زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

صبرمجسم مجتبیٰ قاسم نقوی

صبر ِمجسم 

سید مجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری

صبریعنی برداشت،تحمل ،شکیبائی،توقف ،تامل اورقناعت۔بظاہریہ مختصر سالفظ اپنے دامن میں کتنے معنوں کوسموئے ہوئے ہے،لیکن اس لفظ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ آج کاہر انسان اپنی زبان پر اس لفظ کی گردان کرتانظر آتاہے،لیکن کب؟ جب اس پرکوئی مشکل پڑتی ہے، ہرانسان کی زندگی میں جہاں  آسائشیں  اورآسانیاں ہوتی  ہیں وہیں چند مشکلات اورپریشانیاں بھی ہوتی ہیں ،اورایسے ہی منحوس وقت پربےساختہ اس کی زبان پر بس یہی ایک جملہ آتاہے ،میں نے صبرکیا، اورجب مشکلات کاحل نہیں ملتاتو یہ کہتاہےکہ ،اب صبرکےعلاوہ کوئی چارہ نہیں، حالانکہ ارباب علم ونظر کی اصطلاح میں اسے صبرنہیں بلکہ مجبوری کہاجاتاہے،اورصبرکی تعریف یہ کی گئی ہے کہ انسان قوت رکھنے کے باوجود اپنی خواہشات کوکچل دے اورخوشنودی پروردگار کی خاطر راضی بہ رضائے پروردگار ہوجائے۔

علمائے اخلاق نے صبرکی تین قسمیں کی ہیں۔

1۔ مصائب ومشکلات میں صبرکرنا۔

2۔ عبادت میں صبرکرنا۔

3۔ معصیت میں صبرکرنا۔

اوران تینوں قسموں کاثواب بھی حسب مراتب ہے لیکن جب انسان مشکلات میں صبرکرتاہے تو اسے بے حساب اجرحاصل ہوتاہے۔ قرآن مجید اس کی تائیدکررہاہے:" إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ " عبادت میں صبرکرنے کاثواب بھیبہت زیادہ ہے لیکن گناہوں میں صبرکرلینے کاثواب اس سے کہیں زیادہ ہے۔

اگر کوئی انسان خود پرپڑنے والی مشکلات کے مقابلہ میں  صبر استقامت سے ڈٹارہے ،اور اس مصیبت پر صبرکرلے جواس پرنازل ہوئی ہے اوران آفات ومشکلات سے دلبرداشتہ ہوتو اسکے ارادوں کو تقویت توحاصل ہی ہوتی ہے ساتھ ساتھ اسکی روح کوبھی فوق العادہ طورپر استحکام حاصل ہوتا ہے اورجب یہ خصوصیت اسے حاصل ہوجاتی ہے تو یقینی طور پروہ اپنی باطنی اورمعنوی مشکلات پرمسلط ہوجاتاہے اوراپنے غرائز اورخواہشات پرغلبہ حاصل کرلیتاہے اسکے علاوہ قرآن بھی ایسے شخس کواجربے حساب کی نوید سنارہاہے۔پھرعلمائے اخلاق کہتے ہیں ہم اس بات کومانتے ہیں کہ ہراجروثواب کی قدر ومنزلت ہوتی ہے لیکن صبر کے اجر وثواب کی کوئی انتہا نہیں ہے اسی لئے ارشاد ہورہاہے: " إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ "(زمر:10)وہ لوگ جوخلاف مزاج کوئی بات ہوجانے سے مشتعل نہیں ہوتے دوسروں کی بداخلاقی سے کبیدہ خاطر نہیں ہوتے اورجب اس میں خوشنودی پروردگار بھی شامل ہو یعنی جب یہ ساری باتیں خوشنودی خداکی خاطر برداشت کررہے ہوں توایسے لوگوں کے اجروثواب کی کوئی انتہا نہیں ہے اور اس کی انتہا تو صرف خداہی جانتاہے ،قرآن مجیدمیں ارشاد ہورہاہے۔"وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ * الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ * أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ "( بقرة:155 –  157)

