زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

◊ کاروان توحید کامکه سی کربلاتک کی منزلیس -فدا علی حلیمی

فدا علی حلیمی

كاروان توحيد كا مكه سے كربلا تك كي منزليں

کاروان حسینی جسے هم کاروان توحید سے تعبیر کرتے هیں ایک ایسا مقدس کاروان هے جسکی تاریخ انسانیت میں نظیر نهیں ملتا هے اس کاروان کا راهنما اور رهبر جنت کے جوانوں کے سردار نواسه رسول حضرت امام حسین علیه السلام هےآپ امام هے لیکن ایک ایسی رسالت  انجام دینا چاهتے هیں جو نه کسی نبی نے انجام دی هے اور نه کسی امام نے انجام دی هے اس رسالت کو پهنچانے کیلئے نه آپ کسی شهر میں گوشه نشین هو کر تبلیغ کرنا چاهتے هیں اور نه اسلحه اور فوج  لے کر جنگ کر کے اپنا پیغام پهنچانا  چاهتے هیں آپ کے سامنے  صرف ایک هی راسته موجود هے جو  آپ کو هدف تک پهنچاسکتا هےوه آپ اور اور آپ کے عزیزوں کی شهادت هے  آپ اسی راه کو اپنا لیتے هیں اور اپنے نانا کی امت کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر خواب غفلت سے بیدار کرتے هیں آپ کا کاروان اس رسالت کی انجام دهی کے لیئے مدینة الرسول سے نکلتے هیں اور مدینه پهنچ کرهی  آپ کے کاروان والوں کی ذمه داری ختم هو جاتی هے اور پھر امت کی باری شروع هو جاتی هےکه وه  آهسته آهسته آنکھیں ملتے هوئےبیدار هونے لگتی هے بقول شاعر مشرق علامه محمد اقبال :

 خون او تفسیر این اسرار کرد          ملت خوابیده را بیدار کرد

نقش الا الله بر صحرا نوشت                     سطرعنوان نجات ما نوشت

بهر حق در خاک و خون غلطیده است    پس بنای لا اله گردیده است.

اسی اهمیت کے پیش نظر آپ کے اس الهی اور انقلابی سفر کو جاودانی ملی اور تاریخ نے آپ کے اس سفر کے تمام لمحات کو ثبت کی هے کیونکه اس سفر کا  هرلمحه  لمحه اور هرلحظه لحظه صاحبان فکر ونظر کیلئے قابل غور هےاور بابصیرت افراد کیلئے درس اورباعث عبرت هے اس لئے هم اس مختصر مقاله میں مکه مکرمه سے لیکر کربلائے معلا تک کے هر منزل اور واقعات کا مختصر ذکر کریں گے.

پہلی منزل: تنعیم

اکثر کتب تاریخ سے معلوم ہو تا ہے کہ مکہ سے روانگی کے بعد پہلی منزل یہی تھی جو مکہ سے قریباً دوفرسخ اور دوسری روایت کے مطابق آٹھ فرسخ کی مسافت پر واقع ہے۔اسی منزل پر امام عالی مقامؑ کی ایک قافلہ سے ملاقات ہوئی جو یمن کے حاکم ,بُحیر بن اسحاق ,سے کچھ قیمتی مال واسباب لے کر یزید ملعون کی طرف روانہ تھا ۔چونکہ اس مال کے حقیقی مالک آپ ہی تھے اس لئے آپ نے وہ مال واسباب اپنے قبضہ میں لے لیااور ساربانوں سے فرمایا : تم میں سے جو شخص ہمارے ساتھ عراق آنا چاہے ہم اسے پورا کرایہ دیں گے اور جو یہاں سے واپس جانا چاہے اسے بقدرمسافت کرایہ(خرچ)  دے دیا جائے گا ۔چنانچہ کچھ لوگ آپ کے ہمراہ جانے پر رضامند ہو گئے اور کچھ وہیں سے کرایہ لے کر واپس چلے گئے ۔[1] جناب عبداﷲاوریحییٰ بن سعیدنے اسی منزل پر امام سے ملاقات کی اور امان نامہ پیش کیا۔[2]

دوسری منزل : صفاح

یہ منزل مکہ مکرمہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے اس منزل پر امام حسین (ع) کی مشہور شاعرفرزدق سے ملاقات ہوئی جو اپنی ماں کے ہمراہ بغرض حج کوفہ سے آرہاتھا ۔امام حسین ؑ  نے اس سے اہل کوفہ کے حالات دریافت کئے ۔فرزدق نے صحیح تجزیہ کرتے ہوئے کہا: « قلوب الناس معک وسیوفھم علیک والقضا ینزل من السماء واﷲ یفعل مایشاء».

