زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ) ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    انتہا پسندی اور تکفیریت کے خلاف بین الاقوامی کانفرنس کاآغاز

     انتہا پسندی اور تکفیریت کے خلاف  بین الاقوامی کانفرنس کاآغاز

    آیت الله مکارم: داعش نه «حکومت» ہے اورنه «اسلامی»/آیت اللہ جنتی: ثقافتی کاموں کے ذریعے تکفیریوں کا مقابلہ کیا جائے۔/ ابراهیم جعفری: داعش نے اسلام کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کیا…………..

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تکفیریت کا ہر وار مسلمانوں پر ہی پڑتا ہے۔ تکفیری عناصر مسلمانوں ہی کو بموں اور گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تمام تر دہشت گردی کا ہدف مسلمان بنے ہوئے ہیں۔

    بہت سے ممالک جیسے۔ پاکستان، عراق، شام، انتہا پسندوں، دہشت گردوں اور تکفیریوں کے ہاتهوں لہو لہان ہے۔ ان ملکوں کی معیشت ان عناصر سے گہرے زخم کها چکی ہے۔ خوف اور وحشت کے سائے پورے ممالک پر منڈلا رہے ہیں اس کی مثال ماضی کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔

    اس کانفرنس میں دنیا کے 83 ممالک کے شیعہ اور سنی علماء اور دانشور شریک ہیں تھے ۔ جس کےداعی اور میزبان عالم تشیع کے نامور مرجع آیت اللہ العظمٰی شیخ ناصر مکارم شیرازی ہیں۔ یہ کانفرنس عالم اسلام کی پوری تاریخ میں اپنی نوعیت کا ممتاز علمائے کرام کا ایک منفرد علمی اجتماع ہوگا۔ دنیا بھر کے مختلف مکاتب فکر کے اسلامی دانشور اور علماء کسی ایک موضوع پر غور و فکر اور لائحہ عمل طے کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہوں۔ انهوں نے بتایا کہ کانفرنس میں تکفیری تنظیموں، اداروں اور تکفیریت کی کوششوں کی حقیقت و ماہیت کا جائزہ لیا جائے گا، تکفیریوں کے عقائد کا بهی تجزیہ کیا جائے گا، تکفیریوں کی روش اور طریق کار پر بهی غور کیا جائے گا، نیز اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ تکفیریت اور تکفیریوں کا مقابلہ کس طرح سے کیا جائے۔

    آیت الله العظمی جعفر سبحانی کہ جو کانفرنس کی علمی نگرانی بھی فرمارہے تھے،انہوں نے اپنے بیان کے آغاز میں شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے انکا شکریہ ادا کیا ۔

