زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

4۔تربیت اولاد حضرت زہراسلام اللہ علیہا کی نظرمیں عرفان حیدر

تربیت اولاد حضرت زہراسلام اللہ علیہا کی نظرمیں

محقق: عرفان حیدر

مقدمہ:شریعت اسلام میں تربیت اولاد کابہت ہی زیادہ فضلیت اوراہمیت بیان ہوئی ہے ۔ اسلام نے اس بات کی سختی سے تاکید کیا ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت بہتر اندازمیں کی جائے،اس لئے کہ جب اولاد کی تربیت اسلامی قوانین کے مطابق کی جائے گی تو پھر اس طرح پورے معاشرے کی اصلاح ہوسکتی ہے ۔ اورتربیت میں کا اہم کردار ہوتاہے اس بناء پر عورت اصلاح معاشرہ میں ایک معلم کی حیثیت رکھتی ہے  اور اسی طرح اگرعورت کی رضایت اورکردار نہ ہوتو معاشرہ کی اصلاح بہت مشکل ہے۔ لیکن اگر عورت چاہے توبہت آسانی سے معاشرہ کی اصلاح ہوسکتی ہے ۔کیونکہ عورت ہرمعاشرہ کیلئے معلم اول شمارہوتی ہے اس لئے کہ ہرانسان اپنی ماں کی آغوش  میں ہی پروان  چڑتا ہے اوروہ عورت اس انسان کیلئے معلم اول قرار پاتی ہے ۔اگر اس زمانے میں  بھی کوئی بھی ماں اسلامی دائرہ میں رہ کر بہتر اندازمیں اپنے بچوں کی تربیت کرتی ہے توپھروہی بچے معاشرے کیلئے اپنے وقت کے حسن ؑ اورحسینؑ بن کر اسلام پر اپناسب کچھ قربان کرنے کیلئے تیارہوجاتے ہیں ۔اوراگر غلط تربیت ہوجائے تواپنے  زمانے کے یزیدبن سکتاہے۔اگرصحیح تربیت ہوجائے توبڑے ہوکراسلام پراپناسب کچھ قربان کردیتے ہیں اس کاجینا اورمرناسب کچھ اسلام کیلئے ہی ہوتاہے ۔وہ اسلام کوہی اپناسب کچھ سمجھتاہے اوراپنی آخری دم تک اسلام کادفاع کرتاہے اورقیامت تک آنے والی نسلوں کیلئے قابل فخراورآیڈیل بن جاتے ہیں ۔

ہرزمانے میں بہترین معاشرے کاقیام اس وقت ممکن ہے جب اس میں رہنےوالے افراد بہترین ہو،اورتربیت اولاد کےبغیرایک معاشرے کیلئے بہترین افراد کامہیاہوناناممکن ہے جب ایک ماں بہتر اندازمیں اپنی اولاد کی تربیت کرتی ہے ،توبچہ بھی بعدمیں مصلح بن کر لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں لیکن اگر اس کی تربیت ہی میں نقص ہو توپھروہ اپنے وقت کے یزیدکی صورت میں فسادی بن کراسی کی اینٹ سے اینٹ بجادیتے ہیں ۔اس عظیم مقصد اورمفیدنتیجہ کومدنظررکھتے ہوئے ہرعورت کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس ذمہ داری کوبخوبی انجام دے اوراپنی آغوش میں پلنے والے ہربچے کی بہترین اندازسے تربیت کرنے کی کوشش کریں تاکہ پورے معاشرے اورپوری سماج کی اصلاح ہوسکے۔جب معاشرہ ایک بہترین اسلامی اصلاح شدہ معاشرہ بن جائے گاتو اس زمانے کے حقیقی وارث حضرت حجۃ ابن الحسن (عج)کی ظہور کیلئے زمینہ فراہم ہوں گے۔

تربیت کالغوی معنی:اہل لغت نے تربیت کالغوی معنی  پرورش، تعلیم وتہذیب ،تعلیم واخلاق کے کیے ہیں۔[1]

تربیت کااصطلاحی معنی:ہروہ رفتار وگفتار جسے معلم یاوالدین یاہر وہ افراد جودوسرے فردکی رفتار وگفتارکوٹھیک کرنے کیلئے انجام دیتے ہیں ایک ہدف اورمقصدساتھ۔[2]

