زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

◊ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمه داریاں - از سید ریاض حسین اختر

امام زمانه علیه السلام کی غیبت کے دور میں هماری ذمه داریاں، کتاب عصر ظهور کا مطالعه کرنے کے بعد هر شخص کے ذهن میں یه سوال اُبهرنا ایک یقینی امر هے که هماری ذمه داریاں کیا هیں اگرچه اس سوال کا جواب کتاب مذکوربحثوں میں اجمال طور پر آچکا هے لیکن اس مسئله کو تفصیل کے ساته بیان کرنا انتهائی مفید تها، اس حواله سے هم نےحضرت آیت الله حاجی میرزا محمد تقی مولوی اصفهانی کے کتابچه سے استفاده کیا هے اور قارئین کے لیے یه سهولت فراهم کر دی هے که هماری ذمه داریاں کیا هیں هم اس جگه بحث کو زیاده تفصیلی بیان نهیں کریں گے بلکه ذمه داریوں کی فهرست اور ذمه داری کے بارے میں ایک آده حدیث بیان کریں گے۔
۱۔ حضرت امام مهدی علیه السلام کی مظلومیت اور اپنی رعیت سے دور هونے پر غمگین اور افسرده خاطر رهنا۔
اکمال الدین و اتمام النعمه شیخ صدوق ج۲ص۷۷۳ میں حدیث هے جو شخص همارے لیے غمناک هو اور هماری مظلومیت پر ٹهنڈے سانس لے افسرده خاطر هو اس کے سانس لینے کا ثواب تسبیح کا ثواب رکهتا هے۔
۲۔ حضرت مهدی علیه السلام کے ظهور اور آپ کی فرج و فتح کی انتظار کرنا بلکه یه افضل اعمال سے هے امام محمد تقی علیه السلام فرماتے هیں همارا قائم مهدی علیه السلام هے ان کے غائب  هونے کے دوران کا انتظار کرنا واجب هے اور میری اولاد کے تیرے هیں بحواله محیف القول، صحفه ۱۵۲ حضرت امیر المومنین علیه السلام فرماتے هیں تمام عبادتوں سے افضل انتظار فرج امام مهدی علیه السلام کی آمد کا منتظر رهنا هے۔(بحارالانوار ج۲۵ ص۵۲۱)
۳۔ حضرت مهدی علیه السلام کے رعیت سے دور رهنے اور آپ کی مظلومیت کو یاد کر کے گریه کرنا امام جعفر صادق علیه السلام خد اکی قسم آپ کا امام ایک زمانه میں آپ سے غائب هو گا اور آزمائش هو گی یهاں تک که لوگ کهیں گے که وه یا تومر گیا یا پهر وه کیسی وادی میں چلا گیا هے تحقیق مومنین کی آنکهیں اس پر گریاں هوں گی۔(بحواله اکمال الدین ج۲ص۱۷۴۳)
۴۔ امام مهدی علیه السلام کے معامله میں تسلیم هو ان کے بارے میں جلدی نه کر کے یعنی یه نه کهنا هو که ان کا ظهور کیوں نهیں هو رها اب تو ظهور هو جانا چاهئے تها یه تو زیادتی هے ظلم هے بلکه خداوندی کی حکمت اور مصلحت کے تحت وه غائب هیں اس پر رضائیت اور سر تسلیم خم کرنا چاهئےاعتراض کے طور پر زبان شکوه نه کهولی جائے۔ امام محمد تقی علیه السلام فرماتے هیں میرے بعد امام میرا بیٹا علی علیه السلام هے اس کا حکم میرا حکم هے اس کی بات میری بات هے اس کی اطاعت میری اطاعت هے۔
اس کے بعد امام علیه السلام اس کا بیٹا حسن هے اس کا حکم اس کے والد کی اطاعت هے اس کے بعد آپ خاموش هو گئے راوی کهتا هے میں نے کها یا بن رسول حسن علیه السلام کے بعد امام علیه السلام کون هے؟ حضرت نے بهت زیاده گریه فرمانے کے بعد کها امام حسن عسکری علیه السلام کے بعد امام ان کے بیٹے قائم منتظر هیں راوی نے عرض کیا که یابن رسول الله ان کو قائم کیوں کهتے هیں تو آپ نے فرمایا اس لیے ان کو قائم کهتے هیں که جب اس کا ذکر ختم هو جائے گا آپ کی امامت کے بهت سے قائل اپنے عقیده سے پهر جائیں گے تو اس وقت آپ قائم هوں گے قیام کریں گے۔
دوباره آپ کا نام زنده هو گا خاموشی کے بعد قیام کی وجه سے قائم کها گیا، راوی نے سوال کیا آپ کو منتظر کیوں کها جاتا هے؟ تو آپ نے فرمایا اس کی وجه هے که آپ نے غائب هونا هے آپ کے غائب هونے کا زمانه طولانی هو گا آپ کے جو مخلصین هوں گے وه آپ کا انتظار کریں گے شک کرنے والے آپ کا انکار کریں گے وه جهوٹے هوں گے اور جو جلدی کریں گے وه هلاک هوں گے جو آپ کے امر و معاملے میں تسلیم هوں گے وه نجات پائیں گے۔(اکمال الدین ج۲ص۸۷۳)
