زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها


عظمت اہلیبت علیھم السلام نہج البلاغہ کی روشنی میں

نگارش :نثارحسین عاملی برسیلی

مقدمہ :اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےانسان کو خلق فرمایااوراسے اپنابنائے رکھنے کیلئے ہادی وراہنمابھی انتخاب فرمائے اللہ نے ان ہادیوں کو یہ فرض سونپاکہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائیں ،اللہ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجاتوبھی اسی دعوت کوبعثت کی وجہ قراردیا : وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ اللَّهِ فَضْلاً كَبِيراً

،،اورتجھے اللہ کےحکم سے اسی کی طرف دعوت دینے والااورروشنی عطاکرنے والاچراغ قراردیاہے ،،(احزاب 33:47)

خداوند کریم نے انسان کو دوسروں کی غلامی سے نجات دلانے اورتاریکیوں سے نکانےکیلئے قرآن مجید جیسانورنازل فرمایااوراپنے حبیب کو ارشادفرمایا : كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ

،، یہ وہ کتاب ہے جو ہم نے تجھ پرنازل کی تاکہ تواپنے پرودگار کے فرمان سے لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے ،،(ابراہیم:1)

پیغمبراکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک کیلئے نبی ہیں اس لئے آپ نے اس دنیاسے جانے سے پہلے قیامت تک کی امت کے لئے ہدایت کاذریعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:ا نِّي تارِكٌ فِيكُمْ ما إنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدي، أَحَدُهُما أَعْظَمُ مِنَ الآخَرِ: كِتابُ اللهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّماءِ إلَى الأرْضِ، وَعِتْرَتِي أهْلُبَيْتِي، وَلَنْ يَفْتَرِقَا حَتّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ

،، میں آپ کے درمیان دو گران بہا چیز یں چھوڑے جارہاہوں ایک اللہ کی کتاب اوردوسری میری عترت واہل بیت ،جب تک ان دونوں کے ساتھ متمسک رهوگے هرگز گمراہ نہ هوگے یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ هونگے ،یهاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پہ پهنچ جائیں ۔(حدیث ثقلین)

جناب امیرالمومنین ؑ نہج البلاغہ میں اس مقصد کو یوں بیان فرمایا ہے : بلاشبہ ائمہ علیھم السلام اللہ کی طرف سے مخلوقات پر اس کے مقرر کردہ حاکم ہیں اوراللہ کے بندوں کو اس کی معرفت کروانے والے ہیں ۔(نہج البلاغہ خطبہ 150)

اس مختصر مقالے میں ہم ثقل اصغر (اہل بیت علیھم السلام)کی عظمت سے آشنائی کیلئے مولائے کائنات باب العلم علی علیہ السلام کی گرانقدرکتاب نہج البلاغہ میں موجودبکھرے ہوئے موتیوں کو اپنے بے متاع ہاتھوں سے ایک مالامیں پرونے کی کوشش کی ہے ۔

(1)اہلبیت ؑ کی معرفی بزبان علی ؑ

امیرالمومنین ؑ نے اپنے بیان میں متعدد بار اورمختلف انداز سے اہلبیت ؑ کا ذکر کیا ہے ۔اس میں سے کچھ اقتباس مندرجہ ذیل ہیں

خطبہ 2: میں ارشادفرماتے ہیں  آل النبي عليه الصلاة و السلام هُمْ مَوْضِعُ سِرِّهِ وَ لَجَأُ أَمْرِهِ وَ عَيْبَةُ عِلْمِهِ وَ مَوْئِلُ حُكْمِهِ وَ كُهُوفُ كُتُبِهِ وَ جِبَالُ دِينِهِ

بِهِمْ أَقَامَ انْحِنَاءَ ظَهْرِهِ وَ أَذْهَبَ ارْتِعَادَ فَرَائِصِهِ ،وہ سر خداکے امین اوراس دین کے پناہ ہیں علم الٰہی کے محزن اورحکمتوں کے مرجع ہیں ،کتب آسمانی کی گھاٹیاں اوردین کے پہاڑ ہیں ،انہی کے ذریعہ اللہ نے اس کی پشت کا خم سیدھا کیا اوراس کے پہلووں سے ضعف کی گھبراہٹ کو دورکی۔

