زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

10- حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا اور شوہر داری کے اصول :سید محمود کاظمی

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا اور شوہر داری کے اصول

سید محمود کاظمی

تمہید:

  ایک ایسا دور جس میں انسانیت کا نام ونشان نہیں تھا اور انسان  حیوانی صفت کو اپنانے پر فخر محسوس کرتا تھا  عورت کی ذات کو  اپنے لئے ذلت ورسوائی سمجھتا تھا ہر طرف ظلم وستم کی تاریکی چھائی ہوئی تھی ایک ایسے دور میں  شہزادی دو عالم  نےآ کر   اس جاہل معاشرے کو سمجھا دیا کہ ایک لڑکی باپ کے لئے زحمت نہیں بلکہ ہر دور میں رحمت ہوا کرتی  ہے جو معاشرہ بیٹی کو اپنے لئے  باعث ذلت ورسوائی سمجھتا تھا   وہ معاشرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا جس کو شہزادی دو عالم نے آکر روشن کر دیا۔

حضرت زہرا سلام اللہ علیھا  ایسی باعظمت خاتون ہیں جن کی فضیلت کے لیے  اتنا کافی ہے کہ رسول گرامی اسلام ﷺنے   فرمایا  :فاطمہ میرا ٹکڑا ہے، [1] آپ (س) کی فضیلت کے لیے اتنا کافی ہے کہ امام علیؑ جیسی شخصیت آپ (س)کے وجود پر افتخار کرتی  ہوئی نظر آتی ہیں آپ کی زندگی کے ہر شعبے میں آپ کی فضیلت نمایاں ہیں آپ کی فضیلت میں قران کریم مدح سرائی اور قصیدہ گوئی میں نظر آتی ہے  آپ ہی کی ذات گرامی کو لیلۃ القدر سے تعبیر کیا گیا ہے ، تفسیر فرات کوفی میں امام جعفر صادق     ؑ سے روایت ہے کہ انا انزلنا ہ فی لیلۃ القدر میں "لیلۃ "سے مراد فاطمہ سلام اللہ علیھا کی ذات گرامی ہےاور" قدر "سے  پروردیگار عالم کی طرف اشارہ  کیا گیا ہے ، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے آپ کی حقیقی معرفت تک رسائی ممکن نہیں بنی نوع انسان آپ کی معرفت سے عاجز ہے

حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی علمی فضیلت کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ آپ فرشتوں سے ہم کلام تھیں آپ کا قلب علی  ؑ و پیغمبر  کے قلوب کی طرح نورانی تھا  آپ جب تک زندہ رہی  امام وقت کی پشت پناہی میں ایک مضبوط پہاڑ کی مانند کھڑی رہی اور ایک لمحے  کے لیے  بھی ولایت کو تنہائی کا احساس ہونے نہیں دیا  ۔ آپ کی فضیلت بشریت کی زبان سے ممکن نہیں  آپ اولین وآخرین میں تمام عورتوں سے اٖفضل ہیں اور آپ کی ذات گرامی عالمین کے لیے نمونہ ہےآپ کی عظمت کا موازنہ کسی  سے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی آپ  کی عظمتوں کو یبان کیا جا سکتا ہے

جناب سیدہ کی شخصیت  پر بہت سی کتابیں مقالات تحریر کئے گئے ہیں علمائے تشیع اور علمائے تسنن نے جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کے علم سے متعلق ،آپ کے فصاحت وبلاغت کے سلسے میں ،آپ کے اخلاص کے بارے میں، آپ کی عبادت و ایثار  ، اور ا  ن سب کے علاوہ آپ کے فضائل کو مختلف پہلوئوں سے آیات اور روایات  اور تاریخ کی روشنی میں بہت کچھ قلم بند کیا گیاہے۔

میں نے  اپنے اس مختصر سےمقالہ میں جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کی شخصیت کے مختلف پہلوں میں سے ایک  پہلو جو کہ"  شوہر داری کے اصول "  تحریر کرنے کی کوشش کی ہےامید ہے قارئین کے لیے مفید  اور علم و ایمان میں اضافہ کا سبب بنے اگر بندے سے کوئی غلطی ہو تو اس کی طرف متوجہ فرمائیں۔

