زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • مرحوم آيت الله السيد عادل العلوي (قدس سرہ) کی چھلم کے موقع پر
  • 18ذی الحجہ (1442ھ)حضرت علی علیہ السلام کی تاج پوشی کے موقع پر
  • 15ذی الحجہ(1442ھ)ولادت حضرت امام ہادی علیہ السلام کے موقع پر
  • 7ذی الحجہ (1442ھ)شہادت حضرت امام باقر علیہ السلام کے موقع پر
  • 11ذی القعد (1442ھ)ولادت حضرت امام رضا علیہ السلام کے موقع پر
  • 25شوال (1442ھ) شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کے موقع پر
  • 21رمضان(1442ھ)شہادت حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رمضان(1442ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان(1442ھ)ولادت حضرت امام مہدی (عجل اللہ فرجہ) کے موقع پر
  • 11شعبان(1442ھ)ولادت باسعادت حضرت علی اکبرعلیہ السلام کے موقع پر
  • 4شعبان (1442ھ)ولادت باسعادت حضرت عباس علیہ السلام کے موقع پر
  • 3شعبان المعظم(1442ھ)ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1442ھ)عید سعید مبعث ، عالم بشریت کی نجات کا دن
  • 25رجب المرجب(1442ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب(1442ھ)ولادت حضرت امام علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1442ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی(1442ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی(1442ھ)شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول(1442ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • 10ربیع الثانی (1442ھ) وفات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    7ذی الحجہ (1442ھ)شہادت حضرت امام باقر علیہ السلام کے موقع پر

    شہادت حضرت  امام  باقر علیہ السلام


    امام محمد باقرعلیہ السلام کی زندگی تمام تر عقل و دانش سے تعبیر ہے اور اسی لئے  آپ کو باقر العلوم کہا جاتا ہے یعنی عقلی مشکلات کو شگافتہ کرنیوالے اور معرفت کی پیچیدگیوں کو آسان کرنیوالے ۔

    آپ کی علمی حیثیت

    علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ حضرت کا خود ارشاد ہے کہ” علمنامنطق الطیر و اوتینا من کل شئی “ ہمیں طائروں تک کی زبان سکھا گئی ہے اور ہمیں ہرچیز کا علم عطا کیا گیا ہے۔

    روضة الصفاء میں ہے : خداکی قسم! ہم زمین اورآسمان میں خداوند عالم کے خازن علم ہیں اور ہم ہی شجرہ نبوت اورمعدن حکمت ہیں ،وحی ہمارے یہاں آتی رہی اور فرشتے ہمارے یہاں آتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ظاہری ارباب اقتدار ہم سے جلتے اورحسد کرتے ہیں۔

    علامہ شبلنجی فرماتے ہیں کہ علم دین، علم احادیث،علم سنن اورتفسیر قرآن وعلم السیرت وعلوم وفنون ،ادب وغیرہ کے ذخیرے جس قدرامام محمد باقرعلیہ السلام سے ظاہر ہوئے اتنے امام حسین و امام حسین کی اولاد میں سے کسی اورسے ظاہرنہیں ہوئے۔

    صاحب صواعق محرقہ لکھتے ہیں : عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اورگہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اورعاجز و ماندہ ہیں ۔ آپ کے ہدایات وکلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں ناممکن ہے۔

    علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ آپ بنی ہاشم کے سرداراورمتبحر علمی کی وجہ سے باقرمشہورتھے ۔ آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔

    امام  اور سياسي مسائل

    زيدي شيعوں نے امامت کے معاملہ ميں تلوار کے ساتھ امام کے قيام کو اپنے مذہب کي ايک بنياد قرار ديا ہے۔ زيدي فرقہ کي نظر ميں ايک علوي فرد اس وقت امام قرار پا سکتا ہے جب وہ مسلح تحريک چلائے۔ بصورتِ ديگر وہ اسے امام نہيں سمجھتے تھے۔ اگر زيديوں کے اس عقيدہ کے نتيجہ کي جانب توجہ کي جائے تو وسيع اسلامي مملکت کے گوشہ و کنار ميں نفسِ زکيہ، ان کے بھائي ابراہيم، حسين بن علي معروف بہ شہيد فخ اور بعض دوسرے افراد کے وسيلہ سے کي جانے والي چند پراگندہ اور ناکام تحريکوں کے علاوہ کچھ اور نظر نہيں آتا۔جس کا نتيجہ يہ نکلا کہ:

     الف: وہ لوگ خدا کے برگزيدہ بندوں، يعني ائمہ طاہرين کے بجائے ہر اس علوي کے پيچھے چل پڑے جو تلوار اٹھا لے۔

    ب: ثقافتي اعتبار سے تفسير، فقہ و کلام ميں امامي شيعوں کے مقابلہ ميں زيدي شيعہ کوئي منظم اور مربوط ثقافت نہيں اپنا سکے۔ يہ لوگ فقہ ميں تقريباً ابوحنيفہ کے اور کلام ميں پورے طور پر معتزلہ کے پيروکار تھے۔ اس کے مقابلہ ميں شيعہ ائمہ خصوصاً امام باقرٴ اور امام صادقٴ کے علمي اقدامات کي وجہ سے ايسا مکتب پيدا ہوا جس کي اپني ايک خاص اور بھرپور ثقافت تھي، جو بعد ميں مکتبِ جعفري کے نام سے مشہور ہوئي۔

