زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

اداریہ

اداریہ

"الحمدللہ والصلاۃ علیٰ محمد وآلہ الطاہرین"

علمائے اخلاق نے تہذیب نفس اور اللہ کی جانب سیرو سلوک وصفات باطنی کو استوار کرنے کیلئے تین مرحلے قرار دئیے ہیں۔

1۔ تخلیہ

یعنی سب سے جوشخص چاہتاہے اپنے نفس کوپاک وپاکیزہ اور اپنے قلب کو ہر طرح کی برائی اور اخلاق ناشائستہ سے دور رکھے اسے چاہیے کہ اپنے دل کو ہوا و ہوس وباطنی غلاظت مثلا: کبر ونخوت ،ریاکاری ومکاری ،خودبینی وخود پسندی ،جھوٹ ، فساد وشہوت شیطانی سے خالی کرے،اس لئے کہ دل کی مثال ایک کاسہ کی مانند ہے اگر اس میں ہوا ہوگئی تو پانی قرار نہیں پاسکتالہذا پانی کے استقرار اورٹھہراؤ کیلئے اس کا ہونا ضروری ہے۔

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:" القلوب ادعیۃ خلوھا اوعاھا" دلوں کی مثال ظروف جیسی ہے۔بہترین دل وہ ہے جس میں زیادہ وسعت ہو پس سالک الیٰ اللہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کو ہوا و ہوس اورصفات رذیلہ سے پاک رکھے یہ ہے پہلا مرحلہ کہ جسے تخلیہ کہتے ہیں۔

2۔تحلیہ

دل کی صفائی اورہر طرح کی برائی سے پاک ہونے کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوتاہے وہ یہ ہے کہ دل ہر طرح کے اخلاق حسنہ وصفات حمیدہ سے مزین ہو ۔

تحلیہ مادہ"حلی" سے ماخوذ ہے جس کے معنی زینت کے ہیں ،دروغ گوئی ونفاق سے پاک ہونے کے بعد دل کا صدق وصفا سے مزین ہونا ضروری ہے اسی  طرح ریاکاری ومکاری کے خاتمہ کے بعد قول وفعل میں اخلاص کا پایا جانا لازمی ہے یعنی ہر برائی  کے دور ہونے کے بعد اس کے مقابلے میں ایک اچھی صفت کاوجود ضروری ہوتاہے۔

3۔ تجلیہ

قلب کا اچھے صفات واخلاق حمیدہ  سے  پاک ہونے کے بعد تیسرے مرحلے کاآغاز ہوتاہے یعنی سالک راہ   خدا کو چاہیے کہ اسی پر اکتفانہ کرے بلکہ اپنی سعی و کوشش کو جاری رکھے یہاں تک کہ اپنے مقام کو تجلی وکمال کے نکتہ تک پہنچادے اس لئے سالک الی اللہ کے معنوی سفر کی کوئی انتہا نہیں  سوائے اس کے کہ اس کا سفرخدا تک منتہی  ہو ۔خدا واجب الوجود ہے تمام صفات کمالیہ و جلالیہ اس  کی  ذات   میں مجتمع ہیں وہ بے  نہایت ہے وہ اول وآخر ہے وہی ظاہر وباطن ہے والیٰ اللہ المنتہیٰ ہماری ابتداء اسی سے ہے اور ہماری بازگشت بھی اسی کی طرف ہوگی "اناللہ واناالیہ راجعون "

یہ تینوں مرحلے علم اخلاق کا خلاصہ ہیں کہ جو سال کے تین مبارک  مہینوں میں نمایاں ہوتے ہیں۔