    کیا۔انہوں نے مسئلۂ تکفیریت کو ایک مذموم اور اسلامی قواعد و اصول کے مخالف عمل بتاتے ہوئےکہا: تکفیریت ایک بلا، مصیبت اور ایسی بیماری ہے جس نے مسلمانوں کے درمیان سر اٹھایا ہے۔اس بیماری کا علاج کیا ہے؟
    انہوں نے تکفیریت سے مقابلے کے لئے مقالات اورفتاویٰ کو ناکافی بتاتے ہوئے کہا:ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس عنصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ایک لایحۂ عمل پیش کریں۔اسی بنا پر میں تکفیریت سے مقابلے کے لئے کچھ تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں۔
    آیۃ اللہ سبحانی نے اسلامی ممالک کے باشندوں کو میڈیا اور منبروں کے ذریعہ تکفیریت کے خطرات سے آگاہ کئے جانے کو،اپنی پہلی تجویز کے طور پر پیش کیا اور فرمایا:اگر کوئی منکر (برائی) سماج میں پایا جا رہا ہے تو ہمیں اسکے خلاف کھڑے ہونا چاہئے۔آجکل وہ اہل قبلہ جو نماز پڑھتے ہیں اور حج بجا لاتے ہیں،انہیں کافر قرار دینا،سب سے بڑا منکر ہے۔اس لئے کہ اسکی بنا پر ایک مسلمان بھائی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو شر پسند سمجھ کر قتل کر دیتا ہے،جب کہ ضرورت اس بات کی ہے صہیونیت کو شرپسند سمجھا جائے۔
    حقیقی اسلام کی ثقافت عام کرنے کو حوزہ علمیہ قم کے ممتاز مدرس نے اپنی دوسری تجویز کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا:اسلامی ثقافت تمام انسانوں کو محبت و برادری کی دعوت دیتی ہے۔اس ثقافت کے مطابق مسلمانوں کا خون محترم ہے۔ مگر اسکے برخلاف تکفیری فتنے نے اپنے جرائم کے نتیجہ میں اسلامی تصویر کو اس طرح مکدر بنا دیا گویا کہ اسلام ایک خونخوار دین ہے۔
    آیۃ اللہ سبحانی نے "علماء کے باہمی اجلاس کے انعقاد" کو بھی تجویز کے طور پر پیش کیا اور اسے تکفیریت کے خاتمہ کے لئے ایک اور علاج بتاتے ہوئے کہا:اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے اس قسم کے کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ یہ کانفرنسیں ہر قسم کے انفرادی رجحان اور نفسانی خواہشات سے دور رہیں تاکہ اس کے ذریعہ علماء اسلام آپس میں ایک دوسرے سے رابطے میں رہ سکیں۔اس کانفرنس میں بہت سے علماء تشریف لائے ہیں جو اپنے ملک واپسی پر وہاں کے باشندوں کو این مسائل کے خطرات سے آگاہ کریں گے۔اس اجلاس میں شریک ہونے والے عملاء کو چاہئے کہ تکفیریت مخالف مطالب و مضامین کو میڈیا کے حوالہ کریں تاکہ وہ انہیں ملک کے جوانوں اور دیگر افراد تک پہونچائے اور اس طرح ان گمراہ کن مسائل کا مقابلہ کیا جائے کہ جو تکفیری فتنہ پرور میڈیا کے ذریعہ لوگوں تک پہونچا رہے ہیں۔
    کانفرنس کے علمی نگراں نے مذاہب اسلامی کے بنیادی مآخذ کی طرف رجوع کو اپنی چوتھی تجویز کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا:اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمانوں کے درمیان فقہی اور اعتقادی اعتبار سے نظریاتی اختلاف پایا جاتا ہے اور ہرمذہب کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں۔ لیکن اگر ہم کسی ایک مذہب سے آشنا ہونا چاہتے ہیں تو اسکے لئے لازم ہے کہ ہم اسکے بنیادی مآخذ و مصادر کی طرف رجوع کریں،وہ مصادر جو اس مذہب کے عظیم علماء کے ذریعہ تالیف کئے گئے ہیں۔ہم لوگوں کے ایک دوسرے سے دور ہونے کا ایک راز یہ بھی ہے کہ ہم مذاہب کی بنیادی کتب اور مآخذ کی طرف رجوع نہیں کرتے۔اس سلسلہ میں ہمیں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔
    تعلیمی نصاب کو تکفیری رجحانات اور ورغلانے والے مطالب و مفاہیم سے عاری کرنے کو آپ نے تکفیریت سے مقابلہ کا ایک اور طریقہ کار بتایا اور فرمایا:بعض ملکوں کے پرائمری اور ہائی اسکولوں کے نصاب میں فتنہ پیدا کرنے والے مطالب موجود ہیں۔ان ممالک کے دینی مدارس کی کتب میں ہم دیکھتے ہیں کہ لکھا ہوا ہے:"گزشتہ لوگوں کا شرک دور حاضر کے شرک کی ننسبت کم تھا!"
    بعض ممالک کی تعلیمی کتب میں لکھا جاتا ہے کہ "انبیاء سے توسل کرنا شرک ہے"۔وزارتیں اور نگراں ادارے بھی فتنہ پیدا کرنے والے اس قسم کے مطالب کو چھپنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری نئی نسل ان گمراہ کن مطالب سے متأثر ہوتی ہے اور پھر دھشتگردی کا سلسلہ اسی طرح قائم رہتا ہے۔
    تکفیریت کو وجود میں لانے والے محرکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایمان، کفر، توحید، شرک اور بدعت جیسے الفاظ سے غلظ مفہوم سمجھنے سے تکفیری افکار وجود میں آئے ہیں۔انہوں نے ان پانچ موضوعات پر کانفرنسوں کے انعقاد کو اپنی آخری تجویز کے طور پر پیش کیا اور فرمایا:یہ کام بہت ضروری ہے۔اس لئے کہ تکفیری فتنہ کے سرکردہ افراد مشرکین کے لئے نازل ہونے والی آیات کو اہل قبلہ مسلمین کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جس کے سربراہ حجۃ الاسلام ڈاکٹر علی زادہ موسوی تھے۔
     
