زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺ کی رحلت کےموقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • 18ذی الحجہ(1439ھ)عید غدیرتاج پوشی امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1439ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمدباقر علیه السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیه السلام کےموقع پر
  • 11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1439ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر
  • 25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۱رمضان(1439ھ) امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 15رمضان(1439ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • سالانہ "تین روزہ مجالس"حسینی کاانعقاد
  • 15شعبان(1439ھ)ولادت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کےموقع پر
  • 11 شعبان (1439ھ) ولادت حضرت علی اکبرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 5شعبان(1439ھ)ولادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • 4 شعبان (1439ھ) ولادت حضرت عباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    11 شعبان (1439ھ) ولادت حضرت علی اکبرعلیہ السلام کےموقع پر

    آپ  کی ولادت اورسن مبارک

    شہزادہ  علی اکبرعلیہ السلام کی و لادت میں اختلاف کی وجہ سے سن مبارک میں بھی اختلاف ہے۔ لیکن کچھ تحقیق اور دقت سےمعلوم ہوتا ہے کہ اہم اختلاف دو تین اقوال میں ہے بہرحال بحمد اللہ قول مشہور ہمیں اس تعدد و کثرت سے وحدت پر لاتا ہےیہ قول دلالت کرتا ہے کہ شہزادۂ کربلا حضرت علی اکبر علیہ السلام کا سن مبارک ۶۱ ہجری کربلا میں ۱۸ برس کا تھا۔

    حضرت علی اکبرعلیہ السلام کے سن مبارک میں مشہور قول درست ہےاورظاہراً تمام اسلامی ممالک میں بھی یہی قول شہرت کا حامل ہےجومقتل کی تمام کتب میں موجود ہے کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے فرزند دلبند کو میدان کی طرف روانہ کرنے لگے تو بارگاہ خدا میں یوں گویاہوئے:"اللھم اشھد علی ھؤلاء القوم فقد برز الیھم غلام اشبہ الناس خلقا و خلقا و منطقا برسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ"بارالہٰا! گواہ رہنا اس قوم ستمگر سے جنگ کرنے کے لیے ایسا جوان جارہا ہے جو خلقت و اطوار،رفتار و گفتار میں تمام لوگوں سے زیادہ تیرے رسولکے ساتھ شباہت رکھتا ہے۔

    لسان امامت سے ادا کیا ہوا لفظِ مبارک’’غلام ‘‘یعنی جوان،اسی مطلب پر دلالت کررہا ہےکہ شہزادہ سن کے اعتبار سے ابھی سنِ جوانی سے متجاوز نہیں ہوا تھا،جہاں تک تأویلات و توجیہات کا تعلق ہے تو اصل کلام اور اول کلام کو حقیقت پر ہی حمل کیا جاتا ہے اور یہاں پر کوئی قرینہ صارفہ بھی نہیں کہ حقیقت کی بجائے مجاز کی نوبت آئے لہٰذا غلام سے مراد یہی تازہ جوان ہی ہے جو کہ اقوال میں سے ۱۸ سال سن کے ساتھ زیادہ موافقت و مطابقت رکھتا ہے۔بزرگ محقق علماء جیسے شیخ مفید،شیخ طوسی وسید ابن طاؤوس رحمہم اللہ تعالیٰ نے اپنے اپنے آثار میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کا سن مبارک کربلا میں اٹھارہ سال قلمبند فرمایا ہے۔

    والد بزرگوار

    شہزادے کے والد بزرگوار محسن اسلام حضرت امام حسین ابن علی ابن ابیطالب علیہم السلام ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں جن کے بھائی امام حسن مجتبیٰ و ابوالفضل العباس علیہماالسلام، ہمشیرہ جناب عقیلۂ بنی ہاشم حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا،جن کی مادر گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور نانا بزرگوار حضرت محمد مصطفیٰ ہیں۔المختصر یہ خاندان فضائل و مناقب کاسرچشمہ تھا۔

    والدہ ماجدہ

    شہزادے کی والدہ ماجدہ حضرت لیلیٰ بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہیں۔آپ کے نانا عروہ بن مسعود ثقفی قریش میں عظیم المرتبت شخصیت تھے وہ قریش مکہ کی طرف سے حضرت پیغمبر اکرم کی خدمت میں صلح نامۂ حدیبیہ کی موافقت کے لیے بھیجے گئے۔عروہ اہل طائف تھے اور انہوں نے ۹ ھ میں اسلام قبول کیا پھر اپنی قوم کی ہدایت اور دین اسلام کی تبلیغ کے لیے ان کی طرف گئے لیکن اسی قوم کے ہاتھوں نماز سے پہلے اذان کہتے ہوتے تیر ستم سے مرتبۂ شہادت پرفائز ہوئے۔پیغمبر خدا ان کی شہادت پر بہت افسردہ ہوئے اور اس شہید کے بارے میں فرمایا"لیس مثلہ فی قومہ الا کمثل صاحب یاسین فی قومہ"یعنی عروہ صاحب یاسین کی مثل ہیں جو اپنی قوم کے لیے ہدایت کا فریضہ انجام دیتے تھے(اور اسی راہ میں شہید ہوئے۔

