زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ) ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    3شعبان(1439ھ)ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر

    ولادت باسعادت حضرت امام حسین علیہ السلام 

    دنیا میں کہيں دین کا پیغام نہ ہوتا            قرآن ووحی کعبہ و احرام نہ ہوتا                    

    شبیر کا تا حشر یہ احسان ہے لوگو            دیتے نہ اگر سر تو یہ اسلام نہ ہوتا

    ماہ رجب المرجب کی مانند ماہ شعبان المعظم بھی افق امامت و ولایت پر کئی آفتابوں اور ماہتابوں کے طلوع اور درخشندگی کا مہینہ ہے۔

    اس مہینے میں بوستان ہاشمی و مطلبی اور گلستان محمدی و علوی کے ایسے عطر پذیر و سرور انگیز پھول کھلے ہیں کہ ان کی مہک سے صدیاں گزرجانے کےبعد بھی مشام ایمان و ایقان معطر ہیں اور ان کی چمک سے سینکڑوں سال کی دوری کے باوجود قصر اسلام و قرآن کے بام و در روشن و منور ہیں ۔تین شعبان کو نواسۂ رسول امام حسین(ع)چارشعبان کو تمنائے علی و بتول حضرت عباس(ع)پانچ شعبان کوحسینی انقلاب کے پاسبان امام زین العابدین اور 15 شعبان المعظم کوحضرت بقیۃ اللہ الاعظم حجت حق امام مہدی موعود کی یوم ولادت ہے۔

    تین شعبان المعظم سنہ 4 ہجری کو رسول اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیارے نواسے امام حسین علیہ السلام کے نور وجود سے" مدینۃ النبی "کے بام و در روشن و منور ہوگئے ۔مرسل اعظم(ص)کی عظیم بیٹی حضرت فاطمہ زہرا (س) اور عظیم بھائی ،داماد اور جانشین علی ابن ابی طالب کے پاکیزہ گھر میں نسل نبوت و امامت کے ذمہ دار امام حسین(ع)کی آمد کی خبر سن کر پیغمبر اسلام(ع)کا دل شاد ہوگیا ،آنکھیں ماہ لقا کے دیدار کے لئے بیچین ہو اٹھیں ،فورا" بیٹی کے حجرے میں داخل ہوئے اور مولود زہرا(س) کو دیکھ کر لبوں پر مسرت کی لکیریں پھیل گئیں آغوش میں لے کر پیشانی کا بوسہ لیا اور فرزند کے دہن میں اپنی زبان دے دی اوررسالتمآب کا لعاب دہن فاطمہ(س)کے چاند کی پہلی غذا قرار پایا ۔

    جبرئيل امین نازل ہوئے خدا کی جانب سے خدا کے حبیب کو نواسے کی مبارک باد پیش کی اور کہا :اے اللہ کے رسول ! خدا نے بچے کا نام حسین (ع) قرار دیا ہے ،نام سنتے ہی رسول اعظم (ص) کی آنکھیں جھلملا اٹھیں بچے کو سینے سے چمٹالیا ،بیٹی نے باپ کی طرف سوالیہ نگاہوں سےدیکھا تو رسول اسلام (ص) نےامین وحی کی زبانی حسین (ع) کا صحیفۂ شہادت نقل کردیا اور بخشش امت کے وعدے پرحسین (ع) کی ماں کو راضي کرلیا ۔علی (ع) و فاطمہ (س) کا چاند چھ سال تک آفتاب نبوت و رسالت کے ہالے کی شکل میں نانا کے ساتھ ساتھ رہا اور تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مدینۂ منورہ میں نانا اور نواسے کی محبت ضرب المثل بن گئی اور ایسا کیوں نہ ہوتا ،جبکہ حسین (ع) مشیت الہی کا محور اور پیغمبر اسلام (ص) کی دلبر کے دلبر تھے ۔حسین (ع) کی شان میں قرآن حکیم رطب اللسان اور ان سے اسلام و ایمان سربلند و ذیشان ہے چنانچہ خداوند عالم نے اپنی کتاب محکم و مستحکم قرآن مجید میں مختلف عنوانوں سے امام حسین (ع) کا تعارف کرایا ہے جیسا کہ صحاح ستّہ کے محدثین نے اپنی اپنی صحیحوں میں لکھا ہے کہ جب "اصحاب کساء " رسول اعظم (ص) کے ساتھ چادر تطہیر میں جمع ہوگئے رسول اسلام (ص) نے علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیہمالسلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :"اَللّہُمّ ہٰؤلاء اَہلُ بَیتی فَاذہب عَنہُمُ الرّجس وَ طَہّرہُم تطہیرَا "خدایا یہ میرے اہل بیت ہیں پس ان کو ہر قسم کی آلائش سے پاک و پاکیزہ قراردے دے ،اس وقت آیۂ تطہیر نازل ہوئی اور اہل بیت علیہم السلام منجملہ حضرت امام حسین (ع) کی عصمت و طہارت کا خدا نے اعلان کردیا،اسی طرح آیۂ مباہلہ کے ذیل مین مفسرین کا اجماع ہے کہ اس میں : "ابنائنا " سے مراد امام حسن اور امام حسین علیہما السلام ہیں جن کو خداوند عالم نے" رسول اسلام کے بیٹے " قراردیا ہے ۔اور آیۂ مودت کے بارے میں مفسرین اہل سنت نے بھی لکھا ہے کہ یہ آیت علی (ع) و فاطمہ (س) اور حسن()) و حسین(ع) کی شان میں نازل ہوئي ہے۔