۵۔ مال کے ذریعه حضرت علیه السلام کے ساته اپنے تعلق کا اظهار کریں امام جعفر صادق علیه  السلام سے روایت هے که الله تعالیٰ کے نزدیک امام کے لیے مال خرچ کرنے سے زیاده محبوب چیز اور کوئی نهیں هے تحقیق جو مومن اپنے مال سے ایک درهم امام علیه السلام کی خاطر خرچ کرے خداوند بهشت میں احد پهاڑ کے برابر سے اس کا بدله دے گا۔(اُصول الکافی ج۱ص۷۳۵)
مقصد یه هے که امام کی نیابت میں آپ کے دوستوں اور چاهنے والوں پر اور آپ کے مشن کی تقویت کے لیے مال خرچ کرے۔
۶۔ حضرت کی سلامتی کی نیت سے صدقه دینا جیسا که نجم الثاقب ص۲۴۴ میں روایت هے۔
۷۔ الله تعالیٰ سے دعا مانگنا که آنحضرت کی معرفت نصیب کرے اس کے لیے درج ذیل دعا کافی اکمال الدین وغیره میں امام جعفر صادق علیه  السلام سے مروی هے۔
اللهم عرفنی نفسک فانک ان لم تعرفنی نفسک لم اعرف نبیک اللهم عرفنی رسولک فانک ان تعرفنی رسولک لم اعرف حجتک اللهم عرفنی حجتک فانک ان لم تعرفنی حجتک ضللت عن دینی.
ترجمه: خداوند! مجهے اپنی ذات کی معرفت عطا فرما کر کیونکه اگر تو مجهے اپنی ذات کی معرفت عطا نه کرے تو میں تیرے نبی کی معرفت حاصل نهیں کر سکتا خداوند! مجهے اپنے رسول کی معرفت عطا فرما دے کیونکه اگر تو مجهے اپنے رسول کی معرفت عطا نه کرے تو میں تیری حجت (حجت زمانه) کو نهیں پهچان سکتا۔ خداوند! مجهے اپنی حجت کی معرفت عطا فرما دے کیونکه اگر میں تیری حجت کی معرفت حاصل نه کروں تو اپنے دین سے گمراه هو جاوں گا بهٹک جاوں گا۔(بحواله اکمال الدین ج۲ص۲۴۳)
۸۔ حضرت امام مهدی علیه السلام کی صفات کو جاننا هر حالت میں حضرت علیه السلام کی نصرت اور مدد کرنے پر آماده رهنا آپ کے فراق پر گریه کناں هوں۔(بحواله نجم الثاقب)
۹۔ درج ذیل دعا کو ورد رکهنا امام جعفر صادق علیه  السلام سے یه کلمات روایت هوئے هیں۔
یاالله یا رحمن یا رحیم یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک (کمال الدین)
ترجمه: اے الله اے رحمن، اے رحیم اے دلوں کو پهیرنے والے میرے دل کو اپنے دینی پر ثابت رکه۔
10۔ اگر استطاعت رکهتا هو تو عید قربان کے موقع پر امام زمانه علیه السلام کی نیابت میں قربانی کرے۔(بحواله نجم الثاقب)
۱۱۔ حضرت کا جو اصلی نام هے وه رسول الله کا نام هے احترام کے لیے حضرت کا نام نه پکارے بلکه آپ کے جو القاب هیں ان میں سے کسی لقب کے ذریعے آپ کو پکارے قائم منتظر، حجت، مهدی، امام غائب، بعض روایات میں تو حضرت کے نام کو عام طور پر ذکر کرنے سے سختی سے منع کیا گیا هے۔(بحواله کمال الدین ج۲ص۲۵۳)
12۔ جب حضرت کا نام لیا جائے تو آپ کے احترام کے لیے کهڑا هو جانا چاهیے خاص کر جب آپ کے القاب میں سے قائم کا لقب پکارا جائے تو استقبال کے لیے کهڑے هو جائیں (نجم الثاقب ص۴۴۴)
13۔ حضرت کی همراهی میں دشمنان خدا سے مقابله کرنے کے لئے اسلحه وغیره آماده کرنا بحارالانوار میں غیبت نعمانی سے امام جعفر صادق علیه السلام کی حدیث بیان کی گئی هے۔
ضروری هے که آپ میں سے هر ایک حضرت قائم علیه السلام کے ظهور کے لیے جنگی آلات مهیا کر کے رکهے اگرچه ایک تیر هی کیوں نه هو امید هے که جس کی یه نیت هو الله تعالیٰ اسے حضرت قائم علیه السلام کے اصحاب میں سے قرار دے گا۔(بحارالانوار ج۴۹ ص۱۹۲)
اسلحه لینے کا مطلب یه هوا که جنگی مهینوں کی تربیت بهی اس نیت سے حاصل کرے که حضرت قائم علیه السلام کے دشمنوں سے مقابله کرے اور اسلام کو پوری دنیا میں پهیلانے کے لیے اسلام دشمن طاقتوں کی نابودی کا سامان مهیا کرے۔
