زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • مرحوم آيت الله السيد عادل العلوي (قدس سرہ) کی چھلم کے موقع پر
  • 18ذی الحجہ (1442ھ)حضرت علی علیہ السلام کی تاج پوشی کے موقع پر
  • 15ذی الحجہ(1442ھ)ولادت حضرت امام ہادی علیہ السلام کے موقع پر
  • 7ذی الحجہ (1442ھ)شہادت حضرت امام باقر علیہ السلام کے موقع پر
  • 11ذی القعد (1442ھ)ولادت حضرت امام رضا علیہ السلام کے موقع پر
  • 25شوال (1442ھ) شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کے موقع پر
  • 21رمضان(1442ھ)شہادت حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رمضان(1442ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان(1442ھ)ولادت حضرت امام مہدی (عجل اللہ فرجہ) کے موقع پر
  • 11شعبان(1442ھ)ولادت باسعادت حضرت علی اکبرعلیہ السلام کے موقع پر
  • 4شعبان (1442ھ)ولادت باسعادت حضرت عباس علیہ السلام کے موقع پر
  • 3شعبان المعظم(1442ھ)ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1442ھ)عید سعید مبعث ، عالم بشریت کی نجات کا دن
  • 25رجب المرجب(1442ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب(1442ھ)ولادت حضرت امام علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1442ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی(1442ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی(1442ھ)شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول(1442ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • 10ربیع الثانی (1442ھ) وفات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    15ذی الحجہ(1442ھ)ولادت حضرت امام ہادی علیہ السلام کے موقع پر

    ولادت حضرت  امام  ہادی علیہ السلام



    امام علی النقی علیہ السلام  کی تاریخ ولادت و شہادت میں اختلاف ہے ۔ ولادت کو بعض مورخین نے 15 ذی الحجہ اور بعض نے دوم یا پنجم رجب بتائي ہے اسی طرح شہادت کو بعض تیسری رجب مانتے ہیں لیکن شیخ کلینی اور مسعودی نے ستائیس جمادی الثانی بیان کیا ہے۔

    البتہ امام علیہ السلام کی پیدایش رجب میں ہونے کی ایک قوی ترین دلیل وہ دعائے مقدسہ ناحیہ کا جملہ ہے، جس میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں :"اللھم انی اسئلک بالمولودین فی رجب ، محمد بن علی الثانی و ابنہ علی ابن محمد " امام علی النقی الھادی علیہ السلام کی ولادت مدینہ منورہ کے قریب ایک گاؤں بنام " صریا " میں ہوئی ہے جسے امام موسی کاظم علیہ السلام نے آباد کیا اور کئی سالوں تک آپ کی اولاد کا وطن رہا ہے۔

    ہادی و راہنما

    رسول اللہ  کی وصال کے بعد معاشرے کی ہدایت و راہنمائی کی ذمہ داری ائمہ طاہرین علیہم السلام پر عائد کی گئی ہے چنانچہ ائمہ علیہم السلام نے اپنے اپنے عصری حالات کے پیش نظر یہ ذمہ داری بطور احسن نبہا دی اور اسلام ناب محمدی کی ترویج میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہيں کیا۔

     ائمہ علیہم السلام کی ذمہ داری تھی کہ لوگوں کے عقائد کو انحرافات اور ضلالتوں سے باز رکھیں اور حقیقی اسلام کو واضح کریں چنانچہ امام علی النقی الہادی علیہ السلام کو بھی اپنے زمانے میں مختلف قسم کے انحرافات کا سامنا کرنا پڑا اور انحرافات اور گمراہیوں کا مقابلہ کیا۔

    فضائل و کمالات

    امام علیہ السلام معتمد عباسی پر بہت گراں گذر رہے تھے چونکہ امام اسلامی معاشرہ میں عظیم مرتبہ پر فائز تھے جب امامؑ  کے فضائل شائع ہوئے تو اس کو امام ؑسے حسد ہو گیا اور مختلف مکاتب فکر کے افراد اُن کی علمی صلاحیتوں اور دین سے اُن کی والہانہ محبت کے سلسلہ میں گفتگو کرتے تو وہ اور جلتا آخر کار اُس نے امام علیہ السلام کو زہر ہلاہل دیدیا۔

