زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ) ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 3 رجب المرجب (1440ھ) شہادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۰جمادی الثانی(۱۴۴۰ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1440ھ)حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر

    حضرت امام رضاعلیہ السلام سلسلہ امامت كی آٹھویں اورسلسلہ عصمت كی دسویں كڑی ہیں ۔آپ کااسم مبارک علی علیہ السّلام،آپ کے القاب صابر، زکی، ولی، رضی، وصی تھے اورمشہور ترین لقب رضا تھااور کنیت ابوالحسن ، والد بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام تھے والدہ گرامی کی کنیت ام البنین اور لقب طاہرہ تھا ، نہایت عبادت گزار بی بی تھیں۔

    ولادت:   11ذی القعد 841ھ کومدینہ منورہ میں پیداہوئےاس کے تقریباً ایک ماہ قبل 51شوال کو آپ کے جدِ بزرگوار امام جعفر صادق علیہ السّلام کی وفات ہوچکی تھی اتنے عظیم حادثہ مصیبت کے بعد جلد ہی اس مقدس مولود کے دنیا میں آجانے سے یقینًاگھرانے میں ایک سکون اور تسلی محسوس کی گئی۔ 

    علمی کمالات:

    آلِ محمد علیہ السّلام کے اس سلسلہ میں ہر فرد احادیث کی طرف سے بلند ترین علم کے درجہ پر قرار دیا گیا تھا جسے دوست اور دشمن سب کو ماننا پڑتا تھا , یہ اور بات ہے کہ کسی کو علمی فیوض کوپھیلانے کا موقعہ کم ملااور کسی کو زیادہ , چنانچہ ان حضرات میں سےحضرت امام جعفرصادق علیہ السّلام کے بعد اگر کسی کو موقع حاصل ہے تو وہ امام رضا علیہ السلام ہیں ۔ جب آپ امامت کے منصب پر نہیں پہنچے تھے اس وقت حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام اپنے تمام فرزندوں اور خاندان کے لوگوں کونصیحت فرماتے تھے کہ تمھارے بھائی علی رضا علیہ السّلام عالمِ آلِ محمد ہیں ۔ اپنے دینی مسائل کو ان سے دریافت کرلیا کرو اور جو کچھ وہ کہیں اسے یاد رکھو اور پھر حضرت موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی وفات کے بعد جب آپ مدینہ میں تھے اور روضئہ رسول پر تشریف فرما تھے تو علمائے اسلام مشکل مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔

    "لقب رضا"

       امام عليہ السلام كا مشہور ترين لقب ہے ابھي بھی  ہم سب اس مہربان امام عليہ السلام كو اسي مبارك لقب’’رضا‘‘سے ياد كرتے ہيں  جس كي دليل یہ ہے  كہ آسمانوں ميں پسنديدہ اور زمين ميں بھي خداوند متعال اس كے انبياء اور آئمۂ ہديٰ عليہم السلام اُن سے خوشنود ہيں‘‘۔اس مبارك لقب كي ايك اور وجہ يہ بيان كي گئي ہے كہ موافق و مخالف تمام لوگ اس مہربان امام سے راضي و خوشنود تھے۔

    آپ  کی بعض ا حادیث

    امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ: اہل بیت علیہم السلام کی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث ہے اور رسول اللہ کی حدیث کلام الہی ہے جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے توسط سے رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک پر نازل ہوتا ہے۔

    1- قالَ الرضا عليه السلام: الصَّلوةُ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ تَعْدِلُ عِنْدَاللّهِ عَزَّوَ جَلَّ التَّسْبيحَ وَالتَّهْليلَ وَالتَّكْبيرَ۔

    امام رضا (ع) نے فرمایا: محمد اور اہل بیت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر صلوات اور تحيّت کا ثواب سبحان اللّه ، لا إ له إلاّاللّه ، اللّه اكبر کے ثواب کے برابر ہے۔

    2- قالَ الرضا عليه السلام: لَوْخَلَتِ الاْ رْض طَرْفَةَعَيْنٍ مِنْ حُجَّةٍ لَساخَتْ بِاهْلِها۔

