زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

◊ مختلف سوالات اوران کی جوابات - آیت الله سید عادل علوی ترجمه مصطفی علی فخری

مختلف سوالات اور ان کے جوابات

بقلم : آیت الله سید عادل   علوی 

ترجمه : مصطفی علی فخری (ابو نعمت )

سوال 1: امام زمان علیه السلام کی ملاقات مجھے کیسے ممکن هے ؟

جواب1:   اگر ان کی خدمت میں مشرف هونا هی تھا تو آپ علیه السلام کیوں غائب هو گئے ؟ ایسا ضروری نهیں هے  بلکه غیبت کبری کے زمانه میں ان کے حضور کا احساس کرنا چاهیے آپ کو یه عقیده رکھنا چاهیے که وه مخلوقات کیلئے عین الله هے اور یه گواهی دیناچاهیے که امام تجھے دیکھ رها هےتیری  باتوں کو سن رها هے تیرے سلام کا جواب دیتا هے اسی لیے اپنے کو همیشه ان کی خدمت میں پاتے هیں جس طرح آپ اپنے کو الله کے حضور میں پاتے هیں اور جس طرح آپ الله تعالی کی نافرمانی سے بچتے هیں امام زمان کی نافرمانی کرنے اور برے کاموں ،بری باتوں اور غیردینی اور نامناسب رفتار وکردار کے ذریعه انهیں ستانے سے اجتناب کرتے هیں جس شخص کی ایسی حالت هو تو در حقیقت وه اپنے زمانے کے امام کی خدمت میں مشرف هوا هے چونکه ان کی خدمت میں مشرف هونے کا مقصد همیں ایسا بننا هے که الله و رسول اور امام   (علیه السلام)همیں پسند کریں البته آگاه رهنا چاهیے که نفس برائی پر بهت اصرار کرتی هے انسان کو  یه تصور دے کر دھوکه دیتی هے که وه قطب عالم امکان حضرت مهدی  (عج)سے ملاقات کرے که جن کی برکت سے مخلوقات کو رزق ملتا هے اور ان کے وجود سے زمین وآسمان کو ثبات حاصل هے تاکه دوسروں کے سامنے فخر کرے که انهیں امام علیه السلام کی ملاقات کا شرف حاصل هوچکا هے امام علیه السلام کی ملاقات سے شرفیابی  کا ایسا تصور شیطانی اور گناه هےآپ الله تعالی کی اطاعت کے ذریعه امام کو خوش کرنے کی کوشش کریں چنانچه روایات میں آیا هے اگرکوئی شخص الله کا نافرمان هو تووه امام کا دوست نهیں هو سکتا هے اس مطلب کےبارے میں سوچیں، امام سے ملاقات کے بارے میں نه سوچیں هم کهاں اور ولی الله الاعظم کهاں! که جن کی دیدار سے مشرف هو سکیں ؟ کیا سنخیت، انضمام اور تشرف کیلئے شرط نهیں هے تو میرے امام اور مجھ میں کیا سنخیت اور شباهت پائی جاتی هے ؟ !!

سوال 2 :تد بیر کیا هے اور اس کی کیا اهمیت هے ؟

تدبیر کا معنی یه هے که انسان اپنے کو الله تعالی کے عطا کرده چیزوں کا مالک نه سمجھےچونکه بندوں کی کوئی ملکیت نهیں هوتی هے اپنے مال کو الله کا مال سمجھتا هے الله کے فرمان کے مطابق وه خرچ کرتا هے بنده اپنے لئے کوئی تدبیر نهیں کرتا هے اس کی پوری  توجه امر الهی اور نهی الهی کی طرف هے جب بنده الله تعالی کے عطا کرده مال کا خود مالک نهیں سمجھتا هے تو الله تعالی کے امر کے مطابق خرچ کرنا اس کے لئے آسان هوتا هےاور جب بنده اپنا  تدبیر اپنے رب پر چھوڑتا هے تو دنیا کی مصیبتیں اس پر آسان هو جاتی هے اور جب بنده الله تعالی کے اوامر ونواهی میں مصروف  هوتا هے تو  ریا اور فخر ومباهات کی طرف نهیں آتا هے  ساری دنیا ،شیطان اور تمام مخلوقات  اس کے هاں حقیر هوجاتی هےدنیا کو فخر ومباهات  کے لئے طلب نهیں کرتا ،عزت وبلندی نفس کی وجه سے لوگوں سے کوئی چیز نهیں مانگتا هےاور اپنے دنوں کو ضائع نهیں کرتا هے یعنی وه مستقل طور پر اپنے امور کی تدبیر نهیں کرتا هے بلکه اراده الهی اور مقدر ات الهی کی روشنی میں تدبیر کرتا هےجس طرح امیرالمؤمنین علیه السلام نے فرمایا : ارادوں کے بدلنے سے میں نےالله کو پهچانا .حضرت امام سجاد علیه السلام کے زمانه میں پرده کعبه پر لکھا تھا  :