    اس کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ اگر ہم قرآن اور محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ پر چلیں تو پوری امت متحد ہوجائے گی، امت کے اتحاد سے ہی ہر سازش ناکام ہوگی، اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ ضروری ہے کہ اغیار کو باور کرایا جائے کہ اسلام کا پیغام رحمت ہے اور یہ دین پوری انسانیت کی فلاح کے لئے آیا ہے۔ عالم اسلام میں عموماً اور پاکستان میں خصوصاً فرقہ واریت دہشت گردی کے روپ میں نت نئے مسائل پیدا کر رہی ہے ۔ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کا رجحان انتہا پسندی کا ذریعہ بن رہا ہے، اس لئے عالم اسلام کی معتبر دینی شخصیات، دینی جماعتیں، اسلامی تحریکیں اس فتنہ کے تدارک کے لئے اور امت کے انتشار کے خاتمے کے لئے متحد ہوجائیں۔ دل آزار، نفرت آمیز، اشتعال انگیز نعروں اور جذبات سے مکمل احتراز کیا جائے، تمام مسالک کے اکابرین کا احترام کیا جائے اور ایسی ہر تقریر و تحریر سے گریز کیا جائے جو کسی بھی مکتب فکر کی دل آزاری اور اشتعال کا باعث بن سکتی ہے۔

    اس کانفرنس کے داعی اور میزبان عالم تشیع کے نامور مرجع آیت اللہ العظمٰی شیخ ناصر مکارم شیرازی ہیں۔ یہ ایک غیر سیاسی اور خالص علمی کانفرنس ہے، جس میں 83 ممالک سے ممتاز علمائے اسلام شرکت کر رہے ہیں۔ اس میں پاکستان سے شریک ہونے والے علماء میں صاحبزادہ ابوالخیر زبیر (صدر ملی یکجہتی کونسل و جمعیت علمائے پاکستان)، علامہ سید ساجد علی نقوی (سینیئر نائب صدر ملی یکجہتی کونسل و سربراہ اسلامی تحریک پاکستان)، مولانا محمد خان شیرانی(چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل)، علامہ ناصر عباس جعفری(سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین)، سینیٹر مولانا گل نصیب (صوبائی امیر، خیبرپختونخوا، جمعیت علمائے اسلام)، علامہ محمد امین شہیدی (ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین)، مولانا عطاء الرحمن (جمعیت علمائے اسلام)، مولانا مفتی گلزار احمد نعیمی (سربراہ جماعت اہل حرم) اور راقم (ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل) شامل ہیں۔

    کانفرنس کے ترجمان حجۃ الاسلام ڈاکٹر علی زادہ موسوی کے مطابق اس کانفرنس میں پورے عالم اسلام سے 300 سے زیادہ علماء اور مفتیان کرام شریک ہو رہے ہیں۔ ان علمائے کرام کا تعلق مختلف اسلامی مکاتب فکر سے ہے۔ علاوہ ازیں ایران کے طول و عرض سے بھی سنی اور شیعہ علمائے کرام کانفرنس میں موجود ہوں گے۔ کانفرنس کے لئے 700 مقالات پوری دنیا سے موصول ہوچکے ہیں۔ ان کے علاوہ 1000 کے قریب مقالات کا خلاصہ بھی کانفرنس کے مرکز تک پہنچ چکا ہے۔ کانفرنس کے ذمے دار علمائے کرام نے موضوع کی مناسبت سے 35 کتب تیار کی ہیں جو شرکاء کو پیش کی جائیں گی۔ ان کتب میں عالم اسلام کے جید علماء کرام کے افکار و نظریات شامل کئے گئے ہیں۔ بعض اکابر علماء کی تصنیفات کو بھی نئے سرے سے شائع کیا گیا ہے۔