    امام علیہ السلام ائمہ ہدیٰ کی دسویں کڑی ہیں آپ محافظ اسلام اور تقوی وایمان کے ستاروں میں سے ہیں ،آپ نے طاغوتی عباسی حکمرانوں کے سامنے حق کی آوازبلندکی،اورآپ نے اپنی زندگی کے ایک لمحہ میں بھی ایسی چیز قبول نہیں کی جس کاحق سے اتصال نہ ہو،آپ نے ہرچیزمیں اللہ کی اطاعت کی نشاندہی کرائی۔

    امام ہادی ؑ کی سیرت اوراخلاق وکمالات وہی تھے جو اس سلسلئہ عصمت کے ہر فرد کےہیں  آپ نے اپنے دور میں امتیازی طور پر مشاہدہ میں آتے رہے تھے ۔ قید خانے اور نظر بندی کاعالم ہو یا آزادی کا زمانہ ہر وقت اور ہر حال میں یاد الٰہی , عبادت , خلق خدا سے استغنا، ثبات قدم , صبر واستقلال ، مصائب کے ہجوم میں ماتھے پر شکن نہ ہونا دشمنوں کے ساتھ بھی حلم ومرّوت سے کام لینا ,محتاجوں اور ضرورت مندوں کی امداد کرنا یہی اوصاف ہیں جو امام علی نقی علیہ السّلام کی سیرت زندگی میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں ۔

     قید کے زمانہ میں جہاں بھی آپ  رہے آپ  کے مصلے کے سامنے ایک قبر کھودی ہوئی تیار رہتی تھی ۔ دیکھنے والوں نے جب اس پر حیرت ودھشت کا اظہار کیا تو آپ  نے فرمایا میں اپنے دل میں موت کا خیال قائم رکھنے کے لیے یہ قبر اپنی نگاہوں کے سامنے تیار رکھتا ہوں ۔ حقیقت میں یہ ظالم طاقت کو اس کے باطل مطالبہ اطاعت اور اس کے حقیقی تعلیمات کی نشر و اشاعت کے ترک کردینے کی خواہش کا ایک خاموش اور عملی جواب تھا۔

    یعنی زیادہ سے زیادہ سلاطین وقت کے ہاتھ میں جو کچھ  ہے وہ جان کا لے لینا مگر جو شخص موت کے لیے اتنا تیار ہو کہ ہر وقت کھودی ہوئی قبر اپنے سامنے رکھے وہ ظالم حکومت سے ڈر کر سرتسلیم خم کرنے پر کیونکر مجبور کیا جا سکتا ہے مگر اس کے ساتھ دنیوی سازشوں میں شرکت یا حکومت وقت کے خلاف کسی بے محل اقدام کی تیاری سے آپ  کا دامن اس طرح بری رہا کہ دار سلطنت کے اندر مستقل قیام اور حکومت کے سخت ترین جاسوسی نظام کے باوجود کبھی آپ  کے خلاف کوئی الزام صحیح ثابت نہیں ہوسکا اور کبھی سلاطین وقت کو آپ  کے خلاف کوئی دلیل تشدد کے جواز کی نہ مل سکی باوجود یہ کہ سلطنت عباسیہ کی بنیادیں اس وقت اتنی کھوکھلی ہورہی تھیں کہ دارالسلطنت میں ہر روز ایک نئی سازش کا فتنہ کھڑا ہوتا رہتا تھا۔

    زیارت جامعه

    حضرت امام محمد تقی علیه السلام کے زمانے میں اعتقادی لحاظ سے مختلف فرقے وجود میں آرهے تھے اور مختلف قسم کی غلط افکار اور عقائد نے بهت ساروں کو بهکا دیا تھا خصوصا اهلبیت علیهم السلام کے بارے میں بهت سارے افراط وتفریط کے شکار هو گئے تھے کچھ لوگ بغض اهلبیت میں حد سے گزر چکے تھے تو کچھ نادان دوست بھی اهل بیتؑ کو خدایی درجه تک لے جاکر غلو کا شکار هو گئے تھے ایسے میں امام علیه السلام نے  عالیة المضامین زیارت،زیارت جامعه کی تعلیم دی که اس میں تمام شبهات کے جواب موجود هیں ایک طرف اهلبیت علیهم السلام کی کما هو حقه صفات اور فضائل بیان کر دئے هیں تو ایک طرف یهی زیارت غالیوں کے منه پر ایک طمانچه کی  حیثیت رکھتی هے۔