14۔ مشکلات میں حضرت علیه السلام کو وسیله قرار دے کر آپ کی خدمت میں اپنی حاجات پر مشتمل عریضه ارسال کرے۔(بحارالانوار ج۲۵ص ۹۸۱) عریضه یا تو آئمه اطهار علیهم السلام اور حضرت نبی کی ضریحوں میں ڈالا جائے یا دریا، سمندر، کنویں میں ڈالا جائے حضرت خضرت علیه السلام کو اس عریضه کے پهچانے کا وسیله بنایا جائے بهرحال یه عمل یا اسی طرح کے باقی اعمال جو هیں یه سب امت مسلمه کے ذهن میں یه بات بٹهانے کے لئے هیں که حضرت مهدی علیه السلام موجود هیں وه اصل همارے رهبر هیں ان کے ذریعه تمام مشکلات اور مسلمانوں کے مسائل حل هوں گے ان کی نصرت کے لیے تیار رهنا چاهیے۔ (بحارالانوار ج۴۹ص۹۲)
15۔ خدا سے سوال کرتے وقت خداوند کو امام زمانه علیه السلام کے حق کی قسم دی جائے اور حضرت علیه السلام کو اپنا شفیع اور سفارشی بنائے (بحواله اکمال الدین)قدم رهیں گے کم ترین ثواب اور بدله جو الله ان کو دے گا وه یه هو گا که خداوند کی طرف سے ان کو آواز آئے گی اے میرے بندو اور اے میری کنیزو تم میرے سرو راز پر ایمان لے آئے هو اور میری غائب حجت کی تم نے تصدیق کی هے تم کو بدله اور ثواب کی بشارت هو میں تمهارے اچهے اعمال کو قبول کروں گا اور تمهارے برے اعمال سے عفو در گزر کرو ں گا تمهارے گناهوں کو بخش دوں گا اور تمهاری برکتوں سے اپنے بندوں پر بارش برساوں گا اور ان کی مصیبتوں کو ٹالوں گا اگر تم لوگ نه هوتے تو میں ان پر اپنا عذاب بهیجتا۔ راوی نے سوال کیا که اس زمانه میں کونسا عمل تمام اعمال سے بهتر هے؟ تو آپ نے فرمایا که اپنی زبان کو کنٹروں میں رکهو اور گهروں میں رهو۔(اکمال الدین ص۵۳۳)
که ضرورت اور اسلام کے مفاد کے لیے تو دوسرے افراد سے رابطه اور تعلق رکهو اس کے علاوه تمهارا دنیا والوں سے میل جول نهیں هونا چاهیے اسی میں تیری اور خیر هے۔
16۔ حضرت مهدی علیه السلام پر درود و سلام زیاده بهیجا جائے هر نماز کے بعد آپ پر سلام پڑها جائے اس کے لیے مفاتیح الجنان اور دوسری دعاوں کی کتابوں کی طرف آپ رسول (ص)کر کے کسی زیارت نامه کا انتخاب کر سکتے هیں۔
17۔ حضرت مهدی علیه السلام کے فضائل و کمالات کو بهت بیان کیا جائے کیونکه آپ اس دور میں ولی نعمت میں اور خداوند کی تمام ظاهری اور باطنی نعمتوں میں آپ هی واسطه هیں یعنی آپ فیض رسائی کا وسیله هیں۔ (بحواله مکارم الاخلاق طبرسی ص ۲۲۴)
18۔ حضرت مهدی علیه السلام کے جمال مبارک کی زیارت کا اشتیاق رکهنا اور اس شوق کا اظهار کرنا امیر المومنین علیه السلام اپنے سینه کی طرف اشاره فرما کر شوق کا اظهار فرماتے تهے۔(کمال الدین ج۱ص۱۹۲)
19۔ لوگوں کو حضرت مهدی علیه السلام کی معرفت حاصل کرنے پر آماده کرنا کافی هے سلیمان بن خالد سے مروی هے که وه کهتا هے میں نے امام صادق علیه السلام سے عرض کیا که میرے رشته دار هیں خاندان والے هیں اور میری بات کو سنتے هیں کیا میں اس کو اس امر کی دعوت دوں تو آپ نے فرمایا جی هاں! خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا! اے وه لوگوں جو ایمان لائے هو اپنی جانوں کو اور اپنے گهروالوں "خاندان" کو اس آگ سے بچاو جس کا ایندهن لوگ اور پتهر هیں۔(سوره تحریم آیت۶)
20۔ دشمنوں کی طرف جو مصائب آئیں ان کو برداشت کیا جائے مصائب اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابله کیا جائے امام حسین علیه  السلام فرماتے هیں جو مومن بارهویں امام کی غیبت کے زمانه میں دشمنوں کی اذیت اور ان کے حقائق کو جهٹلانے پر صبر کرے، برداشت سے کام لے، گهبرائے نه وه ایسے هے جس طرح اس نے حضرت رسول کی همراهی میں جهاد کیا هو یعنی رسول الله کی رقاب میں جهاد کرنے کا ثواب اسے ملے گا۔(اکمال الدین ج۱ص۷۱۳)۔
