زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

اسباب ولی عہدی امام رضاؑ ذیشان حیدر

اسباب ولی عہدی امام رضاؑ

از: ذیشان حیدر صاحب ،مدرسہ قرآن  وعترت،قم ایران

خداوندعالم نے ہر دور میں اپنے نمائندوں کو کسی نہ کسی منصب سے فراز فرمایا۔ اگر چہ کبھی یہ منصب بظاہر رہا اور کبھی باباطن۔ مگر سب کامقصد اشاعت  دین ہی تھا اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ خدائی نمائندے کبھی بھی دنیاوی اقتدار وحکومت کے خواہش مند نظر نہیں آئے بلکہ ان کے سامنے ایسے حالات پیداکر دئے گئے کہ جس کے سبب ان کو حکومت دنیا میں داخل ہوناپڑا۔

کچھ اسی طرح کے حالات امام رضاؑ کے ساتھ بھی پیش  آئے ورنہ جس شخص کے ہاتھ میں اقتدار کائنات ہو وہ ولی عہدی جیسے حقیر عہدہ کو لیکر کیا کرےگا۔

درحقیقت حالات نے مامون کو اس موڑ پر لاکھڑا کردیا تھا، جہاں بنی ہاشم کا راضی کرنا ضروری ہوگیاتھا اوروہ سمجھ گیاتھا کہ امام رضاؑ کی شخصیت کا سہارا لئے بغیر میری حکومت کاقیام مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اسی لئے اس نے اس قسم کا سیاسی قدم اٹھایا اورچند اسباب کے تحت امامؑ کو ولی عہد بنادیا،اس مقالہ کے ذیل میں انہی اسباب کو بیان کیاجارہاہے۔

1۔ مامون امام رضاؑ کو ولی عہد بناکر اپنے زیر نظر رکھنا چاہتا تھا تاکہ امام ؑ عوام الناس سے زیادہ قریب نہ ہونے پائیں اوران کی عوامی شخصیت کے خطرہ سے اپنے وجود کو محفوظ کرلیا جائے ورنہ امام ؑ کی شخصیت کسی وقت بھی اس کی حکومت کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتی تھی ۔یہ اور بات ہے کہ یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اورامام نے ولی عہدی سے فائدہ اٹھاکر عوامی رابطہ اورمضبوط کرلئے جس کا احساس بعد میں خود مامون کو ہوا جس کے نتیجہ میں اس نے امامؑ کو قتل کیا۔

2۔ مامون امام ؑ کو حکومتی کاموں میں مصروف کرکے ان کی ملاقاتوں کو دشوار بناناچاہتاتھا تاکہ ان کا علم وفضل لوگوں پر آشکار نہ ہونے پائے جو ہر دور کے حکام جور کااہل علم کے ساتھ برتاؤ رہا ہے۔

3۔ مامون امام رضا ؑ کو ولی عہدی بناکر ان جذبات کو ختم کرناچاہتاتھا تھا جو امام موسیٰ کاظم ؑ کی شہادت سے ظاہر ہوئے تھے اور دنیا والوں پریہ بات ظاہر کرناچاہتاتھا کہ حکومت اہل بیتؑ کی دشمن نہیں ہے، اورنہ اس کا کوئی تعلق امام موسیٰ کاظمؑ شہادت سے ہے۔

4۔ مامون امام رضاؑکی وزارت سے حکومت کی عظمت میں اضافہ کرناچاہتا تھا کہ جس دربار کے وزراء میں امام رضاؑ جیسے افراد شامل ہوں تو اس کے سلطان کی صلاحیتوں کا کیا عالم ہوگا،اور جس حکومت میں وزارت کا عہدہ  فرزند رسولؐ کے ہاتھ میں ہو وہ حکومت  کس طرح غیر شرعی ہو سکتی ہے۔