تربیت فرزندکی اہمیت اوراس کی ضرورت

انسان کی تربیت کی جواہمیت ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے بلکہ سب پرآشکار ہے ۔کوئی بھی مذہب  یاکوئی بھی گروہ ایسانہیں ہیں جواس حقیقت سے انکار کریں ۔ہاں تربیت کاجوطریقہ ہے اس میں ضرور اختلاف پایاجاتاہے انسان کے اندرفطری طورسے تربیت پذیری کی خصوصیت پائی جاتی ہے بعثت انبیاعلیہم السلام کے فلسفہ اورمقصد ہی تربیت وتعلیم اورتذکیہ نفس ہیں۔جیساکہ قرآن مجیدمیں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوعلیھم ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ"[3] ترجمہ: وہی ذات ہے جس نے ہمیں میں سے ایک رسول کومبعوث کیا۔تاکہ وہ ان پراللہ کی آیات تلاوت کرے اورتذکیہ نفس کریں اورکتاب اورحکمت کی تعلیم دیں۔ اس  سےپہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ لہذااس آیت سے یہ پیغام ملتاہے کہ تعلیم وتربیت کی اس قدراہمیت ہیں کہ انیباء کاوجہ بعثت ہی اسی تعلیم وتربیت کوقراردیالہذاقرآنی تعلیمات کی روشنی میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں سیرت انبیاء پرچلتے ہوئے تعلیم وتربیت میں اپناکرداراداکریں۔کیونکہ ہمارے لئے بہترین مشعل راہ انہی  ہستیوں کی سیرت مبارکہ ہے ۔جیساکہ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خالق دوجہاں نے قرآن میں فرمایا۔لقدکان لم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ"[4] ترجمہ: بےشک تمہارے لئے رسول خداکی زندگی بہترین نمونہ عمل ہے۔

تمام انسانوں خصوصاماہرین نفسیات کااس بات پراتفاق ہیں کہ بچے کی تربیت کمسنی میں انجام پانی چاہیں ۔اسلام کابھی یہی آئیڈیالوجی ہے،اوراسی بات کی تائید کرتاہے اوروالدین کی شرعی ذمہ داری میں شمارکرتاہے۔

تربیت کی اہمیت احادیث کی روشنی میں:

ائمہ معصومین علیہم السلام کی متعدد روایات ایسی ہیں جوفرزند کی تربیت کی اہمیت اوراس کی ضرورت پردلالت کرتی ہیں ،خاص طورسے کم سنی کےعالم میں تربیت کرنے پر بہت زیادہ تاکید کرتی ہیں پیغمبراکرمﷺ فرماتے ہیں "لان یودب الرجل ولدہ خیرہ لہ من ان یتصدق بنصب صاع کل یوم"اگر کوئی والدین اپنے بچے کی تربیت کرے توہرروزایک صاع کھاناصدقہ دینے سے بہترہے ۔[5]

اس حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ اولاد کے تربیت کے بغیرصدقہ وخیرات دینے کی فائدہ نہیں ۔بلکہ تربیت اولاد سب سے مہم ہیں اسی حوالے حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : مانحل والدوالدانحلاافضل من ادب حسن"کوئی بھی باپ اپنے فرزندکی اچھی تربیت کرے توایساہے کہ اس نے اپنے فرزندکوایک بہت بڑاتحفہ دیاہے کہ اس سے بڑاکوئی تحفہ نہیں ہے ۔[6] مولایہ فرماناچاہتے ہیں کہ بچوں کومال ودولت اوردیگردنیاوی اشیاء کے تحفہ تحائف کے بجائے انکی تربیت پرخاص توجہ دی جائے ۔کیونکہ اگر اسی تربیت  اچھی طریقے سے ہوتووہ خودمال ودولت جمع کرکے اس کی حفاظت کرتے ہیں ۔بغیرتربیت کے جتنابھی مال ودولت دی جائے اس مال کو خراب کرنے میں اس بے تربیت اولادکیلئے وقت نہیں لگتا۔امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ۔"تجب للوالدعلی ثلاث خصال اختیارہ لوالدتہ ،وتحسین اسمہ والمبالغہ فی تادیبہ"فرزندکاتین حقوق والدپرواجب ہے پہلاحق یہ کہ اس کےبچے کیلئے شائستہ اورنیک ماں کاانتخاب کریں، اوردوسراحق یہ ہے کہ اس بچے کیلئے کوئی نیک نام کاانتخاب کریں ،اورتیسرا حق یہ ہے کہ اس بچے کی تربیت میں ذراسی بھی کوتاہی نہ کریں۔[7](ان میں سے تیسراحق بچے کی تربیت میں بطورقطع  انتہائی موثراورمفید ہے امام علیہ السلام نے اس حدیث مبارکہ میں تربیت کو حق والدین قرار دیاہے یہاں سے واضح ہوجاتاہے ۔کہ والدین اولاد کے ہرحقوق کوپوراکریں اگر تربیت نہیں کیاتواس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

