زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 3 رجب المرجب (1440ھ) شہادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۰جمادی الثانی(۱۴۴۰ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1440ھ)حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت کےموقع پر
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر

    ولادت  حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام 

    حضرت عباس بن امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ؑ  4 شعبان سن 26 ہجری  کو عثمان بن عفان کے دور خلافت میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔آپ  امام علی  علیہ السلام  اور ام البنین(س) کے فرزند ہیں اور "ابوالفضل" اور "علمدار" کے نام سے مشہور ہیں۔

    آپ کی ابتدائی زندگی

    حضرت علی علیہ السلام نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ حضرت علی علیہ السلام سے انھوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصا´ علم فقہ حاصل کئے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدر کہلانے لگے۔ حضرت عباس علیہ السلام بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور و مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت خصو صاً کربلا کے لئے ہوئی تھی۔ لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود کے لئے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔

     حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور اسی لئے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے ۔

    جنگ صفین اور حضرت عباس علیہ السلام

    جنگ صفین حضرت علی علیہ السلام اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان مئی۔جولائی 657 ء میں ہوئی۔ اس جنگ میں حضرت عباس علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کا لباس پہنا اور بالکل اپنے والد علی علیہ السلام کے طرح زبردست جنگ کی حتیٰ کہ لوگوں نے ان کو علی ہی سمجھا۔ جب علی علیہ السلام بھی میدان میں داخل ہوئے تو لوگ ششدر رہ گئے ۔ اس موقع پر علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے عباس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ عباس ہیں اور یہ بنی ہاشم کے چاند ہیں۔ اسی وجہ سے حضرت عباس علیہ السلام کو قمرِ بنی ہاشم کہا جاتا ہے۔

    واقعہ کربلا اور حضرت عباس علیہ السلام

    امیر المومنین علی ؑ کی شہادت کے بعد کسی لمحہ بھی اپنے بھائیوں کی ہمراہی اور یاری کرنے سے غافل نہ رہے اور انکے حفاظت کار تھے ۔ حضرت عباس (ع) کی وفاداری اور فداکاری عاشور کے دن اپنے اوج کو پہنچی ـ

    کربلا میں حضرت عباس ؑ نے ایک نرالی تاویخ رقم کی ، امام حسین ؑ کے فوج کے قابلترین اور ماہرترین سپہ سالار اور علمدار تھےاور آنحضرت کو بھی آپ سے نہایت محبت تھی اور آپ کے مشورے پر عمل کرتے تھے ۔

    واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قراردیا۔ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 یازیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے زیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی ۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔

    امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس ؑکی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہوگئے آپ نےبڑ اہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے" ۔

    معرفتِ امام

    حضرت عباس علیہ السلام کی عظمت کا ایک بہت بڑا سبب آپ کی امام شناسی اور ولایت کی معرفت اور اپنے زمانے کے امام کی اطاعت ہے؛ چنانچہ یہاں اس حوالے سے بعض نمونے پیش کئے جاتے ہیں: حضرت امام صادق علیہ السلام حضرت عباس علیہ السلام کے زیارتنامے کے آپ کو خدا و رسول و [اپنے زمانے کے] ائمہ کے مطیع کے عنوان سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں: " الْمُطيعُ للَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِاَميرِالْمُؤْمِنينَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِمُ؛ (ترجمہ: [سلام ہو آپ پر اے بندہ صالح اے] اللہ، اس کے اس کے رسول، امیرالمؤمنین  اور حسن اورحسین ـ صلی اللہ علیہم _ کے مطیع و فرمانبردار۔

    نویں کی شام کو شمر، عباس علیہ السلام اور آپ کے تین بھائیوں عثمان،جعفر اور عبداللہ کے لئے امان نامہ لے کر آیا مگر حضرت عباس علیہ السلام نے کوئی توجہ نہ دی اور اس کو جواب نہیں دیا۔ حتی کہ آپ کو اپنے امام کا حکم ملا کہ "جاؤ اور شمر کو جواد دو"۔ عباس علیہ السلام نے فرمایا: کیا کہنا چاہتا ہے؟ شمر نے کہا: "تم اور تمہارے بھائی ، عثمان،جعفر اور عبداللہ" امان میں ہو"۔

    عباس نے کہا:" تبّت يداك ولعن ما جئت به من امانك يا عدوّا للَّه، أ تأمرنا ان نترك اخانا وسيّدنا الحسين بن فاطمة، وندخل فی طاعة اللّعناء واولاد اللّعناء! اتؤمننا وابن رسول الله لا أمان له؟!"۔ ترجمہ: ٹوٹ جائیں تیرے ہاتھ اور)خدا کی(لعنت ہو اس امان نامے پر جو تو لایا ہے، کیا تو ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اپنے بھائی اور اپنے سید و سرور حسین فرزند فاطمہ(س) کو ترک کردیں اور لعینوں اور لعین زادوں کی اطاعت قبول کریں؟ حیرت ہے، کیا تو ہمیں امان دے گا اور ہمارے سید و آقا حسین علیہ السلام فرزند رسول خداﷺ کے لئے امان نہيں ہے۔!