لَا يُقَاسُ بِآلِ مُحَمَّدٍ ( صلى‏الله‏عليه‏وآله )مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَحَدٌ وَ لَا يُسَوَّى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَيْهِ أَبَداً هُمْ أَسَاسُ الدِّينِ وَ عِمَادُ الْيَقِينِوَ لَهُمْ خَصَائِصُ حَقِّ الْوِلَايَةِ وَ فِيهِمُ الْوَصِيَّةُ وَ الْوِرَاثَة الْآنَ إِذْ رَجَعَ الْحَقُّ إِلَى أَهْلِهِ وَ نُقِلَ إِلَى مُنْتَقَلِهِ اس امت میں کسی کو آل محمدؐپر قیاس نہیں کیاجاسکتا،جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہیں وہ ان کے برابرنہیں ہوسکتے ۔وہ دین کی بنیاداوریقین کے ستون ہیں آگے بڑ ھ جانے والے کوان کی طرف پلٹ کر آنا ہے اورپیچھے رہ جانے والےکو ان سے آکر ملنا ہے ۔حق ولایت کی خصوصیات انہی کیلئے ہیں اورانہیں کے بارےمیں پیغمبرؐکی وصیت اورانہی کےلئے نبی کی وراثت ہے۔

خطبہ 4 :میں امام علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں : بِنَا اهْتَدَيْتُمْ فِي الظَّلْمَاءِ وَ تَسَنَّمْتُمْ ذُرْوَةَ الْعَلْيَاءِوَ بِنَا أَفْجَرْتُمْ عَنِ السِّرَارِ ہماری وجہ سے تم نے گمراہی کی تیرگیوں میں ہدایت کی روشنی پائی ،اوررفعت وبلندی کی چوٹیوں پر قدم رکھااورہمارےسبب سےاندھیری راتوں کی اندھیاریوں سے صبح (ہدایت )کے اجالوں میں آگئے ۔

خطبہ58:میں ارشادفرماتے ہیں ۔اب تم کہاں جارہے ہو اورتمہیں کدھر موڑاجارہا ہے ؟حالانکہ ہدایت کے جھنڈے بلند ،نشانات،ظاہر وروشن اورحق کے مینار نصب ہیں اورتمہیں کہاں بہکایاجارہاہے۔اورکیوں ادھر ادھر بھٹک رہے ہو،؟جبکہ تمہارے نبی ؐکی عترت تمہارے اندرموجود ہےجو حق کی باگیں ،دین کے پرچم اورسچائی کی زبانیں ہیں ۔جو قرآن کی بہتر سے بہترمنزل سمجھ سکو،وہیں انہیں بھی جگہ دواورپیاسے اونٹوں کی طرح ان کے سرچشمہ ہدایت پراترو،،

خطبہ 90:میں ارشاد فرماتے ہیں اپنے نبی ؐ کے اہلیبت ؑ کو دیکھو ان کی سیرت پرچلو ان کے نقش قدم کی پیروی کرووہ تمہیں ہدایت سے باہرنہیں ہونے دینگے اورنہ گمراہی وہلاکت کی طرف پلٹائیں گے اگروہ کہیں ٹھہریں توتم بھی ٹھہرواوراگروہ اٹھیں توتم بھی اٹھ کھڑےہوجاو،ان سے آگے نہ بڑھ جاوورنہ گمراہ ہوجاوگے اوراگرانہیں چھوڑکر پیچھے رہ جاوتوتباہ ہوجاوگے۔

خطبہ108:میں ارشادفرمایا:ہم نبوت کاشجرہ،رسالت کی منزل ،ملائکہ کی فرودگاہ ،علم کا معدن اورحکمت کاسرچشمہ ہیں۔ہماری نصرت کرنے والااورہم سے محبت کرنے والارحمت کے لئے چشم براہ ہے۔اورہم سے دشمنی وعنادرکھنے والے کو قہرالٰہی کامنتظررہناچاہیے۔

