زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

1- اداریہ چیف ایڈیٹر کےقلم سے

مساله فلسطین لمحه فکریه !!

اسلام امن اور سلامتی کا دین هے   کسی کو قتل کرنے اور بے جا مارنےکا حکم نهیں دیتا هے بلکه اخوت بھائی چارگی اور انسان دوستی اسلام کا پیغام هے کیسے انسانوں پر ظلم کرنے کی اجازت دیگا جبکه اسلام میں حیوانات پر ظلم کرنا بے جا مارنا ، قتل کرنا انهیں ستانا حرام هے اور حیوانات کو کھلانا اور پلانا  ضرورت کی حد تک واجب هے بلکه بعض موارد میں اگر حیوان پیاس سے هلاک هونے کا خطره هو  اور پانی بهت کم هو تو وضو کے بجائے تیمم کر کے پانی اس حیوان کو پلانا چاهئے  .

امن اور سلامتی کے پیغام کا مقصد یه کبھی نهیں هے که کوئی دوسرا انسان تم پر ظلم کرے یا ایک ظالم طبقه معاشرے میں الهی اور اخلاقی اقدار کے پھیلاؤ میں رکاوٹ بنے تو تب بھی تم خاموش رهو اور امن کا پیغام دو بلکه ایسے میں ایک مسلمان  کا وظیفه  ظالم کی آنکھوں میں  آنکھیں ڈال کر مقابله کرنا هے  بلکه ایسے کسی حادثه کے رونما هونے سے پهلے هی خود کو آماده کرنا چاهئے   واعدوا لهم ما استطعتم من قوة کا مقصد هی یهی هے که بروقت اپنی قوت دفاع کا انتظام کرلو کهیں ایسا نه هو که تماری بے سر وسامانی سے فائده اٹھاتے هوئے دشمن تم پر غلبه حاصل کر لے  اور تمهیں پچھتانا پڑے .

یهاں پر ایک مهم نکته کی طرف اشاره کرنا ضروری هے وه یه هے که اس آیت کریمه میں اَعِدُّوا  فعل امر هے اس کا مخاطب اور باقی ضمائر جمع سے مراد تمام مسلمان هے قرآنی تعبیر کے مطابق امت مسلمه امت واحده کی مانند هے (انّ هذه امتکم امة واحدة  ) ان کا درد و رنج ان کی غم اور خوشیاں ایک هیں یه ایک پیکر کے مانند هے جس کا کوئی بھی عضو درد کرتا هے دوسرے اعضاء کو بھی تکلیف پهنچتی هے  اس قرآنی حکم کے مطابق تم سب ایک هو پس تمهاری دشمن بھی ایک هے تم میں سے بعض کا دشمن گویا تم سب کا دشمن هے ابھی عالم اسلام کی موجوده صورت حال تو مکمل اس کا برعکس نظر آتا هے هر کوئی ملک اور علاقه  صرف اپنے لئے سوچتا هے دوسرے اسلامی ممالک میں اور غیر مسلم ممالک میں بسنے والوں کا کوئی فکر نهیں کرتا هے   بلکه بعض اوقات هم اپنوں کو صف دشمن میں دشمن کی مدد کرتے هوئے اور دشمن کو میدان جنگ میں داد دیتے هوئے نظر آتے هیں .

