زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺ کی رحلت کےموقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • 18ذی الحجہ(1439ھ)عید غدیرتاج پوشی امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1439ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمدباقر علیه السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیه السلام کےموقع پر
  • 11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1439ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر
  • 25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۱رمضان(1439ھ) امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 15رمضان(1439ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • سالانہ "تین روزہ مجالس"حسینی کاانعقاد
  • 15شعبان(1439ھ)ولادت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کےموقع پر
  • 11 شعبان (1439ھ) ولادت حضرت علی اکبرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 5شعبان(1439ھ)ولادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • 4 شعبان (1439ھ) ولادت حضرت عباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    بیت المقدس کےمتعلق ٹرمپ کےاعلان پرسید عادل علوی کامذمتی بیان

    "بسم الله قاصم الجبّارين مبيد الظالمين"

    "والحمد لله ربّ العالمين وصلّى الله على محمد خاتم النبيين وآله الطاهرين وأصحابه المنتجبين"

    خداوندحکیم قرآن کریم میں ارشاد فرماتاہے:کہ"وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ" اورعنقریب ظالموں کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس جگہ پلٹادئے جائیں گے۔

    اسی طرح خداوند عالم کا ارشاد ہے۔"إِنَّ الأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ"  بیشک زمین کا مالک اللہ ہے  اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے۔

    پیغمبراسلام ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔"من أصبح ولم يهتّم بأمور المسلمين فليس بمسلم"جو کوئی بھی   مسلمانوں کے معاملات کی پرواہ کیے بغیر صبح کرتاہے  وہ مسلمان نہیں۔

    اس میں کوئی شک  نہیں کہ بتحقیق  مسلمان ایک ہی جسم کا حصہ ہے اور مسلمان ایک کنگی کے دانتوں کی طرح ہے جب جسم کے کسی بھی عضومیں درد ہوجائے تو پوراجسم کانپنے لگ جاتاہے ۔

    آج، فلسطینی مسلمان ان پر ہونے والے مصائب اور نا انصافی سے پریشان ہے۔مسجد اقصی مسلمانوں کاقبلہ اول پر ناانصافی پر مبنی فیصلہ کرنافلسطین اور فلسطینیوں  کے وقار اور انسانیت کی تباہی ہے ۔

    اسلامی عرب ممالک  بلکہ ساری  دنیا یہ جان لیں! کہ امریکہ کی حکومتیں   طویل عرصے سے "سرطانی غدہ " اسرائیل غاصب  کی مطلق طور پر یعنی   مادی،معاشی ، سیاسی اور اخلاقی طور پر  حمایت کرتا ہے۔ ان کا ظلم وستم مظلوم فلسطینیوں پر سب سے پہلےہے  اور پھر تمام  مسلمان اور عرب ممالک پر لیکن امریکی نیاصدر (ٹرمپ) کے دور میں  ظلم وناانصافی بہت ہی زیادہ ہے۔

    حالانکہ  اسرائیل غاصب  کی  ظالمانہ حکمرانی کے آغاز سے قبل صہیونی دہشت گردی کے خلاف امریکی  سابق صدر نے اپنی حمایت ختم کردی تھی ۔اب جب انکے نزدیک  اسرائیل طاقتور ریاست بن گیا تو حمایت کرنا شروع کیا ۔ اور امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان  کیا ۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد فلسطین سمیت تمام اسلامی ممالک میں سخت بے چینی اور اشتعال پایا جاتا ہے۔ ٹرمپ کے یک طرفہ اعلان کی دنیا کے تمام بڑے ملکوں نے مخالفت کرتے ہوئے،عالمی لیڈروں نے ٹرمپ کے فیصلے کو غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

    پس ہرمسلمان مردعورت اورمسلمان ممالک اورآزادی خواہاں عالم پرفرض بنتاہے  کہ ایک مسلمان ہونے کاثبوت دیتے ہوئے  مظلوم فلسطینوں کی مددکیلئے ہرممکن کوشش بروئے کارلائے ۔اورٹرمپ کے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائےاور ان کے خلاف جتنے بھی مظاہرے کیے جائیں کم ہے۔

    کلمہ حق کو بلند کرنے ، مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کو حاصل کرنے اور   بیت  المقدس و مسجد اقصیٰ  کی حرمت کو  بچانے کیلئے اگر ضرورت پڑے تو ہم اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر دیتے ہیں۔ اور  پوری قوت اور استقامت کے ساتھ  دشمن خدا  کے خلا ف  ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

    "وسيعلم الذين ظلموا أي منقلب ينقلبون والعاقبة للمتقين، والقدس لنا، والنّصر لنا، أليس الصّبح بقريب، نصر من الله وفتح قريب وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين"

    عادل بن سيد علي علوي

    حوزة علمیہ ـ قم المقدسة