زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 25محرم (1442ھ)شہادت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۹ ذی قعدہ (1441ھ) شہادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • 11 ذیقعد (1441ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ ا لسلام کے موقع پر
  • یکم ذیقعد(1441ھ)ولادت باسعادت حضرت معصومہ سلام اللہ عليہاکے موقع پر
  • 25شوال(1441ھ)شہادت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 13رجب (1441ھ) ولادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • یکم رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی (1441ھ)ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی (1441ھ)شہادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول (1441ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر

    شہادت  حضرت امام  کاظم علیہ السلام

    حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ٧صفر المظفر ۸۲۱ھ ہفتہ کے دن ابوا کے مقام پرجوکہ مدینہ و مکہ کے درمیان واقع ہےپیداہوئے۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اپنے دور کے سب سے زیادہ با فضل اورعالم شخصیت تھے ۔آپ حکمت و فہم و معرفت کاخزانہ ہے ، تاريخ میں منقول ہے تقریبا 300 افراد نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے حدیث نقل کی ہے جن میں سے بعض راویوں کا نام انتہائی درجے کے علماء میں لیا جاتا ہے۔

    نشو ونما اور تربیت 

    آپ نے اپنی عمرکے بیس برس اپنے والد بزرگوار امام جعفر صادق علیہ السّلام کے سایہ تربیت میں گزارے. ایک طرف خدا کے دیئے ہوئے فطری کمال کے جوہر اور دوسری طرف اس باپ  کی تربیت جس نے پیغمبر کے بتائے ہوئے فراموش شدہ مکارم اخلاق کو ایساتازہ کر دیا  تھاکہ چاروں طرف اسی کی خوشبوپھیلی ہوئی تھی۔

    امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام نے بچپن  او رجوانی کاکافی حصہ اسی مقدس آغوش تعلیم میں گزارا. یہاں تک کہ تمام دنیا کے سامنے آپ  کے کمالات وفضائل روشن ہوگئے اور امام جعفر صادق علیہ السّلام نے آپ کو اپنا جانشین مقرر فرمادیا . باوجودیکہ آپ کے بڑے بھائی بھی موجود تھے مگر خدا کا عطا کردہ منصب میراث کا ترکہ نہیں ہوتا ہے بلکہ ذاتی کمال کی بنیاد پر رہتا ہے۔

    صبرواستقامت

    اہل  بیت علیہم السلام کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی یہ عظیم ہستیاں معاشرے میں رونما ہونے والے ہرطرح کے واقعات وحادثات کی گہرائیوں اوران کےمضمرات سے بھی مکمل آگاہی رکھتی تھیں اور یہ لوگ اپنی خاص درایت و تدبیر کے ذریعے واقعات کے تاریک اور پنہاں پہلوؤں کو آشکارا کرتے تھے تا کہ لوگ حق و باطل میں تمیز دے کر صحیح راستے کی طرف گامزن ہوں۔

    حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تقریبا" 35 سال مسند امامت پر فائز رہے مگر اس میں سے بیشتر حصہ قید و بند میں گزارا یا پھر جلاوطن رہے یہ حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ کے زمانے میں اہل بیت علیہم السلام کے سلسلے میں عباسی حکمرانوں کی سختیاں اور دشمنی کس قدر شدت اختیارکرگئی تھی جس چیز نے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو اپنے دور کے حالات کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کیا وہ مسلمانوں پر حکم فرما فاسد سیاسی اورسماجی نظام تھا۔

    عباسی حکمرانوں نے حکومت کو موروثی اور آمرانہ نظام میں تبدیل کردیا تھا، ان کے محل بھی حکمرانوں کے لہو ولعب اور عیش و نوش و شراب و کباب کا مرکز تھےاور ان بے پناہ دولت و ثروت کا خزانہ تھے جو انہوں نے لوٹ رکھے تھے۔

    جبکہ مفلس و نادار طبقہ غربت ، فاقہ کشی اور امتیازی سلوک کی سختیاں جھیل رہا تھا ۔اس صورتحال میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام لوگوں کی سیاسی اور سماجی آگہی و بصیرت میں اضافہ فرماتےاور بنی عباس کے حکمرانوں کی روش کو اسلامی تعلیمات کے منافی قراردیتے دوسری طرف ہارون الرشید اس بات کی اجازت نہيں دیتا کہ لوگ امام کے علم و فضل کے بحر بیکران سے فیضیاب ہوں اوروہ اس سلسلے میں لوگوں پر سختیاں کرتا ۔لیکن ہارون الرشید کی ان سختیوں کے جواب میں امام کا ردعمل قابل غور تھا۔

    امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہر مناسب وقت سے فائدہ اٹھا کرخداوند عالم کے حضور نماز و نیایش اور تقرب الہی میں مصروف ہوجاتے۔آپ پرجتنا بھی ظلم و ستم ہوتا وہ صبر اور نماز سے سہارا لیتےہے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہرحال میں صبر و شکر ادا کرتے بصرہ کا زندانباں عیسی بن جعفر کہتا ہے ۔ میں نے بہت کوشش کی کہ امام پر ہرلحاظ سے نظر رکھوں یہاں تک کہ چھپ چھپ کران کی دعاؤں اور نیایش کو سنتا تھا مگر وہ فقط درگاہ خداوند سے طلب رحمت و مغفرت کرتے اور وہ اس دعا کی بہت زيادہ تکرار فرماتے ،خدایا تو جانتا ہے کہ میں تیری عبادت کے لئے ایک تنہائي کی جگہ چاہتا تھا اور اب جبکہ تو نے ایک ایسی جگہ میرے لئے مہیا کردی ہے میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں ۔

    فرزند رسول امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اپنے ایک مقام پر فرماتے ہیں ، عرش الہی پرایک سایہ ہے جہاں ایسے لوگوں کو جگہ ملے گی جنہوں نے اپنے بھائیوں کے حق میں نیکی اور بھلائی کی ہوگی، یا مشکلات میں ان کی مدد کی ہوگی ۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا روز مرہ کا ایک معمول محتاجوں اور ناداروں کی خبر گیری کرنا تھا ۔

    شہادت

    سب سے آخر میں امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سندی بن شاہک کے قید خانے میں رکھے گئے یہ شخص بہت ہی بے رحم اور سخت دل تھا- آخر اسی قید میں حضرت کوانگور میں زہر دیا گیا-  25رجب 183ھ میں 55 سال کی عمر میں حضرت کی شہادت ہوئی۔

    شہادت کےبعد آپ  کے جسد مبارک کے ساتھ بھی کوئی اعزاز کی صورت اختیار نہیں کی گئی بلکہ حیرتناک طریقے پر توہین آمیز الفاظ کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے آپ  کی لاش کو قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا- مگر اب ذرا عوام میں احساس پیدا ہو گیا تھا اس لئے کچھ  اشخاص نے امام کے جنازے کو لے لیا اور پھر عزت و احترام کے ساتھ مشایعت کر کے بغداد سے باہر اس مقام پر جواب کاظمین کے نام سے مشہور ہے، دفن کیا۔