ایک اورحدیث میں  امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں " دع ابنک یلعب سبع سنین ،ویودب سبع سنین ،والزمہ نفسک سبع سنین فان افلح والافلاخیرفیہ" [8]اپنے فرزند کوسات سال تک آزاد چھوڑدو تاکہ کھیل کودکرے ،اوردوسرے سات سال میں اس کی اچھی طرح تربیت کرو،اوراسے اپنے ساتھ رکھو اوراسے اپنامشاوربناو اگر اسے ہدایت نہ ہوئی تو اس سے اورہدایت پانے کی توقع مت رکھو۔

اس حدیث میں امام علیہ السلام نے ہمیں تربیت کے اصول اورطریقہ بیان فرمایا کہ کس طرح اولاد کی تربیت کیجاتی ہے کیونکہ معاشرے میں لوگ اپنی مرضی سے بچے کی تربیت کرکے اپنے آپ کوبری ذمہ سمجھتے ہیں جبکہ ایسانہیں ہے کیونکہ ہرکام کے کچھ قوانین وضوابط ہوتے ہیں کہ جن پرعمل ضروری ہے ۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں ۔21 سال کے بعد اسے آزادچھوڑدواوراس کی تربیت کرنے کی ضرورت نہیں ۔[9]

پیغمبراسلامﷺ فرماتے ہیں۔21 سال کے بعدوالدین معذورہیں اورتربیت نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ یہاں تک والدین نے اپنی ذمہ داری اوروظیفے کے اوپرخوب عمل کیاہے۔[10] ان احادیث سے جوبات  سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ 21 سال کاعرصہ گزرنے کے بعد بچے کی تربیت پرتوجہ دینے کاکوئی فائدہ نہیں ۔کیونکہ اس کے بعد اس میں بننےاوربہتر ہونے کاصلاحیت ختم ہوچکاہوتاہے۔لہذا اگرکوئی اپنے فرزند کوباکردار،نیک،صالح اوربااخلاق دیکھنا چاہتے ہیں تواس پر ضروری ہے کہ وہ بچے کی عمر 21 سال ہونے سے پہلے اس کی تربیت کے پہلوں پر توجہ دیں ،ورنہ اس کے بعدپچھتاوے اورافسوس کرنے کاکوئی فائدہ نہیں ہے۔

بہت ساری روایتیں ایسی ہیں جوفرزند کی نوجوانی کی عالم میں تربیت کرنے پرتاکید کرتی ہیں ۔لیکن یہ سوال اٹھتاہے کہ آخرکیاوجہ ہے کہ اس دوران تربیت کرنے پراس قدرتاکیدکی گئی ہے؟ اس کافلسفہ کیاہے؟

اس کا جواب روایتوں میں ڈھونڈنے سے مل جاتاہے کچھ روایتوں میں اس کی علت صراحت کیساتھ بیان ہوئی ہیں ۔

حضرت امام علی علیہ السلام اپنے فرزندعزیز امام حسن علیہ السلام کے نام ایک خط میں اس کی علت کوبیان فرمائی ہیں۔"انّما قَلْبُ الْحَدَثِ كالأرضِ الخاليَةِ مَا اُلقِيَ فيهَا مِنْ شي‏ءٍ قَبِلَتْهُ. فَبادَرْتُكَ بِالأدَبِ قَبْل اَنْ يَقْسو قَلْبُكَ وَ يَشتَغِلَ لُبُّكَ لتستقبل بجد رایک ماقد کفاک اھل التجارب بغیتہ وتجربتہ" یقیناً نوجوان کادل ایک خالی زمین کی طرح ہوتاہے کہ جوچیزاس میں ڈال دی جائے اسے قبول کرلیتاہے ۔لہذا میں نے چاہا کہ تمہیں دل کے سخت ہونے اورعقل کے مشغول ہوجانے سے پہلے وصیت کردوں تاکہ تم سنجیدہ فکرکے ساتھ اس امر کوقبول کرلوجس کی تلاش اورجس کے تجربہ کی زحمت سے تمہیں تجربہ کارلوگوں نے بچالیاہے۔

