروری تھا کہ گھر کو چھوڑ کر نکل جائیں اور اس طرح سے جائیں کہ لوگ یہی سمجھیں کہ پیغمبر گھر میں موجود ہیں اور اپنے بستر پر آرام فرما رہے ہیں. لیکن اس کام کے لئے ایک ایسے بہادر اور جانباز شخص کی ضرورت تھی جو آپ کے بستر پر سوئے اور پیغمبر کی سبز چادر کو اس طرح اوڑھ کر سوئے کہ جو لوگ قتل کرنے کے ارادے سے آئیں وہ یہ سمجھیں کہ پیغمبر ابھی تک گھر میں موجود ہیں اور ان کی نگاہیں صرف پیغمبر کے گھر پر رہے اور گلی کوچوں اور مکہ سے باہر آنے جانے والوں پر پابندی نہ لگائیں ، لیکن ایسا کون ہے جو اپنی جان کو نچھاور کرے اور پیغمبر کے بستر پر سو جائے؟ یہ بہادر شخص وہی ہے جو سب سے پہلے آپ پر ایمان لایا اور ابتدائے بعثت سے ہی اس شمع حقیقی کا پروانہ کی طرح محافظ رہا، جی ہاں یہ عظیم المرتبت انسان حضرت علی ؑ کے علاوہ کوئی اور نہ تھا اور یہ افتخار بھی اسی کے حصہ میں آیا، یہی وجہ ہے کہ پیغمبر نے حضرت علی ۔کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا: مشرکین قریش مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں اور ان کا یہ ارادہ ہے کہ یک بارگی مل جل کر میرے گھر پر حملہ کریں اور مجھے بستر پر ہی قتل کردیں. خداوند عالم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں مکہ سے ہجرت کرجاؤں .اس لئے ضروری ہے کہ آج کی شب تم میرے بستر پر سبز چادر کواوڑھ کر سوجاؤ تاکہ وہ لوگ یہ تصور کریں کہ میں ابھی بھی گھر میں موجود ہوں اور اپنے بستر پر سو رہا ہوں اور یہ لوگ میرا پیچھا نہ کریں. حضرت علی پیغمبر کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ابتداء شب سے پیغمبر اسلام کے بستر پر سوگئے۔

چالیس آدمی ننگی تلواریں لئے ہوئے رات بھر پیغمبر(ص) کے گھر کا محاصرہ کئے رہے اور دروازے کے جھروکوں سے گھر کے اندر نگاہیں جمائے تھے اور گھر کے حالات کا سرسری طور پر جائزہ لے رہے تھے ، ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ خود پیغمبر اپنے بستر پر آرام کر رہے ہیں. یہ جلاد صفت انسان مکمل طریقے سے گھر کے حالات پر قبضہ جمائے تھے اور کوئی چیز بھی ان کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دشمنوں کے اتنے سخت پہروں کے باوجود پیغمبر کس طرح سے اپنے گھر کو چھوڑ کر ہجرت کر گئے. بہت سے مؤرخین کا نظریہ ہے کہ پیغمبر اکرم جب گھر سے نکلے تو سورۂ یٰسن کی تلاوت کر رہے تھے ۔اور محاصرین کی صفوں کوتوڑتے ہوئے ان کے درمیان سے اس طرح نکلے کہ کسی کو بھی احساس تک نہ ہوا .یہ بات قابل انکار نہیں ہے کہ مشیت الہی جب بھی چاہے پیغمبر کو بطور اعجاز اور غیر عادی طریقے سے نجات دے، کوئی بھی چیزاس سے منع نہیں کرسکتی. لیکن یہاں پر بات یہ ہے کہ بہت زیادہ قرینے اس بات کی حکایت کرتے ہیں کہ خدا اپنے پیغمبر کو معجزے کے ذریعے سے نجات نہیں دینا چاہتاتھا کیونکہ اگر ایسا ہو تا تو ضروری نہیں تھاکہ حضرت علی پیغمبر کے بستر پر سوتے اور خود پیغمبر غار ثور میں جاتے اور پھر بہت زیادہ زحمت و مشقت کے ساتھ مدینے کا راستہ طے کرتے۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ جس وقت پیغمبر اپنے گھر سے نکلے اس وقت تمام دشمن سورہے تھے اور پیغمبر ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر چلے گئے، لیکن یہ نظریہ حقیقت کے برخلاف ہے، کیونکہ کوئی بھی عقلمند انسان یہ قبول نہیں کرسکتاکہ چالیس جلاد صفت انسانوں نے گھر کا محاصرہ صرف اس لئے کیاتھا کہ پیغمبر گھر سے باہر نہ جاسکیں تاکہ مناسب وقت اور موقع دیکھ کر انھیں قتل کریں اور وہ لوگ اپنے وظیفے کواتنا نظر انداز کردیں کہ سب کے سب سے آرام سے سوجائیں۔

