زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

توبہ سیدمجتبیٰ قاسم نقوی

توبہ

سید مجتبیٰ قاسم نقوی بجنوری ،لکھنؤی

توبہ: یعنی استغفار، افسوس ، پچھتاوا، کسی برے کام سے باز رہنے کا عہد ،تلاطم باطنی اور ارتکاب گناہ پر شرمندگی اور پشیمانی۔

وہ اسباب جو روح کو تقویت  پہنچانے میں ایک گہرا اثر رکھتے ہیں انہیں میں سے ایک سبب توبہ ہے یہی توبہ ہے جو انسان کی قوت ارادی کو مستحکم بناتی ہے اور گناہوں سے توبہ کرلینا تقویت  ارادہ سیر اللہ اور جہاد اکبر میں کامیاب ہونے کیلئے بیحد موثر ہے۔ جیسا کہ معنیٰ توبہ میں اس بات کا شارہ کیاجاچکا ہے کہ توبہ کےمعنیٰ تلاطم باطنی اورگناہوں سے پشیمانی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اگر اس سے کوئی گناہ سرزد ہو اہے تویہ قصد کرلے کہ دوبارہ وہ اس فعل مذموم میں ملوث نہیں ہوگا ۔ولو بعد میں وہ اپنی توبہ پر قائم نہ رہ سکے کین پھر بھی توبہ کرتے وقت اسے چاہیے کہ یہ قصد کرلے کہ آئندہ وہ اس مذموم فعل کو انجام نہیں دیگا جس کی وجہ سے اسے پیش پروردگار شرمندگی اٹھانی پڑی ہے ۔لیکن اسکے باوجود بھی اگر اسکی توبہ دائمی شکل اختیار نہیں کرسکی ہے تب  بھی اسکی توبہ قبول کرلی جاتی ہے ۔کیوں کہ خدا تواب ہے اور توبہ شکن انسان کی توبہ بھی قبول کرلیتاہے۔

اگر کوئی شخص کسی گناہ کا مرتکب ہوجائے(اسکا گناہ چاہے جس نوعیت کابھی ہو) اور گناہ کے بعد اس میں تلاطم باطنی پیداہوجائے یعنی اس گناہ پرشرمندہ اور پشیمان ہوجائے اور اس کا ضمیر بیدار ہوجائے کہ کیوں یہ گناہ اس سے سرزد ہواہے اور یہ ارادہ کرلے کہ اب دوبارہ اس گناہ کو انجام نہیں دےگا تو پروردگار عالم اسکے گناہوں کو بخش دیتاہے ۔ اور آیات اور روایات اہل بیتؑ سے ظاہر ہوتاہے کہ خداوند عالم نہ صرف یہ کہ گناہوں کو بخش دیتا بلکہ بہت ہی جلد اپنے بندے سے راضی بھی ہوجاتاہے۔

اسی لئے دعائے کمیل میں بھی ہم اس جملہ کو پڑھتے ہیں۔"یاسریع الرضا"اے بہت جلد راضی ہونے جانےوالے  اسی طرح قرآن و روایات سے استفادہ  ہوتاہے کہ صرف یہی نہیں کہ خدا وندعالم گناہوں کو بخش دیتاہے اور جلد ہی راضی ہوجاتا ہے بلکہ توبہ کرنے والے پر سلام بھی بھیجتاہے اور جو اپنے گناہوں سے توبہ کرلیتاہے خداوند عالم اسکے گناہوں کو بخشنے کے ساتھ ساتھ نیکیوں میں بھی اضافہ فرمادیتاہے۔

ارشاد ہورہاہے۔" وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ "  اوار جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے ہیں جب تمہا رے پاس آئیں تو تم سلام علیکم(تم پر خداکی سلامتی ہو)کہو تمہارے  پروردگار نے اپنے اوپر رحمت لازم قرار دی ہے ۔بیشک تم  میں سے جو شخص نادانی سے کوئی گناہ کر بیٹھے اسکے بعد پھر توبہ کرلے اور اپنی حالت کی اصلاح کرلے تو خدا اسکا گناہ بخش دئے گا کیونکہ وہ تو یقیناً بڑا بخشنے والااور مہربان ہے۔

اس آیت میں ارشاد ہو رہا ہے کہ جب میرا گنہگار بندہ تمہارے پاس آئے تو پہلے اسکو سلام کرو اوراس سےپہلے کہ اسکی توبہ قبول  کرو اس سے کہدو کہ خداوندعالم نے اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے کہ وہ اپنے گنہگار بندہ کو معاف کردے اور اسکے خاطی وجود کو اپنی رحمت کے دامن میں سمیٹ لے۔ اسکے بعد ارشاد ہو رہاہے کہ اس سے کہ دو کہ جو بھی نادانی کے باعث گناہ کرتاہے اور اس کے بعد پشیمانی سے توبہ کرلیتا ہے اور اپنی اصلاح کرلیتاہے توخداوندعالم یقیناً اسکے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اس لئے کہ خدا بہت ہی مہربان اور بخشنے والا ہے۔