21۔ مومنین انپے نیک اعمال کو امام زمانه علیه السلام کی خدمت میں بطور هدیه پیش کریں جیسی قرآن پاک کی تلاوت نوافل نبی اکرم اور آئمه اطهار علیهم السلام کی زیارت حج، عمره، مجلس عزا ماتم عزاداری وغیره۔
22۔ حضرت مهدی علیه السلام کے لیے آپ کے ظهور میں تعجیل کے لیے آپ کی سلامتی کے لیے آپ کے مصائب دور هونے کے لیے دعائیں مانگنا روایات میں هے که آپ لوگ حضرت مهدی علیه السلام کے ظهور کی تعجیل کے لیے بهت دعا کریں کیونکه آپ لوگوں کی فتح و کشادگی فتح و نصرت اسی میں هو گی۔
(بحواله الاحتجاج ج۲ص۰۸۲) امام حسن عسکری علیه السلام سے روایت هے یه دعا کرنا جو هے یعنی امام مهدی علیه السلام کے ظهور کے تعجیل کے لیے دعا مانگنا ایمان پر ثابت قدم رهنے کا سبب هے۔(بحواله اکمال الدین ج۲ص۴۸۳)
مفاتیح الجنان میں امام مهدی علیه السلام کے ظهور کی تعجیل آپ کی سلامتی آپ کے ساته روزانه تجدید بیعت کرنے کے لیے متعدد دعائیں موجود هیں آپ کچه دعاوں کا انتجاب کرکے ان کا ورد رکها کریں خاص کر دعائے ۔اللهم کن لولیک الحجة الحسن صلواتک علیه وعلی آبائه فی هذه الساعة و فی کل ساعة ولیا و حافظا و قائداو و دلیلا و ناصرا و عینا حتی تسکنه و عرضک طوعا و تمتعه فیها طویلا اللهم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجهم.
اور صبح کے وقت تجدید کی دعا، اللهم بلغ مولای صاحب الزمان صلوات علیه عن جمیع المومنین والمومنات۔
حضرت کے ظهور کی خاطر دعا مانگنے کے بعد زیاده فائدے هیں ان میں چندایک یه هیں۔
۱۔ عمر کی طولانی هونے کا سبب هے۔ (مکارم الاخلاق ص۴۸۲)
۲۔ دعا مانگنا ایک قسم کا امام زمانه علیه السلام کا جو هم پر حق بنتا هے اسے ادا کرنا هے۔(کافی ص۰۷۱)
۳۔ حضرت مهدی علیه السلام کے لئے دعا کرنے والے کو رسول اکرم کی شفاعت نصیب هو گی۔(اطفال ص۶۹۱)
۴۔ دعا کرنے والے کی خدا مدد فرمائے گا۔
۵۔ دعا کرنے سے امام زمانه علیه السلام خوش هوتے هیں اور امام علیه السلام کے دل کو خوش کرنے کا بهت ثواب هے۔
۶۔ جو شخص امام علیه السلام کے لیے دعا مانگتا هے تو امام علیه السلام اس کے لیے دعا مانگتے هیں۔
۷۔ اس دعا کا ثواب اتنا ملے گا جس طرح کسی نے تمام مومنین و مومنات کے لیے دعا مانگی اور خدا کے فرشتے اس شخص کے لیے دعا مانگتے هیں۔
۸۔ دعا کرنا امام مهدی علیه السلام سے محبت اور دوستی کا اظهار هے اور یه اجر رسالت هے۔
۹۔ غیب کے زمانه میں امام علیه السلام کے لیے دعا کرنے سے مصائب دور هوتے هیں۔
10۔ حضرت امام مهدی علیه السلام ظهور کی تعجیل کے لیے دعا کرنا در حقیقت خدا کے لیے پیغمبر اکرم(ص) کے لیے کتاب خدا کے لیے دین خدا کے لیے اور مسلمانوں کے لئے خیر خواهی هے کیونکه اس دعا کا ثمر یهی ملتا هے حضرت کے ظهور کی دعاو کا مطلب خدا کے نام کی سر بلندی، پیغمبر اکرم (ص)کے مشن کے غالب آنے، دین کے غلبه مسلمانوں کی شر کفار سے نجات اور کتاب خدا کے نفاذ کی خواهش هے جس کے اندر یه پانچ وصف پائے جائیں رسول فرماتے هیں میں اس کی بهشت کا ضامن هوں۔(اطفال ج۱ ص۱۴۱)
۱۱۔ حضرت مهدی علیه السلام کے لئے دعا کرنے والے کو مظلوم کی مدد کرنے کا ثواب ملتا هے۔
12۔ نبی کریم (ص)اور علی علیه السلام کی همراهی میں جهاد کرنے کا ثواب هے۔
13۔ حضرت مهدی علیه السلام کے ظهور کی دعا سے آپ ایک ایسے عمل میں شریک هو جاتے هیں که جس عمل کا ثواب تمام اعمال سے زیاده هے اور وه هے امام حسین علیه  السلام کے خون کا بدله چکانا۔