لیکن بعیدنہیں ہے جیساکہ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ پیغمبر محاصرین کے درمیان سے ہوکر نکلے تھے ۔

خانۂ وحی پر حملہ

قریش کے سپاہی اپنے ہاتھوں کوقبضۂ تلوار پر رکھے ہوئے اس وقت کے منتظر تھے کہ سب کے سب اس خانہء وحی پر حملہ کریں اور پیغمبر کو قتل کردیں جو بستر پر آرام کر رہے ہیں .وہ لوگ دروازے کے جھروکے سے پیغمبر کے بستر پر نگاہ رکھے تھے اور بہت یادہ ہی خوشحال تھے اوراس فکر میں غرق تھے کہ جلدی ہی اپنی آخری آرزؤں تک پہونچ جائیں گے،مگر علی علیہ السلام بڑے اطمینان و سکون سے پیغمبر کے بستر پر سو رہے تھے. کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خداوند عالم نے اپنے حبیب، پیغمبر اسلام ﷺکودشمنوں کے شر سے نجات دیا ہے. دشمنوں نے پہلے یہ ارادہ کیاتھا کہ آدھی رات کو پیغمبر کے گھر پر حملہ کریں گے لیکن کسی وجہ سے اس ارادے کوبدل دیا اور یہ طے کیا کہ صبح کو پیغمبر کے گھر میں داخل ہوں گے اور اپنے مقصد کی تکمیل کریں گے،رات کی تاریکی ختم ہوئی اور صبح صادق نے افق کے سینے کو چاک کیا. دشمن برہنہ تلواریں لئے ہوئے یکبارگی پیغمبر کے گھر پر حملہ آور ہوئے اوراپنی بڑی اوراہم آرزوؤں کی تکمیل کی خاطر بہت زیادہ خوشحال پیغمبر کے گھر میں وارد ہوئے، لیکن جب پیغمبر کے بستر کے پاس پہونچے تو پیغمبر کے بجائے حضرت علی ۔ کوان کے بستر پر پایا ،ان کی آنکھیں غصے سے لال ہوگئیں اور تعجب نے انھیں قید کرلیا .حضرت علی ۔کی طرف رخ کر کے پوچھا: محمد ﷺکہاں ہیں؟آپ نے فرمایا: کیاتم لوگوں نے محمد ﷺکو میرے حوالے کیا تھا جو مجھ سے طلب کر رہے ہو؟ اس جواب کو سن کر غصے سے آگ بگولہ ہوگئے اور حضرت علی پر حملہ کردیااور انہیں مسجد الحرام لے آئے، لیکن تھوڑی جستجو وتحقیق کے بعد مجبور ہوکر آپ کوآزاد کردیا، وہ غصے میں بھنے جارہے تھے،اور ارادہ کیا کہ جب تک پیغمبر کو قتل نہ کرلیں گے آرام سے نہ بیٹھیں گے ۔

قرآن مجیدنے اس عظیم اور بے مثال فداکاری کو ہمیشہ اور ہر زمانے میں باقی رکھنے کے سلسلے میں حضرت علی ۔کی جانبازی کو سراہا ہے اور انھیں ان افراد میں شمار کیا ہے جو لوگ خدا کی مرضی کی خاطر اپنی جان تک کونچھاور کردیتے ہیں:(وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہٗ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ رَؤفٌ بِالْعِبٰادِ)اور لوگوں میں سے خدا کے بندے کچھ ایسے ہیں جو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور خدا ایسے بندے پر بڑا ہی شفقت والاہے ۔