خطبہ118:میں امام ارشاد فرماتے ہیں ۔خداکی قسم !مجھے پیغاموں کے پہنچانے  وعدوں کے پوراکرنے اورآیتوں کی صحیح تاویل بیان کرنے کاخوب علم ہے اورہم اہلبیت ؑ کے پاس علم ومعرفت کے دوازے اورشریعت کی روشن راہیں ہیں ۔آگاہ رہو کہ دین کے تمام قوانین کی روح ایک ہے اوراس کی راہیں سیدھی ہیں جوان پرہولیا وہ منزل تک پہنچ گیا اوربہرہ یاب ہوااورجوٹھہرارہاوہ گمراہ ہوااورنادم وپریشان ہوا۔

خطبہ 142:میں ارشادفرمایا۔کہاں ہیں وہ لوگ جو جھوٹ بولتے ہوئے اورہم پرستم روارکھتے ہوئے یہ ادعاکرتے ہیں کہ وہ "راسخون فی العلم "ہیں نہ ہم ،چونکہ اللہ نے ہم کوبلند کیاہے ،اورانہیں گرایا ہے اور ہمیں منصب امامت دیاہے اورانہیں محروم رکھا ہے اورہمیں منزل علم میں داخل کیاہےاورانہیں دورکردیاہے ہم ہی سے ہدایت کی طلب اورگمراہی کی تاریکیوں کوچھانٹنے کی خواہش کی جاسکتی ہے بلا شبہ امام قریش سے ہی ہوں گے جو اسی قبیلہ کی ایک شاخ بنی ہاشم کی کشت زارسے ابھریں گے ،نہ امامت کسی اورکوزیب دیتی ہے اورنہ انکے علاوہ کوئی اس کااہل ہوسکتاہے۔

خطبہ 145:میں ارشاد فرماتاہے۔جوہدایت والے ہیں انہی(اہل بیت علیہ السلام )سے ہدایت طلب کرو وہی علم کی زندگی اورجہالت کی موت ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا ہرحکم ان کے علم کا اوران کی خاموشی ان کی گویائی کاپتہ دےگی اوران کا ظاہر ان کے باطن کاآئینہ دارہے وہ نہ دین کی مخالفت کرتے ہیں اورنہ اس کے بارے میں باہم اختلاف رکھتے ہیں دین ان کے سامنے ایک سچاگواہ ہے اورایک ایسابے زبان ہے جوبول رہاہے۔

خطبہ 150: میں امیرالمومنین ؑ ارشادفرماتے ہیں بلاشبہ ائمہ اللہ کے ٹھرائے ہوئے حاکم ہیں اوراس کو بندوں سے پہچنوانے والے ہیں ،جنت میں وہی جائےگا جسے ان کی معرفت ہوگی اوروہ بھی اسے پہچانیں اوردوزخ میں وہی ڈالاجائے گا جو نہ انہیں پہچانیں اوریہ نہ اسے پہچانیں ۔

خطبہ236:میں ارشادفرماتےہیں ۔آل محمد ؐعلم کیلئے باعث حیات اورجہالت کیلئے سبب مرگ ہیں ان کا حکم ان کے علم کااوران کاظاہر ان کےباطن  کا اوران کی خاموشی ان کے کلام کی حکمتوں کاپتہ دیتی ہیں وہ نہ حق کی خلاف ورزی کرتے ہیں نہ اس میں اختلاف پیداکرتے ہیں وہ اسلام کے ستون اوربچاو کاٹھکاناہیں ان کی وجہ سے حق اپنے اصلی مقام پرپلٹ آیااورباطل اپنی جگہ سے ہٹ گیا اوراس کی زبان جڑ سے کٹ گئی۔انھوں نے دین کوسمجھ کراوراس پر عمل کرکے اسے پہچاناہے یوں توعلم کے راوی بہت ہیں مگر اس پر عمل پیراہوکر اس کی نگہداشت کرنے والے کم ہیں ۔

خطبہ 152:میں ارشاد فرماتےہیں ۔انہی(آل محمدؐ )کے بارے میں قرآن کی نفیس آیتیں اتری ہیں اوروہ اللہ کے خزانے ہیں اگربولتےہیں تو سچ  بو لتے ہیں اوراگرخاموش رہتے ہیں توکسی کوبات میں پہل کاحق نہیں۔

