زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

5۔ حسین علیہ السلام زندہ وجاویدکیوں؟ غلام مہدی حکیمی

حسین علیہ السلام زندہ وجاویدکیوں؟

از:غلام مہدی حکیمی

مقدمہ:"ان قتل  الحسین حرارۃ فی قلوب المومنین لاتبردابداً"[1]  رسول اکرم ﷺ نےفرمایامیرے حسین کیلئےمومنین کے قلوب میں ایک تپش اورآگ ہے جوکبھی ٹھنڈی نہیں ہوگی ’’ دیکھنایہ ہے کہ وہ کونسے عوامل واسباب ہیں جس کی وجہ سے امام حسین علیہ السلام زندہ وجاویدہوئے جیسے محتشم کاشانی  کہتاہے۔

 باز این چه شورش است که در خلق عالم است  باز این چه نوحه و چه عزا و چه ماتم است

باز این چه رستخیز عظیم است کز زمین       بی نفخ صور خاسته تا عرش اعظم است

این صبح تیره باز دمید از کجا کزو             کار جهان و خلق جهان جمله درهم است

گویا طلوع میکند از مغرب آفتاب                کاشوب در تمامی ذرات عالم است

گرخوانمش قیامت دنیا بعید نیست                این رستخیز عام که نامش محرم است

در بارگاه قدس که جای ملال نیست         سرهای قدسیان همه بر زانوی غم است

جن و ملک بر آدمیان نوحه می کنند              گویا عزای اشرف اولاد آدم است

خورشید آسمان و زمین، نور مشرقین           پرورده ی کنار رسول خدا، حسین

انسان طبیعتاغم واندوہ سے بھاگتاہے اس کی دلیل یہ کہ اگرکوئی انسان مرجائے یاکوئی المناک واقعہ پیش آئے تودنیاوالے اس کےپاس جاتے ہیں اس کوتسلی دیتے ہیں تاکہ وہ آدمی اس غم سے جلدازجلدرہائی پائے اوراگرکوئی حدسے زیادہ غم واندوہ کامظاہرہ کرے تولوگ شایدایک دوسال توبرداشت کریں لیکن اس کے  بعداس سے کتراناشروع کردیں گے بلکہ سناناشروع کریں گے کہ یہ کیساآدمی ہے بس اس طرح یادکررہاہے جیسے دنیامیں فقط اسی کاعزیزمراہےاورکسی کانہیں مگروہ تنہاشخصیت حسین ابن علی ؑ ہے جس کاغم جتناجتناوقت گزرتاجاتاہے اتناہی تازہ تراسی طرح سے کہ گویاجیسے کل ہی یہ واقعہ پیش آیاہے اوراس میں نہ صرف پوراناپن نہیں ہے بلکہ دنیااس غم کوپالناچاہتی ہے اس کے محفوظ رکھنے میں لذت محسوس کرتی ہے تو آئیں دیکھتے ہیں کہ وہ کونسے اسباب ہیں جن کی بناپرحسینؑ زندہوجاویدہوئے ان کاانقلاب زندہ وجاویدہوا؟عوامل واسباب متعددہیں جن میں سے فقط تین کاتذکرہ کروں گا۔

پہلاسبب۔ شہید انسانیت:اگرکوئی آدمی فقط اپنے گھروالوں کی حفاظت کیلئے جان دیدے تووہ بھی دنیاوالوں کی نظرمیں قابل تحسین ہے لیکن ہیروفقط گھروالوں کے لئے ہیں اسی کوئی آدمی کسی قوم یاقبیلے کی حقانیت میں جان دیدے تووہ بھی قابل قدرہے لیکن ہیروفقط خاندان والوں کے لئےہیں  اسی طرح اگرکوئی آدمی کسی خاص مذہب  یامکتب کیلئے جان دیدے تو دنیاوالوں کی نظرمیں قابل تحسین ہے لیکن ہیروفقط اسی مذہب کیلئے لیکن کوئی انسان انسانی اقدار کوبچانے کیلئے جان دیدے پھر وہ  جوبھی انسانیت کادعویٰ کرتاہےوہ اسی کے سامنے سرتسلیم خم ہونگے وہ شخص جواس مقام پرہے وہ حسین ابن علیؑ کی ذات ہے اسی لئے انہیں شہیدانسانیت کہنابالکل بجاہے سوال یہ پیداہوتاہے کہ وہ کونسے انسانی اقدار ہیں جن کیلئے حسینؑ نے نہ صرف اپنی جان دی بلکہ پورے کنبہ کولٹایافقط تین کاتذکرہ کرتاہوں۔