مہمترین دلیل اس بات کے اوپریہ ہے کہ نوجوانوں کادل اس دوران عرش الرحمن جیساہوتاہے اس دوران اس کادل پاک وپاکیزہ ہوتاہے ابھی گناہ کی داغ نہیں لگی ہے ، اس دوران نوجوانوں کاجودل ہے وہ خالی زمین کی طرح ہوتاہے کہ جس میں کوئی بھی بھیج ڈال دے ابھرآتاہے پس اسی وجہ سے اس نوجوان  کے دل میں خالص اخلاقی صفات ڈال سکتے ہیں ،کیونکہ اس کادل ابھی خالی ہے اس میں آپ صداقت ،اخلاص ،ایمانداری ،امانت داری جیسے اوربھی دوسرے صفات بھیج ڈال سکتے ہیں ۔اسی تربیت کے ذریعے سے اس نوجوان کادل  عرش الرحمن بھی بنایاجاسکتاہے اوراگرصحیح تربیت نہ کی جائے تو شیطان کابھی بن سکتاہے یہ دونوں طریقہ تربیت ہی پرمنحصرہے۔ایک اوردلیل یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس دوران بچہ کاذہن تمام مادی مسائل سے پاک  ہے ۔اوردنیاوی مسائل سے  پاک ہے اوراس دوران اس کی اچھی طریقے سے تربیت ہوسکتی ہے۔اسی وجہ سے امام علیہ السلام اپنے فرزند بزرگوار سے فرمایا کہ میں نے تمہاری تربیت کاآغاز اسی دوران شروع کیاہے۔[11] جہاں تک میں سمجھتاہوں انسان نوجوانی کے عالم میں دوسرے لوگوں کے تحت تاثیر واقع ہوتاہے ۔اس دوران اس میں دوسروں کی تقلید کرنے کی اورکسی دوسرے کواپناآئیڈل بنانے کی جو مادہ ہے وہ بہت ہی زیادہ قوی ہوتاہے ۔جب اس  کی عمربڑھتی جاتی ہے تویہ چیزیں بھی کم رنگ ہوجاتی ہے پس اسی وجہ  سے اس دوران اس کی اچھی طریقے سے تربیت کرسکتے ہیں ۔

کیونکہ اس وقت اس کادل آمادہ اورتیار ہوتاہے ایک اوروجہ یہ بھی ہوسکتاہے کہ نوجوانی کے دوران فرزند والدین کے اختیار میں میں اختیارمیں ہوتاہے اوراس کااپناکوئی نظریہ اوررای نہیں ہوتاہے اوراسی دوران والدین کیلئے تربیت کرنے کیلئے بہترین موقع ملتاہے ۔جب یہ نوجوان جوانی کے مرحلے میں داخل ہوتاہے تواس کااپنامستقل نظریہ ہوتاہے والدین کی رسائی کم ہوتی ہے اوریہ خوداپنی تربیت کی ذمہ داری اپنے ذمے لے لیتاہے والدین کی ذمہ داری کم ہوتی ہے اسی لئے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔" احمل صبیک حتی یأتی علیه ست سنین، ثم أدب فی الکتاب ست سنین، ثم ضمه الیک سبع سنین فادبه بأدبک، فان قبل و صلح و الا فخل عنه. " اپنے فرزندکوکوچھ سال تک آزاد رکھو، چھ سال کے بعداسے قرآن کی تعلیم دو، اورسات اس کی تربیت کرواگر اس تربیت ہوئی تواس کی اورتربیت مت کرو"[12]

بچوں کی صحیح تربیت کرنے کیلئے ہمیں کیاکرناچاہیے ؟ کس کواپنانمونہ عمل بناناچاہیے ؟ کس کی سیرت پرچلنا چاہیے ؟ ان تمام سوالات کامختصر لفظوں میں جواب یہ ہے کہ حضرت زہراء کی زندگی کوسمجھیں اوران اپنے لئے نمونہ عمل قراردینا چاہیے اس لئےکہ ہامرے بچے مستقبل میں ہمارے لئے قابل افتخار بن جائے اسلام کی ہمدرداورمعاشرہ کے مصلح بن سکیں اوریہ اس وقت ممکن ہے ہم اہلبیت علیہم السلام کی سیرت کوخودسمجھیں  اوراپنے بچوں کوتعلیمات آل محمدﷺ کے مطابق تربیت  کریں۔