لا تدبّر لك أمراً فأُولي التدبير هلكى         وكّل الأمر إلى من هو أولى منك أمرا

اپنے کاموں کی تدبیر مت کرنا ایسا کرنے والے هلاک هو گئے  اور ایسی ذات پر توکل کر جو تم سے زیاده اولی هے.

سوال 3: الله تعالی کی طرف سیر وسلوک کرنے کا راسته کونسا هے؟

جواب : سب سے پهلی چابی تمهارے بدن میں موجود نفس هے عقلا ونقلا ثابت هےکه  ( من عرف نفسه فقد عرف ربه) جس نے اپنے نفس کو پهچانا تو اس نے اپنے رب کو پهچانا .او رجس نے اپنے رب کو پهچانا تو اس نے سب کچھ جان لیا  لهذا  هر روز کچھ مدت کیلئےخلوت میں بیٹھیں اور اپنے بارے میں سوچیں که میں کون هوں ؟ کهاں سے آیا هوں ؟ کهاں جانا هے ؟ مجھ سے کیا طلب کی گئ هے ؟ میرا فلسفۀ حیات کیا هے ؟  اس طرح آپ پر آسمانوں اور زمین کے در وازے کھل جائیں گے جیسا که حدیث قدسی میں آیا هے : ( لو علمت من عبدى المؤمن أنه يريدنى لفتحت عليه أبواب السماوات والأرض ) اگر مجھے معلوم هو جائے که میرا مؤمن بنده مجھے چاهتا هے تو میں آسمانوں اور زمین کے دروازے اس پر کھول دونگا  (واذا أراد اللّه‏ بعبد خيراً هيّأ له الاسباب) اور جب الله تعالی کسی بندے کا خیر چاهتا هے تو اس کے لئے اسباب فراهم کرتا هے اور رسول خدا نے فرمایا: ( أدبني ربي فأحسن تأديبي)میرے رب نے میری تربیت کی تو اچھی تربیت کی اور آیت کریمه هے(اتقواللّه‏ ويعلمكم اللّه‏) الله سے ڈرو تو الله تمهیں سکھائے گا .

سوال 4: بندگی کی حقیقت کیا هے؟ یقین کیا هے اور فلسفه تخلیق کیا ؟

جواب : مقام ثبوت میں عبودیت ایک جوهر هے جس کی حقیقت ربوبیت هے اور مقام اثبات میں بندے کا اراده خدا کے اراده میں فنا هونا هے تو وه الله کے ارادے کے سوا کوئی اراده نهیں کرتا هے وه اس جنازه کی مانند هوتا هے جو غسال کے اختیار میں هوتا هےلیکن یقین  سے مراد ،مشهور مفسرین  کے هاں اور روایات میں موت  هے اپنی زندگی کے آخری لحظه تک اپنے پروردگار کی عبادت کر یعنی موت تک ،جس طرح هم ائمه علیهم السلام کی زیارت میں پڑھتے هیں (أقمت الصلاة حتّى أتاك اليقين) موت آنے تک آپ نے نماز قائم کی .

