زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ) ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    یکم رجب(1439ھ)ولادت حضرت امام باقر علیہ السلام کےموقع پر

    حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام، رسول مقبول حضرت محمد مصطفٰےﷺکے  پانچویں جانشین اور سلسلہ عصمت كی ساتویں كڑی ہیں۔

     ولادت

    حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بتاریخ یکم رجب المرجب ۵۷ ھ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں:  کہ جب آپ بطن مادرمیں تشریف لائے تو آباؤ اجداد کی طرح آپ کے گھرمیں آوازغیب آنے لگی اورجب نوماہ کے ہوئے تو فرشتوں کی بے انتہا آوازیں آنے لگیں اورشب ولادت ایک نورساطع ہوا، ولادت کے بعد قبلہ رو ہو کرآسمان کی طرف رخ فرمایا،اور حمد خدا بجا لائے،ایک شبانہ روز دست مبارک سے نور ساطع رہا، آپ ختنہ کردہ ،ناف بریدہ، تمام آلائشوں سے پاک اورصاف متولد ہوئے۔ (جلاء العیون ص ۲۵۹) ۔

    نام و نسب

    آپ کا اسم گرامیلوح محفوظکے مطابق اورسرورکائنات کی تعیین کے موافقمحمدتھا۔ آپ کی کنیتابوجعفرتھی، اورآپ کے القاب کثیرتھے، جن میں باقر،شاکر،ہادی زیادہ مشہورہیں۔

    امام محمد باقر عليہ السلام اپنے والد کي جانب سے رسولِ خدا، علي مرتضيٰٴ اور فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہم کي اولادہونے کا اعزاز رکھتے ہي ہيں، مادرِ گرامي کي جانب سے بھي آپٴ ہاشمي، علوي اور فاطمي ہي ہيں کيونکہ آپ کي والدہ ماجدہ امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام کي بيٹي فاطمہ بنت حسنٴ تھيں۔

    جن کے بارے ميں امام جعفر صادقٴ نے فرمايا:میری دادي صديقہ تھيں کہ امام حسنٴ کي اولاد ميں سے کوئي بھي عورت ان کے مقام تک نہ پہنچ سکي۔ ‘‘ سلام و درود ہو اس عظيم خاندان کے فرزند، شجرِ عصمت کے ثمر امام محمد باقر عليہ السلام اور ان کے آبائے طاہرين پر۔

    باقر کی وجہ تسمیہ

    اللہ کے رسول(ص) نے جب جابر کو اپنے فرزند، محمدؑبن علیؑ کي زيارت کي بشارت دي تھي، اس وقت امام کو ’’باقر العلوم‘‘ کہہ کر پکارا تھا اور فرمايا تھا: ’’وہ علم کو پوري طرح شگافتہ کرے گا ‘‘ بے شک امام باقرؑتمام علوم کا دريائے ناپيدا کنار تھے۔ ايک ايسا چشمہ کہ جو جوش مارتا رہے اور علم کے پياسوں کو سيراب کرتا رہے۔

    علم و دانشِ امامٴ کا يہ جوش مارتا چشمہ صرف علم کے پياسے شيعوں کے لئے باعثِ سيرابي نہ تھا بلکہ امت مسلمہ کے تمام علماءکے لئے خوشگوار آبِ حيات تھا۔ آپٴ کا وجودِ پُربرکت مختلف اديان اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپني جانب مائل کر ليتا تھا اور ہر طرح کے لوگوں کو اپنے عظيم علمي مقام کے اعتراف پر مجبور کر ديتا تھا۔ چنانچہ اہلسنت کے مشہور مورخ ابن حجر ہيثمي اپني کتاب صواعق المحرقہ ميں آپٴ کي تعريف کرتے ہوئے لکھتے ہيں:

    ’’آپٴ علم کو شگافتہ کرنے والے اور اس کو جمع کرنے والے تھے۔ آپٴ کا عمل آپ کي پہچان تھا اور آپ کو بلند کرتا تھا۔ آپ کا دل پاک اور علم و عمل پاکيزہ تھا۔آپ ٴ عظيم اخلاق کے مالک اور اپنا وقت بندگيِ خدا ميں گذارتے تھے اور عرفاني مقامات ميں ايسے عظيم درجات پر فائز تھے کہ کسي کو اس کے بيان کا حوصلہ نہيں‘‘

    آپ کے بعض علمی ہدایات وارشادات

    علامہ محمدبن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جابرجعفی کابیان ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام سے ملاتوآپ نے فرمایا اے جابرمیں دنیا سے بالکل بے فکرہوں کیونکہ جس کے دل میں دین خالص ہووہ دنیاکوکچھ نہیں سمجھتا،اور تمہیں معلوم ہوناچاہئے کہ دنیاچھوڑی ہوئی سواری اتاراہواکپڑا اوراستعمال کی ہوئی عورت ہے مومن دنیاکی بقاسے مطمئن نہیں ہوتا اوراس کی دیکھی ہوئی چیزوں کی وجہ سے نورخدااس سے پوشیدہ نہیں ہوتا مومن کوتقوی اختیارکرناچاہئے کہ وہ ہروقت اسے متنبہ اوربیدارکھتاہے سنودنیاایک سرائے فانی ہے "نزلت بہ وارتحلت منہ" اس میں آناجانالگارہتاہے آج آئے اورکل گئے اوردنیاایک خواب ہے جوکمال کے ماننددیکھی جاتی ہے اورجب جاگ اٹھے توکچھ نہیں

    آپ نے فرمایا تکبربہت بری چیزہے ،یہ جس قدرانسان میں پیداہوگا اسی قدراس کی عقل گھٹے گی ،کمینے شخص کاحربہ گالیاں بکناہے ۔

    ایک عالم کی موت کوابلیس نوے عابدوں کے مرنے سے بہترسمجھتاہے ایک ہزارعابدسے وہ ایک عالم بہترہے جواپنے علم سے فائدہ پہنچارہاہو۔

    میرے ماننے والے وہ ہیں جواللہ کی اطاعت کریں آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے رونے والابخشاجاتاہے اورجس رخسارپر آنسوجاری ہوں وہ ذلیل نہیں ہوتا۔

    بدترین عیب یہ ہے کہ انسان کواپنی آنکھ کی شہتیردکھائی نہ دے،اور دوسرے کی آنکھ کاتنکانظرآئے ،یعنی اپنے بڑے گناہ کی پرواہ نہ ہو، اوردوسروں کے چھوٹے عیب اسے بڑے نظرآئیں اورخودعمل نہ کرے، صرف دوسروں کوتعلیم دے۔