توبہ سے صرف یہی نہیں کہ انسان کے گناہ محو ہوجاتے ہیں بلکہ اسکی نیکیوں میں بھی اضافہ ہوجاتاہے اور شاید اسی لئے خداوندعالم اپنے بندوں کو توبہ کی طرف مائل کرنے اورانھیں احسن عمل کی ترغیب دلانے کیلئے پھر قرآن مجید میں ارشاد فرمارہاہے۔" إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا "

اس آیت میں ان لوگوں کے انجام کا ذکر ہورہاہے جو زناکرتے ہیں یا وہ عورتیں جو اس فعل کی مرتکب ہوتی ہے چاہے زنائے محصنہ ہویاغیر محصنہ (لیکن مومن زنا نہیں کرتا)اور اگرکوئی زنا کامرتکب ہوجائے توذلت کے ساتھ جہنم میں جھونک دیاجاتاہے۔روایت میں بھی اس بات کا اشارہ ملتاہے کہ اگر کوئی عورت زناکی مرتکب ہو جائے یاکوئی مرد زنا کامرتکب ہوجائے اور توبہ کیے بغیر اس دنیا سے چلاجائے توجہنم میں سخت عذاب میں گرفتار ہوتاہے۔اور اسکی شرمگاہوں کی تعفن زدہ بدبو سے اہل جہنم بھی کانپ اٹھتے ہیں یہ ایک بہت عظیم گناہ ہے لیکن اس عظیم گناہ کے باوجود بھی حتیٰ اگرزنا محصنہ بھی ہو تب بھی  خداوند عالم فرمارہاہے۔" إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا " اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو صرف یہی نہیں کہ انکے گناہوں کو بخش دیا جاتاہے بلکہ " يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ" خداوند عالم انکے گناہوں کو انکے نامہ اعمال سے مٹاکر نیکیوں کو لکھ دیتاہے ۔ رسول خداؐ بھی لوگوں کو توبہ کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔"التائب من الذنب کمن لاذنب لہ"گناہ سے توبہ کرنے والا اسی طرح سےہے جیسے اس نے گناہ ہی نہ کیاہو۔

پھر دوسری جگہ قرآن مجید میں ارشاد ہورہاہے۔" یَاقَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوآ اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ" اے قوم اپنے پروردگار سے مغفرت کی دعامانگو اسکی بارگاہ میں (اپنے گناہوں سے)توبہ کرو تو وہ تم پرآسمان سے موسلا دھار بارش نازل کرے گا اور تمہاری قوت میں اور قوت کااضافہ کردے گا۔

اور پھر سورہ ہود میں دوسری جگہ ارشاد ہو رہا ہے۔"وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعاً حَسَناً"اور اپنے پروردگار سے مغفرت کی دعا مانگو پھر اس بارگاہ میں (گناہوں سے) توبہ کرو وہ تمہیں اچھے لطف سے بہرہ مند کرےگا۔

شاید خداوندعالم اپنے گنہگار بندوں کو بتانا چاہ رہا کہ اے گنہگار بندہ اگر تو توبہ کرلے تو خداوندعالم ان تمام مصیبتوں کو جوگناہ کے باعث تیرے دامن گیر ہوئی ہیں انہیں مٹادےگا يُمَتِّعْكُم مَّتَاعاً حَسَناً"اور ایک سعادت بخش اور خوشگوار زندگی تجھے مرحمت فرمادےگا۔

اندازہ لگائیں کہ خداوندعالم کتنا مہربان اور رحمن ورحیم ہے، کس قدر غفور ورحیم ہے۔ جنگ تبوک کا وقت قریب آچکا ہے تمام مسلمان آمادہ پیکار ہیں اور سول اسلامؐ جنگ کیلئے تشریف لے جارہے ہیں مگر تین آدمی ایسے بھی ہیں  جو خوف وہراس سے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں حالانکہ جنگ میں جانے کیلئے مسلمانوں کے درمیان اعلان عام ہوچکا ہے مسلمان  جنگ کرنے کیلئے چلے گئے اور چند روز بعد خدا کی راہ میں  جہاد کرکے واپس بھی آگئے ۔تب مدینہ والے ان کے استقبال کو بڑھے اور جوق در جوق فتح کی خوشی میں رسول ؐ اسلام کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرنے کیلئے آنے لگے استقبال کرنے والوں کاایک اژدہام ہے جو رسولؐ کی طرف سے بڑھتاچلا آرہا ہے۔ اور اسی میں وہ تین افراد بھی شامل ہیں  جنہوں نے جنگ پر جانے سے انکار کردیا تھا رسول ؐ اسلام نے حکم دیا کہ کوئی بھی ان تینوں سے بات نہ کرے حکم حکم پیغمبر ؐ تھا روایت بتاتی ہے کہ حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان تینوں کے بیوی بچوں تک نے ان سے بولناترک کردیا اوران سے دوری اختیار کرلی۔