   خلقت اور زندگی کافلسفه :

الله تعالی نے تمام اشیاء کو انسان کیلئے خلق کیا هے جیسا که قران مجید میں آیا هے وسخّر لكم مافي السمّوات وما في الارض جميعاً( سورة الجاثية الآية13)  اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے مسخر کیا، غور کرنے والوں کے لیے یقینا اس میں نشانیاں ہیں۔

اور انسان کو اپنی تکامل کیلئے خلق کیاهے توهم کامل هونے اورعلم ومعرفت بڑھانے کیلئے خلق هوئے هیں تاکه جاویدانی نعمتوں تک پهنچ جائیں رحمت الهی  سے هم پیدا هوئے علم اور عبادت کے ساتھ هم اسی کی طرف پلٹ کرجائیں گے جیسا که آیات کریمه اور روایات شریفه اس پر دلالت کرتی هیں جن کا نچوڑاورخلاصه یه هے که فلسفه حیات تکامل هے اور یه تکامل رحم ،علم اور عبادت کے ذریعه حاصل هوتا هےتوفلسفه خلقت اور زندگی کا مقصد علم اور  وه عبادت هے جو رحمت الهیه کا مظهر  هو جن اور انسان پرعلم اور عبادت ضروری قرار دیا هے لهذا هر شخص پر ضروری هے که وه عارف بالله اور عابد هو  إياك نعبد وإياك نستعين (سوره حمد ) ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

سوال 5:اس روایت کا کیا معنی هے ؟"من زار الحسین کمن زار الله في عرشه" جس نے امام حسین علیه السلام کی زیارت کی تو گویا عرش پر الله تعالی کی زیارت کی هے.

جواب : حضرت امام رضا (ع) سے منقول هے که آپ نے فرمایا: دریاے فرات کے کنارےحضرت ابو عبد الله (الحسین)  (ع) کی قبر کی زیارت کرنے والا عرش پر الله تعالی کی زیارت کرنے والے کے مانند هے .[1]دوسری حدیث میں هے کرسی پر الله تعالی کی زیارت کرنے والےکے مانند هے جو امام حسین علیه السلام کی زیارت کرے تو وه اسماء الهی کی جنت میں داخل هوا اور الله سبحانه کی زواروں میں شامل هوا یعنی اس پر اسماء الهی کی تجلی هو جاتی هے چونکه آپ آینه تجلی  اسماء حسنی الهی تھے یه ایک عظیم مرتبه هے جوعظیم انسانوں کے علاوه کسی کو حاصل نهیں هوتا هے تو امام حسین علیه السلام کی زیارت کے ذریعه الله تعالی عزوجل  کی زیارت نصیب هو جاتی هے یعنی مقام احدیت سے اس پر فیض اقدس اور مقام واحدیت سے فیض  مقدس کا افاضه هوتا هے اور علي الاعلی سے قاب قوسین او ادنی کی قربت پر سچی عزت کے مقام پر صاحب اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں پهنچ جاتا هے عمل کرنے والوں کو ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنا چاہیے۔

سوال 6:چوری کاحد جس آیت میں ذکر هوا هے اس میں "اقطعوا "کا صیغه جمع کیوں هے ؟

جواب : چند وجوهات کی بنا پر یه هو سکتا هے :

پهلی وجه: تمام مسلمان اگر چه نیت اوراراده کی حد تک هی کیوں نه هوحدود الهی  کے جاری کرنے میں شریک هیں جیسے چور کے هاتھوں کو کاٹنا .

دوسری وجه :حدود الهی کے قیام میں سب شریک هیں" فكلكم راع "تم سب ذمه دار هو .

تیسری وجه : اگرچه چور ایک شخص سےیا ایک جگه سےچوری کرتا هے لیکن وه پورے معاشرے کا سکون  خراب کردیتا هے اور عمومی امنیت کو چھین لیتا هے تو سب کا حق بنتا هے که اس پر حد جاری کرے اور حاکم ان کا حق دلانے والا هے لهذا وه چور پر حد جاری کرتا هے .

