زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 11 ذیقعد (1441ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ ا لسلام کے موقع پر
  • یکم ذیقعد(1441ھ)ولادت باسعادت حضرت معصومہ سلام اللہ عليہاکے موقع پر
  • 25شوال(1441ھ)شہادت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 13رجب (1441ھ) ولادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • یکم رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی (1441ھ)ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی (1441ھ)شہادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول (1441ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر

    وقت اس طرح قیامت کی خبرلاتاہے     دین کاآئینہ زندان میں بکھرجاتاہے۔


     حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اس مقدس سلسلہ کی ایک فردتھے جس کوخالق نے نوع انسانی کے لیے معیارکمال قراردیاتھا اسی لیے ان میں سے ہرایک اپنے وقت میں بہترین اخلاق واصاف کامرقع تھا ،بےشک یہ حقیقت ہے کہ بعض افرادمیں بعض صفات اتنے ممتازنظرآتے ہیں کہ سب سے پہلے ان پرنظرپڑتی ہے چنانچہ ساتویں امام میں تحمل وبرداشت اورغصہ ضبط کرنے کی صفت اتنی نمایاں تھی کہ آپ کالقب کاظم قراردیاگیاجس کے معنی ہیں غصہ کوپینے والا،آپ کوکبھی کسی نے ترش روئی اورسختی کے ساتھ بات چیت کرتے نہیں دیکھا اورانتہائی ناگوارحالات میں بھی مسکراتے ہوئے نظرآئے ۔

    امام  کی کرامات

    آپ کی کرامات بہت زیادہ ہیں، منجملہ صحیح حدیث میں حماد بن عیسیٰ سے منقول ہے: "میں شہر بصرہ میں حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: آپ میرے لئے دعا کریں کہ خداوندعالم مجھے ایک مکان، زوجہ، بیٹا اور ایک نوکر عطا کرے، نیز پچاس حج میرے مقدر میں لکھ دے۔ حماد کہتے ہیں: جیسے ہی میں نے پچاس حج کے سلسلہ میں کہا تو مجھے معلوم ہوا کہ میں پچاس حج سے زیادہ بجا نہیں لاسکتا، اس کے بعد حماد کہتے ہیں کہ میں اس وقت میں ۸۴ حج بجا لا چکا ہوں، اور یہ میرا مکان ہے جو مجھے ملا، اور یہ میری اہلیہ ہیں جو پردہ کے پیچھے سے میری باتوں کو سن رہی ہیں اور یہ میرا بیٹا اور یہ میرا خادم ہے یہ تمام چیزیں مجھے ملی ہیں، اور ان باتوں کے بعد حماد نے دو حج انجام دئے اور ان کے پچاس حج مکمل ہوگئے، اور جب اکیاونوے حج کے لئے روانہ ہوئے ان کے ساتھ ابو العباس نوفری تھے اور جس وقت احرام باندھنا چاہتے تھے، اور حماد غسل کرنا چاہتے تھے، سیلاب آیا اور وہ غرق ہوگئے اور اسی میں ان کا انتقال ہوا، خداوندعالم ان پر اپنی رحمت نازل کرے"۔

    اسی طرح ایک دوسری صحیح حدیث میں بیان ہوا ہے: "امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سر زمین منیٰ میں ایک ایسی خاتون کے پاس سے گزرے جو بیٹھی ہوئی رو رہی تھی اور اس کے بچے بھی اس کے اردگرد بیٹھے رو رہے تھے، کیونکہ اس خاتون کی جمع پونجی ایک گائے تھی جو مرچکی تھی، امام علیہ السلام اس عورت کے نزدیک گئے اور اس سے فرمایا: اے کنیز خدا! تو کیوں روتی ہے؟ چنانچہ اس خاتون نے جواب دیا: اے خدا کے بندے! میرے چند یتیم بچے ہیں اور میرے پاس یہ ایک گائے تھی جس سے اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی بسر کیا کرتی تھی لیکن اب یہ مرچکی ہے، اور میں اور میرے بچہ لاچار ہوگئے ہیں، چنانچہ امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم چاہتی ہو کہ میں اسے زندہ کردوں! چنانچہ اس خاتون کے دل میں آیا کہ کہوں: ہاں اے خدا کے بندے! اس کے بعد امام علیہ السلام ایک مقام پر گئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور اپنے مبارک ہونٹوں کو جنبش دی اور اٹھ گھڑے ہوئے۔

    اور پھر گائے کو ایک ٹھوکر ماری اور وہ گائے زندہ ہوگئی، چنانچہ اس عورت نے جیسے ہی یہ منظر دیکھا تو اس نے چلاکر پکارا: خدا کی قسم! یہ تو عیسی بن مریم ہیں، اس کے بعد امام علیہ السلام وہاں سے روانہ ہوئے “۔

    دور مصائب

     158ھ کے آخر میں منصور دوانقی دنیا سے رخصت ہوا تو اس کا بیٹا مہدی تخت سلطنت پر بیٹھا شروع میں تو اس نے بھی امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی عزت واحترام کے خلاف کوئی برتاؤ نہیں کیا مگر چند سال کے بعد پھر وہی بنی فاطمہ کی مخالفت کاجذبہ ابھرا اور 164ھ میں جب وہ حج کے نام پر حجاز کی طرف آیاتو امام موسی کاظم علیہ السّلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغدادلے گیا اور قید کردیا. ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رہے . پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور حضرت کو مدینہ کی طرف واپسی کاموقع دیا گیا , مہدی کے بعد اس کابھائی ہادی192ھ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک مہینے تک اُس نے حکومت کی . اس کے بعد ہارون رشید کازمانہ آیا جس میں پھر امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کو آزادی کے ساتھ سانس لینا نصیب نہیں ہوا۔

    شہادت

    سب سے آخر میں امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سندی بن شاہک کے قید خانے میں رکھے گئے یہ شخص بہت ہی بے رحم اور سخت دل تھا- آخر اسی قید میں حضرت کوانگور میں زہر دیا گیا-  25رجب 183ھ میں 55 سال کی عمر میں حضرت کی شہادت ہوئی۔

    شہادت کےبعد آپ  کے جسد مبارک کے ساتھ بھی کوئی اعزاز کی صورت اختیار نہیں کی گئی بلکہ حیرتناک طریقے پر توہین آمیز الفاظ کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے آپ  کی لاش کو قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا- مگر اب ذرا عوام میں احساس پیدا ہو گیا تھا اس لئے کچھ  اشخاص نے امام کے جنازے کو لے لیا اور پھر عزت و احترام کے ساتھ مشایعت کر کے بغداد سے باہر اس مقام پر جواب کاظمین کے نام سے مشہور ہے، دفن کیا۔