زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

اداریہ

اداریہ

"بسم الل الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علیٰ محمدواآلہ الطاھرین ولعنۃ اللہ علیٰ اعدائھم ومنکری فضائلھم الی یوم الدین"

 شبخون تہذیب 

دنیا میں موجود ہرقوم کیلئے اس کی ایک خاص تہذیب اورقومیت ہوتی ہے جو اس کاطرہ امتیاز ہوتی ہے،ہرقوم جہاں تک ممکن ہوتاہے اس خاص تہذیب کیلئے کوشاں رہتی ہے،جذبہ قومیت توبعض دفعہ جذبہ دین سے بھی بڑھکر ہوجاتاہے،ہم نے بہت سی قوموں کودیکھاہے کہ جو اپنے "قومی مذہب" کااتنا خیال نہیں رکھتیں جتنا اپنے قومی تہواروں پرزور دیتی ہیں۔

چونکہ جذبہ قوم انسانی طبیعت میں شامل ہے اوردین ومذہب کے بہت سے احکام ماوراء طبیعت ہوتے ہیں جنہیں عام انسانی طبیعت بہ آسانی قبول نہیں کرتی، اسی لئے اکثر لوگ قومی جشن میں دین کوپیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔

حقیقی متدین وہ ہوتاہے جسکی "قومیت"کی حدیں اسکے دین کی حدوں سے تجاوز نہ کریں ۔البتہ کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ بعض دینی احکام قومیت کی علامت بن جایاکرتے ہیں ،ایسے وقت میں قومیت وتدین میں چندان اختلاف باقی نہیں رہ جاتا۔

بہرحال  دنیاکی عام قومیں اپنی قومیت کو سنبھالنے اوراس کے استحکام کیلئے کوشاں رہی ہیں ،اسکے ساتھ ہی ان کی یہ بھی کوشش رہتی ہے کہ ان کی ثقافت وتہذیب دوسروں پراثر انداز ہوجائے چند قرنوں سے آج تک تک ہم مسلسل یہ ثقافتوں کاتصادم دیکھ رہے ہیں ۔کتنی قومیں ڈوبی ہیں اورکتنی اقوام عالم پرچھاگئیں مگر یہ جنگ جاری رہی ،اوریہ صدی تویوں بھی جنگی صدی ہے ،جہاں اورجنگوں کی نوعیت بدلی ،توپ کے بجائے ٹینک اورتلواروں کی جگہ کلاشنکوف آگئی وہیں ثقافتی جنگوں کیلئے بھی میدان وسیع ہوگیا۔

یوں تویہ جنگ سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے اوراس میدان میں پسپاہونے والے ہرمیدان جنگ میں منہ کی کھاتے ہیں۔سرحدوں پر تاروں کی باڑھ کھینچ دینے سے اورفوجیوں کی ہزاروں ٹکڑیاں تعیینات کردینے سے دشمن فوج توممکن ہے کہ ملک داخل نہ ہوسکے مگر کسی غیر ملک کی ثقافت وتہذیب کے داخلہ پر پابندی عائد کرنا نہایت ہی مشکل کام ہے ،بدیسی  توبدیسی ہی ہے چاہے وہ آدمی ہویااشیاء یا پھر تہذیب ۔ہر انسان نفسیاتی طور سے غیر ملکی اشیاء کی طر ف دوڑ تاہے بات اگرآدمیوں اوراشیاء ہی تک محدود ہوتی تو معاملہ اتناسنگین نہ ہوتامگر آج ہم دیکھتے ہیں مغربی تہذیب کی زبردست یلغار نے نہ صرف ہماری ملکی وقومی تہذیبوں کومتاثر ہے بلکہ ہماری دینی سرگرمیوں پرنھی ان کی گہری چھاپ نظر آتی ہے آخرکیوں؟

ظاہر سی بات ہے اگر کسی قوم کے تشخیصات وشناختیں کمزور ہونگی تووہ جذبہ قومیت اتناقوی نہ ہوگااوردن بہ دن کمزرو ہوتی جائے گی اسکے بعدبڑی آسانی سے ان کمزور ثقافت کی دیواروں میں یہ ثقافتی چونقب زنی میں کامیاب ہوجائنگے مگر یہ توانکی بات جن پاس اقوام ومذاہب کی بھیڑ میں کوئی خاص امتیازی نشان نہیں مگر وہ قوم وہ ملت جس کی شناخت قرآن ،جس کا تشخص توحید ہو بھلا وہ کیونکر ان تہذیبی نقب زنوں کے پھیر میں پڑگئی۔