چوتھی وجه : شاید تعظیم کیلئے هے چونکه تعظیم کی خاطر مفرد کے جگه پر جمع  استعمال هوتا هے مثلا بادشاه کهتا هے هم نے ایسا حکم دیا هے اور اس سے کها جاتا هے آپ نے ایسا حکم دیا هے

یه  وجوهات  کسی تفسیر سے نقل نهیں کیا  بلکه سوال دیکھ کر ذهن میں آیا هے الله تعالی اپنی کتاب کے بارے میں بهتر جاننے والا هے .

سوال 7 :دیکھنے میں آتا هے که قران کریم میں اهلبیت علیهم السلام کی شان میں نازل هونےوالی بعض آیتیں ایسی آیتوں کے درمیان میں رکھی گئ هیں جو کسی اور مضمون پر مشتمل هیں مثلا آیت تطهیر کو حضور  ﷺکی زوجات سے مربوط آیت میں رکھی گئی هے اسی طرح دوسری بعض آیتیں؟

جواب  : جو آیتیں آپ نے بیان کی هیں ان کی ترتیب اور جگهوں کے بارے میں علماء کے درمیان  اختلاف پایا جاتا هے میری نظر میں الله تعالی بهتر جانتا تھا که رسول الله ﷺ کی رحلت کے بعدکیا هونے والا هے اس لئے اهل بیت علیهم السلام سے متعلق آیتوں کو ایسی جگهوں پر قرار دی  اگر ایسا نه کیا هوتا تو شاید لوگ آیتوں کو مٹا دیتے یا تحریف کر دیتے چنانچه صحیح بخاری میں هے جب رسول الله  ﷺ نے زندگی کےآخری لمحوں میں فرمایا : مجھےقلم اور دوات لادو تاکه ایسی چیز لکھدوں که میرے بعدکبھی گمراه نه  هوجاؤ

  اس شخص نے کها :یه هذیان کهه رها هے یا ان پر  بیماری کا غلبه هوا هے اور وه شخص کون تھامسلمانوں کے هاں معلوم هے کیونکه اس نے رسول الله ﷺ سے تمام مسلمانوں کے متفقه حدیث ،حدیث ثقلین کی صورت میں سنا تھا که کتاب خدا  اوررسول خدا  کی اپنی عترت دونوں هی ایسی چیز یں هیں جن سے متمسک رهنے کی صورت میں مسلمان کبھی گمراه نهیں هوسکتے تو اسے معلوم تھا  که اب بھی رسول الله یهی لکھنا چاهتے هیں اور رسول الله کی کتابت قران کی مانند ناقابل نسخ هے اس لئے کها "حسبنا کتاب الله" الله کی کتاب همارے لئے کافی هے اور سنت شریفه بھی لکھنے سےمنع کیا یهاں تک که عمر بن عبد العزیز کےزمانه میں سنت لکھنا شروع هوا  ایسے میں ائمه علیهم السلام کے اسماء گرامی قران مجید میں ذکر هوتا تو وه اس کے منکر هوتے جس طرح حدیث غدیر کے منکر هوئے اور حدیث ثقلین  میں تحریف کئے اس طرح اور بهت سارے واقعات  اور حقائق   میں تحریف اس بات کا ثبوت هے لهذا حکمت الهی نے یهی تقاضا کیا که ائمه علیهم السلام سے مربوط آیات کریمه موجوده شکل میں قرار پائیں تاکه ایمان لانے والا ایمان لائے اور منکر هونے والا منکر هو جائے اور الله تعالی اپنی کتاب کے  حقائق کےبارے میں بهتر جاننے والا هے .                         

سوال 8 : قرآن کریم کی روشنی میں کمال کا مفهوم کیا هے ؟

جواب :حضرت  امام محمد باقر اورحضرت  امام جعفر صادق علیهما السلام فرماتے هیں : جامع اور کامل کمال، دین میں تفقه کرنا مصیبت پر صبر کرنا اور معیشت میں میانه روی سے کام لینا هے .

کمال یعنی حرکت، انسان کا کمال تین حرکتوں سے حاصل هوتا هے

1: علمی حرکت وه(تفقه در دین ) دین فهمی هے فقه لغت میں فهم کو کهتے هیں اور سمجھنا جاننے کے بعد کا مرحله هے

2: اخلاقی حرکت ،جوصبر هےاور صبراخلاق کی بنیاد هے .