یہ آیت شریفہ مشکلات میں صبر کرنے سے متعلق ہے اوراس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا کاہر انسان مشکلات  سے دچار ہے کسی کو گھریلو مشکلات درپیش ہیں، توکسی کوفقر وتنگدستی کی مشکلات گھیرے ہوئے ہیں ،کسی کو دوست کی طرف سے مشکلات ہیں ،توکسی کوکسی اجتماع سے شکایت ہے، کوئی کسی مرض میں مبتلا ہے، توکوئی کسی دشمنی کاشکار ہے ۔اسی لئے دنیا کو"داربالبلاء محفوفۃ"کہاجاتاہے۔

لیکن جب ان مشکلات سے دچار ہونے والے صبر وشکیبائی سے کام لیتے ہیں تو ان پر خداکی رحمت نازل ہوتی ہے قرآن مجید بھی انہیں لوگوں کی ترجمانی کررہا ہے کہ جب اب پر مصیبت پڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں " إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ "اورپھر قرآن مجید ان مشکلات کے عوض ان لوگوں کی تسکین قلب کی خاطر صبر کے بہترین نتائج سے آگاہ کررہاہےکہ:

اے رسول ؐ آپ ان لوگوں کو خوشخبری  دے دیجئے کہ انہیں لوگوں پران کے پروردگار کہ طرف سے عنایتیں اوررحمتیں ہیں اوریہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں، تفسیر ثعلبی میں اس آیت کی شان نزول کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جب حمزہ ؑ کی شہادت کی خبر حضرت علیؑ تک پہونچی توآپ نے فرمایا:" إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ "اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اوریہ کلمہ اسلام میں حضرت علیؑ کی زبان سے جاری ہواپھر خداکواتنا پسند آیاکہ اس نے اسی کی حکایت فرمائی اورپھر صلوات بھیجی اورشایداسی وجہ سے نماز میں بھی ان پرصلوات بھیجناواجب قرار دیا۔

حضرت آدم ؑ سے لیکر عصر حاضر تک ایسے بے شمار افراد گزرے ہیں جنہوں نے اپنے صبرو ضبط کی مثال قائم کی ،جیسے حضرت یعقوب ؑ جنہیں تاریخ کاسب سے صابر انسان شمار کیاجاتاہے، جیسے حضرت زکریاؑ جن کے سر پرآرے چلائے گئے لیکن انہوں نے صبرکیا،اورشکایت بھی زبان پرنہ لائے جیسے حضرت ایوب ؑ جن کاجسم اقدس ایک طویل مدت تک حشرات الارض کی غذابنارہا اگر روح وجسم کارشتہ منقطع ہوجاتاتو حضرت ایوب ؑ کوحشرات الارض کی ایذاء رسانیوں کااحساس نہ ہوتا اورآزمائش الٰہی مکمل نہ ہوتی لیکن  قدرت نے ان حالات میں بھی حضرت ایوب ؑ کے جسم و روح کارشتہ برقرار رکھ کر دنیا کو یہ بتادیا کہ جو ہمارے منتخب بندے ہوتے ہیں انکے عقیدوں میں دنیا کی کوئی بھی سختی یامصیبت لغزش پیدا نہیں کرسکتی ۔

لیکن یہ تمام ہستیاں وہ ہیں جنہیں ایک ہی مرتبہ آزمائش اورمشکلات سے گزرنا پڑا حالانکہ یہ مشکلات ایسی نہیں تھیں جنہیں ہر انسان برداشت کرلیتا،مگر تب بھی ان عظیم ہستیوں نے ان مشکلات کو برداشت کیا لیکن یہ تمام مشکلات ان مشکلات کے مقابلے میں پھر بھی کم ہیں جن سے امیرالمومنین ؑ علی بن ابی طالب ؑ کو گزرناپڑا علیؑ کی ذات تاریخ کی وہ واحد ذات ہے جسے وقت ولادت سے لیکر وقت شہادت تک صبر آزمامشکلات سے دچار ہوناپڑا لیکن آپ ہر مقام پر مجسم نظر آئے آپ نے کسی بھی مقام پر صبر کادامن ہاتھ سے نہ جانے دیااورآپ صبر ہی کو غم کی قلت کاوسیلہ سمجھتے تھے اسی لئے آپ فرماتے رہتے تھے۔" صبرک علی المصیبۃ یخفف الرزیۃ ویجزل المثوبۃ "کسی مصیبت پر صبر کرلینا غم کوہلکااورثواب کو دوگناکردیتاہے۔