    شبیہ پیغمبرجناب علی اکبر ؑ

    میدان کربلا میں بروز عاشورہ امام حسین علیہ السلام سے ان کے کڑیل جوان بیٹےنے اذن جہاد مانگا تومولا نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ اجازت دی اور لسان عصمت و طہارت سے یہ الفاظ جاری ہوئے"اللھم اشھد،فقدبرزالیھم غلاماشبہ الناس خلقاوخلقاومنطقابرسولک صلی اللہ علیہ وآلہ،وکنااذااشتقناالی نبیک نظرناالیہ" خداوندا!گواہ رہنا،ان کی طرف ایسا جوان جارہا ہے جو خلق ،خلق اور منطق میں تمام لوگوں میں سے تیرے رسول سے زیادہ شباہت رکھتا ہے۔ہمیں جب بھی تیرے نبی کی زیارت کا اشتیاق ہوتا تو ہم اس جوان کو دیکھ لیتے تھے۔

    شباہت ایسی چیز ہے کہ جس کی موجودگی میں دیکھنے والے کو مشبّہ پر مشبہ بہ کا گمان ہونے لگتا ہے اب یہ وجہ شباہت جس قدر زیادہ ہوگی اتناہی یہ منظر شدید اورواقعی لگے گا ۔ پھر جب شباہت کا یہ عالم ہو کہ ایک معصوم امام کو اپنے نانا کی یادستائے اور اس تشنگی کو زیارت علی اکبر علیہ السلام سے سیراب فرمائیں تو اندازہ کیجیئے کہ جناب علی اکبر علیہ السلام رسول معظم سے کس قدر شباہت رکھتے تھے۔ اما م کے فرمان کے مطابق شہزادہ حبیب خداسے تین قسم کی شباہتیں رکھتے تھے۔خلقی،خُلقی،منطقی

    شباہت خلقی

    اسے مراد قد و قامت اور صورتاً مشابہ ہونا ۔ جناب علی اکبر علیہ السلام قد وقامت اور شکل و صورت میں رسولِ خدا کے ساتھ شباہت رکھتے تھے۔ معروف ہے کہ حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام اور شہزادہ علی اکبر علیہ السلام جب مدینے کی گلیوں میں نکلتے تھے تو لوگ فقط ان کے دیدار کی خاطرجمع ہو جاتےتھے۔ جناب علی اکبر ؑ اس قدر خوبرو تھے کہ ان کو دیکھ کر زمانے کو رسول خدا یاد آ جاتے تھے۔

    شباہت خُلقی

    "انک لعلیٰ خُلق عظیم"آپ بے شک عظیم اخلاق کی بلند ترین منزل پر فائز ہیں" اسی خلق کی ہوبہو عکاسی آ پ کو جناب علی اکبر علیہ السلام کے اخلاق میں ملے گی۔اس عظیم اخلاق کی جھلک شہزادے میں اس قدر نمایاں تھی کہ شہزادے کے سلام کرنے سے لوگوں کو پیغمبر کا سلام کرنا یاد آجاتا تھا۔ غرباء و فقراء و مساکین کے ساتھ حسن سلوک سے رفتار نبوی کی یادیں تازہ ہوجاتی تھیں۔

    حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس وجود نازنین کو وداع کے وقت بارگاہ احدیت میں راز و نیاز اور اور مناجات میں اس انداز سے پیش کیا کہ اے پروردگار ! تیرے حبیب کا سا اخلاق رکھنے والا یہ جوان تیرے دین کی حفاظت کے لیے اس بدبخت قوم کے سامنے بھیج رہا ہوں لیکن اس صورت وسیرت پیغمبر کے آئینہ دار شہزادے کو دیکھ کر بھی ان کی قساوت و شقاوت میں کمی نہیں آرہی۔

    شباہت منطقی

    اسے مراد گفتار میں کسی کے مشابہ ہونا۔لسانِ عصمت میں منطق علی اکبر علیہ السلام کو منطق رسول خدا سے تعبیر فرمایاگیااورقرآن کریم منطق نبوی کے بارے میں یوں گویا ہے:"وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ"یعنی رسول خدا ہواوہوس سے کوئی کلام نہیں کرتے ان کا کلام تو صرف وحی الہٰی ہوتا ہے"امام حسین علیہ السلام کو جب بھی اپنے نانا کی آواز سننے کا شوق ہوتا آ پ جناب علی اکبر علیہ السلام سے کہتے کہ بیٹا اذان و اقامت کہو اور پھر راز ونیاز اور عبادات و مناجات میں مشغول ہو جاتے اسی وجہ سے ۱۰ محرم الحرام کی صبح کو بھی جناب علی اکبر علیہ السلام سے اذان دلوائی گئی تا کہ لہجہ رسولسن کر شاید ان قسی اور شقی لوگوں کے دلوں پہ اثر پڑےلیکن کردار ورفتارو گفتار میں جناب علی اکبر علیہ السلام رسول معظم کے اتنے مشابہ تھے کہ ان کو دیکھ کر لوگ رسول اکرم کو یاد کرتے تھے۔