زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 13رجب المرجب(1442ھ)ولادت حضرت امام علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1442ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی(1442ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی(1442ھ)شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول(1442ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • 10ربیع الثانی (1442ھ) وفات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • 8ربیع الثانی (1442ھ)ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17 ربیع الاول (1442ھ)ولادت با سعادت صادقین علیہما السلام کے موقع پر
  • 8ربیع الاول(1442ھ)شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 29صفر المظفر(1442ھ)شہادت حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے موقع
  • 20صفر المظفر(1442ھ)امام حسین علیہ السلام اوران کےاعزہ ؤ اصحاب کاچہلم
  • 25محرم (1442ھ)شہادت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۹ ذی قعدہ (1441ھ) شہادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • 11 ذیقعد (1441ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ ا لسلام کے موقع پر
  • یکم ذیقعد(1441ھ)ولادت باسعادت حضرت معصومہ سلام اللہ عليہاکے موقع پر
  • 25شوال(1441ھ)شہادت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    3جمادی الثانی(1442ھ)شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر

    شہادت حضرت  فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا 


    رسول گرامی اسلام ﷺنے   فرمایا:"فاطمۃ بضعۃ منی من اذاھا فقد اذانی و من اذانی فقد اذی اللہ" فاطمہ میرا ٹکڑا ہے، جو فاطمہ(س)کو دوست رکھتا ہے اس نے مجھے دوست رکھا؛ اس کا دشمن، میرا اور خدا کا دشمن ہے۔

    آپ (س) کی فضیلت کے لیے اتنا کافی ہے کہ امام علیؑ جیسی شخصیت آپ (س)کے وجود پر افتخار کرتی  ہوئی نظر آتی ہیں آپ کی زندگی کے ہر شعبے میں آپ کی فضیلت نمایاں ہیں آپ کی فضیلت میں قران کریم مدح سرائی اور قصیدہ گوئی میں نظر آتی ہے  آپ ہی کی ذات گرامی کو لیلۃ القدر سے تعبیر کیا گیا ہے ، تفسیر فرات کوفی میں امام جعفر صادق     علیہ السلام سے روایت ہے کہ انا انزلنا ہ فی لیلۃ القدر میں "لیلۃ "سے مراد فاطمہ سلام اللہ علیھا کی ذات گرامی ہےاور" قدر "سے  پروردیگار عالم کی طرف اشارہ  کیا گیا ہے ، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے آپ کی حقیقی معرفت تک رسائی ممکن نہیں بنی نوع انسان آپ کی معرفت سے عاجز ہے، حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی علمی فضیلت کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ آپ فرشتوں سے ہم کلام تھیں۔

    حضرت فاطمہ زہرا (س) کی وصیتیں

    حضرت فاطمہ زہرا (س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی طاہر کیا جب اپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں . اس طرح کہ آپ ایک دن غیر معمولی طور فکر مند نظر ائیں .اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیاتو آپ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میّت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کاقد و قامت نظر آتا ہے . اسما نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً آپ کو پسند ہو. اسکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بناکر دکھائی اس پر سیّدہ فاطمہ (س) بہت خوش ہوئیں ۔

    پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ آپ کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی چنانچہ آپ نے وصیّت فرمائی کہ آپ کے جنازے کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے .

    مورخین تصریح کرتے ہیں کہ سب سے پہلی لاش جو تابوت میں اٹھی ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا (س) کی تھی۔ ا سکے علاوہ آپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ آپ کا جنازہ شب کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جن کے طرزِ عمل نے میرے دل میں زخم پیدا کر دیئے ہیں۔ سیدہ ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اپ اس دنیاسے رخصت ہوئیں۔

    شہادت

    حضرت فاطمہ (س)  نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا کی وفات کے 3مہینہ بعد تین جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری میں شہادت پائی . آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . صرف بنی ہاشم اور سلمان فارسی (رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کردیا . آپ کے دفن کی اطلاع بھی عام طور پر سب لوگوں کو نہیں ہوئی، جس کی بنا پر یہ اختلاف رہ گیا کہ اپ جنت البقیع میں دفن ہیں یا اپنے ہی مکان میں جو بعد میں مسجدرسول خدا کا حصہ بن گیا۔ جنت البقیع میں جو آپ کا روضہ تھا وہ بھی باقی نہیں رہا۔ اس مبارک روضہ کو 8شوال سن ۱۳۴۴ھجری قمری میں آل سعود  نے دوسرے مقابر اہلیبیت علیہ السّلام کے ساتھ شہید کرادیا۔