۱۔ نژادپرستی کے خلاف آواز:رسول اللہ ﷺ اپنے دورمیں ایک معیاردیکرگئے تھے  کہ کسی عربی کوکسی عجمی کے اوراسی طرح کسی گورے کاکالے پرکوئی ترجیح نہیں سوائے تقوی کےاوریہ کہہ رہاہے کہ ’’ ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم‘‘چنانچہ رسول اللہ اس بات کے سختی کے ساتھ پابند تھے اسی لئے قریش کے متکبرین کاسب سے بڑااعتراض یہی ہوتاتھاکہ ہمارے معاشرے کے پست ترین لوگوں کواپنے گردجمع کررکھاہے چونکہ ان کے معاشرے میں تین طبقہ ہوتے تھے ۔ ۱۔خلص           ۲۔ موالی           ۳۔ عبید  

اب رسول اللہ کے پاس اکثریہی تیسرے طبقہ کے لوگ جمع ہوتے تھے لہذاقریش تکبرکے ساتھ کہتے کہ اے محمد! آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پرایمان لائیں تواپنے آس پاس سے سے (نعوذ بااللہ )’’ومانراک اتبعک  الاالذین ھم اراذلنا‘‘[2]  ان پست لوگوں کواپنے ساتھ سے ہٹالیں اگرچہ مذکورہ آیت نوح کے قوم والوں کی بات نقل کررہی ہے مگریہی بات کفارمکہ بھی کہتےتھے مگر رسول اللہ کوخداکاسختی سے حکم تھاکہ کہیں ان کی باتوں آکر آپ ان مومنوں کواپنے سے دورنہ کیجیےگا مگرخلیفہ ثانی نے پھروہی طبقاتی نظام  قائم کیااس نے عربی کوعجمی  پر،قریش کوغیرقریش پراوربدریوں کوغیربدریوں پرفوقیت دی اوراسی حساب سے بیت المال بھی ملتاتھا یہی وجہ تھی کہ عبدالرحمن بن عوف اورزبیرجیسے لوگوں کے ہاں مرتے وقت سونے کی اینٹیں جمع ہوگئی اورتقسیم کی گئی چونکہ یہ لوگ بدری ہونے کی بناءپر سب سے زیادہ حصہ لیتے تھے یہ سلسلہ خلیفہ ثالث کے دورمیں اس حدتک آگے بڑھاکہ اس نے توسارابیت المال بنوامیہ پرخرچ کرنا شروع کردیاجس کے نتیجے میں خودبھی مارے گئے اب جب باری امیرشام کی اوراس کے بیٹے کی آگئی توانہوں نے توبیت المال کواپنے باپ کاخزانہ سمجھ لیااوراپنے علاوہ کسی پر خرچ کرنے کے لئے تیاربھی نہیں تھے ایسے میں حسین ابن علی ؑ نے اس طبقاتی نظام کو ختم کرکے وہی رسول اللہ کے معیارکوبحال کرنے کی کوشش کی اسی لئے فرمایا:’’اریدان آمرباالمعروف وانھی عن المنکرواسیربسیرۃ جدی وابی علی ابن ابی طالب‘‘پس آپ مساوات کے علمبردارہیں آپ کی نظرمیں انسانیت کے حساب سے  علی اکبرؑ اورجون غلام میں کوئی فرق نہیں پس اس کامطلب یہ ہے کہ آج تک جونژاد پرستی کے خلاف آوازاٹھاتے ہیں وہ گویاحسین ابن علی ؑ کی آواز ہے آج دنیا نیلس منڈیلدکوہیروکیوں مانتی ہے کیونکہ انہوں نے نژادپرستی کے خلاف آواز اٹھائی مگر یہ بتادوں کہ جوبھی اس قسم کاذہن  ہے اس کاسرپرست اعلٰی حسینؑ ابن علیؑ ہیں۔

