زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 13رجب المرجب(1442ھ)ولادت حضرت امام علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1442ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی(1442ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی(1442ھ)شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول(1442ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • 10ربیع الثانی (1442ھ) وفات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • 8ربیع الثانی (1442ھ)ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17 ربیع الاول (1442ھ)ولادت با سعادت صادقین علیہما السلام کے موقع پر
  • 8ربیع الاول(1442ھ)شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 29صفر المظفر(1442ھ)شہادت حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے موقع
  • 20صفر المظفر(1442ھ)امام حسین علیہ السلام اوران کےاعزہ ؤ اصحاب کاچہلم
  • 25محرم (1442ھ)شہادت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۹ ذی قعدہ (1441ھ) شہادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • 11 ذیقعد (1441ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ ا لسلام کے موقع پر
  • یکم ذیقعد(1441ھ)ولادت باسعادت حضرت معصومہ سلام اللہ عليہاکے موقع پر
  • 25شوال(1441ھ)شہادت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    20جمادی الثانی(1442ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر

    ولادت حضرت  فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

    قالَتْ فاطمةالزهراءاسلام الله عليها: حبب الی من دنیاکم ثلاث: تلاوة کتاب الله و النظر فی وجه رسول و الانفاق فی سبیل الله"(وقایع الایام خیابانی، جلد صیام، ص295)

    حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے مدینہ کی خواتین سےملاقات کے دوران اپنی زندگی کی تین محبوب چیزوں کا تعارف کروایا ہے اورفرماتی ہیں:  کہ میں تمہاری دنیا میں سے تین چیزوں کو پسند کرتی ہوں اوردیگرتمام چیزوں سے زیادہ انہیں پسند کرتی ہوں۔ فرماتی ہیں کہ میں تمہاری دنیا میں سے کتاب الہی کی تلاوت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کی زیارت اوراللہ کی راہ میں خرچ کرنےکو پسند کرتی ہوں۔

    1۔ تلاوة کتاب الله :

    حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا قرآن مجیدکے ساتھ ایک خاص انس و محبت رکھتی تھیں  آپ نے زندگی کا اکثر حصہ قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف اور  دوسروں کو بھی قرآن مجیدکی تعلیم  دینے میں گزاری ، بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام علیہاجب قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوتی تھیں تو اس دوران آپ غیبی امداد سے بہرہ مند ہوتی تھیں۔

    ایک واقعہ نمونے کےطور  پر بیان کرتاہوں:کہ  ایک دن حضرت سلمان فارسی نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام علیہا چکی کے پاس قرآن کی میں مصروف تھیں اور چکی خوبخود چل رہی تھی، سلمان فارسی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کوآپ کے  والد گرامی حضرت محمدمصطفی ﷺ کی خدمت میں بیان کیا توآپ نے فرمایا : خدا وند عالم نے حضرت زہرا سلام علیہاکی خدمت کیلئے جبریل امین کو بھیجا ہے۔

    اس کےعلاوہ آپ کے قریبی افراد اور آپکی خدمت میں شرفیاب ہونے والوں کی کثیر تعداد نے بھی آپ کو کئی بار قرآن کی تلاوت میں مشغول پایا۔

    2۔ النظر فی وجه رسول اللہ

    جس طرح اللہ رب العزت نے سورۃ آلِ عمران کی اٰیت نمبر31 میں یوں ارشادفرمایا’’اے پیغمبرعلیہ سلام آپ کہہ دیجئے اگرتم اللہ سے محبت کرتے ہو(اوراس کے دعویداربھی ہوتواسکاایک ہی معیار ہے کہ)میری(یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا)اتباع کرو تو اللہ تم سے محبت کریگا‘‘گویااس اٰیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ساتھ محبت کامعیاربتادیاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت سے مشروط ہے ۔

    اسی طرح حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے اس فرمان میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور ، رضا کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ آپ یہ نہیں فرماتیں کہ میں تمہاری دنیا میں سے اپنے والد گرامی کے چہرے کی زیارت کرنے کو پسند کرتی ہوں؛ اگرچہ ہمارے لیے یہ بھی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہےلیکن آپ دیکھتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول اللہ کی عبارت سے استفادہ کرتی ہیں۔ اوراگرہم تینوں پسندیدہ چیزوں میں دقت کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کلمۃ اللہ اوررضائے الہی کےحصول کی کوشش موجزن ہے۔

    اسکی وجہ یہ ہے کہ اللہ کے احکامات اوامرونواہی،حلال وحرام ،جائزوناجائز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بغیرمعلوم نہیں ہوسکتے۔لہذاان لوگوں کواللہ تعالیٰ کی محبت مل نہیں سکتی ۔  جونبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو’’رسول ونبی ‘‘مانتے ہیں ا نہیں بھی پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ محبت کامعیاربتلایاہے ۔

    فرمایااگرتمہارے پڑوسی تمہاری وجہ سے تکلیف میں ہیں تو پھرتم میرے ساتھ محبت کے دعوے میں سچے نہیں اوراگرتم امانت میں خیانت کررہے ہواوردوسری طر ف ہمارے ساتھ عشق کی باتیں بھی ہورہی ہیں توسمجھ لواس میں کوئی صداقت نہیں...اگرتم جھوٹ پرجھوٹ بولے جارہے ہوتوتم اپنے دعوائے محبت میں بالکل جھوٹے ہو۔

    3۔ انفاق فی سبیل اللہ

    حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  انفاق،سخاوت وایثار کے میدان میں بھی  اپنے پدر بزگوار کے نقش قدم پر گامزن رہیں۔ آپ نے خدا کی راہ میں انفاق کے ذریعے سخاوت کے اعلیٰ نمونے قائم کئے ہیں ۔

    شادی کی رات پیوند دار لباس پہن کر بابا کا دیا ہوا نیا جوڑا فقیر کو عطاکرنا، تین دن تک اپنا اور اپنے اہل وعیال کا کھانا مسکین، فقیر، اسیر کو دے دینا، آپ کی زندگی کےمعمولات  اورآپ کی نمایاں خصوصیات میں سےہے۔

    بطورنمونہ اس واقعہ کی طرف مختصراً  اشارہ کرونگا۔کہ سورہ ’’ھل اتیٰ‘‘قرآن مجید کی ۷۶ ویں اور مدنی سورتوں میں سے ہے۔ جس میں انسان کی خلقت ، نیکو کاروں کے اوصاف اور خدا کی طرف سےان کو دی جانے والی نعمتوں اور انکے علل واسباب کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔

    تمام شیعہ مفسرین  حتی بعض اہل سنت مفسرین  کے مطابق  آیہ اطعام  حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ، حسنین علیہماالسلام ،حضرت فاطمہ  سلام اللہ علیہا ، اور جناب فضہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

    ان شخصیات نے حسنین الشریفین کی صحت یابی کے شکرانے میں تین دن روزے رکھے،افطار کے وقت سے پہلےپورا کھانا نیازمندوں(مسکین، فقیر، اسیر) کودے دیا تو خدا کی طرف یہ آیت نازل ہوئی۔

    یہی وجہ ہے کہ حضرت فاطمہ  سلام اللہ علیہا پنے والد کی پیروی میں ایثار وقربانی کے ہر مرحلہ میں آگے نظر آتی ہیں۔آپ نےعملی طور انفاق، سخاوت، ایثاراور قربانی کے ذریعے  ثابت کردیا کہ  عورت کا کردارکسی بھی معاشرےکی ترقی میں نمایاں حیثیت رکھتی  ہے ۔