بنی امیہ کے زمانے کے مجرم  بہت سارے مفسرین نے اس آیت کی شان نزول کو ’’لیلۃ المبیت‘‘ سے مخصوص کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت علی ۔کے بارے میں اسی مناسبت سے نازل ہوئی ہے ۔ سمرہ بن جندب، بنی امیہ کے زمانے کا بدترین مجرم صرف چار لاکھ درہم کی خاطر اس بات پر راضی ہوگیا کہ اس آیت کے نزول کو حضرت علی ۔ کی شان میں بیان نہ کر کے لوگوں کے سامنے اس سے انکار کردے اور مجمع عام میں یہ اعلان کردے کہ یہ آیت عبد الرحمن بن ملجم کی شان میں نازل ہوئی ہے .اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ اس آیت کو علی ۔کے بارے میں نازل ہونے سے انکار کیا، بلکہ ایک دوسری آیت جو منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی اس کو حضرت علی ۔سے مخصوص کردیا   کہ یہ آیت ان کی شان میں نازل ہوئی ہے وہ آیت یہ ہے: "وَمِنْ النَّاسِ مَنْ یُعْجِبُکَ قَوْلُہُ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیُشْہِدُ اﷲَ عَلَی مَا فِی قَلْبِہِ وَہُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ " [3]اے رسول: بعض لوگ (منافقین سے ایسے بھی ہیں) جن کی (چکنی چپڑی) باتیں (اس ذراسی) دنیوی زندگی میں تمہیں بہت بھاتی ہیں او روہ اپنی دلی محبت پر خدا کو گواہ مقرر کرتے ہیں . حالانکہ وہ (تمہارے) دشمنوں میں سب سے زیادہ جھگڑالو ہیں۔ اس طرح سے حقیقت پر پردہ ڈالنا اور تحریف کرنا ایسے مجرم سے کوئی بعیدنہیں ہے .وہ عراق میں ابن زیاد کی حکومت کے وقت بصرہ کا گورنر تھا، اور خاندان اہلبیت سے بغض و عداوت رکھنے کی وجہ سے ۸ ہزار آدمیوں کو صرف اس جرم میں قتل کر ڈالا تھاکہ وہ علی ۔کی ولایت و دوستی پر زندگی بسر کر رہے تھے. جب ابن زیاد نے اس سے باز پرس کی کہ تم نے کیوں اور کس بنیاد پر اتنے لوگوں کو قتل کر ڈالا، کیا تو نے اتنا بھی نہ سوچا کہ ان میں سے بہت سے افراد بے گناہ بھی تھے، اس نے بہت ہی تمکنت سے جواب دیا ’’لو قتلت مثلہم ما خشیت‘‘ میں اس سے دو برابر قتل کرنے میں بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتا ۔

سمرہ کے شرمناک کارناموں کا تذکرہ یہاں پر ممکن نہیں ہے ،کیونکہ یہ وہی شخص ہے جس نے پیغمبر اسلام کا حکم ماننے سے انکار کردیا آپ نے فرمایا: جب بھی اپنے کھجور کے پیڑ کی شاخیں صحیح کرنے کے لئے کسی کے گھر میں داخل ہو تو ضروری ہے کہ صاحب خانہ سے اجازت لے، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا یہاں تک کہ پیغمبر اس درخت کو بہت زیادہ قیمت دیکر خریدنا چاہ رہے تھے پھر بھی اس نے پیغمبر کے ہاتھ نہیں بیچا اور کہا کہ اپنے درخت کی دیکھ بھال کے لئے کبھی بھی اجازت نہیں لے گا۔ اس کی ان تمام باتوں کو سن کر پیغمبر نے صاحب خانہ کو حکم دیا کہ جاؤ اس شخص کے درخت کو جڑ سے اکھاڑ کر دور پھینک دو. اور سمرہ سے کہا: ’’انک رجل مضار و لا ضرر و لاضرار‘‘یعنی تو لوگوں کونقصان پہونچاتا ہے اور اسلام نے کسی کو یہ حق نہیں دیا کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو نقصان پہونچائے، جی ہاں، یہ چند روزہ تحریف سادہ مزاج انسانوں پربہت کم اثر انداز ہوئی، لیکن کچھ ہی زمانہ گذرا تھا کہ تعصب کی چادریں ہٹتی گئیں اور تاریخ اسلام کے محققین نے شک و شبہات کے پردے کو چاک کرکے حقیقت کوواضح و روشن کردیاہے اور محدثین ومفسرین قرآن نے ثابت کردیا کہ یہ آیت حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے، یہ تاریخی واقعہ اس بات پر شاہد ہے کہ شام کے لوگوں پر اموی حکومت کی تبلیغ کا اثر اتنا زیادہ ہوچکا تھا کہ جب بھی حکومت کی طرف سے کوئی بات سنتے تو اس طرح یقین کرلیتے گویالوح محفوظ سے بیان ہو رہی ہے، جب شام کے افراد سمرہ بن جندب جیسے کی باتوں کی تصدیق کرتے تھے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ تاریخ اسلام سے ناآشنا تھے،

 کیونکہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت عبدالرحمن پیدا بھی نہ ہوا تھا اور اگر پیدا ہو بھی گیا تھا تو کم از کم حجاز کی زمین پر قدم نہ رکھا تھا اور پیغمبر کو نہیں دیکھا تھا کہ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوتی۔

ناروا تعصب

حضرت علی ۔کی فداکاری، اس رات جب کہ پیغمبر کے گھر کو قریش کے جلادوں نے محاصرہ کیا تھا ایسی چیز نہیں ہے جس سے انکار کیا جاسکے یا اسے معمولی سمجھا جائے۔ خداوند عالم نے اس تاریخی واقعے کو ہمیشہ باقی رکھنے کے لئے قرآن مجید کے سورۂ بقرہ آیت ۲۰۷ میں اس کا تذکرہ کیا ہے اور بزرگ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی ۔کی شان میں نازل ہوئی ہے .لیکن حضرت علی ۔ سے بغض و عداوت اور کینہ رکھنے والوں نے پوری کوشش وطاقت سے اس بات کی کوشش کی کہ اس بزرگ اور عظیم تاریخی فضیلت کی اس طرح سے تفسیر کی جائے کہ حضرت علی ۔ کی عظیم و بے مثال قربانی کی کوئی فضیلت باقی نہ رہے۔ جاحظ، اہلسنت کا ایک مشہور ومعروف دانشمند لکھتا ہے : علی ۔کا پیغمبر کے بستر پرسونا ہرگز اطاعت اور بزرگ فضیلت شمار نہیں ہوسکتی، کیونکہ پیغمبر نے انھیں اطمینان دلایاتھا اگر میرے بستر پر سوجاؤ گے توتمہیں کوئی تکلیف ونقصان نہیں پہونچے گا ۔اس کے بعد ابن تیمیہ دمشقی  نے اس میں کچھ اور اضافہ کیاہے کہ علی ۔ کسی اور طریقے سے جانتے تھے کہ میں قتل نہیں ہوسکتا، کیونکہ پیغمبر نے ان سے کہا تھا کہ کل مکہ کے ایک معین مقام پر اعلان کرناکہ جس کی بھی امانت محمد ﷺکے پاس ہے آکر اپنی امانت واپس لے جائے. علی اس ماموریت کوجو پیغمبر نے انھیں دیا تھا ،سے خوب واقف تھے کہ اگر پیغمبر کے بستر پر سوؤں گا تو مجھے کوئی بھی ضرر نہیں پہونچے گا اور میری جان صحیح و سالم بچ جائے گی۔

جواب:اس سے پہلے کہ اس موضوع کے متعلق بحث کریں ایک نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ جاحظ اور ابن تیمیہ اور ان دونوں کے ماننے والوں نے جوخاندان اہلبیت سے عداوت رکھنے میں مشہور ہیں، علی ۔ کی اس فضیلت سے انکار کرنے کی وجہ سے غیر شعوری طور پر بڑی فضیلت کوحضرت علی ۔ کے لئے ثابت کیا ہے ،کیونکہ حضرت علی پیغمبر کی طرف سے مامور تھے کہ ان کے بستر پر سوجائیں، ایمان کے اعتبار سے یہ بات دوحالتوں سے خارج نہیں ہے ،یاان کا ایمان پیغمبر کی صداقت پر ایک حد تک تھا یا وہ بغیر چون و چرا پیغمبر کی ہر بات پر ایمان رکھتے تھے. پہلی صورت میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ حضرت علی کو اپنی جان و سلامتی کے باقی رہنے کا قطعی طور پر علم تھا .کیونکہ جو شخص ایمان وعقیدے کے اعتبار سے ایک عام مرتبہ پرفائز ہو، ہرگز پیغمبر کی گفتار سے یقین واعتماد حاصل نہیں کرسکتا ،اور اگر ان کے بستر پر سوجائے توبہت زیادہ ہی فکر مند اور مضطرب رہے گا۔