حریت وآزادی:بنوامیہ کے دورمیں نہ لوگوں کیلئے آزادی تھی اورنہ ہی آزادگی چونکہ آزادی کی تعریف یہ ہے کہ غریب سے غریب آدمی بھی حاکم وقت یاکسی بھی مقتدرشخصیت سے کھل کر اپناحق مانگ سکے اس پر کوئی قدغن اورپہرہ نہ ہواس کی زبان حق بات کومنہ پر لاتے ہوئے نہ اٹکے لیکن بنوامیہ کے دورمیں ایسی فضا دہشت کی قائم کی گئی تھی کہ لوگوں میں جرات نہیں تھی کہ وہ حرف حق بلندکرے کیونکہ لوگوں سے اظہارکی جرات اورقوۃ احساس کوختم کیاگیاتھااس کا نتیجہ یہ ہواکہ  اسلام کامذاق اورلوگ تماشائی اس کی فقط ایک مثال دوں کہ ابوذرجیسے صحابی جس کیلئے رسول اللہ نے فرمایازمین نے نہیں اٹھایا اورآسمان نے سایہ نہیں کیا کسی ایسے شخص پرجوابوذرسے زیادہ سچاہوان کاانجام دیکھیں کہ وہ شام میں رہاکرتے تھے جب انھوں نے دیکھا کہ وہ سادہ اورغریب پروراسلام اب شہنشاہیت اوراقرباء  پر وری میں تبدیل ہوگیاہے اس نے ایک آیت کی تلاوت کو اپناشعاربنایا: وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ۔ يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لأَنفُسِكُمْ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ ‘‘[3]چنانچہ امیر شام نے خلیفہ ثالث کوخط لکھاکہ ابوذرنے توواویلامچارکھاہے لہذااس کاکیاکروں اسی نے حکم دیاکہ ابوذرکوایک بے کجاوہ اونٹ پرسوارایک درشت اورتندخوغلام کے ساتھ مدینہ بھیج دوامیر شام نے ایک ایسے ہی غلام اوراونٹ کے ساتھ شام سے روانہ کیااورغلام کوتاکید کی کہ کہیں بھی پڑاو نہیں ڈالنے کاہے اس غلام نے اونٹ کواس طرح بھگایا کہ مدینہ پہونچتے پہونچتے ابوذرکی پنڈلیوں کاگوشت جڑچکاتھااس کے بعد اس کوربذہ بھیجاگیااوروہیں اس کی شہادت واقع ہوئی۔