اگر دیکھاجائے توموجودہ دوربلکہ ہر دور میں اسلامی ثقافت کوتمام تہذیبوں میں بلند ترین مقام کاحامل ہوناچاہیے تھا۔ ایک زمانہ تھا جب ہم اورہماری تہذیب پوری دنیاکیلئے نمونہ کی حیثیت رکھتی تھی ہماری شجاعت اورہمارے استقلال کی گواہی روم واسپین، دیں گی،ہماری فوج کے جذبہ شہادت سے لبریز سیلاب کو کسی ملک کے مضبوط سے مضبوط قلعوں کی فصلیں بھی نہ روک سکیں ۔ہم جہاں گئے باطل کی جھوٹی سطوت وشوکت کے نشان مٹاتے گئے اورعظمت توحید وحق کاعلم گاڑ آئے ،باطل کبھی ہمارے راستے کی رکاوٹ نہ بن سکا،ان کی تمام رکاوٹیں ہمارے لئے ریت کی دیواریں تھیں اوران کے مضبوط قلعے مٹی کے گھروندے ۔

اگرچاہوں تونقشہ کھینچ کرالفاظ میں رکھدوں        مگرتیرے تخیل سے فزاں ترہے وہ نظارہ 

اورآج ؟ آج ہم اگراپنی حالت پرغورکریں توسب کچھ ایک سہانے خواب کی طرح لگتاہے کہ ہمارا ماضی ایک خواب تھا اورحال عالم بیداری ہے، آخر کیوں؟

  گنواں دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی      ثریاسے زمیں پرآسماں نے ہم دے مارا

اگرغور کیاجائے تویہ انحطاط محض بے دینی ،جہالت اورفرقہ پرستی کانتیجہ ہے ایک عرب اسلامی تہذیب سے پہلے اپنی قومی تہذیب پر زور دیتاہے یہی حال تمام مسلمانوں کاہے پہلے وہ عرب ،ایران ،ہندوستان ،پاکستان ہیں پھرمسلمان ہیں،کتنااچھا ہوتااگریہ سب کے سب پہلے مسلمان ہوتے پھر کچھ اور۔

قابل تاسف ہے کہ خدا نے جس قسم کے اختلاف کو"تعارف"کا ذریعہ بنایا تھاآج اسے مایہ برتری وپستی سمجھتے ہیں۔

یقیناً مسلمان آج تمام قوموں میں سب سے زیادہ بری حالت کے مالک ہیں دوسری قومیں بھلے ہی غیروں سے تعصب برتیں مگر خود اپنی قوم کوحقارت کی نظر سے نہیں دیکھتیں۔

ان کی قومی یکجہتی کایہ خیال ہے کہ کوئی بھی یہودی کسی بھی ملک میں سکونت پذیرہواسرائیل کاباشندہ ماناجائے گا،اورہم ؟ تمام ذرائع ابلاغ انھیں کی تہذیب پھیلا رہے ہیں دنیاپراثر انداز ہورہے ہیں ٹھیک ہے ان کے پاس بڑے وسیع ذرائع ہیں مگر ہم کم ازکم خود اپنی دینی وقومی ثقافت کہ اپنے اندر تو زندہ رکھ ہی سکتے ہیں۔

مذہب کی بات تو دور کی ہے خود ہم مشرق والے اپنی مشرقیت بھی برقرار نہ رکھ سکے، ذرا سوچئے کہ کسی مغربی گھرانے میں سوئیاں نہیں پکتیں مگرہم کسٹرڈ بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔اسی طرح ان کے یہاں تندوری روٹی  ملنا محال ہے مگر کیک ہماری مرغوب غذا ہے ،کیوں؟ کبھی تدبرکیا؟ حقیقتا یہ سب علامتیں ہیں اس بات کی کہ ہم اپنی شناخت کھوچکے ہیں،ورنہ کیوں انکا ہرعمل فیشن اور ہمارا  ہر کام فرسودگی کی علامت سمجھاجاتاہے۔

یہ بڑا سخت مرحلہ ہے صرف کہنے ،لکھنے سے نہیں بلکہ کرنے سے مسئلہ حل ہوگا۔مگر"کچھ کہنا" "لکھنا" "کچھ کرنے"کے لئے مقدمہ ہوتاہے۔لہذا ہمیں لکھنے اورکہنے والوں سے امید ہے کہ وہ پدری کوشش کرینگے کہ ان کی قوم کچھ کرنے کی ٹھان لے شاید جنہیں عالمی رسوائی وانحطاط بیدار نہ کرسکی زبان کی کاٹ اورکلک سخن کے نغمہ انھیں جاگادیں کیونکہ۔

  تیغ کام آئی نہ طبل اورعلم کام آئے                 نظر یوں کے تصادم  میں قلم کاآئے