    تقریب مذاہب اسلامی کے عالمی مرکز کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ محسن اراکی کے مطابق یہ کانفرنس عالم اسلام کی پوری تاریخ میں اپنی نوعیت کا ممتاز علمائے کرام کا ایک منفرد علمی اجتماع ہوگا۔ اس کی مثال ماضی کی تاریخ میں نہیں ملتی کہ دنیا بھر کے مختلف مکاتب فکر کے اسلامی دانشور اور علماء کسی ایک موضوع پر غور و فکر اور لائحہ عمل طے کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ کانفرنس میں تکفیری تنظیموں، اداروں اور تکفیریت کی کوششوں کی حقیقت و ماہیت کا جائزہ لیا جائے گا، تکفیریوں کے عقائد کا بھی تجزیہ کیا جائے گا، تکفیریوں کی روش اور طریق کار پر بھی غور کیا جائے گا، نیز اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ تکفیریت اور تکفیریوں کا مقابلہ کس طرح سے کیا جائے۔

    آیت اللہ اراکی کا کہنا تھا کہ عصر حاضر میں جس پیمانے پر تکفیریت پوری طاقت اور لاؤلشکر کے ساتھ سامنے آئی ہے اور جس طرح سے اسے بعض حکومتوں اور استعماری طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہوچکی ہے، اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا بہت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام پوری دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا دین بن چکا ہے اور اسلام دشمنوں کے لئے یہ امر بہت تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ خاص طور پر مغرب میں اسلام کی مقبولیت دیگر تمام ادیان کی نسبت زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ مغرب پر حاکم طاقتیں اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اپنے لئے خطرہ تصور کرنے لگی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مشرق وسطٰی میں خاص طور پر اسلام کی طرف مسلمانوں کی بازگشت اور بڑھتی ہوئی اسلامی بیداری نے صہیونی حکومت کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ اس لئے وہ اسلامی بیداری کو اپنے اصل ہدف سے منحرف کرنے کے لئے طرح طرح کی سازشیں کر رہی ہے۔ اسلام دشمنوں کے لئے اسلام کی مقبولیت اور اسلام کے اثر و رسوخ کو روکنے کا سب سے آسان نسخہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانا اور مختلف مسالک کی بنیاد پر انھیں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا کرنا ہے۔ تکفیریت عصر حاضر میں اسلام دشمن عناصر کے ان مقاصد کو پورا کر رہی ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تکفیریت کا ہر وار مسلمانوں پر ہی پڑتا ہے۔ تکفیری عناصر مسلمانوں ہی کو بموں اور گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تمام تر دہشت گردی کا ہدف مسلمان بنے ہوئے ہیں۔ مسلمان علماء محفوظ ہیں نہ عوام۔ یہی نہیں بلکہ اسلامی شعائر اور اسلام کے نام پر قائم شدہ مراکز کو بھی تکفیری عناصر تباہ کر رہے ہیں۔ صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؑ کے مزارات بھی ان سے محفوظ نہیں۔ دنیا بھر میں اولیاء، عرفاء اور صوفیاء کے مزارات پر بھی تکفیریوں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
    پاکستان کی سرزمین بھی انتہا پسندوں، دہشت گردوں اور تکفیریوں کے ہاتھوں لہو لہان ہے۔ پاکستان کی معیشت ان عناصر سے گہرے زخم کھا چکی ہے۔ خوف اور وحشت کے سائے پورے پاکستان پر منڈلا رہے ہیں۔ اپنے ہی ملک میں لاکھوں عوام پناہ گزینوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مذہبی اجتماعات محفوظ ہیں اور نہ مذہبی تقریبات۔

    سوشل میڈیا کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھیں تو ان عناصر نے نفرتوں کی آگ بھڑکا رکھی ہے۔ ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین کا سلسلہ جاری ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ انتہا پسند عناصر آج تقریباً تمام مسالک میں پائے جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اسلحے کی قوت سب کے پاس موجود نہ ہو، لیکن اس میں شک نہیں کہ نفرتوں اور عداوتوں کی آگ بھڑکانے کا ہنر سب نے سیکھ رکھا ہے۔ کم و بیش یہی صورت حال دیگر کئی مسلمان ملکوں میں دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں درد مند اور امت کے لئے سوزدل رکھنے والے علمائے کرام اور دانشوروں کا کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اور اس صورت حال پر غور و فکر کرکے اس کے ازالے کی تدبیر کرنا حوصلہ افزا پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ کانفرنس کے داعی آیت اللہ العظمٰی مکارم شیرازی نے بجا طور پر کہا ہے کہ تمام اسلامی مکاتب فکر میں انتہاء پسندی کا خاتمہ ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس انتہا پسندی کی وجہ سے عالم اسلام داخلی اختلافات اور جنگوں میں مبتلا ہوچکا ہے۔ اس لئے تمام علمائے اسلام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس انتہا پسندی کو روکنے کی کوشش کریں۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی ذمہ دار علمائے کرام اس صورت حال کی طرف متوجہ ہیں اور وہ انتہا پسندی اور تکفیریت کی روک تھام کے لئے ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام اپنا کردار ایک تسلسل کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں قومی اور مقامی سطح پر اتحاد امت کے حوالے سے کئی ایک کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کئے جاچکے ہیں۔ ایک عالمی اتحاد امت سیمینار اپریل 2014ء میں بھی منعقد کیا گیا تھا، جس کی سرپرستی آیت اللہ العظمٰی شیخ ناصر مکارم شیرازی نے کی تھی اور کانفرنس میں خاص طور اپنا ایک وفد بھی بھیجا تھا، جس کے سربراہ حجۃ الاسلام ڈاکٹر علی زادہ موسوی تھے۔