 اب کہنے کامقصد یہ ہے کہ ابوذرجیساصحابی حکمرانوں کے عتاب سے نہ چھڑ سکاتو پھردوسرے لوگوں کی توبات ہی کیاہے چنانچہ نوبت یہاں تک آگئی کہ  خودیزیدجس کےبارے میں امام حسین ؑ نے فرمایاکہ ’’شارب الخمر،معلن الفسق وقاتل نفس المحترمہ ‘‘یہ سب کچھ اس کے دربارمیں ہوتامگر اصحاب تماشائی ہیں کیوں اس لئے کہ حرف حق بولنے کی سکت نہیں ہے اظہارنظرنہیں کرسکتے اور اگرکسی نے ٹوک بھی دیاتووہ سولی پر لٹک  گیا اوروہ دوسروں کے لئے عبرت بن گیا جس کی بناء پر جولوگ بولنے کی سوچ بھی رکھتے وہ بھی اپنا ارادہ بدل دیتے ایسے میں امام حسین ؑ نے ضروری سمجھاکہ وہ آزادی مذہب ودین کی خاطر اقدام کرے خواہ اس کی قیمت کچھ بھی چکانا کیوں نہ پڑے مولااپنے ساتھ رسول کے گود میں پلے ہوئے اسلام کوبرباد ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتاتھا اوران کے باباکی نصیحت بھی تھی کہ ’’لاتکن عبدالغیرک لقدخلقک اللہ حرا‘‘تم کسی کے غلام نہ بنو کیونکہ خدانے تجھے آزادپیداکیاہے اسی بناءپرامام حسینؑ نے آخری دم تک اپنے آزادمنش ہونے کاثبوت دیاہے چنانچہ فرمایا ’’یاشیعۃ ابی سفیان ان لم یکن لکم دین وکنتم لاتخافون المعادفکونواحراراًفی دنیاکم ‘‘اے ابو سفیان کے  چاہنے والے اگرتمہاراکوئی دین ایمان نہیں اورتم قیامت سے نہیں ڈرتے توپھرتم دنیامیں کم ازکم مردبن کرتوزندگی کرواوریہ جوانمردی نہیں ہے اورعرب کاطریقہ کاراورغیرت نہیں ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں میرے اہل وعیال کی طرف متوجہ ہوجاومیں امام اپنے دشمن تک کودعوت دے رہاہے کہ جوانمردبن کرزندگی گزارواورخودآزادگان کے سرپرست ہونے کی بناپرفرماتے ہیں ۔’’ لاوالله لااعطیکم بیدی اعطا الذلیل ولااقر اقرار البعید ‘‘خداکی قسم میں تمہارے ہاتھ میں ذلیلوں کی طرح ہاتھ نہیں دوں گااورنہ ہی غلاموں کی طرح فرارکروں گا یہی وجہ کہ حسین ؑ آج ہرباطل شکن انسان کے آئیڈیل بن گیا شاعرنے بالکل بجاکہاہے کہ

باطل کے سامنےجوجھکائے نہ اپناسر      سمجھو کہ اس کے ذہن کا مالک حسین ؑہے

حسین مظهر آزادگی و آزادی است       خوشا کسی که چنینش مرام و آمین است 

ز خاک مردم آزاده بوی خون آید        نشان شیعه و آثار پیروی این است

کرامت وشرافت انسانی:ہرانسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ باعزت زندگی کرے نہ صرف اس کی عزت بلکہ اس کی ناموس اورگھربارکی کی چاردیواری بھی محفوظ رہے لیکن اتنابے شرم آدمی تھاکہ جواپنی محرم عورتوں کونہ چھوڑے وہ کسی کی عزت وناموس کاکیاپاس رکھ سکتاہے اس کی بے شرمی کی دلیل اسرارکربلاکی تشہیر کے علاوہ واقعہ حرہ ہے جوکربلاکےبعد پیش آیاجس میں مدینہ کوتاراج کرنے کےعلاوہ تین دن کے لئے مدینہ کوفوجیوں پرمباح قراردیاجس کی بناء پرآٹھ ہزارقاری وحافظ قرآن شہیداورایک ہزارباکرہ لڑکیاں ناجائز طورپرحاملہ ٹھہریں ایسے بے غیرت انسان کےخلاف علم بغاوت بلند کرکے ہرصاحب عزت آدمی کوحسین ؑ نے اپناگرویدہ بنادیاہے چنانچہ آپ نے یہ نعرہ لگایاکہ۔’  الا و ان الداعي ابن الدعي قد ركز بين اثنتين، بين السلة و الذلة، و هيهات منا الذلة ‘پس شرافت انسانی کےان مراحل میں سے ہرمرحلہ ایساہے کہ ہرصاحب عزت وفکرآدمی حسین ؑپرقربان ہوگا۔چنانچہ علامہ اقبال نے کہا:

         بیان سرشہادت کی گرتفسیرہوجائے              مسلمانوں کاکعبہ روضہ شبیرہوجائے

جوش ملیح نے تواس سےدوقدم  آگے بڑھ کرکہا:

کیاصرف مسلمانوں کے پیارے ہیں حسینؑ         چرغ نوع بشرکے تارے ہیں حسینؑ

انسان کوبیدارتوہولینے دو                      ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