جناب زہراء سلام اللہ علیہا اورتربیت اولاد

دختر رسول ثقلین ،ہمسرفاتح بدروحنین حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا جہاں رسول کائنات کے دل سکوں اوردشمنوں کی طعنوں کاجواب ،جناب امیر کائنات کے مشکل کے ساتھی ،سرداران جوانان جنت کی ماں تھیں ،وہاں پرتمام خواتین اسلام بلکہ تمام خواتین انسانیت کیلئے حیات انسانی کےہر پہلومیں ایک بہترین نمونہ عمل ہیں۔اگرکوئی والدین  کی خدمت وفرمانبرداری ،شوہرکی تابعداری  اوربچوں سے پیارومحبت کاسلیقہ سیکھنے کاخواہشمند ہوتو اسے ضروری ہے کہ جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کی حالات زندگی کادقیق وعمیق مطالعہ کریں ،اس کربغیر اس کایہ ارمان ادھورارہ جائےگا ۔اسی لئے اگر کوئی اپنے اولاد کی تربیت کا خواہش رکھتے ہیں توجناب زہراسلام اللہ علیہا کی زندگی اوران کے تربیت کے اصول کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں۔کیونکہ  آپ سلام اللہ علیہاکی تربیت سے کوئی حسن علیہ السلام بن کردنیا کوسخاوت اورصلح کودرس دیتے ہیں تودوسری طرف کوئی حسین علیہ السلام کی صورت میں ظلم وبربریت کےخلاف علم بغاوت بلند کرنے کےجرم میں قیامت تک کیلئے ہرمظلوم کاآئیڈیل اورنمونہ بن جاتاہے۔

جناب زہراء سلام اللہ علیہاکی جب شادی ہوئی تو 9 برس کی تھیں  اورشہادت کےوقت آپ کی عمر 18 سال تھیں۔اسی طرح 9سالہ ازدواجی زندگی میں آپ کے بطن مبارک سے پانچ اولادیں ہوئے جناب امام حسن علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام ،جناب زینب سلام اللہ علیہااورجناب ام کلثوم سلام اللہ علیہا اورپانچویں فرزندکانام محسن تھاجوساقط کردیاگیا۔آپ کے دوبیٹے اوردوبیٹیاں زندہ رہیں آپ کی اولاد عام لوگوں کی طرح نہ تھابلکہ یوں مقدرہواتھاکہ پیغمبراکرم ﷺ کی نسل مبارک جنام فاطمہ سے چلے۔[13]جناب زہراء سلام اللہ علیہانے خوددامن وحی میں تربیت پائی تھی اوراسلامی تعلیمات سے بخوبی آگاہ تھیں جانتی تھیں مجھے امام کی تربیت کرناہے اورمعاشرہ اسلامی کوایک ایسانمونہ دیناہے جوروح اسلام کاآئینہ داراورحقیقت کی پہچان ہوگی تمام معارف اورحقائق ان میں جلوہ گر ہوں اوریہ کام کوئی آسان کام نہ تھاجناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہایہ جانتی تھیں کہ مجھے اس حسین علیہ السلام کی تربیت کرناہےکہ جواسلام کی خاطراپنی اوراپنے عزیزوں کی جان دین اسلام کی دفاع اورظلم سے مقابلہ کرکے فداکرسکے اوراپنے عزیزوں  کےپاک خون سے اسلام کے درخت کوسیراب کردیں ۔جانتی تھیں کہ انہیں ایسی لڑکیاں زینب و ام کلثوم سلام اللہ علیہماکی تربیت کرنی ہیں جواپنے پرجوش خطبوں اورتقریروں سے بنی امیہ کی ظلم وستم کی حکومت کورسواکردیں اوران کے ناپاک ارادوں کوخاک میں ملادیں ۔جناب زہراء گھریلویونیورسٹی میں زینب کو فداکاری اورشجاعت اوریزیدکےظلم سے مرعوب نہ ہونے کادرس دے رہی تھیں حضرت زہراء کے گھر میں بچوں کی ایک اسلامی  تربیت اوراعلیٰ درسگاہ رکھی گئی ،یہ درسگاہ علی علیہ السلام اورفاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکی مددسے چلائی جارہی تھی اوراسلام کی پہلی شخصیت یعنی پیغمبراکرم ﷺ کی زیرنگرانی چل رہی تھی ۔اس میں تربیت کے قواعد اورپروگرام بلاواسطہ پروردگار جہان کی طرف سے نازل ہوتے تھے تربیت کے بہترین پروگرام اس میں جاری کیے جاتے تھے ۔ان کی تربیت لائحہ عمل وہی تھاجوقرآن کریم اوراحادیث پیغمبرﷺ اوراحادیث ائمہ طاہرین علیہم السلام میں واردہواہے۔

اصول وقواعد تربیت

تربیت کے کچھ اصول ہوتے ہیں جن کو حضرت زہراسلام اللہ علیہانے اپنی اولاد کی تربیت میں استعمال کیے گئے ہیں اورخوش قسمتی سے ہم تک نقل ہوئے ہیں ۔کچھ کی طرف اشارہ کرناچاہوں گا۔