 لیکن اگر حضرت علی ۔ ایمان کے اعتبار سے عالی ترین مرتبہ پر فائز تھے اور پیغمبر کی گفتگو کی سچائیان کے دل ودماغ پر سورج کی روشنی کی طرح واضح وروشن تھی توایسی صورت میں حضرت علی ۔کے لئے بہت بڑی فضیلت کوثابت کیا ہے. کیونکہ جب بھی کسی شخص کا ایمان اس بلندی پر پہونچ جائے کہ جوکچھ بھی پیغمبر سے سنے اسے صحیح اور سچا مانے کہ وہ اس کے لئے روز روشن کی طرح ہو اور اگر پیغمبر اس سے کہیں کہ میرے بستر پر سوجاؤ تواسے کوئی نقصان نہ پہونچے گا تووہ بستر پر اتنے اطمینان اور آرام سے سوئے کہ اسے ایک سوئی کی نوک کے برابر بھی خطرہ محسوس نہیں ہوتو ایسی فضیلت کی کوئی بھی چیز برابری نہیں کرسکتی۔ آئیے اب تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں ابھی تک ہماری بحث اس بات پر تھی کہ پیغمبر نے حضرت علی ۔سے کہا کہ تم قتل نہ ہوگے. لیکن اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تومعلوم ہوگاکہ بات ایسی نہیں ہے جیسا کہ جاحظ اور ابن تیمیہ کے ماننے والوں نے گمان کیا ہے اور تمام مؤرخین نے اس واقعہ کواس طرح نقل نہیں کیا ہے جیساکہ ان دونوں نے لکھا ہے: طبقات کبریٰ   کے مؤلف نے واقعۂ ہجرت کو تفصیل سے ذکر کیاہے اور جاحظ کے اس جملے کو(کہ پیغمبر نے علی سے کہا کہ میرے بستر پر سوجاؤ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہونچے گا) ہرگز تحریر نہیں کیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ مقریزی نویں صدی کا مشہور مؤرخ  اس نے اپنی مشہور کتاب ’’امتاع الاسماع‘‘ میں بھی کاتب واقدی کی طرح اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے اور اس بات سے انکار کیاہے کہ پیغمبر نے علی ۔ سے کہا ’’کہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہونچے گا‘‘جی ہاں. انہی افراد کے درمیان ابن ہشام نے اپنی کتاب سیرت ج۱ ص ۴۸۳ پراور طبری نے اپنی کتاب تاریخ طبری ج۲ ص۹۹ پر اس کا تذکرہ کیاہے اور اسی طرح ابن اثیر نے اپنی کتاب تاریخ کامل ج۲ ص ۳۸۲ پراس کے علاوہ اور بھی بہت سے مؤرخین نے اسے نقل کیا ہے ان تمام مؤرخین نے سیرۂ ابن ہشام یاتاریخ طبری سے نقل کیا ہے۔