قبل اس کےکہ اپنے موضوع سے متعلق کچھ معروضات پیش کروں جناب سیدہ کی ذات گرامی پر ایک سرسری  نظر کرتے ہیں

جناب سیدہ کی تاریخ ولادت :

شہزادی کونین کی تاریخ ولادت کے سلسلے میں علمائے اسلام کے درمیان اختلاف ہے لیکن  تاریخ اسلام کے بہت سے راوی جیسے شیخ کلینی، ابن شھر اشوب ،شیخ طوسی  ،شیخ طبرسی  ،علامہ مجلسی  اور  اہلیبت کی  روایت کے مطابق آپ سلام اللہ علیھا بعثت کے پانچوں سال 20 جمادی الثانی بروز جمعہ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئی[2]

اسم گرامی ،القاب ،وکنیت  جناب سیدہ

نام فاطمہ اور آپ کا مشہور لقب سیدۃالنساءالعالمین، بتول، راضیہ، ذکیہ، زہرا ،طاہرہ،خیرالنساء،محدثہ  ،صدیقہ  ،شافیہ  حوراء، کوثر  ،نوریہ،انسیہ، مرضیہ  ،عادلہ اور عزرا ہیں آپ کی مشہور کنیت  ام الائمہ،ام الحسنین،ام السبطین  اور ام ابیہا ہیں  ان سب کنیتوں  میں سے سب سے مشہور ام ابیہا ہے یعنی" اپنے  بابا کی ماں" تاریخ   اسلام کے کسی باب میں کسی باپ نے اپنی بیٹی کے لیے ایساجملہ کہا ہو ہمیں نہیں ملتا   نہ صرف پیغمبر گرامی آپ سے  بے حد محبت کرتے تھے بلکہ آپ بھی اپنے بابا کو بہت چاہتی تھی اور اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھی۔

آپ سلام اللہ علیھا کے والدین:

آپ کے والد ماجد سرکار دو عالم حضرت محمد ﷺ اور والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خویلد ہے  ایسے  باپ  جن کی تعریف کرنے اور اوصاف و کمال لکھنے سے  قلم  عاجز ہے جن کے اوصاف وکمال کے قصیدے قرآن کریں  ہم ان کی تعریف کیا کرے جن کی تعرف دشمن نے بھی کی ہو۔آپ کی والدہ ماجدہ وہ خاتون ہیں جو اسلام سے  پہلے بھی قریش کی سب سے با عفت  اور نیک خاتون میں شمار ہوتی تھیں آپ اسلام کی وہ پہلی خاتون ہے جس نے اسلام لانے کے بعد اپنا سب کچھ اسلام کی ترویج کی خاطر وقف کر دیا تاریخ اسلام میں آپ کی وفاداری  کو کھبی فراموش نہیں کیا جا سکتا   یہی وجہ تھی کہ پیغمبر گرامی اسلام نے جب تک آپ زندہ  رہی کسی اور سے شادی نہیں کی اور ہمیشہ آپ کی تعریف کرتے رہتے تھے ۔عایشہ کہتی  ہے ایک با ر میں نے  رسول گرامی سے کہا  : آپ اس کی تعریف کرتے رہتے ہیں وہ تو صرف ایک بیوہ  و بوڑھی عورت تھی، یہ سن کر آپ ﷺ اس قدر ناراض ہوئے  کہ پیشانی پر بل پڑ گئے اور پھر فرمایا: خدا کی قسم میرے لئے خدیجہ سے بہتر کوئی نہیں تھی۔ جب سب لوگ کافر تھے اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں جب سب نے رخ موڑ لیا تو انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی۔ حضر ت زہرا یسے ولدین کی  سایہ میں رہی جن کی توصیف کرنے کے  لیے الفاظ کم ہیں

آپ سلام اللہ علیھا کی پچپن کی زندگی:

آپ سلام اللہ علیھا پانچ سال تک اپنے والدہ کی زیر سایہ  رہی اور جب حضرت خدیجہ سلام اللہ کا انتقال ہوا  اور ماں کا سایہ سر سے اُٹھنے کے بعد آپ کی تربیت خود ختمی مرتبت  نے کی اور آپ ﷺ نے اپنے اخلاق وکردار کے   زریعے سے بیٹی کی  تربیت کی۔پچپن میں آپ کو بہت سے ناگوار واقعات اور حالات کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے ایک ماں کے سایہ کا سر سے اُٹھ جانا تھا اور دوسری جانب کفار قریش کی جانب سے آپ کے والد کو دی جانے والی اذیتیں سامنے تھی بعض اوقات آپ  نے اپنے بابا کو خون میں لہو لہان دیکھا اور کبھی دشمنوں کی طرف سے بابا کے سر پر کوڑا کرکٹ کا پھینکنااور کھبی دشمن کی طرف سے بابا کو قتل کرنے  کی دھمکیاں ا ن  سب مشکلات میں آپ سلام اللہ علیھا  ذرا بھی نہیں گھبرائیں بلکہ اتنی کمسنی میں بھی اپنے والد کی مددگار بنی رہیں۔مورخین  اس وقت کے مصائب کا نقشہ اس طرح کھینچتے ہیں کہ

"جن مصائب کو کسی انسان کے  کانوں نے  نہ سُنا ہو اور جن تکالیف کے دیکھنے کی کسی آنکھ میں طاقت نہ ہو اس میں آپ اور آپ کی زوجہ محترمہ اور آپ کی بیٹی حضرت سیدہ فاطمہ نے نہایت استقلال کے ساتھ برداشت کیئے"۔[3]

لیکن بچپن سے لے کر تا آخر عمر آپ نے اپنے بابا کا ساتھ دیایہی آپ  (س) کی شرافت پر دلیل ہے ورنہ تین سال کی بچی اور  سختیاں جھیلنا آسان کام نہیں تھااور جب سختیا ں تمام ہوئی تو ماں کا سایہ سر سے اُٹھ گیاوقت گزرتا گیا اور آپ نے اپنے بابا کا ایسا ساتھ دیا کہ  "ام ابیہا "(اپنے بابا کی ماں)  ہونے کا ثبوت فراہم کیا جناب سیدہ کے  اس عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کا فرض ہے کہ  والدین کی بلند ترین مقصد میں  ان کا ساتھ دیں۔

شہزادی کونین حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کا نکاح:

پیغمبر اسلام ﷺ  فرماتے ہیں: میری بیٹی کا کفو خانہ زاد خدا کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا[4] لیکن آپ  (س )کے سن بلوغ تک پہنچتے ہی آپ کے لئے خواستگاری کے پیغامات آنے شرع ہو گئے تاریخ میں ملتا ہے کہ بڑے بڑے صحابہ رسول نے پیغامات بھیجے،لیکن آپؐ ان کے جواب میں غضبناک ہوئے اور ان سے منہ پھیر لیا[5] عبدالرحمن نے مہر کی زیادتی کا حوالہ دیا  تو آپ ؑ نے فرمایا تمہاری بات افسوناک ہے تمہاری درخواست قبول نہیں کی جا سکتی[6] اس کے بعد حضرت علی ؑنے درخواست کی تو آپ نے فاطمہ (سلام اللہ علیھا ) کی مرضی دریافت فرمائی آپ )س (چپ رہی یہ ایک طرح کا اظہار رضا مندی تھا[7] اس کے بعد آپ س کی شادی ہو گئی۔ علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ پیغام محمود نامی ایک فرشتہ لے کر آیا تھا  [8] بعض علماء نے جبریل کا حوالہ دیا ہے۔غرض کہ حضرت علی ؑنے ۵۰۰ درہم میں اپنی زرہ عثمان غنی کے ہاتھوں فروخت کی اور اسی کو مہر قرار دے کر بتاریخ یکم ذی الحجہ ۲  ہجری حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیھا )کے ساتھ عقد کیا۔ مذکورہ رقم آج کل کے لحاظ سے ایک سو سات روپے ہوتی ہے جو ہمارے نزدیک شرعی مہر ہے۔ اس  طرح شہزادی دو عالم کی شادی انتہائی سادگی کے ساتھ انجام پائی اگر چہ رسول گرامی اسلام ؐ اپنی لخت جگر کو اعلی ٰ درجے کا جہیز دے سکتے تھے مگر امت کی آسانی کی خاطر ایسا نہ کیا۔

