زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

وعدہ الٰہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید مبین حیدر رضوی


وعدہ الٰہی

سیدمبین حیدر رضوی

وعدہ ایک ایسالفظ ہے۔جس کو ہم اور آپ سنتے اورمستقل استعمال بھی کرتے رہتے ہیں ۔خود یہ لفظ کوئی عجیب وغریب یاانوکھا نہیں ہے کہ اس کی تشریح کی جائے یا اسکے لغوی اوراصطلاحی معنیٰ لکھے جائیں۔یہ ایک عام لفظ ہے جس کو  ہرطبقہ کافرد سمجھتااوراستعمال کرتاہے۔

ہاں! اب جسکی جیسی شخصیت ہوتی ہے اسکا ویسا ہی وعدہ ہوگا اوراتنی ہی اہمیت کاحامل ہوگا۔اگر کوئی معمولی شخص وعدہ کرے گا تو اس کی وقعت وحیثیت اورہوگی، اوراگر مشہور زمان اورصاحب حیثیت وعدہ کرے گا تو اسکی منزلت اورہوگی۔

وعدہ کے بارے میں تین طرح سے سوال کیاجاسکتاہے ۔

1۔ وعدہ کرنے والاکون ہے؟

2۔ کس سے وعدہ کیا جارہا ہے؟

3۔ کس چیز کاوعدہ کیاجارہا ہے؟

اگر وعدوں اور وعدہ کرنے والوں کو تلاش کیا جائے توعرصہ حیات تنگ نظر آنے لگے گا۔ مگر ہم کو صرف بزرگوں کے وعدے اوران کے رد عمل کو دیکھناہے۔ اگر دائرہ اسلام میں رہ کربزرگ ہستیوں کو تلاش کریں تو اس سے بزرگ کون ہوگاجو تمام بزرگ شخصیتوں کا خالق ہے۔جس کی بزرگی کااقرار ہر مسلمان کم ازکم دن میں پانچ بار توکرتاہی ہے۔

آئیے دیکھیں اس ہستی نے کوئی وعدہ کیا بھی ہے یا نہیں ؟

یوں تو خدا نے بہت سارے وعدے افراد سے کئے مگر ایک وعدہ جسکو خدانے خود صراحتاً قرآن میں ذکر کیا۔ وہ یہ ہے کہ جب ولادت موسیٰ کاوقت آیا تو خدا نے فرمایا! ہم نے مادر موسیٰ کو وحی کی کہ تم اس بچہ کو دودھ پلایا کرو اورگر خوف وحزن محسوس ہوتو اس کو صندوق میں رکھ کر دریا کے حوالے کردو خوف وحزن نہ کرو اسکو ہم تم تک پلٹادیں گے۔

مادر موسیٰ نے ایساہی کیا۔۔۔۔۔ موسیٰ فرعون کے محل میں پہنچ گئے ۔خدا نے موسیٰ پر دایاؤں کا دودھ حرام قرار دیا تھا اس لئے دودھ نہ پیا۔ خواہر موسیٰ نے راہنمائی کی اورمادر نے کفالت موسیٰ کے فرائض انجام دئیے۔پھر خدا فرماتاہے۔"فردونہ الی امہ کی تقر عینھا ولاتحزن ولتعلم ان وعداللہ حق" پس ہم نے موسیٰ کو ان کی ماں کی طرف لوٹا دیا۔تاکہ ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو۔ اور وہ رنجیدہ نہ ہو اور جان لے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔

یہ تھا خدا وعدہ جس  کو خدانے پوراکیا۔زمانے بدلے صدیاں بیتیں ،انبیاء ومرسلین آتے رہے،فریضہ نبوت ورسالت انجام دیتے رہے ۔جب ختمی مرتبت حضرت محمدمصطفی ﷺ کا زمانہ آیا تو خدا نے بزبان پیغمبرملت سے ایک وعدہ کیا ۔" قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا" میرے حبیب کہدوحق آیا باطل گیا اورباطل تومٹنے ہی والاہے۔