 اس بنا ء پر عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ پیغمبر نے یہ بات کہی ہے، اور اگر مان لیں کہ پیغمبر نے یہ بات کہی بھی ہے تو کسی بھی صورت سے یہ معلوم نہیں کہ ان دونوں باتوں کو (نقصان نہ پہونچنا اور لوگوں کی امانت واپس کرنا) اسی رات میں پہلی مرتبہ کہا ہو. اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس واقعے کوعلماء اور شیعہ مورخین اور بعض سیرت لکھنے والے اہلسنت نے دوسرے طریقے سے نقل کیاہے، جس کی ہم وضاحت کر رہے ہیں: شیعوں کے مشہور و معروف دانشمند مرحوم شیخ طوسی ؒ اپنی کتاب ’’امالی‘‘ میں ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ،جو کہ پیغمبر کی سلامتی اور نجات پر ختم ہوتا ہے، لکھتے ہیں : شب ہجرت گزر گئی. اور علی ۔اس مقام سے آگاہ تھے جہاں پیغمبر نے پناہ لی تھی. اور پیغمبر کے سفر پرجانے کے مقدمات کو فراہم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ رات میں ان سے ملاقات کریں ۔ پیغمبر نے تین رات غار ثور میں قیام کیا، ایک رات حضرت علی ۔، ہند بن ابی ہالہ غار ثور میں پیغمبر کی خدمت میں پہونچے، پیغمبر نے حضرت علی کو چند چیزوں کا حکم دیا:۱۔ دواونٹ ہمارے اور ہمارے ہمسفر کے لئے مہیا کرو (اس وقت ابوبکر نے کہا: میں نے پہلے ہی سے دو اونٹ اس کام کے لئے مہیا کر لئے ہیں، پیغمبر(ص) نے فرمایا: میں اس وقت تمہارے ان دونوں اونٹوں کوقبول کروں گا جب تم ان دونوں کی قیمت مجھ سے لے لو، پھر علی کو حکم دیا کہ ان اونٹوں کی قیمت اداکردو‘‘

۲۔ میں قریش کا امانتدار ہوں اورابھی لوگوں کی امانتیں میرے پاس گھر میں موجود ہیں، کل مکہ کے فلاں مقام پر کھڑے ہوکر بلندآواز سے اعلان کرو کہ جس کی امانت محمد ﷺکے پاس ہے وہ آئے اور اپنی امانت لے جائے۔

۳۔ امانتیں واپس کرنے کے بعد تم بھی ہجرت کے لئے تیار رہو، اور جب بھی تمہارے پاس میرا خط پہونچے تو میری بیٹی فاطمہ اور اپنی ماں فاطمہ بنت اسد اور زبیر بن عبدالمطلب کی بیٹی فاطمہ کو اپنے ہمراہ لے آؤ۔

پھر فرمایا: اب تمہارے لئے جو بھی خطرہ یا مشکلات تھیں وہ دور ہوگئیں ہیں اور تمہیں کوئی تکلیف نہ پہونچے گی ۔ یہ جملہ بھی اسی جملے کی طرح ہے جسے ابن ہشام نے سیرۂ ہشام میں اور طبری نے تاریخ طبری میں نقل کیاہے، لہٰذا اگر پیغمبر نے حضرت علی کوامان دیاہے تو وہ بعد میں آنے والی رات کے لئے تھا نہ کہ ہجرت کی رات تھی، اور اگر حضرت علی کوحکم دیا ہے کہ لوگوں کی امانتوں کوادا کردو تووہ دوسری یا تیسری رات تھی نہ لیلۃ المبیت تھا۔اگرچہ اہلسنت کے بعض مؤرخین نے واقعہ کواس طرح نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے شب ہجرت ہی حضرت علی ۔ کو امان دیا تھا اور اسی رات امانتوں کے ادا کرنے کا حکم دیا تھامگر یہ قول توجیہ کے لائق ہے کیونکہ انھوں نے صرف اصل واقعہ کونقل کیا ہے وقت اورجگہ اور امانتوں کے واپس کرنے کو وہ بیان نہیں کرنا مقصود نہیں تھا کہ جس کیوجہ سے دقیق طور پر ہر محل کا ذکر کرتے۔ حلبی اپنی کتاب ’’سیرۂ حلبیہ‘‘ میں لکھتا ہے: جس وقت پیغمبر غار ثور میں قیام فرما تھے توانہی راتوں میں سے کسی ایک رات حضرت علی ۔، پیغمبر کی خدمت اقدس میں شرفیاب ہوئے، پیغمبر نے اس رات حضرت علی کو حکم دیا کہ لوگوں کی امانتیں واپس کردو اور پیغمبر کے قرضوں کوادا کردو ۔در المنثورمیں ہے کہ علی نے شب ہجرت کے بعد پیغمبر سے ملاقات کی تھی ۔امام ۔ کی فداکاری پر دو معتبر گواہ تاریخ کی دو چیزیں اس بات پر گواہ ہیں کہ حضرت علی کا عمل، ہجرت کی شب، فداکاری کے علاوہ کچھ اور نہ تھااور حضرت علی صدق دل سے خدا کی راہ میں قتل اور شہادت کے لئے آمادہ تھے ملاحظہ کیجئے۔ ۱۔ اس تاریخی واقعہ کی مناسبت سے جو امام علیہ السلام نے اشعار کہے ہیں اور سیوطی نے ان تمام اشعار کواپنی تفسیر  میں نقل کیا ہے جو آپ کی جانبازی اور فداکاری پر واضح دلیل ہے۔ "وقیت بنفسی خیر من وطأ الحصیٰ و من طاف بالبیت العتیق وبالحجر محمد لما خاف أن یمکروا بہ فوقاہ ربی ذو الجلال من المکر و بتّ اراعیہم متی ینشروننی و قد وطنت نفسی علی القتل والأسر"[4]میں نے اپنی جان کو روئے زمین کی بہترین اور سب سے نیک شخصیت جس نے خدا کے گھر اور حجر اسماعیل کا طواف کیا ہے اسی کے لئے سپر (ڈھال) قرار دیا ہے۔ وہ عظیم شخص محمد ﷺ ہیں اور میں نے یہ کام اس وقت انجام دیا جب کفار ان کو قتل کرنے کے لئے آمادہ تھے لیکن میرے خدا نے انھیں دشمنوں کے مکر و فریب سے محفوظ رکھا۔ میں ان کے بستر پر بڑے ہی آرام سے سویااور دشمن کے حملہ کا منتظر تھا اور خود کومرنے یا قید ہونے کے لئے آمادہ کر رکھاتھا۔

