زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 3 رجب المرجب (1440ھ) شہادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۰جمادی الثانی(۱۴۴۰ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1440ھ)حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت کےموقع پر
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺ کی رحلت کےموقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر

    بعثت نبویﷺ


    ستائیس رجب سنہ چالیس عام الفیل کو پیغمبراکرم ﷺغار حرامیں اپنے رب سے دعاؤمناجات میں مشغول تھے کہ یکایک فرشتۂ وحی حضرت جبریل نازل ہوئے اور اپنے ساتھ خوشخبری  رسالت لائےاورسورۂ علق کے ان  آیات کی تلاوت فرمائی۔" اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ {1} خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ {2} اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ {3} الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ {4} عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ}5 {"

    "اس خداکا نام لیکر پڑھو جس نے پیداکیاہے۔ اس نے انسان کو جمے ہوئےخون سے پیداکیاہے۔ پڑھو اور تمھارا پروردگار بہت کریم ہے،جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے اورانسان کو وہ سب بتادیاہے جو اسے نہیں معلوم تھا"۔

    مبعث کا دن حقیقت میں ایسے پیغام کا پرچم بلند کئے جانے کا دن ہے جو بنی نوع انسان کیلئے بے مثال اور عظیم ہے۔ بعثت نے علم و معرفت کا پرچم بلند کیا ہے۔ دوسری طرف روز بعثت عدل، رسالت اور اعلی اخلاق کیلئے جدوجہد کا نام ہے۔ "بعثت لاتمم مکارم الاخلاق"
    اللہ تعالی نے حضرت محمد ﷺ  کو پوری بشریت کے لیے رسول بنا کر بھیجا اور آپ(ص) کو لوگوں کو ڈرانے اور اللہ کے شدید ترین عذاب کی یاد دلانے کا حکم دیا۔

    جب حضرت محمد ﷺ  کو لوگوں کی نافرمانی، حق سے انکار، کفر اور سرکشی نے ہم و غم اور تکلیف میں مبتلا کر دیا تو اللہ نے آپ(ص) کو لوگوں سے پروردگار کی نعمتِ نبوت کے بارے میں گفتگو کرنے کی ترغیب دی کہ جس نبوت سے اللہ نے آپ(ص) کو مشرف کیا اور اسے پورے قریش میں سے صرف آپ(ص) کے لیے خاص قرار دیا۔

    پیغمبر اسلام ﷺ  کی بعثت ، شرک ، ناانصافی ، نسلی قومی و لسانی امتیازات ، جہالت اور برائیوں سے نجات و فلاح کا نقطۂ آغاز کہی جا سکتی ہے اور صحیح معنی میں خدا کے آخری نبی نے انبیائے ما سبق کی فراموش شدہ تعلیمات کو از سر نو زندہ و تابندہ کرکے عالم بشریت کو توحید ، معنویت ، عدل و انصاف اورعزت و کرامت کی طرف آگے بڑھایا ہے ۔

     حضرت محمد ﷺ  نے اپنے دلنشین پیغامات کے ذریعے انسانوں کو مخاطب کیا کہ ”خبردار ! خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا اور کسی کواس کا شریک قرار نہ دینا تاکہ تم کو نجات و فلاح حاصل ہو سکے “۔ پیغمبر اسلام ﷺ  کی اس پر خلوص معنوی تبلیغ نے جہالت و خرافات کی دیواریں بڑی تیزی سے ڈھانا شروع کردیں اورلوگ جوق درجوق اسلام کے گرویدہ ہوتے چلے گئے ۔

     پیغمبر اسلام ﷺ  کی بعثت جو درحقیقت انسانوں کی بیداری اورعلم و خرد کی شگوفائی کا دور ہے ،  آج رسول اسلام کی بعثت کو صدیاں گزر چکی ہیں لیکن عصر حاضر کے ترقی یافتہ طاقتور انسانوں کو، پہلے سے بھی زیادہ پیغمبر اسلام ﷺ  کے پرامن پیغامات اور انسانیت آفریں تعلیمات کی ضرورت ہے ۔ سوال: بنیادی طور پر پیغمبر اسلام ﷺ کی بعثت آج کے انسانوں کےلئے کن پیغامات کی حامل ہے؟

    جواب:  سب سے پہلے یہ دیکھناچاہیے کہ  ختمی مآب محمد مصطفیٰ ﷺ  نے انسانوں کو کس چیز کی دعوت دی ہے ؟ در اصل انسان کے یہاں بعض خواہشیں اور فطری میلانات موجود ہیں ، یہ فطری میلان خود انسان کے وجود میں ودیعت ہوئے ہیں اور ان کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔

    مثال کے طور پر اچھائيوں کی طرف رغبت اور پسند ، تحقیق و جستجو کا جذبہ یا اولاد سے محبت وہ انسانی خصوصیات ہیں جن کو اس کی ذات سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ ظاہر ہے دنیا میں آنے والا ہر وہ انسان کہ جس نے فطرت کی آواز پر لبیک کہی ہو حقیقی اور جاوداں انسان بن جائےگا کیونکہ یہ وجود انسانی خواہشات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور اس کی فطری ضرورتوں کی تکمیل کرتا ہے ۔

    نبی کریم(ص) کو اپنے گھر والوں کو دعوتِ اسلام دینے کا حکم،  علامہ ابن ہشام اپنی کتاب السيرة النبویہ میں لکھتے ہیں:" فجعل رسول الله يذكر ما أنعم الله عليه، وعلى العباد سِراً الى من يطمئن إليه من أهله"

    یعنی: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے خاندان کے قابل اعتماد اور قابل اطمینان لوگوں سے خفیہ طور پر اس نعمت کا ذکر کرتے جس سے اللہ نے آپ(ص) کو اور لوگوں کو نوازا ہے۔اور یہ اس لیے تھا کہ آپ(ص) کو ابھی رسالت کا سرعام اعلان کرنے کا حکم نہیں ملا تھا جس کی وجہ سے آپ(ص) اپنے گھرانہ میں جسے قابل اعتماد اور اصلاح و ہدایت کے قابل سمجھتے اسے خفیہ طور پر نبوت سے آگاہ کرتے۔ابن ہشام کی عبارت سے ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ بعثت کے بعد پہلے مرحلہ میں یہ خفیہ تبلیغ اور دعوتِ اسلام کا سلسلہ صرف اپنے گھر والوں میں منحصر تھا۔

    اسی طرح دعوت اسلام کے دوسرے مرحلہ میں بھی اللہ نے اپنے رسول(ص) کو اپنے خاندان والوں میں سے قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم ان الفاظ میں دیا: "وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ لْأَقْرَبِينَ"

    یعنی: اوراپنے قریب ترین رشتے داروں کو تنبیہ کیجیے۔اس حکم کے آنے کے بعد رسول خدا(ص) نے دعوت ذوالعشیرہ کا اہتمام کیا اور اپنے قریبی ترین رشتے داروں کو اسلام کی دعوت دی اور اس دعوت ذوالعشیرہ کے بعد رسول خدا(ص) نے عمومی طور پر اپنی نبوت کا اعلان کیا اور ہر خاص و عام کو اسلام سے مشرف ہونے کی دعوت کا سلسلہ شروع کیا۔