زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺ کی رحلت کےموقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • 18ذی الحجہ(1439ھ)عید غدیرتاج پوشی امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1439ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمدباقر علیه السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیه السلام کےموقع پر
  • 11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1439ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر
  • 25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۱رمضان(1439ھ) امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 15رمضان(1439ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • سالانہ "تین روزہ مجالس"حسینی کاانعقاد
  • 15شعبان(1439ھ)ولادت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کےموقع پر
  • 11 شعبان (1439ھ) ولادت حضرت علی اکبرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 5شعبان(1439ھ)ولادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • 4 شعبان (1439ھ) ولادت حضرت عباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    20جمادی الثانی(1439ھ)ولادت حضرت زہراسلام اللہ علیہاکےموقع پر

    20جمادی الثانی(1439ھ)ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر

    آپ کی ولادت

    آپ کی پیدائش کے بارے میں روایات میں ملتا ہے کہ انعقاد نطفہ سے پہلے ہی حضرت ختمی مرتبت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خداوند تبارک و تعالی کی طرف سے حکم ہوا کہ چالیس دن تک حضرت خدیجہ سے دوری اختیار کریں اور ان چالیس دنوں کو شب و روز عبادت میں گزاریں۔ آپ ان دنوں دن کو روزہ رکھتے اور رات کو خدا سے راز و نیاز میں مصروف رہتے۔ چالیسویں دن جبرئیل تشریف لائے اور اپنے ساتھ بہشتی کھانا لائے اور فرمایا کہ خداوند آپ کو جنت کے تحفے (حضرت زھرا سلام اللہ علیھا) کی خوش خبری دیتا ہے۔

    حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے جب حضرت فاطمہ سلام اللہ کی ولادت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "جب حضرت خدیجہ نے حضرت محمد( ص )سے شادی کی تو مکے کی خواتین نے حضرت خدیجہ س سے میل جول بند کر دیا اور وہ بالکل تنہا ہو کر رہ گئیں۔

    یہ چیز پیغمبر اکرم (ص) کیلئے بھی پریشانی کا باعث تھی۔ لیکن جب وہ حاملہ ہو گئیں تو اسی غم اور پریشانی میں ایک دن پیغمبر اکرم (ص)گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہ کی باتوں کی آواز سنی۔ آپ (ص) نے حضرت خدیجہ س سے پوچھا کہ کس سے باتیں کرنے میں مصروف تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: "میرے پیٹ میں بچہ مجھ سے باتیں کرتا ہے"۔ پیغمبر اکرم (ص) نے خوش خبری سنائی کہ یہ بچہ لڑکی ہے جس سے میری نسل اور نسل امامت چلے گی ۔

    حضرت فاطمہ(س)شکل و صورت میں پیغمبر اکرم( ص) سے بہت زیادہ شباہت رکھتی تھیں اور انکا چلنا پھرنا اور بات چیت کرنا بھی نبی اکرم )ص(سے ملتا جلتا تھا۔ حضرت فاطمہ )س( کی عمر چھوٹی تھی جب شعب ابی طالب کا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ ۷ہجری میں پیش آیا۔ اس چھوٹی سی عمر میں بھی آپ )س( پیغمبر اکرم ص کے ساتھ تھیں اور وہ تمام مشکلات برداشت کرتی تھیں۔ شعب ابی طالب کا محاصرہ ختم ہونے کے بعد ابھی آپ کی عمر ۵ برس ہی تھی کہ آپ کی والدہ حضرت خدیجہ کا انتقال ہو گیا۔ اسکے بعد ان تمام مصیبتوں کی شاہد تھیں جو مشرکین مکہ آپ کے والد پر لاتے تھے۔ ان تمام مواقع پر آپ س اپنے والد سے اظہار ہمدردی کرتیں اور انکی دیکھ بھال کرتیں۔ اسی محبت اور احساس مسئولیت کی وجہ سے آپ "ام ابیہا" کے لقب سے مشہور ہو گئیں۔ آپ انہی سختیوں اور پریشانیوں میں بڑی ہوتی رہیں۔ جب آپ کی عمر مبارک ۱۰ سال ہوئی تو مختلف افراد پیغمبر اکرم) ص( کے پاس آپ سے شادی کی درخواست لے کر آئے لیکن آپ سب کو یہی کہتے تھے کہ فاطمہ کی شادی کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اسی دوران حضرت علی )ع (نے بھی حضرت فاطمہ سے شادی کی درخواست کی۔ آپ) ص( بہت خوش ہوئے اورحضرت فاطمہ )س( سے مشورے کے بعد اپنی رضامندی کا اظہار کر دیا۔

    آپ کی  عبادت:

    حضرت فاطمہ) س( کو خدا کے ساتھ والہانہ محبت تھی جسکا اثر آپ کی عبادت میں ظاہر ہوتا تھا۔ حسن بصری جو کہ اہل بیت علیھم السلام کے چاہنے والوں میں سے تھے لکھتے ہیں: "اس امت میں فاطمہ (س)سے زیادہ عبادت گزار کوئی نہ تھا۔ آپ اس قدر عبادت کیلئے کھڑی ہوتیں کہ آپکے پاوں پر ورم آ جاتے"۔ لیکن اسکے باوجود آپ کی خانہ داری پر کوئی خلل نہیں پڑتا تھا اور آپ بھرپور انداز میں گھر کے کام اور شوہرداری اور بچہ داری میں مصروف رہتی تھیں۔ آپ رات کے اکثر حصے کو عبادت میں گزارتی تھیں۔

    حضرت فاطمہ(س)کی فضیلت اور عظمت صرف اہل تشیع تک محدود نہیں بلکہ اسلام سے تعلق رکھنے والے ہر متفکر اور دانشمند فرد نے آپ سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ ایک مصری ادیب عباس محمود عقاد لکھتے ہیں: "ہر دین میں ایک مکمل عملی نمونہ اور مقدس خاتون موجود ہے جسکے تقدس سے مومنین درس لیتے ہیں اور اسکی حیثیت لوگوں میں خدا کی نشانی کے طور پر ہوتی ہے۔ اگر مسیحیت میں یہ خاتون حضرت مریم کی صورت میں موجود ہے تو اسلام میں حضرت فاطمہ (س) کی مقدس ہستی کے روپ میں ہے"۔

    آپ کی شادی

    ابن سعد لکھتے ہیں: "جب پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت فاطمہ(س) کے رشتے کیلئِے آنے والے افراد کو منفی جواب دے دیا تو انہی میں سے ایک فرد نے حضرت علی (ع) سے کہا کہ آپ آنحضور( ص) کے پاس اس رشتے کیلئے جائیں۔ وہ پیغمبر اکرم(ص) کے پاس تشریف لے گئے۔ آنحضور ص نے پوچھا: اے پسر ابوطالب، کس لئے آئے ہو؟۔

    علی (ع) نے کہا: فاطمہ (س) کے رشتے کیلئے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے کہا: مرحبا و اھلا۔ اور اسکے علاوہ کچھ نہ کہا۔

    جب علی (ع) ان افراد کے پاس واپس گئے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟۔ آپ نے ان کو واقعہ بتایا۔ انہوں نے کہا: "یہی جملہ کافی ہے۔ پیغمبر (ص) نے آپ کو اپنے اہل دے دیئے"۔

    علامہ مجلسی "عیون اخبار الرضا" سے نقل کرتے ہیں: پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی (ع)کو کہا: "قریش کے کچھ مرد مجھ سے نالاں ہیں کہ میں نے فاطمہ (س) کا رشتہ انہیں کیوں نہ دیا۔ میں نے انہیں کہا کہ یہ کام خدا کے ارادے سے انجام پایا ہے۔ علی (ع)کے علاوہ کوئی فاطمہ (س) کی ہمسری کے لائق نہ تھا"۔

    شیخ طوسی( رہ )نے حضرت زھرا( س)کے جہیز کی فہرست یوں نقل کی ہے:

    ایک قمیص جسکی قیمت ۷ درھم تھی، سیاہ مقنع، کھجور کے پتوں سے بنی ایک چارپائی، دو لحاف جو بھیڑ کی اون سے پر تھے، چار سرہانے جو چمڑے کے تھے، تانبے کا برتن، لکڑی کا ایک پیالہ، پانی کی مشک، کچھ مٹی کے کوزے، اونٹ کے بالوں کا ایک پردہ، گندم پیسنے والی چکی، اور کچھ مزید چیزیں۔

    بچوں کی تربیت

    آپ(س)نے نہایت مختصروسائل کے ساتھ بچوں کی ایسی تربیت کی کہ انکی زندگی سب کیلئے درس آموز بن گئی۔ امام حسن (ع ) امام حسین (ع)حضرت زینب (س) اورام کلثوم(س)کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے انسان ہزاروں درس حاصل کر سکتا ہے۔ امام حسن (ع) سے روایت ہے کہ ایک رات میں جاگ رہا تھا۔ میری والدہ نماز شب پڑھنے میں مصروف تھیں۔ میں نے سنا کہ وہ صبح تک دوسروں کیلئے دعا کرتی رہیں اور اپنے لئے کوئی دعا نہیں کی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ (س) نے صرف دوسروں کیلئے دعا کیوں کی۔ انہوں نے جواب دیا کہ "دوسروں کو خود پر مقدم کرنا چاہیئے"۔ یہی تربیت تھی جس نے امام حسن (ع )اور امام حسین (ع) جیسے ایثار کا جذبہ رکھنے والے فرزندوں کو پروان چڑھایا۔ جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