    اگر زمین لمحہ بھر حجت سے خالی ہوجائے تو یہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے گی۔

    3- قالَ الرضا عليه السلام : عَلَيْكُمْ بِسِلاحِالاْ نْبياءِ، فَقيلَ لَهُ: وَ ما سِلاحُ الاْ نْبِياءِ؟ يَا ابْنَ رَسُولِ اللّه ! فَقالَ عليه السلام : الدُّعاءُ۔

    آپ کو انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار استعمال کرنا چاہئے، پوچھا گیا: انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے قرمایا: انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار خدا کی طرف توجہ دینا، دعا کرنا اور خدا سے مدد مانگنا ہے۔ 

    4- قالَ الرضا عليه السلام : صاحِبُ النِّعْمَةِ يَجِبُ عَلَيْهِ التَّوْسِعَةُ عَلى عَيالِهِ۔

    نعمت و دولت کے مالک  کو اپنی قوت کے مطابق اپنے اہل و عیال کے لئے خرچ کرنے چاہئے۔

    5- قالَ الرضا عليه السلام : المَرَضُ لِلْمُؤْمِنِ تَطْهيرٌ وَ رَحْمَةٌ وَلِلْكافِرِ تَعْذيبٌ وَلَعْنَةٌ، وَ إ نَّ الْمَرَضَ لايَزالُ بِالْمُؤْمِنِ حَتّى لايَكُونَ عَلَيْهِ ذَنْبٌ۔

    بیماری مؤمن کے لئے رحمت اور گناہوں کی مغفرت کا سبب اور کافر کے لئے عذاب اور لعنت ہے۔ 

    6۔ قالَ الرضا عليه السلام: مَنْ زارَ قَبْرَالْحُسَيْنِ عليه السلام بِشَطِّ الْفُراتِ، كانَ كَمَنْ زارَاللّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ۔

    جس نے دریائے فرات کے کنارے قبر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے عرش پر حضرت حق تعالی کی زیارت کی ہو۔ 

    7- كَتَبَ الرضا عليه السلام: ابْلِغْ شيعَتى : إنَّزِيارَتى تَعْدِلُ عِنْدَاللّهِ عَزَّ وَ جَلَّ اءلْفَ حَجَّةٍ، فَقُلْتُ لاِ بى جَعْفَرٍ عليه السلام : اءلْفُ حَجَّةٍ؟! قالَ: إ ى وَاللّهُ، وَ اءلْفُاءلْفِ حَجَّةٍ، لِمَنْ زارَهُ عارِفا بِحَقِّهِ۔

    امام رضا علیہ السلام نے اپنے دوست کو خط میں مرقوم قرمایا: ہمارے دوستوں اور عقیدتمندوں سے کہو: میری قبر کی زیارت ایک ہزار بار [مستحب] حج  کے برابر ہے۔ 

    راوى کہتا ہے: میں نے امام محمد تقی الجواد علیہ السلام سے عرض کیا: کیا آپ کے والد کی زیارت کے لئے ایک ہزار بار حج کا ثواب ہے؟

    ہاں! جس نے معرفت کے ساتھ میرے والد کی زيارت کی اس کو ایک ہزار ہزار [دس لاکھ] بار حج [مستحب] کا ثواب مقرر ہے۔

    8- قالَ الرضا عليه السلام: اءوَّلُ ما يُحاسَبُ الْعَبْدُ عَلَيْهِ،الصَّلاةُ، فَإ نْ صَحَّتْ لَهُ الصَّلاةُ صَحَّ ماسِواها، وَ إ نْ رُدَّتْ رُدَّماسِواها۔

    سب سے پہلے انسان کے جس  عمل کا حساب و کتاب اور محاسبہ ہوگا وہ نماز ہے، اگر انسان کی نماز صحیح ہو اور مقبول واقع ہوجائے  تو اس کے دوسرے عامال بھی قبول ہونگے ورنہ تمام اعمال رد کئے جائیں گے۔