14۔ دعا کے معنوی فوائد کے علاوه بهت سارے ظاهری فائدے بهی هیں سب سے اهم بات یه هے که دعا کرنے والا اپنے اندر آمادگی محسوس کرنے لگتا هے که وه ایک بهت بڑے انقلاب کے لیے تیاری بهی کرتا هے۔
خداوند کریم هم سب کو توفیق دے که هم حضرت مهدی علیه السلام کی آمد اور آپ کے ظهور کے لئے سچے دل سے دعا کرنے والے هوں اور آپ کے ظهور کے مقدمات مهیا کرنے میں اپنا کردارادا کر سکیں فقط دعا کے کلمات کو زبان پر ادا کرنے کی حد تک نه رکهیں۔
15۔ آئمه اطهار علیهم السلام سے جو دعائیں منقول هیں ان کے مفاهیم پر توجه دینے میں حضرت مهدی علیه السلام کی عالمی حکومت کا خاکه آپ کی پالیسیاں آپ کے انصار اور معاونین کی ذمه داریوں کا بهی ادراک هوتا هے اور یه بهت بڑا فائده هے اس لیے روایات میں هے که آئمه اطهار علیهم السلام سے اس بات میں جو دعائیں منقول هیں ان کو پڑها جائے ویسے تو اپنی زبان میں بهی دعا مانگ سکتے هیں لیکن جو انداز دعا آئمه علیهم السلام کارها هے اس سے جو فوائد مقصود هیں ان سے هم بے بهره هوں گے۔
16۔ علماءاپنے علم کو ظاهر کریں جو جاهل اور نا واقف هیں ان کو سکهائیں که وه کسی طرح اپنے مخالفین کو جواب دیں اگر وه حیران و پریشان هوں تو ان کی حیرانگی اور پریشانی کو دور کریں یه مطلب بهت اهمیت رکهتا هے علماءکی ذمه داری هے که حضرت امام زمانه علیه السلام کے زمانه میں لوگوں کو گمراهی سے بچائیں اور بهٹکے هووں کو راسته دکهائیں دشمنان اسلام کے علمی حملوں کا جواب دیں لوگوں کو امام زمانه علیه السلام کی حکومت کے لیے تیار کریں ظلم اور ظالموں کا صفایا کر کے بکهرے هووں کو منظم کر کے ان کو مقابله کے لئے تیار کریں حدیث میں هے جو شخص همارے شیعوں کے دلوں کو مضبوط کرے (یعنی ان سے شکوک و شبهات کو دور کرے) وه ایک هزار عبادت گزاروں سے بهتر هے اور حدیث سے رسول الله کا فرمان هے جب میری امت میں بدعتیں ظاهر هو جائیں تو عالم پر واجب هے که وه اپنے علم کو ظاهر کرے اور اگر ایسا نه کرے گا تو اس پر خدا کی لعنت هے۔(الکافی ج۱ص ۳۳۔۴۵) اس حدیث کی روشنی میں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے جدوجهد کرنا عالم دین کی اهم ذمه داری قرار پائی هے اور اس کے لیے سیاسی عمل میں جانا ضروری هے اسلامی حکومت کا قیام هی بدعتوں کے خاتمے کا سبب هو گا، بعض علمائے کرام انفرادی بدعتوں کے خاتمے کے لیے تو اقدامات کرتے هیں لیکن اسلامی معاشروں میں جو اجتماعی بدعتیں هیں سوسائٹی میں جو خرابیاں اور فسادات هیں جرائم هیں ان کے خاتمه کے لیے جدوجهد نهیں کرتے حالانکه اجتماعی مفاسد اور بدعتوں کے خاتمه کے لیے جدوجهد کرنا انفرادی مفاسد کے خاتمه کی جدوجهد سے زیاده اهم هیں کیونکه اگر اجتماع درست هو گا ایک سوسائٹی میں اجتماعی بدعتوں کے خاتمه کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تو ان کے ضمن میں انفرادی برائیوں کا خاتمه بهی ساته ساته هوتا جائے گا یعنی اس عمل سے دونوں مقاصد حاصل هوتے هیں جب که افراد کی شخصی برائیوں کے خلاف بات کرنے پر اکتفا کرنا معاشره کی اجتماعی بیماریوں کو دور نهیں کر سکتا دیکهنے میں آیا هے که مومنین اپنے انفرادی اعمال میں نیک اور پارسا هوتے هیں لیکن اجتماعی کاموں میں وه دشمنان خدا کے آله کا ر بنتے هیں اور اپنے اجتماعی فرائض انجام دهی پر بالکل توجه هی نهیں کرتے یه علماءکی ذمه داری هے که وه اس حوالے سے بهی کام کریں۔