ممکن ہے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہ خبر ہے یاوعدہ  ؟

لیکن اگر اس آیت کے مطلب پر غور کیاجائے تویہ وعدہ ہے کیونکہ ایک آنے والے دن کی پیشین کوئی نظر آتی ہے۔ کیونکہ از آدم ؑ تا این دم کوئی لمحہ نہیں آیا جب باطل صفحہ ہستی سے مٹ گیاہو۔

یہ تھا عصر پیغمبرکا وعدہ ۔مگر ایک ایسا وعدہ بھی ہے جو ان تمام وعدوں پر بھاری  ہے۔"ھو الّذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحقّ لیظھرہ علی الدّین کلّہ و لو کرہ المشرکون" پاک ومنزہ ہے وہ ذات ہے کہ جس نے اپنے رسول محمد ﷺ  ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ دین الٰہی تمام ادیان پر غالب آئے چاہے کفار اس سے ناخوش ہی کیوں نہ ہوں۔

اس آیت میں خدا نے ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے جوکہ درحقیقت وعدہ الٰہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ دین خدا تمام ادیان عالم پر آجائے گا۔لیکن اگر آپ تاریخ کا بغور مطالعہ کریں گے توآپ کو طول تاریخ میں کوئی ایسا دور نہیں ملے گا جب پوری دنیا پر صرف اسلام کا غلبہ رہاہو اورکوئی بھی باطل کی نمائندہ حکومت یا دین نہ رہاہو۔آدم سے لیکر خاتمؐ ،خاتم سے حسن عسکری ؑ  اور حسن عسکریؑ سے لیکر اس لمحہ تک ابتک ایسا لمحہ نہیں آیاکہ صرف دین الٰہی اورشریعت محمدیؐ کا بول بالارہاہو۔

لہذا اب چاہیے کہ کوئی ایسا دن آئے جس دن وعدہ الٰہی اورصداقت پروردگار کی لاج رہ جائے۔ ورنہ قول پروردگار پر کذب کا گمان ہوگا۔(معاذاللہ)

اورایسانہیں ہوسکتا کیونکہ خدا نے خود فرمایاہے کہ۔"ان وعداللہ حق"۔وعدہ الٰہی حق ہے۔

جب خدا کا وعدہ حق ہے تو ضرور پورا ہوکر رہے گا۔توآخر وہ دن کب آئے گا۔؟ آخر کس دن کائنات کے ذرہ ذرہ سے صرف اسلام اسلام کی صدا آئے گی۔

آخر کس دن مظلوموں کی آہیں بند ہونگی۔

آخر کب دین الٰہی اورشریعت محمدی کی تحقیر کرنے والوں اوراہل بیتؑ کے مقصد حیات کی پامالی کرنے والوں کو علی الاعلان سزادی جائے گی؟

ہاں! جس خدا نے قرآن میں وعدہ کیاہے اسی نے اس کا حل بھی بتایا ہوگا۔مگر قرآن نے کسی کانام بنام تو ذکر کیا نہیں ،بلکہ کچھ صفات اورنشانیاں بتائی ہیں۔

قرآن کے متعدد سوروں میں متعدد آیات میں کسی دن یاکسی وقت کی خدا نے نشاندہی کی ہے۔مثلاً "وَنُرِیدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْأَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ أَئِمَّه وَ نَجْعَلَهُمُ الْوارِثِینَ" اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ زمین میں کمزور کر دیئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں اور اُن کو پیشوا بنائیں ۔ توجب قرآن میں کسی کا خصوصی ذکر نہیں آئیے ان وارثین قرآن کی طرف رجوع کریں جنھوں نے قرآن کو قوت گویائی عطاکی جن کے پاس علم کتاب ہے کہ کیا ایسا دن آنے والاہے۔کہ        "گونجے گی صدائے جاء الحق جب سورج  چاند ستاروں سے"

