زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺ کی رحلت کےموقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • 18ذی الحجہ(1439ھ)عید غدیرتاج پوشی امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1439ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمدباقر علیه السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیه السلام کےموقع پر
  • 11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1439ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر
  • 25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۱رمضان(1439ھ) امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 15رمضان(1439ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • سالانہ "تین روزہ مجالس"حسینی کاانعقاد
  • 15شعبان(1439ھ)ولادت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کےموقع پر
  • 11 شعبان (1439ھ) ولادت حضرت علی اکبرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 5شعبان(1439ھ)ولادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • 4 شعبان (1439ھ) ولادت حضرت عباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر

     شہادتحضرت امام صادق علیہ السلام 

    "السلام علیکُم یا اَھل بیتِ النُبوَۃِ و مو ضَع الرّساَلَۃ۔۔۔۔ کلا مَکُم نُورُ وَاَمَرکُم رُشد، وَ صیّتکُم الّتقویٰ وَفعلُکُم خَیرَ عَادَتُکُم الا حَسانِ ۔۔۔۔۔۔ ان ذکِر الخَیر کُنتُم اَوّلَہ وَاَصلَہ' وَفَرَعَہُ وَ مَعدَ نہ وما وَایہُ و منتَھاه"

    زیارت جامعہ محمد و آلِ محمد (ص) کا قصیدہ ہے، حضرت امام علی النقی علیہ السلام کا ہم پر احسان ہے کہ آپ نے  اپنے انتہائی فصیح و بلیغ کلام میں زیارت جامعہ کی تدوین کی جو حقائق اور معرفت کا بے پایاں سمندر ہے۔ حضرت امام جعفر (ع) صادق کی شخصیت زیارت جامعہ میں بیان کردہ ان خصائص کی مجسم تصویر ہے۔

    امام صادق(ع) کی ہمہ گیر شخصیت کااحاطہ نا ممکن ہے ،لذا  ہم یہاں پر امام صادق علیہ السلام کی شخصیت اورعلمی خدمات کامختصر تعارفی جائزہ  لیتے ہے۔

    مختصر حالات

    جعفر کے معنی نہر کے ہیں۔ گو یا قدرت کی طرف سے اشارہ ہے کہ آپ کے علم و کمالات سے دنیا سیراب ہو جائیگی۔ امام جعفر (ع) صادق کی تاریخ ولادت ١٧ ربیع الاوّل پر سب کو اتفاق ہے مگر سال ولادت میں اختلاف ہے روایت رجال کے بموجب سنہ ولادت ٨٠ ھ ہے جبکہ محمد ابن ِ یعقوب کلینی اور شیخ صدق کا اتفاق ٨٣ ھ پر ہے۔ آپ نے بہ فضل ِ خدا ٦٥ سال عمر پائی اور مدتِ امامت ٣٤ سال رہی ( ١١٤ ھ تا ١٤٨ھ) چہاردہ معصومین میں طویل عمر اور عہد امامت کے حوالہ سے آپ کی امتیازی خصوصیت ہے۔ آپ کی مادر گرامی جناب اُمِ فروہ بنت ِ قاسم بن محمد بن ابو بکر تھیں۔ اپنی والدہ کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے خود امام صادق(ع) نے فرمایا'' میری والدہ ایک با ایمان با تقویٰ اور نیک خاتون تھی۔'' ( احمد علی ۔١) صاحب مروج الذھب کے حوالہ سے ان معظمہ کی عظمت اور مرتبہ کے لئے یہ ہی کافی ہے کہ خود امام باقر نے آپ کے والد قاسم سے اپنے لئے خواستگار ی کی تھی۔ آپ کی مشہور کنیت عبداﷲ ہے اور بے شمار القاب میں ( الصادق) زیادہ مشہور ہے۔ آپ کے ٧ بیٹے یعنی اسماعیل ، عبداﷲ ، موسیٰ ( بن کاظم (ع)) اسحاق، محمد(الدیباج) ، عباس اور علی ، اور تین بیٹیاں ام فروہ، اسماء و فاطمہ تھیں۔ آپ کے دو ازواج مطہرات میں ایک فاطمہ بنت الحسین امام زین العابدین کی پوتی تھیں۔

    امام صادق(ع) کے دورِ امامت میں بنی امیہ کے سلاطین میں ہشام بن عبدالملک ، ولید بن یزید بن عبد الملک ، یزید بن ولید ، مروان حمار اور خاندان بنی عباس کے ٢، افراد ابو العباس السفاح اور منصور دوانیقی تھے۔ ان میں عبدالملک کے بیس سال کا عہد اور منصور دوانیقی کے دس سال شامل ہیں۔

    شخصیت کی عظمت

    شیعہ عقیدہ کی رو سے امامت کسبی نہیں بلکہ وہبی وصف ہے یعنی اس کا تعین خود اﷲ تعالیٰ کرتا ہے اور ایک امام دوسرے آنے والے کی نشان دہی کرتا ہے اس عمل کو (نص) کہتے ہیں یعنی منشائے الہیٰ کا اظہار، امام صادق علیہ السلام کے بارے میں امام باقر علیہ السلام کی بے شمار نصوص معتبر کتابوں میں ملتی ہی۔

    امام جعفر ِ صادق کی عظیم شخصیت پر مسلسل اور انتھک کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ائمہ علیہم السلام کی زندگی کا ہر قدم ہمارے لئے مشعل راہ ہے ان کی زندگی کا ہر پہلو صحیفہ رشد و ہدایت ہے۔ ان حضرات نے اپنی زندگیاں اطاعت خدا اور رسول میں وقف کردی تھی اور وحی الہٰی اور تعلیمات نبوی کو ہمیشہ پیش نظر رکھا ۔ امام کی حیاتِ طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ بشریت کی یہ قد آور شخصیت اپنے علم و عمل سے انسانیت کو کس قدر فیص بخشا ہے۔ اس کا اندازہ امام سے متعلق ان آراء سے ہوسکتا ہے ۔ جس کا اظہار مختلف مفکرین نے وقتاً فوقتاً کیا ہے۔

    آپ ؑ کی شہادت

    بعض روایات کے مطابق 25 شوال المکرم فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا یوم شہادت ہے،امام صادق علیہ السلام عبدالملک بن مروان [ پانچواں اموی خلیفہ ] کے زمانے میں پیدا ہوئے  اور اسکے بعد باقی 8 بنی امیہ کےخلیفوں اور دو عباسی خلیفوں کے ہمعصر تھے۔ اور ان میں سے اکثر کی طرف سے مصائب اور مظالم ہوتے رہے :آخر کار 65 سال کی عمر میں منصور دوانقی کی طرف سے مسموم ہوئے جس سے آنحضرت کی شہادت واقع ہوئی ۔

    آنحضرت کی شہادت کی تاریخ کے بارے میں دو قول نقل ہوئے ہیں ۔ بعض نے 15 رجب سن 148 ھ ق اور بعض نے 25 شوال سن 148 بیان کیا ہے اور مشہور شیعہ مورخوں اور سیرہ نویسوں کے نزدیک دوسرا قول یعنی 25 شوال ہی معتبر ہے ۔

    آنحضرت کی شہادت کے بعد حضرت امام موسی کاظم (ع) نے بھائیوں اور افراد خاندان کے ہمراہ آنحضرت کے غسل و کفن کے بعد بقیع میں دفن کیا ۔