3: اقتصادی حرکت ،معیشت میں میانه روی هے اور یهی اقتصاد هے

اور ان تمام حرکات کا نتیجه انسانی تکامل هےاور یه عبادت رحمت اور علم کے ذریعه حاصل هوتا هے اور یه تینوں فلسفه حیات اور سرّ خلقت هے جیسا که میں نے اس کی تفصیل اپنی کتاب (رسالات اسلامیة)میں ذکر کیا هے.

سوال 9 : ائمه علیهم السلام   کے اسماء گرامی قرآن کریم میں کیوں نهیں آیا هے ؟

جواب  : حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے یهی سوال پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : جب قرآن کریم میں نمازوں کے رکعتوں کی تعداد  ذکر نهیں هوا  تو سنت شریفه نے بیان کیا اسی طرح اصل امامت کا بحث قرآن کریم میں موجود هے چونکه قرآن کریم قانون کی کتاب هے اس میں کلیات کا ذکر هوتا هے لیکن جزئیات اور فروع،سنت رسول الله ﷺ میں موجود هے اور رسول الله کےفرمان کاواجب الاطاعه هونا قرآن سے ثابت هے ( ما آتاكم الرسول فخذوه ) اور رسول جو جو چیز لائے اسے لے لو .تو حدیث ثقلین ، حدیث سفینه ، حدیث لوح جابر اورحدیث اثنا عشر یعنی  میرے بعد باره خلیفه هونگے اور وه سب قریش سے هونگے والی حدیث جو که صحیح بخاری میں هے ان کے علاوه سینکڑوں صحیح اور متواتر احادیث میں امامت اور ائمه کی تعداد کا ذکر هوا هے جبکه بعض روایات میں ائمه علیهم السلام کے اسماء اور اوصاف بھی ذکر هوا هےتو هم جس طرح قرآن کریم  کوقبول کرتے هیں اسی طرح  ان احادیث کوبھی قبول کرتے هیں .الله آپ کو سلامت رکھے.

سوال10: ائمه علیهم السلام کے اس فرمان کا کیا مطلب هے : همیں ربوبیت سے پاک رکھنا اس کے علاوه جو کچھ همارےبارے  میں کهنا چاهیں کهه دیں ؟ 

جواب : حدیث میں آیا هے که امیر المؤمنین  علیه السلام نے فرمایا : میں گزرے هوئے اور آنے والے تمام مؤمنوں کا امیر هوں اور روح العظمت کے ذریعه میری تایید هوئی هے میں الله کے بندوں میں سے ایک بنده هوں همیں پروردگار  مت کهیں اور هماری فضیلت میں  جوچاهے کهه دینا بیشک الله نے جو فضیلت همیں دی هیں تم سو میں ایک (ایک صدم )تک بھی نهیں پهنچ پاؤ گے .

تو آپ علیهم السلام آسمانوں اور زمین کے نور هیں آپ کے ذریعه آسمانوں اور زمینوں کو پر کیا گیا هے یهاں تک که توحید اور کلمه توحید  کا ظهور ان کی تجلیات کے ذریعه هے اگر وه نه هوتے تو خدا افلاک اور اس میں موجود  اشیاء خلق نهیں کرتے اور اگر وه نه هوتے تو زمین ،زمین والوں کو نگل لیتی لهذا  لا اله الا الله کا ظهور ما سو الله میں ان کا جلوه هے .