قرآن اس واقعہ کو بیان کررہا ہے واقعہ تین دن کے بعد ان پر مدینہ تنگ ہو گیا اور انہیں احساس ہونے لگا کہ  ایسی حالت میں وہ زندگی بسر نہیں کرسکتے۔" وَضَاقَت الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ  

تب انہیں پتاچلا کہ اب تو توبہ کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں ہے ۔ یہ تینوں لوگ جنگ کی طرف چل پڑے اور روتے رہے گریہ وزاری کرتے رہے بالآخرخداوند عالم نے ان کی توبہ قبول کرلی ۔ہم بھی ایسے گنہگار کی راہنمائی کیلئے جو صریحا حکم خدا اور رسولؐ کی مخالفت کررہاہو اسی روش سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

اور توبہ کا دروازہ صرف ان ہی لوگوں کیلئے کھولا جاتاہے جو لوگ اپنی جہالت کی بدولت گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں اسی لئے ارشاد  ہورہاہے۔" إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ " مگر خدا کی بارگاہ میں صرف ان ہی لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے جو نادانی میں برے کام کربیٹھتے ہیں۔اس کے بعد ارشاد ہوا"  ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ  " اور پھر جلدی سے توبہ کرلیتے ہیں آیت کایہ دوسرا رخ اس بات کا گواہ اگر انسان برے فعل انجام دیتاہے تو اس پر ضروری ہے کہ فوراً ہی توبہ کرلے،فوراً ہی اس گناہ کاجبران کرلے اگر نماز نہیں پڑھی ہے تو فوراً تدارک کرلے تاخیر نہ کرے اور اگر تاخیر کرتاہے تو دو نقصان سامنے آتے ہیں:

1۔ اپنے گناہ کو بھول جاتاہے تو دوبارہ اسکی تلافی کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا

2۔ آہستہ آہستہ اسکا گناہ سنگین ہوتاچلاجاتاہے اور پھر اسکے اندر گناہوں کی عادتیں اپنی جڑیں مضبوط کرلیتی ہیں گویا نفس لوامہ مردہ ہوکر رہ جاتاہے اورپھر اپنے فعل مذموم کی توجیہ کرکے سابقہ گناہوں کی تردید کردیتاہے۔مثلاً اگر کسی کے پاس دس ہزار روپیہ ہے اور وہ اسکا اصل سرمایہ نہیں  ہے تو اس پر ضروری ہے کہ خمس نکالے لیکن اگر خمس نہ نکالے اور دس  بیس سال اور گزر جائیں تو جب اپنے مال حساب وکتاب کرنے بیٹھا ہے تو دیکھتاہے کہ کئی لاکھ ہوچکے ہیں اتنی خطیر رقم دیکھ کر اس میں لالچ پیدا ہونے لگتی ہے پھر وہ سوچنے لگتاہے کہ میں نے زحمت کی ہے مشقتیں برداشت کی ہیں پیسہ جمع کیاہے فقیر کو بھی چاہیے کہ جائے اور زحمت و مشقت برداشت کرے میں کیوں خمس دوں کیوں ان بھوکے اور ننگے لوگوں کو کھانا اور کپڑا فراہم کروں کیا میں نے ان سب کاٹھیکا لے رکھا ہے اور بالآخر وہ اپنے وجدان کو اپنی جھوٹی اور خودساختہ تسلیوں سے تھپک تھپک کر سلادیتاہے گویا شیطان اس کے سر پر دست شفقت پھیر دیتاہے کہ چلو خیر سے ہمارے ایک اور عقیدت مند میں اضافہ ہوگیا۔

قرآن اسی لئے خطرہ کا الارم بجارہاہے۔" ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓاٰۤی اَنۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ " اورپھر جن لوگوں نے برائی کی تھی ان کاانجام براہی ہواکیوں کہ ان لوگوں نے خدا کی آیتوں کو جھٹلایاتھا۔

