زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ) ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر

    ۱۱ہجری  ۲۸ صفر سوموار کے دن رسول اکرم ﷺکی وفات ہوئی ،جبکہ آپ کی عمر شریف تریسٹھ ۶۳ سال تھی ۔چالیس سال کی عمر میں آپ تبلیغ رسالت کیلئے مبعوث ہوئے ،اس کے بعد تیرہ سال تک مکہ معظمہ میں لوگوں کو خدا پرستی کی دعوت دیتے رہے ترپن برس کی عمر میں آپ نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پھر ان کے دس سال بعد آپ نے اس دنیاء فانی سے رحلت فرمائی امیرالمؤمنین علیہ السلام نے بنفس نفیس آپ کو غسل و کفن دیا حنوط کیا اور آپ کی نماز جنازہ پڑھی پھر دوسرے لوگوں نے بغیر کسی امام کے گروہ در گروہ آپ کا جنازہ پڑھا، بعد میں امیرالمؤمنین علیہ السلام نے آنحضرت ﷺکو اسی حجرے میں دفن کیا، جس میں آپ کی وفات ہوئی تھی ۔

    فاطمہ زہرا  سلام اللہ علیہا باپ کی خدمت میں:

    غم سے نڈھال فاطمہ زہرا آئیں، اپنے والد کو حسرت سے دیکھنے لگیں کہ وہ عنقریب اپنے رب سے جا ملیں گے، پریشان حال میں باپ کے پاس بیٹھ گئیں، آنکھیں اشکبار ہیں اور زبان پر یہ شعر ہے : "وابیض یستسقی الغمام بوجہہ  ثمال الیتامیٰ عصمة الارامل " نورانی چہرہ جس کے وسیلہ سے بارش طلب کی جاتی ہے ۔ وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیوہ عورتوں کا نگہبان ہے ۔

    اسی وقت رسول نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور آہستہ سے فرمایا: بیٹی یہ تمہارے چچا ابو طالب کا شعر ہے، اس وقت یہ نہ پڑھو بلکہ یہ آیت پڑھو:

    "و ما محمّد الّا رسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم و من ینقلب علیٰ عقبیہ فلن یضر اللّہ شیئا و سیجزی اللّہ الشاکرین"

    اور محمد تو بس رسول ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں پھر اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دئیے جائیں تو کیا تم الٹے پیروں پلٹ جائو گے؟ یاد رکھو جو بھی ایسا کرے گا تو وہ خدا کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور خدا شکر گذاروں کو عنقریب جزا دے گا۔

    اس طرح رسول خدا اپنی بیٹی فاطمہ کو ان افسوسناک حوادث کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے جو عنقریب رونما ہونے والے تھے یقینا یہ چیز حضرت ابو طالب کے قول سے زیادہ بہتر تھی۔

    اس کے بعد نبی کریم نے اپنی بیٹی کو قریب آنے کا اشارہ کیا تا کہ آپ سے کچھ گفتگو کریں، فاطمہ زہرا  (س)جھک کر سننے لگیں، آنحضرت نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ رونے لگیں، پھر آپ نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ مسکرانے لگیں، صورت حال سے بعض حاضرین کے اندر تجسس پیدا ہو گیا، انہوں نے فاطمہ زہرا سے دریافت کیا آپ کے رونے اور پھر مسکرانے کا کیا راز ہے ؟ آپ نے فرمایا؛ میں رسول کے راز کو افشا نہیں کروں گی۔

    لیکن جب رسول خدا کی وفات کے بعد آپ سے دریافت کیا گیا تو فرمایا:" اخبرنی رسول اللّہ  انّہ قد حضر اجلہ و انہ یقبض فی وجعہ ھذا فبکیت ثم اخبرنی انّی اوّل اھلہ لحوقاً بہ فضحکت"۔

    مجھے رسول خدا نے یہ خبر دی تھی کہ ان کی وفات کا وقت قریب ہے اور اسی مرض میں آپ دنیا سے اٹھ جائیں گے تو یہ سن کر میں رونے لگی پھر مجھے یہ خبر دی کہ ان کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں ان سے ملحق ہوں گی تو میں مسکرائی۔

    رسول اکرمﷺ کی زندگی کے آخری لمحات

    علی (ع) رسول خدا (ص) کے ساتھ ایسے ہی رہتے تھے جیسے ایک انسان کے ساتھ، اسکا سایہ رہتا ہے ، زندگی کے آخری لمحات میں بھی آپ ان کے ساتھ ہی تھے آنحضرت انہیں تعلیم دیتے اپنا راز بتاتے اور وصیت کرتے تھے۔ آخری وقت میں رسول خدا نے فرمایا: میرے بھائی کو میرے پاس بلاؤ ، علی (ع) کو رسول خدا  (ص)نے کہیں کام سے بھیجا تھا، بعض مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن رسول نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی کچھ دیر بعد علی بھی آ گئے تو رسول خدا نے فرمایا: میرے قریب آؤ، مولاعلی آپ کے قریب آئے تو آنحضرت علی کے سہارے بیٹھ گئے اور ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ آپ پر احتضار کے آثار ظاہر ہو گئے اور رسول نے حضرت علی کی گود میں وفات پائی، اس بات کو خود حضرت علی نے اپنے ایک مشہور خطبہ میں بیان فرمایا ہے۔(نہج البلاغہ خطبہ 197)

    رسول اکرمﷺ کی وفات اور تدفین

    آخری وقت میں رسول کے پاس علی ابن ابیطالب ، بنی ہاشم اور ازواج کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا، آپ کے فراق میں آپ کے گھر سے بلند ہونے والی آہ و بکا کی آواز سے آپ کی وفات کی خبر سب کو ہو گئی تھی ، سرور کائنات کے غم میں دل پاش پاش تھے، دیکھتے ہی دیکھتے مدینہ بھر میں آپ کی وفات کی خبر پھیل گئی۔ سبھی پر غم و الم کی کیفیت طاری تھی اگرچہ رسول خدا نے اس حادثہ کے لیے انہیں آمادہ کر دیا تھا اور کئی بار اپنے انتقال کی خبر دے چکے تھے اور امت کو یہ وصیت کر چکے تھے کہ وہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ علی بن ابی طالب کی اطاعت کریں۔ یقینا آپ کی وفات ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس سے مسلمانوں کے دل دہل گئے تھے مدینہ پر ایک اضطرابی کیفیت طاری تھی، رسول کے گھر کے اطراف میں جمع افراد عمر بن خطاب کی بات سے حیرت زدہ تھے وہ تلوار سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ: منافقین میں سے بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ اللہ کا رسول مر گیا۔ خدا کی قسم! وہ مرے نہیں ہیں ہاں وہ موسیٰ بن عمران کی طرح اپنے رب کے پاس چلے گئے ہیں۔

    رسول خدا کی رحلت کی خبر نہایت تیزی سے مدینہ میں پھیل گئی، علی علیہ السلام جب غسل و کفن میں مشغول تھے۔  غسل دینے کے بعد پہلے علی علیہ السلام نے نماز جنازہ پڑھی پھر مسلمان دستہ دستہ آتے گئے اور نماز پڑھتے گئے، پھر رسول خدا کو ان کے گھر میں مسجد کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔

    پیغمبر داربقاء کی طرف روانہ ہوگئے، لیکن یہ نور نہ تو گل ہوا ہے اور نہ ہوگا۔