    اس کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ اگر ہم قرآن اور محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ پر چلیں تو پوری امت متحد ہوجائے گی، امت کے اتحاد سے ہی ہر سازش ناکام ہوگی، اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ ضروری ہے کہ اغیار کو باور کرایا جائے کہ اسلام کا پیغام رحمت ہے اور یہ دین پوری انسانیت کی فلاح کے لئے آیا ہے۔ عالم اسلام میں عموماً اور پاکستان میں خصوصاً فرقہ واریت دہشت گردی کے روپ میں نت نئے مسائل پیدا کر رہی ہے ۔ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کا رجحان انتہا پسندی کا ذریعہ بن رہا ہے، اس لئے عالم اسلام کی معتبر دینی شخصیات، دینی جماعتیں، اسلامی تحریکیں اس فتنہ کے تدارک کے لئے اور امت کے انتشار کے خاتمے کے لئے متحد ہوجائیں۔ دل آزار، نفرت آمیز، اشتعال انگیز نعروں اور جذبات سے مکمل احتراز کیا جائے، تمام مسالک کے اکابرین کا احترام کیا جائے اور ایسی ہر تقریر و تحریر سے گریز کیا جائے جو کسی بھی مکتب فکر کی دل آزاری اور اشتعال کا باعث بن سکتی ہے۔

    ملی یکجہتی کونسل جس میں پاکستان کے تمام مسالک کے نمائندگان شریک ہیں، کی طرف سے نیز مذکورہ سیمینار کے تمام شرکاء کی تائید کے ساتھ منظور کئے جانے والے درج بالا اعلامیہ میں جس موقف کا اظہار کیا گیا ہے وہ 23 اور 24 نومبر کو قم المقدسہ میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس کے مقاصد سے پوری طرح سے ہم آہنگ ہے۔ نیز جو وفد پاکستان سے اس کانفرنس میں شریک ہو رہا ہے اس میں شامل بیشتر علمائے کرام مذکورہ سیمینار میں بھی موجود تھے۔ اس پس منظر میں ہم توقع کرتے ہیں کہ پاکستان سے شریک ہونے والے علمائے کرام عالمی سطح پر ایک اسلامی موقف تک پہنچنے میں اپنے تجربات کی روشنی میں بہت اہم کردار ادا کریں گے اور ان کی کوششوں کا پاکستان اور عالم اسلام پر بہتر اثر پڑے گا۔

    واضح رہے کہ "علماء اسلام کے نقطۂ نظر سے انتہا پسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرس" عنوان کے تحت ۲۳ اور ۲۴ نومبر کو قم میں دو روزہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس آیۃ اللہ مکارم شیرازی اور آیۃ اللہ جعفر سبحانی کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔اس کانفرنس کے انعقاد میں ،اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی،اتحاد بین المذاہب اسلامی کی عالمی اسمبلی،ایران کے حوزات علمیہ کی مدیریت، دار الاعلام فاؤنڈیشن، اور المصطفیٰ(ص) انٹرنیشنل یونیورسٹی کا تعاون حاصل رہا۔اس کانفرنس کا مقصد یہ تھا کہ تکفیریت کی ماہیت،اسکے اہداف اور خطرات بیان ہوں اور ساتھ ہی اس فتنے سے نجات حاصل کرنے کی راہوں پر غور و خوض کیا جائے۔