    اس زمانے کے سياسي حالات ميں جب کہ اموي اور ان کے بعد عباسي حکمران اپني حکومت کي بقائ کے لئے ہر مخالف طاقت اور ہر مخالفت کو کچل ديا کرتے تھے، ايسے موقف کے انتخاب کے ساتھ طبعي طور پر اہم سياسي اقدامات نہيں کيے جاسکتے تھے۔ اور ہر جگہ واحد خوبي يہي نہيں ہوتي کہ ہر صورت اور ہر قيمت پر سياسي عمل ميں شرکت کي جائے چاہے اس کے لئے معارف حق کے بيان سے چشم پوشي کرني پڑے اور ايک پوري امت پر راستہ ہميشہ کے لئے بند کرديا جائے۔ ائمہ طاہرين نے اس دور ميں اپنا بنيادي موقف يہي قرار دے ديا تھا کہ اسلام کے حقيقي ديني معارف کو بيان کيا جائے اور اپنا اصلي کام يہي چُن ليا تھا کہ مذہبي ثقافت کي تدوين کي جائے اس کا يہ مطلب بھي نہيں ہے کہ ائمہ نے ظالم حکمرانوں کے خلاف کبھي کوئي موقف نہيں اپنايا۔ 

    امام باقرعلیہ السلام  مختلف طريقوں سے لوگوں کو حکمرانوں پر اعتراض اور ان کو نصيحت کرنے کي ترغيب دلايا کرتے تھے۔ آپٴ سے منقول ايک روايت ميں آيا ہے کہ: "من مشيٰ اليٰ سلطان جائرٍ فامرہ بتقوي اللہ و وعظہ و خوّفہ کان لہ مثل اجر الثقلين من الجن و الانس و مثل اجورھم" جو ظالم حاکم کے پاس جاکر اسے خدا سے ڈرائے اور نصيحت کرے اور اسے قيامت کا خوف دلائے، اس کے لئے جن و انس کا اجر ہے۔

    امام باقرٴ کے زمانے ميں اموي حکام اہلبيت کے معاملہ ميں بہت سخت گيري کرتے تھے اور يہ سخت گيري ان کے امامت اور ديني۔سياسي رہبري کے دعويٰ کي وجہ سے تھي کہ وہ بنواميہ کو غاصب سمجھتے تھے۔ تاريخ  بتاتي ہے کہ اموي خلفائ ميں صرف عمر بن عبدالعزيز تھا جس نے اہلبيت کے ساتھ نسبتاً نرم رويہ اپنايا تھا۔ اسي لئے اہلسنت نے امام باقر سے روايت کي ہے آپٴ نے فرمايا:عمر بن عبد العزيز نجيب بني اميہ۔ یعنی عمر بن عبد العزيز بني اميہ کا نيک آدمي ہے۔

    اموي دور ميں اہلبيت پر سب سے زيادہ سختياں ہشام بن عبد الملک کي جانب سے ہوئيں۔ اسي کے سخت اور توہين آميز جملات تھے جنہوں نے زيد بن علي کو کوفہ ميں قيام کرنے پر مجبور کرديا۔ زيد کے ساتھ ہشام کي ملاقات ميں اس نے حتيٰ کہ امام باقرؑ ٴ کي بھي توہين کي اور امويوں کے مخصوص اندازِ تمسخر اور طريقہ اذيت کے مطابق امامٴ کہ جن کا لقب باقر تھا، انہيں ’’بقرہ‘‘ (گائے) کہا۔ زيد اس کي اس جسارت پر بہت ناراض ہوئے اور فرمايا:"سماہ رسول اللہ الباقر و انت تسميہ البقرۃ، لشد ما اختلفتما و لتخالفنہ في الآخرۃ کما خالفتہ في الدنيا فيرد الجنۃ و ترد النار"

    رسول اللہ نے انہيں باقر کہا ہے اور تو انہيں بقرہ (گائے) کہہ رہا ہے۔ تيرے اور رسول اللہ کے درميان کس قدر اختلاف ہے! تو آخرت ميں بھي ان کي اسي طرح مخالفت کرے گا جس طرح سے دنيا ميں کر رہے ہو۔ اس وقت وہ جنت ميں اور تو جہنم ميں داخل ہوگا۔

    امام ؑ  کی شہادت         

     آپ اپنے علمی فیوض وبرکات کی وجہ سے اسلام کوبرابرفروغ دے رہے تھے لیکن اس کے باوجودہشام بن عبدالملک نے آپ کوزہرکے ذریعہ سے شہیدکرادیا اورآپ بتاریخ ۷/ ذی الحجہ ۱۱۴ ھ  کومدینہ منورہ میں  شہید ہوگئے  اس وقت آپ کی عمر ۵۷/ سال کی تھی آپ جنت البقیع میں دفن ہوئے ۔

     شہادت سے قبل آپ نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے بہت سی چیزوں کے متعلق وصیت فرمائی اورکہا کہ بیٹامیرے کانوں میں میرے والدماجدکی آوازیں آرہی ہیں وہ مجھے جلدبلارہےہیں آپ نے غسل وکفن کے متعلق خاص طورسے ہدایت کی کیونکہ  امام کوامام ہی غسل دے سکتاہے ۔