17۔ امام زمانه علیه السلام کے اپنی رعیت پر جو حقوق بنتے هیں ان کی ادائیگی کے لیے زبردست کوشش کی جائے هر شخص اپنی همت اور طاقت کے مطابق ان حقوق کو ادا کرے امام زمانه علیه السلام کی خدمت کرنے کوتاهی نه کریں امام صادق علیه  السلام نے اس وقت فرمایا جب حضرت قائم علیه السلام کی ولادت بهی نه هوئی تهی که اگر میں آپ کے زمانه میں هوتا تو جب تک زنده رهتا امام کی خدمت کرتا۔(بحارالانوار ج۱۵ ص۸۴۱)
دیکهے امام صادق علیه  السلام اتنی عظمت و جلالت کے باوجود کسی طرح حضرت قائم علیه السلام کی خدمت کرنے کے متعلق اظهار فرما رهے هیں امام علیه السلام کی خدمت کرنے کا مطلب آپ کے مشن کی خدمت کرنا اگر هم امام علیه السلام کے مشن کے لیے کام کر کے امام کے دل کو خوش نهیں کر سکتے تو آپ کے مشن کی مخالفت میں اقدامات کر کے امام علیه السلام کے دل کو غمگین و مخزون تو نه کریں۔
18۔ امام مهدی علیه السلام سے محبت کا اظهار کرے حدیث معراجیه میں هے رسول پاک فرماتے هیں معراج کی رات الله تعالیٰ کی طرف سے مجهے یه خطاب هوا کیا آپ چاهتے هیں که آپ کو آپ کے اوصیاءکا دیدار کراوں میں نے کها جی هاں تو الله نے فرمایا اپنے سامنے دیکهو جب میں نے دیکها تو میں نے اپنے باره اوصیاءکی درخشاں تصویروں کو دیکها اور میں نے دیکها که حضرت قائم علیه السلام ان باره میں سے روشن ستارے کی مانند چمک رهے هیں پس میں نے عرض کیا خدایا یه کون هیں؟ (ان کا اپنی زبان سے تعارف کروا دے) تو خطاب هوا یه بر حق آئمه هیں اور یه جو ان کے درمیان سب سے زیاده چمک رها هے یه میرے حلال کو حلال اور میرے حرام کو حرام کرے گا اور میرے دشمنوں سے بدله لے گا۔
اے محمد(ص)! اس سے محبت کرو اور اسے دوست رکهو کیونکه میں اسے پسند کرتاهوں اور اسے چاهتا هوں جو اسے دوست رکهے میں اسے دوست رکهتا هوں جب که تمام آئمهؑ سے محبت کرنا واجب هے خصوصیات کے ساته حضرت قائم علیه السلام سے محبت کرنے کا حکم دینے کا مطلب یه هے که ان سے محبت کرنے کو خاص اهمیت حاصل هے یعنی عمومی حکم کے علاوه خصوصی حکم آپ سے محبت اور دوستی کرنے کا دیا گیا هے۔
19۔ امام مهدی علیه السلام کے انصار اور مددگاروں اور آپ کے مشن کے لیے کام کرنے والوں کی کامیابی ان کی صحت و سلامتی کے لیے دعا مانگنا۔
20۔ امام مهدی علیه السلام کے دشمنوں آپ کے مشن و پروگرام کے مخالفین پر نفرین کرنا۔(بحواله الاحتجاج ص۶۱۳)
21۔ الله تعالیٰ سے یه سوال کرنا که خداوندا! همیں امام مهدی علیه السلام کے انصار اور معاونین سے قرار دے اور اپنے اندر وه صفات پیدا کرنا جو امام مهدی علیه السلام کے انصار کی صفات هیں۔
22۔ جب امام مهدی علیه السلام کے لیے مجالس و محافل میں دعا مانگی جائے تو بلند آواز سے دعا مانگی جائے کیونکه یه عمل تعظیم شعائر الله سے هے۔
23۔ امام مهدی علیه السلام کے انصار اور معاونین پر صلوات بهیجنا جیسا که صحیفه سجادیه کی دعائے عرفه میں هے اور بعض دوسری دعاوں سے بهی یه مطلب واضح هے۔
24۔ حضرت امام مهدی علیه السلام کی نیابت میں خانه کعبه کا طواف کرنا یا کسی کو بهیجنا که وه امام علیه السلام کی نیابت میں طواف کر آئے۔
25۔ حضرت امام مهدی علیه السلام کی نیابت میں حج کرنا۔
26۔ حضرت امام حسین علیه السلام کی زیارت کرنا، نیابت میں عمره بجالانا یا کسی کو نائب بنا کر بهیجنا۔
27۔ هر وقت یا جب بهی موقع ملے حضرت امام مهدی علیه السلام کے ساته تجدید بیعت کرے عهد و قرار داد باندهے بیعت کی نیت سے اپنے ایک هاته کو دوسرے هاته پر رکه کر کهے اے امام زمانه علیه السلام میں آپکا مومن هوں، آپ کا حامل هوں آپ کے پروگرام کا حامل هوں میری اس سے جنگ هے جس سے آپ کی جنگ هو گی آپ کے انصار اور آپ کے مشن کے لئے وقف هے میرا یه عهد قیامت تک کے لیے هے بهر حال امام زمانه علیه السلام سے بیعت اور عهد کرنے کے بارے میں بهی مخصوص دعائیں مفاتیح الجنان میں موجود هیں وهاں سے دیکه کر پڑه سکتے هیں روزانه صبح کی نماز کے بعد اگر یه عهد نامه پڑها جائے تو بهتر هے جیسا که روایات میں هے۔