لوگوں کے دل آپ ؑ کے ساتھ ہیں اور ان کی تلوار یں آپ کے بر خلاف ۔قضا آسمان سے نازل ہو تی ہے اور خداجو چاہتا ہے وہ کرتاہے ۔

 تیسری منزل:ذات عرق

جو کہ نجد وتہامہ کی حدفاصل ہے۔ اسی منزل پر بشربن غالب سے ملاقات ہوئی جو عراق سے آرہا تھا ۔امام حسین ؑ نے اس سے کوفہ والوں کی حالت دریافت کی۔اس نے دوسرے باخبر لوگوں کی طرح یہی جواب دیا:


" خَلَّفتُ القُلُوبَ مَعَکَ وَالسُّیُوفَ مَعَ بَنى أُمَیَّة"

ترجمہ :اس حال میں کوفه سے نکلا هوں که لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور ان کی تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں۔

امام نے اس کا یہ کلام سن کر فرمایا:

«صدَقَ أخُو بَنی أسَدٍ أنَّ الله یَفْعَلُ ما یَشاءُ وَ یَحْکُمُ ما یُرید»

اسدی بھائی نے سچ کہا !مگر خدا جو چاہتا ہے سو کرتا ہے اور جس بات کاارادہ کرتا ہے حکم دیتاہے ۔[3]

 چوتھی منزل:  بطن رُمّہ

یہ ایک وادی ہے اور اس کی ایک جگہ کا نام حاجز ہے ۔جہاں امام نے مختصر قیام فرمایا تھا۔ اسی مقام سے امام نے قیس بن مسہر صیداوی  کے ہاتھ اہل کوفہ کے نام اس مضمون کا خط بھیجا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حسین ؑ بن علی ؑ کا مکتوب ہے اپنے دینی بھائیوں کے نام  حمد الٰہی اور سلام مسنون کے بعد ۔مسلم بن عقیل (ع) کے خط سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمھارے حالات درست اور تمھارے درمیان ہماری نصرت اور طلب حق پر اتفاق رائے پایاجاتا ہے ۔میں نے بارگاہ ایزدی میں دعاکی ہے کہ وہ انجام بخیر کرے اور تمہیں اجر عظیم عطا کرے میں آٹھویں ذی الحجۃ سے مکہ سے تمھاری طرف روانہ ہو چکا ہوں ۔جب میرا قاصد پہنچے تو تم جلدی اپنے انتظامات مکمل کر لو کیونکہ میں انہی دنوں میں تمھارے ہاں پہنچنے والاہوں ۔

قیس بن مسہر صیداوی  قادسیہ پہنچ کر حصین بن نمیر کے ہاتھوں گرفتارہوگئے۔ جب اس نے تلاشی لینا چاہی تو جناب قیس نے افشائے راز کے اندیشہ سے خط پھاڑڈالااور اس نے انہیں گرفتار کر کے ابن زیاد کے پاس بھیج دیا ۔

پانچویں منزل : بعض العیون

حاجز سے روانہ ہو کر امام عالی مقام ؑ عربوں کے ایک چشمہ پر پہنچے اور وہاں عبداﷲ بن مطیع عدوی سے ملاقات ہوئی ۔آپ ؑعربوں کے جس چشمہ سے گزرتے وہاں کے چند آدمی اس خیال کے تحت آپ کے ہمراہ ہوجاتے تھے کہ شاید امام ؑ عراق جاکر تخت وتاج کے مالک بنیں گے ۔اور امامت کے ساتھ سلطنت بھی جمع ہوجائے گی ۔[4]