اگر هم ایک دوسرے کے فکر مند هوتے تو  آج اسرائیل کو یه جرات نهیں هوتی که دن دھارے تمام میڈیا اور پوری دنیا کے سامنے بڑی بے شرمی کے ساتھ اپنے تمام تر جنگی اسلحوں کے ساتھ مسلمان فلسطینیوں پر حمله کرے  گھروں کو ویران کرے آئے دن عام شهریوں ،بچوں اور عورتوں کو سینکڑوں کی تعداد میں قتل کرے   اس جنگ میں  ظاهرا بڑا نقصان هو رها هے لیکن بعض جهات سے اس میں فائدے بھی نظر آتے هیں جن میں سے خود فلسطینی مسلمانوں کی مقاومت ، ایمان اور شجاعت کا اظهار  ، فلسطین سے هٹ کر  اسی خطے کے دوسرے ممالک اور مناطق میں موجود اسلامی دهشتگردوں اور تکفیریوں کی اصلی حقیقت اور اصلی چهرے کی پهچان ، بعض عرب  اوراسلامی ممالک کے نام نهاد لیڈروں کی منافقت کے عیاں هونے کے ساتھ اور بھی بهت سارے فائدے هیں گویا خالق کائنات نے هر زمانے میں  حق وباطل کی پهچان کیلئے  ایک شاخص  انسانوں کے  درمیان باقی رکھا هے  تا که لوگ یه کهه نه سکے کی هم حق کو باطل سے تشخیص نهیں دے سکے اس وقت دنیا  میں حق وباطل کا شاخص فلسطین اور اسرائیل هے ایک طرف مظلومیت هے مقاومت هے اور محرومیت هے دوسری طرف ظلم وبربریت هے  جنایت هے هونا تو یه چاهیے تھا که جب فلسطین میں اسلام وکفر بر سر پیکار هے یهودی لابی مظلوم مسلمانوں کو ظلم کی چکی میں پس رهے هیں اور وهاں سے ماوں بهنوں کی زبان سے یاللمسلمین کی صدائیں بلند هو رهی هیں تو مسلمان اپنی تمام تر قوت اور طاقت کو بروئے  کار لا کر یهودیوں کو درس عبرت سکھا کر چھوڑ دے لیکن افسوس صد افسوس که هماری خواب غفلت سے فائده اٹھا کر نه فقط صهیونیزم بلکه دنیا کے تمام مستکبر متحد هو کر مظلوم فلسطینیوں کے خون کی هولی کھیل رهے هیں  بلکه اس سے بھی بڑھ کر ستم ظریفی یه هے  که انھی ظالموں کے اشارے  سے هماری تمام طا قتیں همارے خلاف هی استعمال هو رهی هے صهیونیوں کا فلسطینیوں پر ظلم کرنا تعجب کی بات نهیں هے چونکه قران کریم اعلان کر رها هے  لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا لوگوں میں مسلمانوں سے سب زیاده دشمنی رکھنے والے یهودی اور مشرک  هیں دشمن سے یهی توقع رکھا جاتا هے وه هر وقت فرصت کے در پے هوتاهے تا که  اپنی دشمن پر ضربت  لگا سکے   افسوس یه هے که حقیقی مسلمان هونے کے دعویدار ، اسلامی ریاستوں کےٹھیکے دار ، خود کو امیرالمؤمنین اورواجب الطاعه بتا نے والے  مخصوصا حرمین شریفین  کے خادم کهلوانے والے مسلما ن لیڈر اس عظیم حادثه پر مکمل خاموش تماشایی بن بیٹھے هیں،بلکه بعض رپوٹ کے مطابق  جس طرح 2006 ء میں حزب الله اور اسرائیل کی جنگ میں انھی بعض عرب حکّام نے مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ دئیے تھے موجوده  جنگ میں بھی حرمین شریفین ،  مکه اور مدینه کی آمدنی  اور دوسرے بعض ممالک کے بیت المال سے  اسرائیل کی پشت پناهی  کی جا رهی هے   الله کرے ایسی باتیں درست نه هو لیکن کم از کم هم یه کهه سکتے هیں که ان  لوگوں نے  خاموش ره کر اسرائیل کی مدد کی هیں  جیسا که مولا امیر المؤمنین علی بن ابیطالب علیه السلام نے ان لوگوں کے بارے میں جنهوں نے جنگوں میں  آپ کی مدد نهیں کی اور دشمن کا بھی ساتھ نهیں دئے  اور مکمل طور پر دور رهے فرمایا : خذلوا الحق ولم ینصروا الباطل  ان لوگوں نے حق کو ذلیل کیا اور باطل کی بھی نصرت نهیں کی. همیں نام نهاد مسلمان لیڈروں سے کوئی امید نهیں هے لیکن هماری تمام تر امیدیں امت مسلمه سے هیں جنهوں نے اپنے احتجاجات ،مظاهرے اور جلسے جلوسوں کے زریعے دشمن کی نیندیں حرام کر دئے هیں اور دنیا کے کونے کونے سے فلسطینی مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں صدائے احتجاج  بلند هو رهی هیں  چندے جمع هو رهے هیں اور هر کوئی اپنی بساط کے مطابق فلسطینیوں کے استغاثے پر لبیک کهه رهے هیں انشا الله امت کا یهی جوش وخروش رنگ لائے  گا اور بچوں اور عورتوں کے قاتل ،نامشروع و غاصب حکومت ،اسرائیل ،فلسطینیوں کی مقاومت کے سامنے گٹھنے ٹیکنے پر مجبور  هو گی اور انشا الله اگر تمام مسلما نوں کی یهی جوش وجذبه اور یهی حمایت جاری رهی تو وه دن دور نهیں هے که قبله اول  بیت المقدس آزاد هوگا وهاں پر هماری هی حکومت هو گی  اور قوم  پرست ظالم صهیونیوں کو وهاں سے ذلت وخواری کے ساتھ بھاگنا هو گا لیکن شرط یه هے که هم پیچھے نه هٹیں اور دشمن سے ڈٹ کر مقابله کریں اور خدایی نصرت پر ایمان رکھیں  . یه کام آپ اور میرا هے حکومتوں کا نهیں هے وه اپنی کرسی اور اقتدار کے نشے میں چور هیں وه اسرائیل جیسے طاقتور ملک کے مقابلے میں مقاومت  کو بیوقوفی سمجھیں گے اور جلد یهی کهیں گے که اسرائیل بهت بڑا طاقتور ملک هے اس لئے مقابله نهیں کرنا چاهئے خاموش رهنے میں هی هماری بقاء هے  وه  قلب مؤمن  کی کیفیت اور شجاعت سے بے خبر هیں  حقیقی مؤمن موت سے نهیں ڈرتا وه دیکھتا  هےکه کیا هم حق پر هیں یا  نهیں، اگر حق پر هے تو وه موت کا  بغل کھول کراستقبال کرتا هے  اور حق کی بالا دستی کیلئے لڑنے سے نهیں ڈرتا هے اس کی نگاه میں باطل قوت اور دشمن جتنا هی طاقتور کیوں نه هو کمزور هے  لهذا وه بے سر وسامانی میں بھی پیچھے هٹنے کو تیار نهیں هوتا هے بلکه اپنے ایمانی طاقت  پر بھروسه کر کے آگے بڑھتا هے چونکه ا س صورت میں  چاهے دشمن پر فتح حاصل هو جائے چاهے شهید هو جائے احدی الحسنیین اس کا نصیب هوتا هے             بقول شاعر :