مگریہ ہم اورآپ کی ذمہ داری ہےکہ ہم حسین کوکسی مکتب سے خاص نہ کریں بلکہ دنیاوالوں بتائیے کہ حسین ؑ کن عظیم انسانی  مقاصدکیلئے شہید ہوئے توپھرہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ چنانچہ گاندھی جیساانڈیاکالیڈرجوخودکافر ومشرک ہے کہتاہےکہ میں نے ہندوستانی قوم کووہی انقلاب دیاجومیں نے امام حسین ؑکے کربلاسے سے سیکھاتھااب اگر ہندوستانی قوم انقلاب کی حفاظت کرناچاہے تووہ کربلاکی حفاظت کرے اس کامطلب طبقات کی سرحدوں سے بالاتر رنگ ونسل اوردین مذہب سے بالاترایک آفاقی شخصیت کانام ہے۔

دوسراسبب ۔حق پروری:امام حسین علیہ السلام کی زندگی اورخصوصاًکربلاتک کےمنازل پرغورکرنے سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کے پیش نظرہمیشہ حق تھاگویاحق ایک شمع تھااورحسین اس کے پروانے اسی لئے مقام ذوحسم میں فرمایا: ’’أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ الْحَقَّ لَايُعْمَلُ بِهِ، وَأَنَّ الْبَاطِلَ لَايُتَنَاهَي‌ عَنْهُ لِيَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِي‌ لِقَآءِ اللَهِ مُحِقًّا‘‘

شعر:’’ سامضی وما بالموت عار علی الفتی اذا ما نوی حقا وجاهد مسلما‘‘ترجمہ: کیاتم نہیں دیکھتے کہ حق پرعمل نہیں ہورہا اورباطل سے روکانہیں جاتاایسے میں مومن کوپرودگارسے ملاقات کی تمناہونی چاہیے (موت آجائے)۔

میں کرگزروں گاجومجھے کرناہے اورجوانمرد کیلئےموت میں کوئی عیب نہیں ،اس وقت جب جہادحق ہواوراسلام کی راہ میں جہادکررہاہو۔پس اگریہ ہے توپھرقرآن حق وباطل کی مثال پانی اورجھاگ کی دی ہے۔’’ أنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاء حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهُ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الأَرْضِ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللّهُ الأَمْثَالَ ‘‘[4]اللہ نے آسمانوں سے پانی برسایا پھر نالے اپنی گنجائش کے مطابق بہنے لگے پھر سیلاب نے پھولے ہوئے جھاگ کو اٹھایا اور ان (دھاتوں) پر بھی ایسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں جنہیں لوگ زیور اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں، اس طرح اللہ حق و باطل کی مثال بیان کرتا ہے، پھر جو جھاگ ہے وہ تو ناکارہ ہو کر ناپید ہو جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے فائدے کی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے، اللہ اسی طرح مثالیں پیش کرتا ہے ۔

پس اس کامطلب یہ ہے کہ باطل فقط تھوڑی دیرکیلئے سراٹھاتاہے اس کے بعد سرنگون ہوجاتاہے اما حق اگرچہ ابتدائی طورپرباطل سے مغلوب  بھی نظرکیوں نہ آئے بالآخر سربلند ہوکررہتاہے اس بات کی تصریح قرآن کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔’’ بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ‘‘[5]بلکہ ہم باطل پر حق کی چوٹ لگا تے ہیں جو اس کا سر کچل دیتا ہے اور باطل مٹ جاتا ہے ۔یہ مفہوم اورواضح ہے۔’’ وَقُلْ جَاء الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ‘‘[6] حق آیا اورباطل مٹ گیابےشک باطل کومٹ ہی جاناچاہیے ،اگرحق وباطل کی پیروی کرے توکیاہوگا؟ جواب ’’ وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ‘‘[7]اور اگر حق ان لوگوں کو خواہشات کے مطابق چلتا تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب تباہ ہو جاتے۔