سوال 11: کیا انبیاء علیهم السلام میں عصمت اورناامیدی دونوں جمع هوسکتے هیں اور اس آیت کا کیا مطلب هے ؟ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُواْ جَاءهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَن نَّشَاء وَلاَ يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ (سوره یوسف :110)ترجمه :  یہاں تک کہ جب انبیاء  مایوس ہو گئے اور لوگ بھی یہ خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ بولا گیا تھا تو پیغمبروں کے لیے ہماری نصرت پہنچ گئی، اس کے بعد جسے ہم نے چاہا اسے نجات مل گئی اور مجرموں سے تو ہمارا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔

جواب : انبیاء اور اوصیاء علیهم السلام  کامعصوم هونا الله کا ایک خاص لطف هے اور یه  ایک نوری اور ملکوتی قوت هےجو ان کے اندر رسوخ پیدا کر چکی هے جو انسان کو بچاتی هے نبی کیلئے ایک مخصوص علم  ایک خاص طریقه سے حاصل هےجو اپنے حامل کو الله کے اذن سے عصمت خاصه اور مطلقه سے نوازتا هے اور وه نمونه عمل بن جاتا هے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا(سوره احزاب :21) ترجمه :بتحقیق تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روز آخرت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو.

انبیاء علیهم السلام کے کوئی گناه نهیں هے جیسا که امام صادق علیه السلام نے فرمایا  وه معصوم اور پاک  وپاکیزه  هستیاں هیں لیکن  آیت کریمه میں جو مایوس هونے کا تعلق هے وه اپنی قوم سے متعلق هے یعنی انبیاء علیهم السلام خدا سے مایوس نهیں هوئے بلکه وه اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس هو گئے جیسا که امام رضا علیه السلام سے منقول هے آپ نے فرمایا :   يقول الله حتى اذا استيأس الرسل من قومهم  وظن قومهم أن الرسل قد كُذبوا جاءنصرنا.الله تعالی فرماتا هے جب رسولیں اپنی قوم سے مایوس هو گئے اور قوم بھی یہ خیال کرنے لگی کہ رسولوں  سے جھوٹ بولا گیا تھا تو  ہماری نصرت پہنچ گئی .

سوال12 : کیوں عربی اور قمری مهینے متغیر هیں اور رمضان المبارک هر موسم میں آتا هے ؟

جواب : هم نے اس کی تفصیل (لماذا الشهور القمریّة) نامی رساله میں بیان کی هے اسے آپ" رسالات الاسلامیه " کی گیاروهویں جلد میں ملاحظه کر سکتے هیں اسکا خلاصه یه هےکه حکمت الهی کا تقاضا یه تھا که روزه اور حج جیسی عبادتیں هر موسم میں قرار پائیں کیونکه اگر ایک هی موسم میں هوتیں مثلا همیشه موسم سرما میں هو تو  موسم گرما میں جو امتحان اور آزمائش بندے کا هو گا وه نهیں هو سکتا هے دنیا امتحان، اختبار اور ابتلاء کی جگه هے تو امتحان اور آزمایش بھی متنوع اور مختلف هونا چاهئے تاکه پته چلے چست وچالاک اور کامیاب کون هے اور سست بیکار  اور نکماکون هے؟ موسم گرمااور جون جولائی کا روزه  موسم سر ما کا روزه جیسا نهیں هوگا یه واضح اور روشن هے .

اور صحابه کرام نے رسول الله سے هلالوں کے بارں میں پوچھا: ۔﴿يَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ (سوره البقرہ:189)"آپ سے ہلالوں (چاند) کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجئے کہ وہ لوگوں کے لئے اوقات (معلوم کرنے) کاذریعہ ہیں اور حج کے لئے"

مواقیت میقات کا جمع هے جو اسم زمان یا اسم مکان هے اس کے بارے میں سوال کیا تاکه عبادات کے اوقات اور قرضوں کے وقت اور ان جیسے امورکا پته چلا سکے قمری مهینوں کے علاوه دوسرے مهینےتقدیم و تاخیر اور اضافہ (کبیسه)ہے الله تعالی کا فرمان هے:إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ (سوره التوبة 37) تقدیم و تاخیر بے شک کفر میں اضافہ کرتا ہے .

 اور جو قمری سال پر دلالت کرتی هےالله تعالی کا یه فرمان هے: هُوَ الَّذِى جَعَلَ الشمْس ضِيَاءً وَ الْقَمَرَ نُوراً وَ قَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السنِينَ وَ الْحِساب مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِك إِلا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الاَيَتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (سوره یونس :5)ترجمه :وہی توہے جس نے سورج کو روشن کیا اور چاند کو چمک دی اور اس کی منزلیں بنائیں تاکہ تم برسوں کی تعداد اور حساب معلوم کر سکو، اللہ نے یہ سب کچھ صرف حق کی بنیاد پر خلق کیا ہے، وہ صاحبان علم کے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے۔یه سب عبادات اور معاملات کے لئے هے. و الله العالم.