28۔ امام زمانه علیه السلام کی نیابت میں امام حسین علیه  السلام کی زیارت کے علاوه باقی آئمه معصومین علیه السلام کے مزاروں پر جا کر زیارت پڑهنا یا کسی کو نائب بنا کر بهیجنا۔
29۔ مفصل کهتا هے که میں نے پوچها امام زمانه علیه السلام کی غیبت کا تذکره فرما رهے تهے که هم غیبت کے زمانه میں کیا کریں تو آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص دوران صاحب الامر هونے کا دعویٰ کرے تو اس سے ایسی چیزوں کا سوال کرو جن تک عام لوگوں کے علم کی رسائی نهیں هے جیسے حیوانات سے بات کرنا، نباتات و جمادات سے بات کرواناوغیره۔
30۔ اگر کوئی شخص غیبت کبریٰ کے زمانه میں دعویٰ کرے که وه امام زمانه علیه السلام کا خصوصی نائب هے تو اسے جهٹلایا جائے۔
31۔ امام زمانه علیه السلام کے ظهور کا وقت معین نه کریں اگر کوئی شخص ایساکرے تو اسے جهٹلایا جائے جو کچه روایامت میں حتمی علامات کے حوالے سے ذکر هے اسی کے بیان کرنے پر اکتفا کیا جائے امام صادق علیه  السلام سے روایات هے جو شخص آپ کے لیے (ظهور) کا وقت معین کرے اس سے ڈرو مت اور اسے جهٹلا دو کیونکه هم نے کسی ایک کے لیے وقت معین نهیں کیا هے۔(بحواله بقیة شیخ طوسی ص۲۶۲)
امام باقر علیه السلام فرماتے هیں جو لوگ (ظهورکا وقت معین کرتے هیں وه جهوٹ بولتے هیں)۔
(بحواله البقیة شیخ طوسی ص۲۶۲)
ظهور کے وقت کو معین نه کرنے میں مصلحت اور فائده هے جس کا علم امام علیه السلام کے ظهور کے بعد هو گا یه خدا کے رازوں میں سے ایک راز هے۔
32۔ دشمنوں سے چوکنے رهو اپنی حفاظت کا خیال کرودشمن کے چنگل میں آجاو تو اسے اپنا راز بیان نه کرو مقصد یه هے که عالمی اسلامی انقلاب کے قیام کے لیے جب کام شروع کرو گے تو اپنے معاملات سے دشمن کو مخفی رکهو اور اپنے پروگراموں میں محتاط رهو۔
33۔ گناهوں سے توبه کرنا اسلامی احکام پر سختی سے کار بند رهنا کیونکه امام علیه السلام کی غیبت کا سبب یه تها که امت راه حق سے پهر چکی تهی امت کے اندر اسلامی احکام کو نافذ کرنے کے لیے آمادگی نه تهی لوگ خدا کے نافرمان تهے اب جب که هم امام زمانه علیه السلام کی انتظار میں هیں تو همیں گناهوں کو ترک کرنا هو گا اسلامی احکام کےنفاذ میں سے پهلے اپنے اوپر کرنا هو گا اور اسی طرح خود کو عالمی اسلامی حکومت کے لیے آماده کرنا هو گا جو لوگ خدا کے نا فرمان هیں اسلامی احکام پر عمل نهیں کرنا چاهتے اسلام کے سیاسی اجتماعی احکام هوں یا انفرادی یا غیر سیاسی احکام هوں، سب پر عمل نهیں کرتے اور دعویٰ کرتے هیں که هم امام زمانه علیه السلام کے منتظر هیں وه جهوٹے هیں اور اپنے اس جهوٹ سے امام زمانه علیه السلام کو تکلیف دیتے هیں۔
34۔ خداوند سے یه دعا مانگی جائے که خدایا مجهے ایمان کی حالت میں حضرت قائم علیه السلام بن کر آئیں گے۔(بحواله روضه کافی ص۴۳۲)
35۔ امام مهدی علیه السلام کے فضائل بیان کر کے مومن کو چاهیے که وه دوسرے لوگوں کو حضرت کا حامی اور دوست بنائے۔
36۔ امام زمانه علیه السلام کے مشن کی ترویج کرنے کے لیے کچه افراد اپنے کو وقف کریں اسلام کی مکمل معلومات حاصل کریں یعنی عالم دین بنیں تا که لوگوں کو شیعیان آل محمد کو شیعیان امام زمانه علیه السلام کو گمراهی اور بے راه روی سے بچا سکیں۔