۲۔ شیعہ اور سنی مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ خداوند عالم نے اس رات اپنے دو بزرگ فرشتوں، جبرئیل و میکائیل کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں تم میں سے ایک کے لئے موت اور دوسرے کے لئے حیات مقرر کروں توتم میں سے کون ہے جوموت کو قبول کرے اوراپنی زندگی کودوسرے کے حوالے کردے؟ اس وقت دونوں فرشتوں میں سے کسی نے بھی موت کو قبول نہیں کیا اور نہ ایک دوسرے کے ساتھ فداکاری کرنے کا وعدہ کیا . پھر خدا نے ان دونوں فرشتوں سے کہا : زمین پر جاؤ اور دیکھو کہ علی ۔نے کس طرح سے موت کو اپنے لئے خریدا ہے اور خود کو پیغمبر پر فدا کردیا ہے ،جاؤ علی ۔ کودشمنوں کے شر سے محفوظ رکھو ۔

اگرچہ بعض لوگوں نے طویل زمانہ گذرنے کی وجہ سے اس عظیم فضیلت پر پردہ ڈالا ہے، مگر ابتدائے اسلام میں حضرت علی کا یہ عمل دوست اور دشمن سب کی نظر میں ایک بہت بڑی اور فدا کاری شمار کی جاتی تھی ۔

چھ آدمیوں پر مشتمل شوریٰ جو عمر کے حکم سے خلیفہ معین کرنے کے لئے بنائی گئی تھی، حضرت علی ۔ نے اپنی اس عظیم فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے شرکائے شوریٰ پر اعتراض کیا اور کہا: میں تم سب کوخدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کیا میرے علاوہ کوئی اور تھا جوغار ثور میں پیغمبر کے لئے کھانا لے گیا؟ کیا میرے علاوہ کوئی ان کے بستر پر سویا؟ اورخود کوا س بلا میں ان کی سپر قرار دیا؟ سب نے ایک آواز ہوکر کہا: خدا کی قسم تمہارے علاوہ کوئی نہ تھا ۔مرحوم سیدبن طاوؤس نے حضرت علی ۔ کی اس عظیم فداکاری کے بارے میں بہترین تحلیل کرتے ہیں اورانھیں اسماعیل کی طرح فداکار اور باپ کے سامنے راضی بہ رضا رہنے سے قیاس کرتے ہوئے حضرت علی کے ایثار کو عظیم ثابت کیاہے ۔



[1] ۔حجرات/ 15

[2] ۔ انفال:30

[3] ۔ بقرۃ:۲۰۴

[4] ۔  الدرالمنثور، ج 3، ص 180

سوال بھیجیں