اگر احادیث نبوی پر نظر ڈالی جائے تو وہ بھی کسی کی بشارت دیتی نظر آتی ہیں ۔جیساکہ صحیح مسلم میں ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ" قال النبی: ابشرکم بالمھدی یبعث فی امتی علی اختلاف من الناس و زلزال فیملا الارض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا یرضی عنہ ساکن السماء و ساکن الارض "میں تم کو مہدی کی بشارت دیتا ہوں کہ وہ اس وقت میری امت میں آئیں گے جب وہ امت کے افراد آپس میں اختلاف کررہے ہوں گے اور لڑکھڑا رہے ہوں گے تو  آپ (عج) زمین کو اسی طرح انصاف و عدالت سے پر کرے گا جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے پر ہوچکی ہو اس سے آسمان و زمین والے راضی ہوں گے۔

اس حدیث سے ظاہر ہو گیا کہ کوئی مہدی ؑ نام کا آئے گا۔ضرور آئے گا،صادق االقول کی زبان سے نکلے ہوئے جملے ہیں ، مگر مہدی ہے کون؟

رسول نے اپنے قول کی تفسیر کی ۔ " المھدیؑ من عترتی من ولد فاطمۃ" مہدی میری عترت اورفرزند فاطمہ ؑ  سے ہوگا ۔یہ بات مسلم ہوگئی کہ مہدیؑ نام کا آئے گا جو فرزند فاطمہؑ اورعترت محمدؐ سے ہوگا۔لیکن آخر کب آئے گا؟ علامات قیامت ظاہر ہورہے ہیں ۔لوگ انتظار کی آخری حدوں تک پہنچ چکے ہیں جہاں مایوسی اور فنوتیت کاعفریت منہ  کھولے کھڑا ہے۔

نبیؐ نے اس کا حل بتادیا ہے۔" لولم یبق من الدنیا الا یوم لبعث الله رجلاً من ولدى  یملاء الارض  عدلاً کما ملئت جوراً "اگر ایک دن بھی دنیاکے فناہونے میں باقی رہ جائے گا تو خدا میرے اہل میں سے ایک شخص کو بھیجے گا جو ظلم سے بھری دنیا کو عدل سے بھردے گا۔

جب وہ آئے گا تو ہر امن ہوگا ،قبروں سے مردے اٹھائے جائیں گے۔ہر ظالم سے انتقام لیاجائے گا۔معاون عیسیٰ ساسچا ہو گا جو آپ کی اقتدامیں نماز ادا کرے گا۔ بقول نبی ؐ اکرم آپ عیسیٰ کی مدد سے دجال کو سرزمین فلسطین پر قتل کریں گے۔

نبی اکرمؐ اوردیگر معصومینؑ کی بہت ساری احادیث ظہور مہدیؑ کی حاکی ہیں۔ مگر تعجب وافسوس اس بات پرہے کہ لوگ ان تمام دلائل کے باوجود انکار کرتے ہیں کہ وہ زندہ نہیں رہ سکتے ۔جو خدا قادر مطلق ہے ۔جس کی قدرت کے نمونہ بھرے پڑے ہیں۔ کیاوہ مصلحتاً اسکو زندہ نہیں رکھ سکتا۔۔ عیسیٰ ؑ اور ادریس ؑ والیاسؑ وخضرؑ واصحاب کہف اب تک زندہ ہیں ۔مگر کسی کو کوئی اعتراض نہیں

اب انتظار ہے حقیقی مہدی کا جو مصداق قول رسولؐ ہے ،جو وعدہ الٰہی کی لاج ہے۔کیونکہ اب دنیا ظلم سے بھر چکی ہے۔

"پھر وقت آگیا ہے کسی کوبھیج"

"اللھم الجعلنامن اعوانہ وانصارہ وشیعتہ والمستشھدین بین یدیہ "آمین