1۔ ماہ رجب کہ جس کو ماہ  تخلیہ وماہ استغفار کہتے کہ جس میں اہل دعاواستغفار اپنے کوبارگارخدا کی طرف متوجہ کرتے ہیں اس کے علاوہ ماہ رجب کی تمام دعائیں بھی  توبہ واستغفار کی نشاندہی کرتی ہیں لہذا چاہیے کہ تمام گناہوں سے توبہ واستغفار  کرے اور ہرطرح کی برائی  سے اجتناب کرے اپنے قلب  ونفس کو ہوائے  نفسانی واخلاق شیطانی سے پاک وپاکیزہ رکھے مہینہ امیرالمومنین علیہ السلام سے موسوم ہے۔

2۔ ماہ شعبان ماہ رسول خداو ماہ رسالت ہے اس مہینہ میں جیسا کہ دعاؤں میں نقل ہوا کہ اپنے اخلاق کو نبی وسنت پیغمبرﷺ سے زینت دیناچاہیے۔

" وَ هَذَا شَهْرُ نَبِيِّكَ سَيِّدِ رُسُلِكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ شَعْبَانُ الَّذِي حَفَفْتَهُ بِالرَّحْمَةِ وَ الرِّضْوَانِ الَّذِي كَانَ رَسُولُكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ يَدْأَبُ فِي صِيَامِهِ وَ قِيَامِهِ فِي لَيَالِيهِ وَ أَيَّامِهِ بُخُوعاً لَكَ فِي إِكْرَامِهِ وَ إِعْظَامِهِ إِلَى مَحَلِّ حِمَامِهِ اللَّهُمَّ فَأَعِنَّا عَلَى الِاسْتِنَانِ بِسُنَّتِهِ فِيهِ وَ نَيْلِ الشَّفَاعَةِ لَدَيْهِ "(مفاتیح الجنان ص156)

ماہ شعبان میں جہاں تک ہوسکے سنت پیغمبرﷺ پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے قلب کو نیک صفات کے ذریعے استوار کرنا چاہیے ۔

3۔ ماہ توحید ہے جسے "شھر اللہ "بھی کہتے ہیں جس میں خداوندعالم کی جانب سے تمام مسلمانوں کو بالعموم ضیافت ہوتی ہے تاکہ بندہ اپنے نیک صفات کو جلا بخشے اوراپنے دل کو صاف اورنفس کو صیقل کرے۔ اگر کوئی  شخص اس ماہ کی عظمت واہمیت کو جانناچاہے تو اسے چاہیے کہ قرآن کریم واحادیث پیغمبرﷺ  اور رویات ائمہ علیہم السلام کی طر ف رجوع کرے ۔

اس کے علاوہ جمعۃ الوداع میں حضرت سرکار دوعالم ﷺ کاخطبہ پڑھے تاکہ اس ماہ رمضان کی عظمت وبرکت کااندازہ ہوسکے نیز حتیٰ المقدور اس ماہ میں بالخصوص شب قدر میں توشہ آخرت وزاد معاد مہیاکرنے کی سعی کرے اور کمال انسانیت وعبودیت کی خاطر اپنی جبین کوساحت ربویت والوہیت لایزل تک پہنچادے یقیناً ماہ رمضان ماہ رحمت ومغفرت ہے۔

"دُعَاؤُكُمْ فِيهِ مُسْتَجَابٌ، اعَماَلُكُمْ فِيهِ مَقْبُولٌ، نَوْمُكُمْ فِيهِ عِبَادَةٌ و نفَسُكُمْ فِيهِ تَسْبِيحٌ" جس میں دعائیں مستجاب ہوتی ہیں اعمال مقبول ہوتے ہیں نیند عبادت سمجھی جاتی ہے نفس کی آمد ورفت تسبیح شمار ہوتی ہے۔

اے برادران ایمانی! اس ماہ مبارک کو اخذ کرو اوراپنے کو نکتہ کمال تک پہنچا دو نیز تہذیب نفس کے مراحل سے کسب فیض کرو امید ہے کہ ایزمنان ہمیشہ ہماری تمام خواہشات خواہ دنیاسے تعلق رکھتی ہوں آخرت سے قبول فرمائے اور ہمیں کامیابی وموفقیت حاصل ہو۔