محبت

فن تربیت اورماہرین نفسیات کے مطابق بچے بچپن  کےزمانے سے ہی محبت  اورشفقت کے محتاج ہوتے ہیں ۔ہربچہ یہ چاہتاہے کہ اس کے ماں ماپ اسے حدسے زیادہ محبت اوردوست رکھیں ۔اگرکسی بچہ کوپیاراورمحبت کی کمی کااحساس ہوجائے تووہ عام طورسے ڈرپوک ،شرمیلا،ضعیف ،بدگمان،گوشہ نشین، پژمردہ ،اورذہنی مریض ہواکرتاہے ۔اورکبھی ممکن ہے کہ اس کےرد عمل کے اظہارکیلئے مجرمانہ افعال کےبجالانے میں مرتکب ہوں جیسے جنایت، چوری ،قتل وغیرہ ، میں مبتلاہوجائینگے ۔تاکہ اس کے ذریعے سے اس معاشرہ سے انتقام لے سکے جواسے دوست رکھتاہے۔[14]

بچے کی تربیت اس کی ضروریات میں سے شمار ہوتی ہے۔اس کادرس حضرت زہراسلام اللہ علیہاکے گھرمیں کامل طورسے دیاجاتاتھا۔روایت میں آیاہے کہ جب امام حسن علیہ السلام متولدہوئے توآپ کوزردکپڑے میں لپیٹ کرپیغمبراکرم ﷺ کی خدمت میں لایاگیاتوآپ نے فرمایاکیامیں نے تم سے نہیں کہاتھاکہ نومولودکوزردکپڑے میں نہ لپیٹاکرو؟ اسکے بعد امام حسن علیہ السلام کے زردکپڑے کواتارپھینکااورانہیں سفیدکپڑے میں لپٹابغل میں لیااوربوسہ دیناشروع کیایہی کام آپ ﷺ نے امام حسین علیہ السلام کی پیدائش پربھی  پربھی کیاتھا۔[15]پیامبر اکرم ﷺ کبھی فاطمہ سے فرماتے تھے کہ حسنین ؑ کومیرے پاس لاو اورجب آپ ان کوحضورکےپاس لےجاتیں تورسول ﷺ ان کوسینے سے لگاتے اورپھول کی طرح ان کوسونگھتے اورچومتے تھے۔

شخصیت

ماہرین نفسیات کاکہنا ہے کہ بچے کی تربیت کرتے وقت اس کواس کی شخصیت کااحساس دلایاجائے ۔اوراسے خوداعتمادی کادرس دیاجائے تاکہ اسے بڑی شخصیت اوربڑاآدمی بنایاجاسکے۔اسے اسکی اچھی صفات سے پکاراجائے ،اوراس کی اپنی دوستوں کے سامنے تعریف اورتوصیف کی جائے اوراسے شخصیت  دی جائے رسول اللہ ﷺ نے کئی دفعہ حسنین ؑ کے بارے میں فرمایا:یہ جوانان جنت کے سردارہیں اوربہترین افرادمیں سے ہیں اوران کاباپ ان سے بھی بہتر ہے۔اورکبھی فرماتے تھے کہ تم دونوں خداکے ریحان ہو۔ حضرت علی علیہ السلام اورحسنین ؑ سے فرمایاکرتے تھے کہ تم لوگوں کے سردار اور جوانان جنت کےسردارہو اور معصوم  ہوخدااس پرلعنت کرے جوتم سے دشمنی کرے۔[16]

ایمان اورتقویٰ

اسلام یہ حکم دیتاہے کہ جب بچہ سات سال کاہوجائے تواسے نمازپڑھناسکھادیں۔ جناب زہراسلام اللہ علیہابچوں کوکھیل میں بھی انہیں شجاعت اوردفاع حق اورعبادت الٰہی کادرس دیتی تھیں اورانہیں مختصرلفظوں میں چارحساس باتیں بچوں یاد دلارہی ہیں:

 باپ کی طرح بہادربنا، اللہ کی عبادت کرنا،حق سے دفاع کرنا،اوران اشخاص سے دوستی نہ کرناجوکینہ پروراوردشمن ہوں۔[17]

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :  ایک دن پیغمبرﷺ نمازپڑھناچاہتے تھے امام حسین علیہ السلام بھی آپ کے پہلومیں کھڑے ہوگئے جب آپ نے تکبیرکہی توامام حسین علیہ السلام نہ کہہ سکے رسول اللہ نے سات مرتبہ تکبیرکی تکرار کی یہاں تک امام حسین ؑنے بھی تکبیرکہہ دی۔[18]