ہماری شادیوں اور سیدہ سلام اللہ علیھا کی شادی میں فرق:

ہم سب کو معلوم ہے ہماری شادیوں کی تقریب کس طرح انجام پاتی  ہے اور ہم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہے کہ ہم اللہ کے رسول اور ان کی اہل بیت کے طور طر یقے کو کس طریقہ سے انجام دیتے ہیں بتانا تو صرف یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو محبان اہلبیت  ہونے کا دعوای کرتے ہیں کیا ہم اپنی رسومات کو ان کے طریقوں کے مطابق انجام دیتے ہیں  ہم نے کھبی سوچا ہے کہ ہماری بیٹیاں سیدہ کی خاک پا کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتیں۔پھر اُس رسول کی بیٹی کی شادی نہایت ہی سادگی سے ہو اور ہمیں اپنے بیٹیوں کی شادی سادگی کے ساتھ منانے میں شرم محسوس کیوں ہوتی ہے، کیا ہم رسول اکرم سے زیادہ عزت دار ہےکہ سادگی سے ہماری عزت کو خطرہ لاحق ہےآپ اگر چاہتے تو اپنی بیٹی کے لئے بہت کچھ دے سکتے تھے مگرآپ نے صرف امت کی   آسانی کی خاطرآسان ترین راستے کو اپنایاتا کہ ہم جب اپنی بیٹیوں کی شادی کرے تو آپؐ کی بیٹی کو یاد کریں جس سے  ہمیں اپنے غریبی اور مسکینی ہونے   پر رونا نہیں آئے گااسلام نے اپنی حیثیت سے آگے بڑنے کا حکم نہیں دیا  اسلام نے قرضے لے کر شادی کرنےکا حکم نہیں دیا  جس سے بیٹی کی شادی تو ہو جاتی ہے مگر افسوس والدین ہمیشہ کے لیے فروخت ہو جاتے ہیں یہ درست ہے ہم اپنی بیٹی سے پیار کرتے ہے مگر خاتم الانبیا سے بڑھ کر کوئی اپنی بیٹی سے محبت نہیں کر سکتا۔

شہزادی کونین کا جہیز:

پیغمبر گرامی اسلام نے اپنی لخت جگر کے لیے جو چیز جہیز کے طور پر دیے ان کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں اس طرح بیان ہو ئے ہیں۔  شادی کا ایک جوڑا،  چادر، تولیہ ،ایک مشکیزہ، چکی ، چند مٹی کے برتن، چٹائی ،جائےنماز، لوٹا ،عطر ، کپڑا دھونے کا ایک برتن۔[9] ان چیزوں کے علاوہ چمڑے پر لکھا ہوا قرآن تھا جو  شہنشاہ کون  ومکاں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں  دیے۔ حضرت علی ؑ و خاتون جنت کی شادی تا قیامت نمونہ عمل ہےہر جوان جوڑے کو اپنے حق مہر کے لئے ان دو عظیم ہستیوں کی شادی کو سامنے رکھتے  ہوئے اپنے فیصلے کرنے چاہیے ہم یہ نہیں کہتے جہیز بلکل نہ دے لیکن دینے  سے پہلے اُ س مقدس اور عظیم بی بی  جو تمام عورتوں کی سردار ہے کو مد نظر رکھےاور اگر  ہم نےاہلبیت کی سیرت کو اپنایا تو یقین کریں ہماری بیٹیوں کی شادی میں جو رکاوٹیں  ہیں کہیں ان کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔

اُصول شوہر داری:

عورتوں کا جو ہرذاتی شوہروں کی خدمت اور امور خانہ داری میں کمال حاصل کرنا ہے۔ فاطمہ زہرا نے علیؑ کی ایسی خدمت کی کہ مشکل سے اس کی مثال ملتی ہے۔ ہر مصیبت اور تکلیف میں فرمانبرداری پر نظر رکھی۔  جس طرح جنابِ خدیجہؑ نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی خدمت کی، اسی طرح بنتِ رسول نے اسلام اور علی کی خدمت کی۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح رسول کریم نے خدیجہؑ کی موجودگی میں دوسرا عقد نہیں   کیا۔ حضرت علیؑ نے بھی فاطمہؑ کی موجودگی میں دوسرا عقد نہیں کیا[10]۔حضرت علیؑ سے کسی نے پوچھا کہ فاطمہؑ آپ کی نظر میں کیسی تھی۔ فرمایا۔ خدا کی قسم وہ جنت کا پھول تھی۔ دنیا سے اٹھ جانے کے بعد بھی میرا دماغ ان کی خوشبو سے معطر ہے۔آپ نے شوہر کے ساتھ بہترین زندگی گزار کر ایک عورت کو شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کے اصول بتا دیئے  وہ اصول یہ ہے۔

1۔امور خانہ داری:

جب فاطمہ زہرا (س) بیاہ کر کےعلی مرتضیٰ کے بیت الشرف میں تشریف لے گئیں دوسرے روز رسول اکرم بیٹی اور داماد کی خیریت معلوم کرنے گئے ۔ اورحضرت علی (ع) سے سوال کیا یا علی تم نے فاطمہ کو کیسا پایا ؟ علی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ، یا رسول اللہ (ص) میں نے فاطمہ کو عبادت پروردگار میں بہترین معین و مددگار پایا[11]،عورت چاہے تو اپنے گھر کو جنت بناسکتی ہے جناب سیدہ نے ہر لحاظ سے اپنے گھر کو جنت بنا  رکھا تھا گھر میں اگرچہ کچھ زیادہ سامان نہیں تھا مگر آپ نے  گھر کی ہر چیز نہایت سلیقہ سے سجا رکھی تھی۔آپ اپنا زیادہ وقت عبادت میں بسر کرتی اور کثرت عبادت کے باوجود آپ امور خانہ داری میں بھی خاص توجہ رکھتی تھیں گھر کے تمام کام اپنے ہاتھ سے انجام دیتی آپ چکی پیستی تھیں  جس سے آپ کے ہاتھوں پر چھالے پڑ جاتےکنویں سے خود پانی بھر کر لاتیں اور خود کھانا تیار کرتی یہ تما م کام ایک خاص سلیقے سے انجام ہوتا تھا یہی وجہ تھی کہ  مولا علیؑ فرماتے ہیں :فاطمہ جیسی سلیقہ شعار خاتوں میں نےنہیں دیکھی۔اور جب پیغمبر اسلام ﷺ سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر عورتوں پر میدان جہاد میں جانا ساقط ہے تو پھر ان کا جہاد کیا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا:جھاد المراۃ حسن التبعل[12]۔ یعنی شوہر کو خوش رکھنا امور خانہ داری اور بچوں کی صحیح تربیت کرنا ہی عورت کا جہاد ہے،[13]آپ سلام للہ علیھا نے اپنے بچوں کی تربیت ایسی کی جو دین اسلام کے لیئے سرمایہ بن گئی گھر کے سب کام آپ انجام دیتی اور کھبی جناب امیر بھی مدد کرتے اور ہاتھ بٹاتےیہ تمام کردار ہمارے لئےنصیحت ہے کہ شوہر کو گھر کے کاموں میں زوجہ کا  مددگار ہونا چاہیے[14]۔

2۔زوجہ شوہر کی مددگار اور سہارا:

رسول اکر م ﷺنے امام علی سے خطاب کرتے ہوے فرمایا ''سلام علیکم یا اباالریحانتین فعن قلیل ذھب رکناک۔،، یعنی سلام ہو تجھ پر اے حضرت زینب اور ام کلثوم کے باپ بہت جلد تم سے دو دوست یا سہارےجدا ہو جائیں گے ، مولا علیؑ رسول اکرم کی شہادت کے بعد فرماتے ہیں:، یہ ایک سہارا تھا جو مجھ سے جدا ہو گیا ،، اور زہرا کی شہادت کے بعد فرمایا :،، یہ دوسرا سہارا تھا جو مجھ سے جدا ہو گیا اس حدیث میں امام علی نے حضرت زہرا کو اپنی زندگی کا مکمل سہارا اور ستون قررار دیا اور زندگی کے کسی موڑ پر آپ ؑ کو تنھا نہیں چھوڑا۔ جب حضرت رسول خدا(ص)  مولائے کائنات سے اپنی بیٹی اور پارہ جگر کے بارے میں پوچھتےہیں کہ :اے علی !فاطمہ کو کیسا پایا ؟تو علی عرض کرتے ہیں: نعم العون علیٰ طاعۃ اللہ۔(یعنی) اللہ کی اطاعت پر بہترین مددگار پایا[15]یہ ایسا عمل ہے جس کا ہر ایک شادی شدہ جوڑے میاں بیوی کی زندگی کا شیوہ ہونا چاہئے کہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں خدا کی اطاعت کا خاص خیال رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے معاون و مددگار بنے اس لئے جب تعاون اور محبت کی بنیاد اللہ کی اطاعت پر ہو گی تو کبھی اس تعاون اور محبت میں کمی نہیں آسکتی۔

3۔مصائب و الام میں صبر:

قران مجید فرماتا ہے : ان اللہ مع الصابرین''یعنی اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ، اگر ہم جناب سیدہ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہےکہ  آپ کی زندگی میں بہت سے مصائب اور مشکلات پیش آئیں  لیکن آپ نے ہمیشہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شوہر کا ساتھ دیا اور کھبی خوف زدہ نہیں ہوئی  اور دنیا کی تمام آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ اگر راہ حق میں مصائب پڑے تو گھبرانا نہیں چاہیے اگر رب ساتھ ہے تو کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا کہ اللہ ہمیشہ مظلوموں اور صابروں کا ساتھ دیتا ہے۔[16]

4۔زوجہ  شوہر کے لئے سکون ہے:

شہزادی کونین (س) شادی کے بعد " انا خلقناکم ازواجا لتسکنوا الیھا،، کا حقیقی مصداق بنی یعنی آپ کی ذات گرامی امیر المومنین ؑ کے لئے باعث آرامش اور سکون تھی  شہزادی کی شہادت کے بعد آپ نے شہزادی سے خطاب کرتے ہوے ارشاد فرمایا: اے بنت محمد!مجھے سکون کیسے ملے گا تم ہی تو میرا سکون اور سبب اطمینان  ہے  ۔

5۔تربیت اولاد میں زوجہ کا کردار:

زوجہ کی  سب سے بڑی  ذمہ داری تربیت ولادہے  تربیت اولاد ایک چھوٹا جملہ ہے مگر اس میں ایک ماں کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے ۔ تربیت صرف اسی کا نام نہیں ہے کہ اولاد کے لئے لوازم زندگی اور عیش و آرام فراہم کر دیئے  جائیں اور بس …… بلکہ یہ لفظ والدین کو ان کے ایک عظیم وظیفہ کا مسئول قرار دیتا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے اولاد کا کسی عہدہ پر فائز ہونا بھی تربیت والدین کی مرہون منت ہے فاطمہ اس بات سے بخوبی واقف تھیں کہ انہیں اماموں کی پرورش کرنی ہے ایسے بچوں کی پرورش کرنی ہے کہ اگر اسلام صلح و آشتی سے محفوظ رہتا ہے تو صلح کریں اگر اسلام کی حفاظت جنگ کے ذریعہ ہو رہی ہے تو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے قیام کریں چاہے ظہر سے عصر تک بھرا گھر اجڑ جائے لیکن اسلام پر آنچ نہ آئے اگر اسلام ان کے گھر انے کے برہنہ سر ہونے سے محفوظ رہتا ہے تو سر کی چادر کو عزیز نہ سمجھیں  فاطمہ (س) ان کوتاہ فکر خواتین میں سے نہیں تھیں کہ جو گھر کے ماحول کو معمولی شمار کرتی ہیں بلکہ آپ گھر کے ماحول کو بہت  حساس  لیتی تھیں آپ کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ آغوش مادر تھی اس کے بعد گھر کا ماحول اور صحن خانہ بچوں کے لئے عظیم مدرسہ تھا ، ہمیں بھی اپنے بچوں کی صحیح تربیت میں حضرت زہرا (س )کی سیرت کو  اپنانے کی اشد ضرورت ہےایسا نہ ہو ہم خود کو ان کا شیعہ شمار کرتے رہیں لیکن ان کی سیرت سے دور دور تک تعلق نہ ہو اور ان کے احکام و فرامین پس پشت ڈالدیں۔