چھٹی منزل :  خزینہ

آنجناب ؑ بعض العیون سے روانہ ہو کر مقام خزینہ پر پہنچے اور وہاں ایک شب وروز قیام کیا ۔بعض اخبار وآثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی منزل پر ایک واقعہ درپیش آیا۔وہ یہ کہ جب صبح ہوئی تو جناب زینب علیا مکرمہ ؑ نے خدمت امام میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ رات کے وقت جب میں کسی کام کے لئے باہر نکلی تو سنا کہ کوئی ہاتف غیبی یہ شعر پڑھ رہا ہے:

الا یا عینُ فاحتفلی بجھدٍ

ومن یبکی علیٰ الشھداء بعدی

علی قوم تسوقھم المنایا

                                                                                                 بمقدار الی انجاز وعد

 اے آنکھ پوری کو شش سے آنسو بہا اور بھلا میرے بعد شہداء پر کون روئے گا ۔اس گروہ پر جن کو موت( ایفائے عہد کے لئے ) ہانک کرلے جارہی ہیں ۔[5]

ساتویں منزل :  زَروُد

سابقہ منزل سے روانہ ہو کر جناب امام حسین (ع) منزل زرود پر وارد ہوئے ۔اس منزل پر جو قابل ذکر واقعہ پیش آیا وہ جناب زہیر بن القین بجلی ،کی امام ؑ سے ملاقات اور پھر اس کے نتیجہ میں ان کی آپؑ کے انصار واعوان میں شمولیت ہے ۔جناب زہیر بن القین، عثمانی عقیدہ رکھتے تھے لیکن امام ؑ کی اس مختصر سی ملاقات نے اس کو حسینی بنادیا۔[6]

آٹھویں منزل :ثعلبیہ

منزل زرود سے روانہ ہو کر امام عالی مقامؑ نے دوسرے روز شام کو ثعلبیہ کےمقام پر قیام فرمایا ۔اسی منزل پرآنجناب ؑ کوحضرت مسلم بن عقیل ؑاورہانی بن عروہ کی شہادت کی اطلاع ملی ۔جب یہ غم انگیز خبر سنی تو امام ؑنے کئی بار فرمایا:

 «اِنَّا للّہ وانّا الیہ راجعون رحمۃاﷲعلیھما»[7]

نویں منزل : زبالہ

منزل ثعلبیہ میں رات گزار نے کے بعد صبح سویرے اگلی منزل کے لئے کافی پانی ہمراہ لیااورآگے ر وانہ ہوئے اور منزل زبالہ پر جاکرقیام فرمایا اور یہی منزل ہے جہاں پہنچ کر امام عالی مقام  ؑ کو قیس بن مسہرصیداوی  کی شہادت کی خبر غم ملی۔یہاں سے وہ لوگ جو صحیح صورت حالات سے ناواقف تھے اور محض خوش آئند توقعات کے تحت ہمراہ ہوگئے تھے۔ علیٰحدہ ہو کر دائیں بائیں جانب روانہ ہو گئے اور راستے میں شامل ہونے والوں میں سے صرف وہی لوگ آپؑ کے ہمراہ باقی رہ گئے جو سعادت ابدی پر فائز ہو گئے.[8]

دسویں منزل: بطن عقبہ یاعقیق

توحید کا یہ عظیم کاروان جب اس منزل پر پہنچا تو آپ کی بنی عکرمہ کے ایک شخص عمروبن لواذن سے ملاقات ہوئی ۔اسی منزل پربروایت حضرت امام جعفرصادقؑ آپ ؑنے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:

ماارانی الاّ مقتولاً’’

میں ضرور شہید کیا جاؤں گا ۔[9]

گیاہویں منزل :  شِراف

امام حسین ؑ اورآپؑ کے ساتھیوں نے رات منزل عقبہ میں گزاری اور صبح ہوتے ہی وہاں سے آگے روانہ ہوئے ۔اور منزل شِراف میں جاکر قیام فرمایا ۔صبح سویرے وہاں سے آگے بڑھے اور روانگی سے قبل ا ٓنجنابؑ کے حکم سے بہت سا پانی ہمراہ لے لیا گیااورپھر مسلسل یہ قافلہ رواں دواں رہا ۔یهاں تک  کہ دوپہر کا وقت ہو گیا ۔قادسیہ سے چند میل کے فاصلے پر اصحاب امام حسین ؑ میں سے ایک شخص نے اچانک نعرئہ تکبیر بلند کیا۔ حضرت امام حسین ؑ نے فرمایا:

 «اﷲ اکبر لِمَ کَبَّرْتَ»

        بے شک ا  ﷲبزرگ وبرتر ہے مگر اس وقت نعرئہ تکبیر بلند کر نے کا سبب کیا ہے ؟

اس نے عرض کیا : میں کچھ کھجوروں کے درخت دیکھ رہا ہوں ۔اصحاب امام ؑ میں سے بہت سے آدمیوں نے کہا :بخدا ہم نے تو اس جگہ کبھی کو ئی کھجور کا درخت نہیں دیکھا۔امام ؑ نے فرمایا:تمہیں کیا دیکھائی دیتا ہے ؟انہوں نے عرض کیا کہ ہمیں تو گھوڑوں کے کانوں کے سواکچھ بھی نظر نہیں آتا۔ امام ؑ نے فرمایا : بخدا میں بھی یہی دیکھ رہاہوں ۔یہ کیفیت دیکھ کر امام عالی مقام ؑ نے فرمایا:    کیا یہاں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جسے پشت پر قرار دیتے ہوئے دشمنوں کا مقابلہ کر سکیں،، ۔

بارہویں منزل :زوحسم

اصحاب نے عرض کیا کہ یہیں آپ کی بائیں طرف زوحسم کی پہاڑی موجود ہے.چنانچہ امام اور آپؑ کے اصحاب باوفا نے اسی طرف کا رخ کیا ۔ادھردشمن کی فوج بھی قریب آپہنچی جب انہوں نے امام ؑ کے قافلہ کا ادھر رخ  کرتےدیکھا تو وہ بھی اسی طرف متوجہ ہوگئے ۔مگر امام حسین ؑ نے ان سے پہلے وہاں پہنچ کر اپنے خیمے نصب کر لئے۔ اتنے میں حُربن یزید ریاحی بھی قریباً ایک ہزار فوج کادستہ لے کر قریب آپہنچا ۔مگر بغیر آب وگیاہ اس ریگستانی میدان میں امام ؑ کے سدّ راہ ہونے کے سلسلہ میں غیر معمولی تگ ودو کی وجہ سے حر اور اس کے ہمراہیوں نیز ان کی سواریوں کا برا حال ہو رہا تھا۔ ادھرامام ؑ جو کہ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ سروں پر عمامے باندھے اور ہاتھوں میں تلواریں لیے کھڑے تھے ۔جب امام ؑنے شدت پیاس سے ان کی تباہ حالی دیکھی تو رحمۃ للعالمین اور ساقی کوثر کے کریم فرزند سے ان کی یہ حالت دیکھی نہ گئی ۔آپ ؑنے اپنے جوانوں کو حکم دیا کہ ان کی پوری فوج کو مع ان کے گھوڑوں کے سیراب کرو ۔    حکم امام ؑ ملتے ہی تعمیل شروع ہو گئی ۔اصحاب امام ؑ بالٹیاں اور طشت پانی سے بھرتے اور ہرگھوڑے کے سامنے رکھتے ۔جب وہ تین چار بار منہ بلند کر لیتا ۔تب دوسرے گھوڑے کے سامنے لے جاتے ۔اسی طرح سب سواروں اور سواریوں کو سیراب کیا گیا۔ علی بن طعان محاربی (جوکہ حر کا سپاہی تھا)بیان کرتا ہے کہ میں شدت پیاس سے بالکل نڈھال تھا اور سب کے ا ٓخر میں پہنچا ۔جب امام حسین ؑ نے میری اور میری سواری کی بد حالی کودیکھاتو آگئے بڑھ کرفرمایا:

        اِنح الراویة ’’  سواری کو بٹھالو۔’’   

: چونکہ میں ‘‘راویہ’’ کا مطلب مشکیزہ سمجھا تھا ۔اس لیے کلام امام ؑ کا مطلب نہ سمجھ سکا۔ امام نے پھر فرمایا