نظم اوردوسروں کے حقوق کی مراعات

تربیت کرنے والےپرضروری ہے کہ وہ بچے پرنگاہ رکھیں کہ وہ اپنے حق کااحترام کرے بچے کومنظم اورباضبط ہوناچاہیے ماں باپ کواپنی تمام اولاد کیساتھ ایک جیساسلوک کرناچاہیے اورسب کیساتھ انصاف اوربرابری کیساتھ برتاو کرناچاہیے ۔امام علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک دن پیغمبرخداﷺ ہمارے گھرآرام فرمارہے تھے امام حسن علیہ السلام نے پانی مانگاجناب رسول اٹھے تھوڑادودھ برتن میں ڈال کرامام حسین علیہ السلام بھی  اٹھے پیغمبرنے برتن امام حسن علیہ السلام کے ہاتھ سے لیناچاہالیکن ایسانہیں کیاجناب زہرادیکھ رہی تھیں سوال کیاآپ نے جناب حسن علیہ السلام کے ہاتھ سے برتن کیوں نہیں اٹھایا؟ آپ نے فرمایا تامیرے نزدیک  میرے دونوں نواسے برابرہیں۔

ورزش اورکھیل کود

تربیت کےماہرین کاکہناہے کہ بچوں کوان کی مرضی کےمطابق آزاد رکھواورآزادی کیساتھ کھیلنے دیں بلکہ ان کے لئے پورازمینہ فراہم کریں، سیاحت وتفریح کے پورے اسباب مہیاکریں۔ماں باپ کوبھی کبھی کبھی اپنے بچوں کیساتھ کھیلناچاہیے ۔کیونکہ ان کایہ عمل بچے کیلئے لذت بخش ہوتاہے۔اوروہ اسے اپنے لئے محبت کی علامت سمجھناہے ۔رسول ﷺ بھی امام حسن علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام کے ساتھ کھیلتے تھے ابوہرہ نقل کرتاہے کہ میں نے رسول خداﷺ کودیکھاکہ وہ حسن وحسین کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اوران کے پاوں کواپنے سینے پررکھے ہوئے تک جاپہنچے آپ ﷺ اپنے لبوں پررکھ کربوسہ دیتے اورفرماتے بارالہامیں حسن علیہ السلام اورحسین علیہ السلام کوبہت زیادہ دوست رکھتاہوں۔

حضرت جابر ابن عبداللہ انصاری نقل کرتاہے:میں نے دیکھارسول اللہ ﷺ پاوں اورہاتھوں پرچل رہے ہیں اورآپ کی پشت پر حسن علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام سورہیں اورفرمارہے تھے تمہارااونٹ سب سے بہتراونٹ ہے اورتم بہتر سوارہو۔[19]

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے اولاد کی تربیت میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کی ہیں ،آپ کاانداز تربیت  کچھ انوکھی سی تھیں آپ ہمیشہ اپنی اولاد کے درمیان عدالت کے ساتھ پیش آتی تھیں آپ کے نزدیک آپ کے تمام اولاد مساوی ہیں جیساکہ حدیث کسامیں واردہواہے آپ کا وہی جملہ جوامام حسن کیلئے استعمال کیاتھاوہی امام حسین کیلئے بھی ہے آپ نے امام  حسن علیہ السلام کے سوال کے جواب میں فرمایا: "وعلیک السلام یاقرۃ عینی وثمرت فوادی "اورتم پربھی میراسلام ہواے میری آنکھوں کی ٹھنڈک اورمیرے میوہ دل ۔اوریہی جواب آپ نے امام حسین علیہ السلام کے سوال میں بھی فرمائیں تھی " وعلیک السلام یاقرۃ عینی وثمرت فوادی " اورتم پربھی میراسلام ہواے میری آنکھوں کی ٹھنڈک اورمیرے دل کامیوہ۔[20]

خلاصہ بحث

روایت اورتاریخ کی روشنی سے یہ بات ثابت ہوئی کہ بچے کی تربیت کرتے وقت ائمہ معصومین علیہم السلام کومدنظرمیں رکھناضروری ہے اورتربیت کےکچھ قواعدہیں جن سے آگاہی ضروری ہے ۔اس کے لئے ہمیں حضرت زہرا کی تربیت کرنے کاجوانداز ہے اسے اپناناچاہیے ۔اوراگر بچے کی صحیح تربیت ہوجائے تواپنے زمانے کاحسین علیہ السلام بن جائیگا۔اوراگرغلط تربیت ہوئی تواپنے زمانے کاابوسفیان اوریزید بن جائیگا۔