6۔ایک دوسرے کے کامو ں کو تقسیم کرنا:

 ایک  کامیاب زندگی کے لئے ضروری ہے کہ شوہر اور زوجہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے کاموں کو ایک دوسرے  میں تقسیم کریں البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کے  تقسیم کرنے کے بعد ایک دوسرےکی مدد نہ کرے بلکہ  یہ تقسیم توصرف  بہتر طور پر اس کام کو انجام دینے کے لئے ہوتی ہے حضرت علی اور جناب زہرا س نے اپنی زندگی کی ابتدا سے ہی اس مہم کام کی طرف توجہ دیا اور اس مہم کام کے سلسلے میں پیغمر گرامی اسلام سے بھی مدد لیا آپؐ نے فرمایا:گھر کے کاموں کو فاطمہ انجام دے اور گھر سے باہر کے کاموں کو علیؑ[17] اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کام کی تقسیم توانائی کے لحاظ سے کرنا ضروری ہے  چونکہ مرد گھر کے باہر کے کاموں کو  انجام دینے کی توانائی زیادہ رکھتا   ہے اور عورت گھر کے اند ر کے کاموں کو بہتر انجام دے سکتی ہے۔

7۔ایک دوسرے کے عیب کو چھپانا:

ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی کمزوری اور ضعف پایا جاتا ہے اور اس کمزوری اور عیب کو آشکار نہ کرنا ایک خانوادہ کی کامیابی کی علامت ہے قرآن مجید نے بھی اس بارے میں بہت ہی پیارا جملہ بیان فرمایا:(ھن لباس لکم وانتم لباس لھن)[18] زوجہ تمہارے لئے لباس ہے اور تم ان کے لئے۔  اور لباس کا کام یہ ہوتا ہے کہ بدن کے اندر موجود عیب کو دوسروں سے  چھپائیں۔ حضرت علیؑ اور حضرت زہر ا (س) کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ زندگی میں کبھی  ایک دوسرے کے عیب اور کمزوری کو دوسروں کے سامنے بیان نہ کریں، بلکہ ہمیشہ یہ کوشش کرے کہ ایک دوسرے کی اچھائی کو دوسروں کے سامنے بیان کرے ،حضرت علی اور جناب فاطمہ کی زندگی میں ہمیں اس بارے میں ایک خاص درس ملتا ہے وہ اس طرح کہ شادی کے بعد  پیغمبر اسلامؐ نے آپ دونوں کی زندگی کے بارے میں سوال کیا ۔پہلے حضرت زہرا (س )سے پوچھا   اپنے شوہر کو کیسا پایا؟فرماتی ہیں :اے بابا جان بہترین  شوہر پایا،اسی طرح مولا علی سے جب آپ پوچھتے ہیں تو مولا فرماتے ہیں:بہتریں مددگار اطاعت خداوند میں،[19]

8۔شوہر کی استظاعت سے بڑھ کر سوال نہ کرنا:

شہزادی کونین نے اپنی پوری زندگی میں حضرت علی سے کسی ایسی چیز کی فرمائش نہیں کی جس کو مولاعلی پورا نہ کر سکے،

حضرت فاطمہ حقوق خاوند سے جس درجہ واقف تھیں کوئی بھی واقف نہ تھا۔ انھوں نے ہر موقع پر اپنے شوہر حضرت علیؑ کا لحاظ و خیال رکھا  انھوں نے کبھی ان سے کوئی ایسا سوال نہیں کیا جس کے پورا کرنے سے حضرت علیؑ عاجز رہے ہوں،ایک مرتبہ حضرت فاطمہؑ بیمار ہوئیں تو حضرت علیؑ نے ان سے فرمایا کچھ کھانے کو دل چاہتا ہو تو بتاؤ، حضرت سیّدہ (سلام اللہ علیھا ) نے عرض کی کسی چیز کو دل نہیں چاہتا۔ حضرت علیؑ نے اصرار کیا تو عرض کی، میرے پدرِ بزرگوار نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں آپ سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔ممکن ہے آپ اسے پورا نہ کر سکیں تو آپ کو رنج ہو۔ اس لیے میں کچھ نہیں کہتی۔ حضرت علی ؑنے جب قسم دی تو انار کا ذکر کیا۔حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ میں کبھی کسی بات پر اختلاف نہیں ہوا  اور دونوں نے باہم  خوشگوار زندگی گزاری ۔