5۔ مامون امامؑ کو ولی عہدی بناکر عوام کے ذہن کو دوسرے موضوع کی طرف موڑنا چاہتاتھا تاکہ عوام ان بنیادی مسائل سے غافل ہوجائے جن سے حکومت کو سخت قسم کے سیاسی خطرات لاحق تھے۔

6۔ چونکہ حکومت مامون میں علویین کی طرف سے اٹھنے والی انقلابی آوازوں اور تحریکوں میں اضافہ ہی ہوتاجارہا تھا جس کے نتیجہ میں مامون کو اپناوجود خطرہ میں نظر آرہاتھا لہذا وہ امام ؑ کو ولی عہدبناکر یہ ظاہر کرنا چاہتاتھا کہ حکومت نے اپناطرز عمل تبدیل کردیاہے اوراب وہ خاندان رسولؐ کو ان کا حق دینے پر تیار ہے تاکہ یہ انقلاب یہیں پر ختم ہوجائے۔

7۔ مامون کے ذہن میں یہ خیال بھی تھا کہ وہ کسی قدر اقتدار کامالک کیوں نہ ہوجائے اوراس کی حکومت میں کسی قدروسعت کیوں نہ ہو جائے حکومت کوشرعی  حیثیت اسی وقت حاصل ہوگی جب اس میں خاندان رسالت کا کوئی شخص شامل ہو اور مامون کی خواہش بھی یہی  تھی کہ اس حکومت کو شرعی حکومت کہاجائے یہ وہی احساس تھا جو اس کے قبل خلفاء اسلام کے ذہن میں تھا ،جس کی بناء پر مولائے کائنات اور امام حسینؑ سے بیعت کا مطالبہ کیا گیاتھا کہ اس کے بغیر حکومت شرعی کہے جانے کے قابل نہیں ہو سکتی یہ اور بات ہے کہ اس سے پہلے والوں نے بیعت کے مطالبہ کا حشر دیکھ لیاتھا اس لئے مامون نے اس مطالبہ کو ایک حسین شکل دے دی کہ انہیں غلام بنانے کے بجائے حاکم یاشریک حکومت کرلیا جائے ،اسی لئے امام علی رضاؑ نے ولی عہدی میں یہ شرط لگادی تھی کہ میں امور مملکت میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کروں گا اورکوئی کام میرے نام کے ذریعہ نہیں ہوگا،ہاں اگر مجھ سے کوئی مشورہ لیا جائیگا تو میں ضرور دوں گا یہی طریقہ کار تاریخ امامت میں ہر علیؑ کا نظر آیا۔

ان تمام اسباب کے پیش نظر مامون نے یہ طے کرلیا کہ امام علی رضاؑ کو حکومت میں شامل کر لیاجائے اور بیک وقت ان تمام فوائد کو حاصل کر لیا جائے اور اسی بنیاد پر اس نے امام رضاؑ کو مدینہ سے مرو طلب کیا، امام ؑ بھی ان تمام  سرکاری مصالح سے بخوبی واقف تھے اور آپ کسی قیمت پر نہیں چاہتے تھے کہ آپ کے کسی عمل سے بھی کسی ظالم کو ادنیٰ فائدہ پہنچ سکے کہ اس طرح اپنا شمار بھی ظالموں کے معاونوں اور مددگاروں میں ہوجائے گا کس کی جواب دہی روز قیامت انتہائی شدید ہے، چنانچہ آپ نے بھی "مکروا مکراللہ" کی پالیسی کے پیش نظر اپنا لائحہ عمل طے کرلیا اور یہ چاہا کہ جس راستہ سے ظالم وار کرنا چاہتاہے اسی راستہ سے اس کے مکر کو اس کی گردن پر ڈال دیا جائے ۔۔(والحمدللہ رب العالمین)  

قال امام لرضاؑ: "من اخلاق الانبیاء التنظف "  صفائی انبیاء کے اخلاق میں سے ہے۔(تحف العقول/ 330)