سوال 13: عشق الهی کی حقیقت کیا هے ؟

جواب : عشق نغمه حیات هے جب تک زمانه رهیگا عاشقوں کا نغمه بھی رهیگا  اور سب  محبت اور عشق کی ساز پر  ناچیں گے نسیم  صبحگاهی معشوق کی جمال کی طرف جذب کر کے وادی نیستی وفنا  تک لے چلے گا محبت اور چاهت کے آثار کا انکار کرنا کسی کیلئے بھی ممکن نهیں هے دلنشین اشعار اور نغمے، انوکھی اور بدیع تصویریں اور مجسمے،جذاب حادثے اور کهانیاں،یهاں تک که سیاسی واقعات اور عسکری فتوحات بھی  محبت اور عشق کے نتیجے هیں اور بهار میں بلبل شاید پھولوں اور کلیوں کے عشق میں  هی چهچهاتے هونگے

عشق کی مختلف قسمیں هیں سب سے پهلے دو جنس مخالف  کے درمیان موجود جنسی عشق هے تو وهاں پر ایک باطنی کھینچ موجود هے جومیل ملاپ اور وصال تک پهنچ جاتا هے تا که تولید نسل کے ذریعه اپنی نوع باقی رکھےعشق کی یه قسم نباتات حیوانات اورانسان سب میں موجود هے حیوانوں کی دنیا میں یه جنسی عشق کبھی معشوق کی وصال کی راه میں خون بهانے اور قتل هونے کا سبب بنتا هے

پھر عشق جنسی سے آگے ایک مقدس عشق آتا هے وه ماں کا اپنی اولاد سے عشق  هے اور اس سے آگے جوں جوں معشوق کی طهارت اور پاکیزگی بڑھتی جاتی هےعشق کی طهارت اورتقدس میں اضافه هوتاجاتا هے یهاں تک که حقیقی عشق -جو که الله تعالی کی محبت هے -تک پهنچ کر  عشق ختم هو جاتا هے اور شیخ الانبیاء حضرت ابراهیم اور خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی طرح انسان خلیل الله اور حبیب الله بن جاتا هے حضرت ابراهیم علیه السلام سچے ، حق طلب اورواقعی مسلمان تھےمحبت ،عشق اور عبادت میں کسی کو بھی الله تعالی کا شریک نهیں ٹھرایا بیشک عاشق همیشه موحد هوتا هے معشوق کا چهره اور اسکے جمال کے علاوه اسے کوئی چیز نظر نهیں آتی هے.

قرآن کریم میں اگر چه عشق کا کلمه موجود نهیں هے یه شاید اس لئے هو که اس وقت کے عرب اس کلمه سے واقف نهیں  تھےلیکن حب شوق اور شغف کا کلمه موجود هے در حقیقت یه عشق کے مترادف کلمات هیں فيحبّون اللّه‏ ، والذين آمنوا أشدّ حبّا للّه‏ ، يبتغون وجه اللّه‏،تو وه الله سے محبت کرتے هیں،مؤمنین لله سے بهت زیاده محبت کرتے هیں ،فهم أولياءاللّه وه الله کے ولی هیں ولایت یعنی محبت کی انتها اورمحبوب میں فنا هونا اور ایمان دل کا کام هے اسکا مقصد الله خدا کیلئے محبت کرناهے الله تعالی سوائے شرک کے تمام گناهوں کو بخش دیتا هے تو وه اپنے ساتھ کسی شریک کو پسند نهیں کرتا هے بلکه وه چاهتا هے جس انسان کو زمین پر اپنا خلیفه بنایا هے اور اسے تمام اسماء کی تعلیم دی هےاس کا خود هی پهلا اور آخری عاشق هولهذا  جو بھی اپنے رب کی ملاقات کا امید وار هو تو صالح اور نیک کام انجام دو اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک مت ٹھراؤ   اور یه ثابت هو چکی هے که اعمال کی قبولیت کیلئے اهلبیت علیهم السلام کی ولایت شرط هے  کیا ولایت، محبت نهیں هے ؟ کیا دین محبت اور دشمنی نهیں هے؟ الله اور اولیاء خدا سے محبت ،الله اور اولیاء خدا کے دشمنوں سےدشمنی نهیں هے؟