‘‘انح الجمل’’ اونٹ کو بٹھالو۔

میں نے اونٹ کو بٹھا یا ۔حضرت امام حسین ؑ نے مشکیزہ پیش کرتے ہوئے فرمایا : پیو ۔مگر میری پریشان حالی کی یہ صورت تھی کہ پانی پینے کی کو شش کرتا مگر پانی زمین پر بہہ جاتا ۔امام ؑ نے فرمایا : دہانے کو اپنی طرف پھیرو۔مگر میں اپنی بد حواسی کی وجہ سے پھر بھی مطلب نہ سمجھ سکا ۔اس وقت امام ؑ نے خود اٹھ کر مشکیزہ کے دہانے کو درست کیا تب میں نے سیر ہو کر پانی پیا اور اپنی سواری کو بھی پلایا.[10]

تیرہویں منزل : بیضہ

منزل ذی حسم سے روانہ ہو کر جناب سید الشہداء ؑ منزل بیضہ پر پہنچے جو کہ واقصہ اورعذیب الھجانات کے درمیان واقع ہے ۔ اس منزل میں امام عالی مقام ؑ نے حر اور اس کی سپاہ کے سامنے ایک معرفت اور ہدایت سے بھر پور ،خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبہ میں حمد وثنا کے بعد فرمایا: ....فلکم فِیَّ اُسْوَۃٌ۔۔۔  

[11] میرا کردار تمھارے لئے نمونہ اور قابل تأ سّی ہے ۔

چودہویں منزل : عذیب الھجانات

منزل بیضہ سے روانہ ہو کر امام حسین ؑ نے عذیب نامی مقام پر قیام فرمایا ۔تھوڑے فاصلہ پرحرنے بھی اپنے سپاہیوں سمیت قیام کیا۔اسی منزل پر کوفہ سے آئے ہو ے پانچ آدمی، ہلال بن نافع بجلی ،عمروبن خالدصیداوی اس کا غلام سعد اور مجمع بن عبداﷲ مذحجی اوران کو راستہ بتانے والا طرماح بن عدی امامؑ کی خدمت میں حاضرہو ئے تو حر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھا کہ ’’یہ اہل کوفہ ہیں اس لیے میں ان کو گرفتار کرتا ہوں یا کوفہ واپس بھجوادوں گا ۔‘‘مگر امام نے یہ فرماکر کہ اب چونکہ یہ میرے پاس پہنچ گئے ہیں۔ لہٰذا یہ میرے انہی اعوان وانصار کی طرح ہیں جو پہلے سے میرے ساتھ آئے ہیں اور اب یہ میری حفاظت میں ہیں ۔یہ سن کر حر رک گیا۔[12]

پندرہویں منزل : قصر بنی مقاتل

        امام عالی مقام ؑ جب اس منزل پر پہنچے تو یہاں قیام فرمایا ۔دیکھا کچھ خیمے نصب ہیں۔

دریافت کر نے پر معلوم ہوا کہ یہ عبیداﷲ بن حُر جعفی کے خیمے هیں ۔جو کوفہ کے مشہور شہسواروں میں سے تھا ۔امامؑ نے حجاج بن مسروق جعفی کو جو امام کا مؤذن تھا اسے بلانے کے لیے بھیجا ۔جب قاصد نے جا کر امام ؑ کا پیغام دیا تو اس بد قسمت نے کہا:

انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون،،’’

میں نے کوفہ اسی لیے چھوڑا تھا کہ جب امام حسین ؑ کوفہ میں داخل ہوں تو میں وہاں موجود نہ ہوں .میں ہر گز نہیں چاہتا کہ وہ مجھے دیکھیں اور میں ان کو دیکھوں .[13]اسی منزل پر عمرو بن قیس مشرقی اور اس کا چچازاد بھائی سے بھی ملاقات ہوئی ۔انہوں نے کثیر العیال اور لوگوں کی امانتیں زیادہ ہونے کابہانہ بنا کر امام عالی مقام  ؑکا ساتھ دینے سے گریز کیا۔