پس معلوم ہواحسین ؑحق تھے اسی لئے لازوال ہوگئے اگرچہ ظاہری طورپر مغلوب نظرآئے یزیدباطل تھااس کے نصیب میں فنااورنابودی تھی خواہ ظاہری طورپرغالب نظرآیاچنانچہ امام حسین ؑ کی اس ظاہری مغلوبیت  درراہ خداکو،بواعباس نے اس طرح تعبیرکیاہے:

ذوالجناحی کھہ ناببسے بہ سنان تھوس پوسرش         نہ لہ شیس بیانہ رگوفافس یر اشیپاس بیسپو گوتھوس

تیسراسبب۔ کاروان تبلیغی کاتشکیل دینا:امام علی علیہ السلام نے فرمایا:’’اعقل الناس انظرھم فی العواقب‘‘عاقل ترین انسان وہ ہے جوانجام کارپرنظررکھے۔امام حسین ؑ کیوں بیوی بچوں اوربہنوں کواپنےساتھ لےکر گئے دنیاآج تک اس مسئلہ کوہضم نہیں کرسکی ابتدائی نظرمیں تو ایسالگتاہے کہ آپ دشمن کویہ بتاناچاہتے تھےکہ دیکھو میں حکومت وقت سے لڑنے نہیں جارہاہوں اس لئے کہ اگرلڑناجاناہوتاتولاولشکرجمع کرتانہ ان عورتوں اوربچوں کولے کرجاتالیکن اگر گہری نظرکے ساتھ دیکھیں توپھرپتہ چلے گاکہ بات یہ تھی کہ امام حسینؑ جانتے تھے کہ مجھے قتل کردیاجائے گامگر میری مظلومیت کوآخرکون بیان کرے کیاکوئی مردوں کاکوئی گروہ تشکیل دے جوجاکرتبلیغ کرے مگرایساممکن نہیں تھااس لئے کہ انہیں لب کھولتے ہی گرفتاریادارپرلٹکایاجاتالیکن اگربالفرض تبلیغ میں کامیاب بھی ہوجاتے تووہ سیدسجادؑ اوربی بی زینب کی طرح حسین ؑ کی مظلومیت اوریزیدکے مظالم کوآشکارکرسکتے تھے کیاکوئی سیدسجادکی طرح اہل بیت ؑ کاقصیدہ دربار یزیدمیں پڑھ سکتاتھا؟اور کیاکوئی زینب بنت علی ؑ کی طرح شجرہ خبیثہ کےرذائل  کوبیان کرسکتاتھا؟جی نہیں!بس اسی لئے توامام حسین ؑ نے محمدحنفیہ کے اصرار پر کہ آپ خانوادہ کوساتھ نہ لےجائیں فرمایا: فان الله تعالى شاءان يراك قتيلا و قد شاء ان يراهن سبايا"کہ خداچاہتاہے کہ آپ قتل  ہوجائیں اوروہ اسیرہوجائیں مصلحت خداوندی کیاتھی وہ ان اشعارسے اندازہ ہوتاہے علامہ اقبال نے فرمایا:

حدیث عشق دوباب است کربلاودمشق             یک حسینؑ رقم کرد و دیگر زینب

سرنی در نینوا می ماند اگر زینب نبود                 کربلا در کربلا می ماند اگر زینب نبود

چهره سرخ حقیقت بعد از آن توفان رنگ            پشت ابری از ریا می ماند اگر زینب نبود

پس یہاں تک کا خلاصہ یہ ہواکہ اقدارانسانی ،حق پروری اورکاوران تبلیغی تین ایسے عوامل اوراسباب امام حسین ؑ کے قیام میں ہیں کہ جن کی وجہ سے آپ زندہ وجاویدبن گئے۔



[1] ۔مستدرک الوسائل ج،۱۰ ص ۳۱۸

[2] ۔ہود ۲۷

[3] ۔توبہ ۳۴،۳۵

[4] ۔رعد،۱۷

[5] ۔انبیاء ۱۸

[6] ۔اسراء ۸۱

[7] ۔ مومنون،۷۱