آپکی حیات طیبہ میں بہت سے ایسے مواقع آئے جہاں اگردنیا کاکوئی اورانسان  ہوتاتوصبرکی طنابیں اسکے ہاتھوں سے چھوٹ جاتیں لیکن آپ ؑ نے ایسے پیچیدہ حالات میں بھی صبرکاوہ باب رقم کیا جسے رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جاسکتا۔رسولؐ خدا کی رحلت کے بعد آپ ؐ پر کون ساایسا ظلم تھا جونہ ڈھایاگیاہو۔علیؑ جیسے بہادر جنکی طاقت کوپورا عرب لوہا مان چکاتھا اگر تلوار لیکر میدان میں اترآتے تودشمنوں کاقلع وقمع ہوکر رہ مگر جب بھی جذبہ انتقام نے کروٹ لی فوراً ہی رسولؐ کی وصیت یاد آگئی اے علیؑ صبر سے کام لینا،ہرمقام پرآپکو وصیت رسولؐ کاپاس ولحاظ رہا۔

خلافت چھن گئی آپؐ نے صبر کیا،بنت رسولؐ سے فدک چھین لیاگیا آپؐ نے صبرکیا،گھر میں آگ لگادی گئی آپؑ نے صبر کیا،حیات رسولؐ خدامیں آپ کا دم بھرنے والے منافق چہرے شہادت رسولؐ خدا کے بعد منہ زوری پر اتر آئے آپ ؑ نے صبرکیا،گلے میں   رسی کاپھندا ڈال دیاگیاآپ نے صبرکیا،بنت رسول پر جلتاہوادروازہ گرادیاگیاآپ نے صبرکیا ،بنت رسول کی پسلیاں ٹوٹ گئیں آپ نے صبر کیا،بطن سیدہؑ میں حضرت محسن کی شہادت ہوئی آپ نے صبرکیا،اورایک مقام وہ بھی آیا جب آپ انتہاصبر کی منزل پرتھے اوروہ مقام  تھا کہ جب سیدہ پر تازیانے لگالگے علیؑ کواپنی  زندگی میں جس سخت ترین اوربدترین مشکل کا سامناکرناپڑا وہ یہی وقت تھا اسی لئے جب کسی نے سوال کیا کہ مرد پر سب سے برا وقت کون سا ہوتاہے توآپ نے فرمایا:"جب اسکی  نظروں کے سامنے اس کی زوجہ پر کوئی نامحرم ہاتھ اٹھائے اور وہ اتنا بے بس ہو کہ سوائے خاموش رہنے کےکچھ نہ کرسکے "اوراس بےبسی کی وجہ بس وہی وصیت رسولؐ خدا تھی اگر وصیت رسولؐ خدا نہ ہوتی توسیدہ پرہاتھ اٹھاناتودرکنارسیدہ کی دہلیزپرپڑنے والے ناپاک قدموں کوبھی توڑ دیاجاتا۔

مگر اس جانگداز موقع پربھی علیؑ قرآن مجید کی آیت"فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ "( سورہ ق آیت/ 39)کی تفسیربنے رہے۔

ہمارے لاکھوں درود وسلام اس پیکرصبرورضا جسکے صبرکی ضیاء آج بھی محیط کائنات کواپنے حصار میں لئےہے۔

قالَ الإِمَامُ موسیٰ الکَاظِمؑ : 
"طُوبَی لِشِیعَتِنَا الْمُتَمَسِّکِینَ بِحَبْلِنَا فِی غَیْبَةِ قَائِمِنَا، الثَّابِتِینَ عَلَی مُوَالاتِنَا وَ الْبَرَاءَةِ مِنْ أَعْدَائِنَا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"(کفایۃ الاثر 265)