زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺ کی رحلت کےموقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • 18ذی الحجہ(1439ھ)عید غدیرتاج پوشی امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1439ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمدباقر علیه السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیه السلام کےموقع پر
  • 11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1439ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر
  • 25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۱رمضان(1439ھ) امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 15رمضان(1439ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • سالانہ "تین روزہ مجالس"حسینی کاانعقاد
  • 15شعبان(1439ھ)ولادت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کےموقع پر
  • 11 شعبان (1439ھ) ولادت حضرت علی اکبرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 5شعبان(1439ھ)ولادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • 4 شعبان (1439ھ) ولادت حضرت عباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    ۲۱رمضان(1439ھ) امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر

    شہادت امیرالمومنین علیہ السلام

    "ان تَہَدّمَت و اَللہ اَرکان الہُدیٰ" خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے۔

    حضرت علی علیہ السلام انیسویں رمضان کے شب بیٹی ام کلثوم کے ہاں مہمان تھے اور یہ رات نہایت عجیب اور آنحضرت کے حالات غیر عادی تھے اور ان کی بیٹی ایسے حالت کا مشاہدہ کرنے سے نہایت حیران اور پریشان تھی ۔روایت میں آیا ہے کہ حضرت اس رات بیدار تھے اور کئی بار کمرے سے باہر آکر آسمان کی طرف دیکھ کر فرماتے تھے :خدا کی قسم ، میں جھوٹ نہیں کہتا اور نہ ہی مجھے جھوٹ کہا گيا ہے ۔ یہی وہ رات ہے جس میں مجھے شہادت کا وعدہ دیا گيا ہے ۔

    بہر حال نماز صبح کیلئے حضرت کوفہ کی جامعہ مسجد میں داخل ہوئے اور سوئے ہوئے  افراد کو نماز کیلئے بیدار کیا، من جملہ خود عبد الرحمن بن ملجم مرادی کوجوکہ پیٹ کے بل سویا تھا کو بیدار کیا۔اور اسے نماز پڑھنے کوکہا ۔جب حضرت محراب میں داخل ہوئے اور نماز شروع کی ، پہلے سجدے سے ابھی سر اٹھا ہی رہے تھے کہ شبث بن بجرہ نے شمشیر سے حملہ کیا مگر وہ محراب کے طاق کو جالگی اوراسکے بعد عبد الرحمن بن ملجم مرادی نے نعرہ دیا :" للہ الحکم یاعلی ، لا لک و لا لاصحابک " ! اور اپنی شمشیر سے حضرت علی علیہ السلام کے سر مبارک پر حملہ کیااور آنحضرت کا سر سجدے کی جگہ ماتھے تک شگاف ہوا ۔

    حضرت علی علیہ السلام محراب میں گر پڑے اسی حالت میں فرمایا : ''فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ "کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا '' امام متقین کا میاب ہو گئے ،آپ  کی پوری زندگی اللہ کی راہ میں جہاد ،کلمہ ٔ حق کو بلند کرنے میں گذر گئی ،سلام ہو اُن پر جس دن وہ کعبہ میں پیدا ہوئے ،جس دن اللہ کے گھر میں شہادت پائی ،آپ  کی شہادت سے حق و عدالت کے پرچم لپیٹ دئے گئے ،جن ہدایت کے چراغ اور نو ر کی مشعلوں سے دنیائے اسلام روشن و منور ہو رہی تھی وہ خاموش ہو گئے۔

    جب19 ماہ رمضان المبارک کو وقت سحر سجدۂ معبود میں جس وقت امیرالمومنین کی پیشانی خون میں غلطاں ہوئی خدا کے معتمد اور رسول اسلام (ص) کے امین ، فرشتوں کے امیر ، جنگ احد میں " لافتی الّا علی لاسیف الّا ذوالفقار " کا نعرہ بلند کرنے والے جبرئیل نے تڑپ کر آواز بلند کی تھی۔"ان تَہَدّمَت و اَللہ اَرکان الہُدیٰ" خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے۔

    ماہ رمضان 40ہجری کو صبح کے وقت خدا کے گھر یعنی مسجد میں
    سال کے سب سے بہترین مہینہ رمضان
    رمضان کا بہترین دن جمعہ
    جمعہ کابہترین وقت فجر
    فجرکا بہترین عمل نماز
    نماز کی بہترین حالت سجدہ
    یوں حضرت علی علیہ سلام کو سجدہ کی حالت میں شہید کیا۔ اس طرح بہترین پیشوا ، عادل امام ، حق طلب خلیفہ ، یتیم نواز اور ہمدرد حاکم ، کاملترین انسان ، خدا کا ولی ، رسول خدا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا جانشین، کو روی زمین پر سب سے شقی انسان نے قتل کرڈالا اور وہ لقاء اللہ کو جاملے ، الہی پیغمبروں اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہمنشین ہوئے اور امت کو اپنے وجود بابرکت سے محروم کر گئے۔
    آپ کے رحم وکرم اور مساوات پسندی کی انتہا یہ تھی کہ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کاچہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آگیا اور اپنے دونوں فرزندوں امام حسن علیہ السّلام وامام حسین علیہ السّلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمھارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ 
    اگر میں اچھا ہوگیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضربت لگانا , کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضربت لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ ، پاوں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں,اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے , دو روز تک علی علیہ السّلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہےآخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور21رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت واقع ہوئی۔