9۔نعمت خداوند پر شکر گزار رہنا:

جناب سیدہ  (س) اپنے گھر کی مالی کمزوری دیکھ کر نہ  ملال ہو ئی اور نہ پریشان  بلکہ ہمیشہ شکر الہی بجا لایا کرتی تھی آپ نے ہمیشہ صبر استقامت اور قناعت کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی  اانتہائی افلاس اور غربت کی حالتوں میں بھی اطمینان اور سکون کی زندگی گزاری  ہمہشہ نہایت خاموشی استقلال خندہ پیشانی سے  تما م مشکلوں کو تحمل فرمایا  اور کھبی ان گھریلو اور ذاتی ضرورتوں کی تنگی کی شکایت کا  اظہار نہیں کیا  ور خدا کی دی ہوئی  نعمتوں پر شکر گزار رہی نہ صرف شکر گزار رہی بلکہ ان حالات میں بھی ایثار وقربانی کی اعلیٰ مثالیں دکھائی کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ جناب فاطمہ (س) غریب ہیں۔

نتیجہ:

خاندان کی کامیابی معاشرے کی کامیابی میں  ہے  اور یہ کامیابی اس وقت حاصل ہو سکتی ہے جب خاندان کے افرادکے پاس وہ اُصول،سوچ  اور فکر ہو  جس سے معاشرہ کامیابی کی طرف بڑھ سکے اور تلاش کر یں کہ وہ اصول کہاں سے مل سکتے ہے؟تو بہترین جواب جو ہم دے سکتے ہے وہ یہ ہے  کہ ہم ایسے خانوادہ کو دیکھے  جو کامیاب بھی ہے اور دوسروں کے لئے نمو  نہ بھی، انہی میں سے ایک کامیاب خانوادہ  حضرت علیؑ او ر حضرت زہر ا سلام اللہ علیھا کا  ہے  آپ دونوں کی زندگی کے ان اصول کو اگر کوئی اپنائیں تو  دنیا میں بھی اور آخرت میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔

" آخر میں خداوند عالم سے دعا ہے کہ خدایا ہمیں سیرت معصومینؑ کو اپنا کر ایک کامیاب زندگی گزارنے کی توفیق عنایت فرما"

"    آمین" 

[1] ۔ شیخ طوسی ،امالی ج 1 ص 24

[2] حضرت فاطمہ از ولادت تا شہادت،تالیف  سید محمد کاظم قزوینی

[3]  ۔،کتاب البتول  ج ،1 ص 28  مصنف علامہ صائم چستی ،سال 1398 ھ ناشر چستی کتابخانہ لاھور

[4]  ۔،نورالانوار ، شرح صحفیہ سجادیہ

[5] ۔،کنزالعمال،ج7،ص113

[6] ۔،بحار الانوار ،ج10،ص 14

[7] ۔،سیرۃ النبی،ج1،ص261

[8] ۔،بحار الانوار ،ج1 1 ص 35

[9] ۔،فا طمہ من  لمہد الی اللحد

[10] ۔،مناقب ،ص،8

[11] ۔،بحار الانوار ج، 43، ص45

[12] ۔،وسائل الشیعہ،ج12 ص116

[13]  ۔بحار الانوار،ج 10، ص 99

[14] ۔،  فاطمہ کی عظمت از مولانا کوثر نیازی ،ص5

[15]  ۔،حار الانوار،ج1،ص117

[16] ا۔لقران،سورہ بقرہ،ایہ 153

[17] ۔،مجلسی بحارالانوار،ج33،ص1

[18] ۔، بقرہ،187

[19] ۔،مجلسی  بحارالانوار ،ص 134