سولہویں منزل :  نینوا

امام حسین ؑقصر بنی مقاتل سے روانہ ہو کر متواتر سفر طے کرتے ہو ئے نینوا کی سر زمین میں پہنچے ۔نینوا، غاضریہ اور شفیہ وہاں اس زمانہ میں چھوٹی چھوٹی بستیاں تھیں ۔حر بھی اپنی سپاہ کے ہمراہ آپؑ کے ساتھ ساتھ تھا۔ جب قافلہ اس مقام پر پہنچا تو کوفہ کی طرف سے ایک مسلح ناقہ سوار آتا ہوا دکھائی دیا ۔ اسے دیکھ کر سب رک گئے ۔جب قریب آیا تو اس نے حر اور اس کے ساتھیوں پر سلام کیا ۔مگر امام حسین ؑ اور ان کے اصحاب پر سلام نہ کیا ۔اس کے بعد اس نے حر کو ابن زیاد کا ایک خط دیا جس میں لکھا تھا:

«امّا بعد فجعجع بالحسین حین تأتیک کتابی ھذا یقدم علیک رسولی ولا تنزلہ الاّ بالعراء فی غیر خضرٍ وعلیٰ غیر ماء وقد امرت رسولی  ان یلزمک ولا یفارقک حتی یا تینی بانفاذک امری والسلام۔»

جب میرا خط ملے تو وہیں حسین کو روک لو اور ان کو بے آب وگیا ہ جگہ پر اترنے پر مجبور کردو۔میں نے اپنے قاصد کو کہہ دیا ہے کہ یہ تمہارے ساتھ رہے یہاں تک کہ میرے حکم کی تعمیل کی مجھے اطلاع دے۔

اس کے بعد امام حسین ؑ نے حر سے فرمایا: ہمیں تھوڑا آگے چلنے دو۔ چنانچہ ابھی آپ نے تھوڑا ہی راستہ طے کیا تھا کہ حرنے اپنی سپاہ کے ساتھ آگے آکر راستہ روکا۔ امام ؑ نے دریافت کیا:ما اسم ھذہ الارض؟

اس جگہ کا نام کیا ہے ؟

عرض کیا گیا کہ اسے کربلا کہتے ہیں۔

«فدمعت عیناہ وقال اللّھم اِنِّی اعوذبک من الکرب و البلاء ھذا موضِعُ کَربٍ وَبَلاء ،اِنْزِلُوا ھَاھُنَا مَحَطُّ رِحَالِنَا وَمَسْفَکُ دِمَائِنَا وَھُنَا مَحَلُّ قُبُورِنَا  بِھَذَاحَدَّثَنِی جَدِّی رسولُ اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم»۔

امام حسین ؑ نے آبدیدہ ہو کر فرمایا :یااﷲ ہم کرب وبلا سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔پھر فرمایا:یہ رنج والم کا مقام ہے۔( اس کے بعد حکم دیا ) اتر جاؤیہی ہماری سواریاں بٹھانے کی جگہ ہے، یہی ہمارے خون بہانے کا مقام ہے،یہی ہماری قبروں کا مقام ہے۔ میرے نانا جناب رسول خدا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اسی جگہ کی اطلاع دی تھی .[14]

 



-طبری،تاریخ طبری ج6/218،مقتل خوارزمی ج1/220.[1]

[2] -ابن سعد، الطبقات الكبري، ترجمه محمود مهدوى دامغانى،ج5 ص 86 تهران، انتشارات فرهنگ و انديشه، 1374ش

- عباس قمی،نفس المهموم/93.[3]

-ابن اثیر،البدایة والنهایة ج8/168[4]

-ابن نما حلی،مقتل ابن نما/23.[5]

-ارشاد /239[6]

-فرهاد میرزا،قمقام زخار/292.[7]

-ابن طاوس،لهوف /64،ارشاد/240.[8]

- ابن قولویه،کامل الزیارات /75.[9]

-ارشاد /242،تاریخ طبری ج6/227.[10]

-نفس المهموم /102،طبری ج6/229.[11]

-بحر العلوم،مقتل الحسین/199.[12]

-ارشاد /245.[13]

-لهوف /71،نفس المهموم /111،مقتل الحسین/208.[14]