زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ) ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر

    میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق علیہ السلام


    ربیع الاول وہ مکرم مہینہ  ہے جس میں کائنات کی عظیم ہستیوں حضرت رسول صادق ﷺ  اورحضرت  امام صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی ، جناب رسول صادق ﷺ  اور امام صادق ؑ کی تعلیمات محبت اور اخوت کا درس دیتی ہیں، انسان کو انسانیت سے روشناس کرواتی ہیں، دنیا میں بڑھتی ہوئی نفرتوں کو فکر صادقین علیہما  السلام  کے ذریعے محبت، امن اور اخوت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

    علمائے شیعہ کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ حضرت  رسول خدا (ص) کی ولادت باسعادت عام الفیل میں انوشیروان عادل کے حکومت کے ایام میں 17 ربیع الاول  کو  مکه معظمہ میں اپنے ہی گھر میں جمعہ کے دن طلوع فجر کے وقت ہوئی ۔

    اور اسی دن ۸۳ھ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت بھی ہوئی لہٰذا  اس کی وجہ سے اس دن کی فضیلت میں  مزید اضافہ ہوا ۔

    حضور اکرم ﷺ :

    پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی (ص)کی ذات اقدس ، خداوند عالم کا مکمل آئینۂ جمال و کمال ہے اور پرودگارعالم نے جوتمام خوبیوں اور اچھائیوں کا خالق ہے اپنی عظیم کتاب قرآن مجید میں اپنے اس عظیم پیغمبر(ص)کی مدح و ثنا کرتے ہوئے انہیں تمام مخلوقات عالم کے لئے باعث رحمت قرار دیا ہے-

    اگر چہ عقل انسان ، اس انسان کامل کے بہترین اسوہ کی توصیف اور اسے قلمبند کرنے سے عاجز ہے ، رسول اکرم(ص)کی زندگی ،اعلی انسانی فضائل اور پسندیدہ صفات سے سرشار ہے ان کے پسندیدہ اخلاق میں عظمت و بزرگی مکمل طور پر عیاں ہے ۔ حضرت محمد مصطفی(ص)تمام اعلی اخلاقی صفات و کمالات سے بہرہ مند تھے اور یہ تمام صفات آپ میں بدرجۂ اتم موجود تھیں اور اسی بناء پر خداوند عالم ، سورۂ قلم کی آیت نمبر 4 میں آنحضرت(ص) کی یوں توصیف فرما رہا ہے " اور آپ بلند ترین اخلاق کے درجے پر فائز ہیں " اس بناء پر پیغمبر اسلام(ص)تمام مسلمانوں کے لئے ،انسانی کمالات کا بہترین اور اعلی ترین نمونہ ہیں ۔ 

    خداوند عالم نے سورۂ احزاب کی آیت 21 میں  مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ کی اتباع کریں اور خداوند عالم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آپ(ص)کے احکام کی پیروی کریں چنانچہ ارشاد ہورہا ہے کہ " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا." مسلمانو، تم میں سے اس کے ليے رسول(ص) کی زندگی میں بہترین نمونۂ عمل ہے جو شخص بھی اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے۔

    پیغمبر عظیم الشان(ص)انسانوں کے مکمل ترین اسوہ کے طور پر تمام انسانوں کے حق میں بہت زیادہ مہربان تھے آنحضرت (ص) اپنی ان ہی قابل تعریف فضائل وخصائل کی بناء پر 23 برسوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے مکتب کا شیفتہ اور گرویدہ بنانے میں کامیاب رہے اور انہیں گمراہی و ضلالت کے راستے سے ہٹاکر صراط مستقیم پر چلایا ۔

    امام جعفر صادق علیہ السلام:

    پیغمبر اکرم ﷺ  نے چھٹے امام کے نام اور لقب کے بارے میں فرمایا ہے جب میرا بیٹا جعفر پیدا ہو تو اس کا نام صادق رکھنا ۔ آپ کے القاب صادق ، مصدق ، محقق ، کاشف الحقائق ، فاضل ، طاہر ، قائم ، منجی اور صابر ہیں ۔ جبکہ کنیت ابوعبداللہ ، ابو اسماعیل اور ابو موسی ہے ۔

    امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد اکتیس سال کی عمر میں ایک سو چودہ ہجری قمری کو عوام کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ سنبھالا اور منصب امامت پر فائز ہوئے ۔

    امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے کو علمی اِرتقاء اور ترقی کا زمانہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ عوام و خواص ہر ایک اس زمانے میں تحصیلِ علم کی طرف متوجہ تھا۔ اور اس زمانے کا ماحول کاملاً اسرارِ قرآنی کی تبلیغ اور انکشاف کے لئے سازگار تھا۔ اِس علمی ماحول ہی کی وجہ سے امام کو اسرارِ علومِ دینی کے حتی الوسع اِنکشاف کا موقع ملا۔ آپ کے حکیمانہ کلمات علمی وطبی نظریات اور دینی بیانات کی پُرجوش نہر تھی جو تشنگانِ معرفت کو سیراب کرتی چلی جا رہی تھی۔ تشنگانِ دانش اور بیمارانِ جہل دور درازسے آتے اور جہالت کی بیماری سے شفایاب ہوتے۔

    امام جعفر صادق علیہ السلام کا ‌زمانہ علوم و فنون کی توسیع اور دوسری ملتوں کے عقائد و نظریات اور تہذیب و ثقافت کے ساتھ اسلامی افکار و نظریات اور تہذیب و ثقافت کے تقابل اور علمی بحث و مناظرے کے اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ اسی زمانے میں ترجمے کے فن کو بڑی تیزی سے ترقی حاصل ہوئی اور عقائد و فلسفے دوسری ‌زبانوں سے عربی میں ترجمہ ہوئے ۔

    امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسب فیض کرنے والے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں ۔ آپ کے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ، ابان بن تفلب ، ہشام بن سالم ، مفصل بن عمر اور جابربن حیان کا نام خاص طور سے لیا جا سکتا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیدا کیا مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے اکتیس کتابیں اور جابربن حیان نے دو سو ‌زائد کتابیں مختلف علوم و فنون میں تحریر کی ہیں ۔

    جابربن حیان کو علم کیمیا میں بڑی شہرت حاصل ہوئی اور وہ بابائے علم کیمیا کے نام سے مشہور ہیں ۔ اہل سنت کے درمیان مشہور چاروں مکاتب فکر کے امام بلاواسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادق علیہ السلام کےشاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر امام ابوحنیفہ نے تقریبا” دوسال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا ۔ آپ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ نے کہا ہے : ” میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ پڑھا لکھا کوئی اور شخص نہیں دیکھا۔