خطبہ 188:میں مولاعلی ؑ ارشادفرماتے ہیں بلاشبہ تم میں سے جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ اوران کے اہل بیت ؑ کے حق کو پہچانتے ہوئے بستر پربھی دم توڑے وہ شہید مرتا ہے اوراس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اورجس عمل خیر کی نیت اس نے کی ہے اس ثواب کا مستحق ہوجاتا ہے اوراس کی یہ نیت تلوار سونتنے کے قائم مقام ہے بیشک ہرچیز کی ایک مدت اورمیعاد ہواکرتی ہے۔

2:افضلیت اہل بیت علیہم السلام

خطبہ 28:جو امیرالمومنین ؑ کے بہترین مکتوبات میں سے ہے اس میں ارشادفرماتے ہیں ۔اوریہ (فضائل اہل بیت ؑ )جومیں کہتاہوں تمہیں کوئی اطلاع دینا نہیں ہے بلکہ اللہ کی نعمتوں کاتذکرہ کرناہے کہ مہاجرین وانصارکاایک گروہ خداکی راہ میں شہیدہوااورسب کے لئے فضلیت کاایک درجہ ہے ۔مگرجب ہم میں سے شہید نے جام شہادت پیاتو اسے سید الشہداء کہاگیااورپیغمبرؐنے صرف اسے یہ خصوصیت بخشی کہ اس کی نمازجنازہ میں سترتکبریں کہیں ۔

اورکیانہیں دیکھتے کہ بہت سے لوگوں کے ہاتھ خداکی راہ میں کاٹے گئے اورہر ایک کے لئے ایک  حد تک فضلیت ہے مگرجب ہمارے آدمی کے لئے یہی ہواجواوروں کے ساتھ ہوچکاتھا تو اسے جنت میں پرواز کرنے والا اوردوپروں والاکہاگیااوراگر خداوند عالم نے خودستائی سے روکا نہ ہوتاتوبیان کرنے والااپنے بھی وہ فضائل بیان کرتا کہ مومنوں کے دل جن کا اعتراف کرتے ہیں اورسننے والوں کے کان انہیں اپنے سے الگ نہیں کرنا چاہتے ،ایسوں کاذکر کیوں کروں جن کاتیرنشانوں سے خطاکرنے والاہے ۔

ہم وہ ہیں جوبراہ راست اللہ سے نعمتیں لے کر پروان چڑھے ہیں اوردوسرے ہمارے پروردہ ہیں ۔۔۔۔ہماراظہوراسلام کے بعد کادوربھی وہ ہے جس کی شہرت ہے اورجاہلیت کے دورکابھی ہماراامتیازناقابل انکارہے اوراس کے بعد (فضائل میں سے )جورہ جائے وہ اللہ کی کتاب جامع الفاظ میں ہمارے لئے بتا دیتی ہے ۔ ارشاد الهی هے قرابت دار آپس میں ایک دوسرے کے زیاده حقدار هیں .دوسری جگہ پرارشادفرمایاہے،ابراہیم کے زیادہ حقداروہ لوگ تھے جو ان کے پیروکارتھے اوروہ جو ایمان لائے ہیں اوراللہ ایمان والوں کاسرپرست ہے ۔

تو ہمیں قرابت کی وجہ سے بھی دوسروں پر فوقیت حاصل ہے اوراطاعت کی وجہ سے بھی ہماراحق فائق ہے اورسقیفہ کے دن جب مہاجرین نے رسول ؐ کی قرابت کواستدلال میں پیش کیا توانصار کے مقابلےمیں کامیاب ہوئے توان کی کامیابی اگرقرابت کی وجہ سے تھی توپھر یہ خلافت ہماراحق ہے نہ کی ان کا اوراگر استحقاق کاکچھ اورمعیارہے توانصارکادعویٰ اپنے مقام پر برقراررہتاہے۔

امیرالمومنین ؑ علی ابن ابی طالب کے کلام سے جواقتسابات یہاں پیش کئے گئےہیں اس میں اہل بیتؑ کی عظمت اورافضلیت کوبیان کیاگیاہے اوراس مطلب کوواضح کیاگیاہے کہ ائمہ ؑ کی پیروی باعث نجات اوران کی مخالفت صراط مستقیم سے انحراف ہے۔