    امام حسین(ع)کی شخصیت سے رفتار و کردار کی جو شعاعیں پھوٹی ہیں آج بھی الہی مکتب کی فکری ،اخلاقی اور تہذیبی حیات کی اساس ہیں اور نہ صرف عالم اسلام بلکہ پورا عالم بشریت حسینیت کی مشعل سے فروزاں ہے عبادت و بندگی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ وضو کرتے تھے تو بدن میں تھرتھری پیدا ہوجاتی تھی کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو امام حسین(ع)نے فرمایا : حق یہی ہے کہ جو شخص کسی قومی و مقتدر حاکم کی بارگاہ میں کھڑا ہو اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑجائے اور جسم کے بند کانپ اٹھیں۔شب عاشورا، عبادت کے لئے دشمنوں سے ایک شب کی مہلت مانگی توکسی نے اس کی وجہ پوچھی اس وقت آپ نے فرمایا : چاہتا ہوں آخری رات پروردگار کی عبادت میں گزاروں اور استغفار کروں وہ جانتا ہے میں کس قدر نماز کا عاشق ہوں اور قرآن کی تلاوت پسند کرتا ہوں اور زيادہ سے زيادہ دعاؤ استغفار کرنا چاہتا ہوں۔

    دوسری جانب خدا کے بندوں کے ساتھ آپ کے کریمانہ اخلاق و رفتار کا یہ عالم تھا کہ اس میدان میں بھی امام حسین (ع) کی شخصیت نمونہ و مثال نظر آتی ہے ۔چنانچہ ایک دن کچھ فقیروں اور ناداروں کے درمیان سے گزرے سب کےسب زمین پر بیٹھے پتھروں سے ٹیک لگائے سوکھی روٹیاں کھانے میں مشغول تھے۔انہوں نے نواسۂ رسول(ص) کوسلام کیا اور جواب سلام کےبعد اپنے ساتھ کھانے میں شرکت کی دعوت دی۔امام حسین علیہ السلام ان کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا : اگر تمہاری یہ خوراک صدقہ نہ ہوتی تو میں ضرور تمہارے ساتھ یہ روٹیاں کھاتا اور پھر ان سے خواہش کی" قوموا الی منزلی "اٹھو اور میرے ساتھ میرے گھر چلو ،اور ان سب کو گھر لائے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور سیر و سیراب کرنے کے بعد انہیں لباس پہنایا اور کچھ نقد درہم دے کر رخصت کیا ۔ان واقعات سے آپ کے تواضع و انکساری نیز بارگاہ الہی میں تقرب و منزلت کا صاف پتہ چلتا ہے کہ آپ کس قدر خدا کے محبوب اور مردم دوست تھے اور آپ کا وجود کس طرح خدمت دیں اور خدمت خلق کے جذبوں سے معمور تھا شعیب ابن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ روز عاشورا لوگوں نےامام حسین (ع)کی پشت پر گھٹے کے نشان دیکھے تو امام زين العابدین علیہ السلام سے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: یہ نشان بیواؤں ، یتیموں اور مسکینوں کے گھروں تک نان و خرما پیٹھ پر لادکر لے جانے کے سبب ہے۔