جو لوگ پہ در پہ گناہ انجام دیتے ہیں اور توبہ کو ہمیشہ تاخیر کی نذر کردیتے ہیں تو ایک روز وہ اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ اسلام کابھی انکار کرنے سے نہیں چوکتے۔" اَنۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ "وہ کہتے ہیں قرآن کیاہے ؟ اسلام کیاہے؟ اور وہ ایسا اسلئے کرتے ہیں کیونکہ ان کاضمیر زنگ آلود ہوجاتاہے تاریخ بھی ایسے بہت سے لوگوں کاپتہ بتارہی ہے۔ لیکن وہ جو مسامحتاً توبہ کرنے میں تاخیر کرتے ہیں اگر وہ توبہ کرلیں توان کی توبہ قبول کرلی جاتی ہے آیت میں ارشاد ہو رہاہے۔" قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا "خدا اپنے بندہ کے گناہوں کو نظرانداز کرکے بتارہا ہے تم جو بھی ہو تم نے جو کچھ بھی کیاہے اگر بشرحافی ہو تب بھی آؤ میں تمہاری توبہ قبول کروں گا ۔بشرحافی کون تھے؟

ایک عیاش انسان تھے جنکا گھر پچاس  سال تک شراب خانہ بنارہا ،بیہودہ عوتوں کااڈہ رہا، آوارہ مردوں کی جائے گاہ بنارہا۔ایک دن موسیٰ کاظم ؑ کا انکے گھر کی طرف سے گذر ہوا گھر سے گانے بجانے کی آواز آرہی تھی امامؑ نے انکی کنیز سے سوال کیا اس گھر کامالک آزاد ہے یاغلام وہ کہتی ہے نہیں آقا، آزاد ہے ۔ امام ؑ فرماتے ہیں ہاں آزاد ہے اسی لئے اسطرح کے کارنامے انجام دے رہاہے۔

کنیز بشرحافی کے پاس آتی ہے بشرحافی کنیز سے پوچھتے ہیں تو کس سےبات  کررہی تھی کنیز کہتی ہے کہ ایک شخس تھا جس نے مجھ سے سوال کیا اور میں نے اس کا یہ جواب دیا اتنا سننا تھا کہ بشرحافی کابدن لرزا،ضمیر میں تلاطم پیدا ہوا، دل ودماغ کی رگیں تن گئیں اوردل میں ایسا ہیجان پیداہوا جیسے پانی کی پر سکون سطح پر کنکر پھینک دینے سے پانی میں ارتعاش پیدا ہوجاتاہے ۔پھر کہتے ہیں میں جانتاہوں وہ شخص کون تھا پابرہنہ امامؑ کی تلاش میں چل پڑے یہاں تک کہ امامؑ کی خدمت میں پہنچ جاتے ہیں اسی لئے انہیں بشرحافی کہاجاتاہے یعنی پابرہنہ۔

امام ؑ کی خدمت میں پہنچ کر عرض کرتے ہیں آقامجھ سے غلطی ہوگئی پچاس سال تک اسی دلدل میں دھنسا رہامیں نے بہت کیا،امامؑ موسیٰ کاظم ؑ نے انہیں معاف کردیا ان کی توبہ قبول ہوگئی۔

کہاجاتاہے کہ دوبارہ انہوں نے جوتانہیں پہنا جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ جو تاکیوں نہیں پہنتے تو انھوں نے کہا جب میں نے توبہ کی تھی تو پابرہنہ تھا اب میرا دل چاہتاہے کہ ہمیشہ پابرہنہ رہوں یہاں تک کہ مجھے موت آجائےت۔

آہستہ آہستہ ان کے عرفان کی منزل یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ جس راستہ پر چلتے تھے حیوانات اس راستہ پر اپنی غلاظت ڈالنے سے گریز کرتے تھے۔

ہر انسان کی توبہ قبول ہوسکتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ غلطی کے بعد فوراً توبہ کرلے، توبہ کرنے میں سہل انگاری سے کام نہ لے اور اگر توبہ کے معاملہ میں "چلوبعد میں توبہ کرلیں گے"کی تفسیربن گیاتو اس کایہ بعد نہ آنے والے کل میں آتاہے نہ دس بیس پچاس سال کے بعدہی  آتاہے  اور اس کی روح اسی"بعد"کا انتظار کرتے کرتے دست عزرائیل میں پہنچ جاتی ہے۔ آئیے ہم سب مل کر دعا کریں ۔خدا یاتجھے تیرے عزت  وجلال کی قسم ہمیں عبادت وبندگی اور ترک معصیت کی توفیق عنایت فرما۔ خدا یاتجھے تیرے عزت  وجلال کی قسم ہمیں توبہ کی ، اور معصیت وگناہ پر شرمندگی کی توفیق مرحمت فرما۔ خدا یاتجھے تیرے عزت  وجلال کی قسم ہم سے دانستگی اور نادانی میں جوگناہ سرزد ہوئے ہیں اہل بیتؑ کے صدقہ میں ان کی مغفرت فرما۔آمین

وماعلینا الاالبلاغ المبین

قال امام الرضاؑ:

"الاخ الاکبر بمنزلۃ الاب" بڑا بھائی باب کی طرح ہوتاہے۔(تحف العقول/230)