 کافر ہے تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسہ        مؤمن  ہے تو بے تیغ بھی لڑتا هے سپاهی

سفرِ کربلا میں جب حضرت امام حسین علیه السلام کاقافله مقام زباله پر پهنچا تو آپ کو غنودگی طاری هوگئی اس وقت آپ نے کسی کی آواز سنی کهه رها هے که اے حسینؑ آپ عراق کی طرف جلدی فرمارهے هو اور موت آپ کا پیچھا کررهی هے که آپ کو فردوس بریں لے جائے ،جب آپ بیدار هوئے تو زبان پر کلمه انا لله و انا الیه راجعون جاری فرمایا کڑیل جوان بیٹا  حضرت علی اکبر عرض کرتا هے بابا اس وقت کلمه استرجاع کے زبان پر جاری کرنے کا کیا مقصد هے ؟ امام حسینؑ نے ارشاد فرمایا اے لخت جگر میں نے ابھی خواب میں دیکھا که ایک شخص کهه رها هے : اے حسین آپ عراق کی طرف جلدی فرمارهے هو اور موت آپ کا تعاقب کررهی هے۔

جناب علی اکبرؑ عرض کرتے هیں: اے بابا جان  کیا هم حق پر نهیں هیں ؟  امام علیه السلام نے فرما یا: هم حق پر هیں ۔ شاهزاده علی اکبرؑ نےعرض کیا که اے بابا پس همیں کوئی پرواه نهیں  هےکه موت هم پر آپڑے یا هم موت پر جاپڑیں.

فلسطینی بهن بھائیوں سے بھی هماری گزارش هے آپ بھی انقلاب کر بلا سے درس لیتے هوئے ثابت قدم رهیں  آپ کے حق پر هونے میں کوئی شک نهیں هے لهذا آپ موت کی پروا نه کریں جس طرح  مولا حضرت امام حسین علیه السلام نے فرمایا  الموت اولی من رکوب العار ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بهتر هے آپ بھی اسی راه پر چلتے رهیں  آگے بڑھتے رهیں تمام امت مسلمه آپ کے ساتھ هے هماری دعائیں آپ کے ساتھ هیں اور اگر ضرورت پڑی تو قبله اول اور آپ فلسطینی بھائیوں کیلئے هماری جانیں بھی تیار هیں انشا الله آپ کی هی جیت هو گی دشمن نیست ونابود هوگا - نصر من الله وفتح قریب ، و،  إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ﴿١﴾ وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِی دِینِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ﴿٢﴾ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ کَانَ تَوَّابًا ﴿٣﴾

صدق الله العلي العظیم.