محبت اور عشق کی طرف اشاره کرنے والی کتنی دعائیں اور مناجات هیں

« اللهمّ إنّي أسألك أن تملأقلبي حبّا لك »

اے الله تجھ سے سوال کرتا هوں که میرے دل کو تیری محبت سے بھر دے.

« وحبّب إليَّ لقاءك»

اور تیری دیدار میرے هاں محبوب قرار دے

« يا غايتي في رغبتي »

اے میری چاهتوں کی انتها !

« واجعل قلبي بحبّك متيّما »

میرے دل کو اپنا اسیر محبت بنا دے ۔

مخلوقات میں عشق کا راز ان کاذاتا ً فقیر اور محتاج هونا هے تو عشق یعنی فقر سےبے نیازی کی طرف ،عدم سے وجود کی طرف ،نقص سے کمال کی طرف ،اور بد صورتی سے جمال کی طرف حرکت کا نام هےعشق موجزن اور متلاطم سمندر  هے جس کے اطراف دور ،گهرائی بهت زیاده ، اور ساحل نا پیدا هے اور جب تک فقر اور احتیاج هے حرکت اور حیات بھی رهے گی اور زندگی میں حرکت کا راس المال امید هے تو انسان اپنی بساط کے مطابق خرچ کرتا هے اور خطرناک اور کانٹے دار راستوں کو بڑے شوق اور عشق کے ساتھ طے کرتا هے تا که اپنے محبوب اور معشوق تک پهنچ جائے تو عشق یعنی حرارت اور عمل هے جن  کا نتیجه معشوق کی طرف حرکت هے اور یه حرکت تمام مخلوقات میں هے ان کے ذرات میں اور الیکٹرون کا پروٹون کے گرد حرکت،مجردات اور منظومه شمسی کی حرکت ، سیاروں کا سورج کےگرد حرکت اور عشق جنسی سے لیکر عشق عرفانی تک میں انسان کی حرکت ۔

عشق میں جو بھی اوصاف بیان کیا جائے اس ذات کے خوبصورت باغات اور دلکش گلزاروں کی نسیم هے

عاشقوں کا قبله  معشوق کا جمال هے جمال کی طرف ان کی نماز هے عاشق اراده معشوق میں فنا هو جاتا هے نه یه که وه معشوق میں حلول کرجائے یا اس کے ساتھ متحد هو جائے اور جوبھی تعبیر  اس باب میں موجود هےضیق عبارت کی وجه سےتسامح اور مجازکے همراه هے بلکه عاشق معشوق کا چهره هوا کرتا هے اس کے جمال کا آئینه هوتا هے تب هم عاشق کے اندر موجود معشوق کی صفات کے ذریعه معشوق کو پهچان سکتے هیں اسی لئے انبیاء اور اوصیاءعلیهم السلام وجه الله هیں ۔

اس میں کوئی شک نهیں که عشق سے مراد بهت زیاده محبت کے علاوه کچھ نهیں هے عرفاء یهی تعبیر استعمال کرتے هیں لیکن قدیمی فقهاء اس تعبیر کو پسند نهیں فرماتے تھےچونکه اس زمانے میں عشق ان کلمات میں سے تھا جو عام انسانوں کے لئے (عشق مجازی میں)استعمال هوتا تھا اس لئے فقهاء اس سے پرهیز کرتے تھے جبکه یه کلمه فی الجمله صوفیه اور عرفاء کے هاں رائج هے (كل حزب بما لديهم فرحون)هرگروه اپنے پاس موجود چیز پر راضی هیں۔


[1] - تهذیب 6/46 کامل الزیارات 147.