جناب زہراسلام اللہ علیہا نے اپنے فرزندوں کی ایسی تربیت کیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" الحسن والحسین سیداشباب اھل الجنہ،وقال ایضاً: ھذان ابنای قاما اوقعدا"[21]حسین علیہ السلام کاتعلق شجرہ طیبہ ہے اوریزیدکاتعلق شجرہ خبیثہ ہے ۔یزیدکے ہاتھوں تین سال اقتدار رہا،پہلے سال فرزندرسول کوشہیدکیااوردوسراسال آیاتومدینہ رسول کوتاراج کیاتیسراسال آیا توخانہ کعبہ کومینجنیق سے سنگسارکرادیا۔تاریخ گواہ ہے کہ یزید نےاس طریقے سے مدینہ الرسول کوظالم وبدکردارفوجیوں کے حوالے کردیاگیاکہ تین دن  تک ہرحرام کام کوحلال بنادیا۔اورجس کے نتیجے میں نہ جانے کتنے بچے ایسے پیداہوئے کہ جن کے باپ کاکوئی نام ونشان تھا۔یہ ہے یزیدکی تربیت کااثر۔یزیدجس گھرمیں پلابڑھاتھااورجس کےدامن میں  اس کی تربیت ہوئی تھی وہ آپ کے آنکھوں کے سامنے ہیں۔ یزید اس داداابوسفیان کاپوتاہے جس نے معرکہ اسلام وکفر میں اسلام کےخلاف لشکرکی تربیت وتنظیم  یاقیادت کافرض انجام دیاہے اوریزیدکی دادی ہندہ جگرخوارہیں جس نے احد کےمیدان میں  سیدالشہداء حمزہ کے کلیجے کونکال کرچبایااوراس طرح ایک عظیم مجاہدکی بہت بڑی توہین کی تھی  ۔یزیدکاباپ معاویہ ہے اورتاریخ گواہ ہےکہ معاویہ کامیدان صفین میں نفس رسول سے مقابلہ کرنااورموقع پاتے ہی لشکیرعلی کیلئے پانی بندکردینااصحاب رسول کوقتل کردینا،خلیفہ اول کے فرزندکی لاش کی بےحرمتی کرنا،خلیفہ سوم کی کسی طرح مددنہ کرنا،اورمدینہ کے ہرلشکر کوروک کران کےقتل کاانتظارکرنااوران کیلئے ایک مشک آب کابھی فراہم نہ کرنااس بات کی دلیل ہے کہ یہ کفروشرک کانچوڑہے جس کےدل میں کسی کیلئے ہمدردی نہیں ہے ۔ اوریزیدکی ماں میسون تھی جوعیسائی خاندان کی ایک عورت تھی اورجس نے ابتدائی دور میں یزیدکواپنے صحراوبیابان میں رکھاتھااوروہیں عیسائی اصول وقوانین کےمطابق تربیت دی تھی اورنفاق پرعیسایت کارنگ چڑھاکرتربیت دی تھی ۔عیسایت نے اسلام کےخلاف جوشازش کی ہیں ان کاایک حصہ یزیدکی تربیت بھی تھی ۔آخر میں خداسے میری دعاہے کہ دنیامیں ہرماں باپ کواہلبیت علیہم السلام کی سیرت پرچلتے ہوئے اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرکے امام زمانہ (عج)کی ظہورکیلئے زمینہ فراہم کرنے کی توفیق عطافرمائیں۔



[1] ۔ فیروز لغات ص200

[2] ۔ راہنمائی پدران ومادران ج 2 ص 21

[3] ۔ سورہ جمعہ آیہ:2

[4] ۔ سورہ احزاب آیہ: 21

[5] ۔ وسائل الشیعہ ج15 ص 195 ح8

[6] ۔ مستدرک الوسائل ج 15 ص 165 ح 17872

[7] ۔ بحارالانوار ج78 ص 236

[8]  ۔ وسائل الشیعہ ج 15 ص 193 ش 4

[9] ۔ وسائل الشیعہ ج 15 ص 194 ش 6

[10] ۔ وسائل الشیعہ ج 15 ص 194 ش 7

[11] ۔ تربیت فرزند ج1 ص 35 ،حیات حضرت زہراء 109

[12] ۔ مکارم الاخلاق ص233

[13] ۔ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہااسلام کی مثالی خاتون،ص86

[14] ۔ تعلیم وتربیت دراسلام ص،354

[15] ۔ بحارالانوار ج43 ص 240

[16] ۔ ایضا:ص،299،264،286،295

[17] ۔ فاطمہ اسلام کی مثالی خاتون ص،100

[18] ۔ اصول وروش ھای تربیت دراسلام ص،113

[19] ۔ بحارالانوارج 43 ص 286

[20] ۔ حدیث کساتعقیبات نماز ص21

[21] ۔ بحارالانوار،ج 43 ص 244