37۔ امام زمانه علیه السلام کا جو مالی حق هے یعنی خمس و زکوٰة اور خمس کا جو حصه مال امام هے اسے ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاهی نه کریں اور کوشش کریں که امام زمانه علیه السلام کے مشن کی ترویج کرنے پر اسے خرچ کریں خاص کر ان افراد پر جو علم دین حاصل کر رهے هیں کل عالم دین بن کر معاشره کی اصلاح کا بیڑا انهوں نے اُٹهانا هے اور امام زمانه علیه السلام کے پروگرام کو عملی جامعه پهنانے کے لیے لوگوں کو تیار کرنا هے۔
38۔ غیبت کے طولانی هونے پر مایوسی اپنے نزدیک نه آنے دو۔
39۔ امام زمانه علیه السلام کو هر وقت یاد رکهنے کے لیے بچوں، اپنی کمپنیوں، اداروں، جماعتوں، مساجد اور اجتماعات کی جگهوں کے ناموں میں امام مهدی علیه السلام کے القاب میں سے کسی نه کسی لقب کو لے آ۔
40۔ مرابطه کے عمل کو انجام دو، مرابطه دو قسم کا هوتا هے۔
۱۔ انسان اسلامی زمین کی حفاظت کے لیے اپنی ذمه داری ادا کرے کافروں کے حمله سے اپنی سر زمین کی سرحدوں پر ڈیوٹی ادا کرے اس کا بهت ثواب یه عمل هر دور میں هو سکتا هے اس کے لیے بهی عسکری ترتیب حاصل کرنا لازم هے اور حکومتوں پر بهی لازم هے اسلام میں یه عمل بهت بڑی عبادت هے۔
41۔ دشمن اسلام کا مقابله کرنے کے لیے اپنے اسلحه اور سواری کو هر وقت تیار رکهے یه علم جو هے امام زمانه علیه السلام کی غیبت کے دوران بالخصوص کرنے کو کها گیا هے اس کے لیے نه تو جگه معین هے اور نه هی وقت معین هے بلکه هر وقت شخص مومن آماده باش کی حالت میں رهے اس ضمن آتا هے که انسان ورزش کے ذریعه اپنے بدن کو متوازن رکهے اپنی صحت کا خیال رکهے جنگی فنون سے آگاهی حاصل کرے دشمنوں کامقابله کرنے کے لیے جو امور درکار هیں ان کو حاصل کرے جهاں پر دشمنان کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے خود کو آماده رکهے وهاں پر فکری اور نظریاتی میدانوں میں ٹیکنیکل میدانوں میں بهی مخالفین اسلام کو شکست دینے کے لیے تیار کرے اس کام کے لیے دینی جماعتیں تنظیمیں، دینی مدارس اهم کردار ادا کر سکتے هیں اور اگر کهیں پر اسلامی حکومت قائم هو جائے تو اس کے لیے ان امور کو انجام دینا بهت هی آسان کام هے جیسا که اس وقت سر زمین ایران پر هو رها هے۔
اس گفتگو کا خلاصه یه هے که هم پاکستان میں رهتے هیں پاکستان اسلامی سر زمین هے اس کی حفاظت کرنا تمام مسلمانوں کی ذمه داری هے دشمن کے حملوں سے بچاﺅ کے لیے همارے نوجوانوں کو شهری دفاع کی تربیت حاصل کرنا چاهیے اس طرح کیونکه هم سب لوگ پوری دنیا میں اسلامی حکومت کے قیام کے خواهاں هیں اور امام مهدی منتظرعلیه السلام هیں اس حوالے سے ایک عالمی اسلامی حکومت قائم کرنے کے جو تقاضے هیں ان کو پورا کرنے کے لیے بهی هم اپنے آپ کو هر پهلو اور حوالے سے آماده تیار کریں یه هماری اسلامی ذمه داری هے۔
خداوند تبارک و تعالیٰ سے عاجزانه دعا هے که وه همیں امام زمانه علیه السلام کے انصار اور معاونین میں سے قراردیں همیں صفات حمیده اور اخلاق حسنه کے زیور سے آراسته هونے کی توفیق دے دشمنان اسلام کی سازشوں کو سمجهنے اور ان کا توڑ کرنے کی توفیق دے خدایا هماری اس کوشش کوقبول فرمااور بصدقه محمد و آل محمد اس مقاله کو منتظرین امام زمانه علیه السلام کے لیے مفید قرار دے۔
آپ علیه السلام کے معامله میں تسلیم هو ان کے بارے میں جلدی نه کرے یعنی یه نه کهنا هو که ان کا ظهور کیوں نهیں هورها اب تو ظهور هو جانا چاهیے تها یه تو زیادتی هے ظلم هے بلکه خداوند کی حکمت اور مصلحت کے تحت وه غائب هیں اس پر رضائیت اور سر تسلیم خم کرنا چاهے اعتراض کے طور پر زبان شکوه نه کهولی جائے۔
امام زمانه علیه السلام کی سلامتی کی نیت سے صدقه دینا۔
حضرت امام زمانه علیه السلام کی زیارت پڑهنا۔