زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ) ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 3 رجب المرجب (1440ھ) شہادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۰جمادی الثانی(۱۴۴۰ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1440ھ)حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    8ربیع الثانی(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت کےموقع پر

    امام حسن عسکری  علیہ السلام کی ولادت

     

    علماء فریقین کی اکثریت کااس بات پراتفاق ہےکہ   شمع ہدایت کے گیارہویں  چراغ ، حجت خدا حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام 8ربیع الثانی ۲۳۲ ہجری کو جمعہ  کے دن   جناب حدیثہ خاتون کے بطن سے   بمقام مدینہ منورہ متولدہوئے ہیں۔ [1]

     آپ کی ولادت کے بعد حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے حضرت محمدمصطفی ﷺ کے رکھے ہوئے ”نام حسن بن علی“ سے موسوم کیا۔

    آپؑ  کی کنیت اورآپ کے القاب

    آپ کی کنیت ”ابومحمد“ تھی اورآپ کے القاب بے شمارتھے جن میں عسکری، ہادی، زکی خالص، سراج اورابن الرضا زیادہ مشہورہیں ۔[2]      آپ کالقب عسکری اس لئے زیادہ مشہورہوا کہ آپ جس محلہ میں بمقام ”سرمن رائے“ رہتے تھے اسے عسکرکہاجاتاتھا اوربظاہراس کی وجہ یہ تھی کہ جب خلیفہ معتصم باللہ نے اس مقام پرلشکرجمع کیاتھا اورخو دبھی قیام پذیرتھاتواسے ”عسکر“ کہنے لگے تھے، اورخلیفہ متوکل نے امام علی نقی علیہ السلام کومدینہ سے بلواکریہیں مقیم رہنے پرمجبورکیاتھا۔ [3]

    چارماہ کی عمراورمنصب امامت

    حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی عمرجب چارماہ کے قریب ہوئی توآپ کے والدامام علی نقی علیہ السلام نے اپنے بعدکے لیے منصب امامت کی وصیت کی اورفرمایاکہ میرے بعدیہی میرے جانشین ہوں گے اوراس پربہت سے لوگوں کوگواہ کردیا۔[4]

    امام کی فعالیات 
    علمی حوزے کا قیام، شاگردوں کی بہترین تربیت کا اہتمام؛جن میں احمد بن اسحاق قمی،عثمان بن سعید عَمری،حسین بن روح(یہ دونوں بزرگوار صحابی و شاگرد بعد میں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے چار نوّاب میں شمار ہوئے)عبداللہ بن جعفر حمیری۔
    امام نے عراق کے معروف فلاسفہ جیسے اسحاق کندی،اور مسیحی راہبوں،کے ساتھ مناظرات و علمی گفتگوکیے ۔اورمختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے شیعیان جیسے علی بن حسین بن بابویہ قمی،کی طرف خطوط و پیغامات بھیجنے کا انتظام،یہاں تک کہ زندان میں رہتے ہوئے بھی یہ امر انجام دیتے رہے۔
    صوفیوں،مشرکوں،واقفیہ اور مفوّضہ وغیرہ کے انحرافی نظریات و عقائد کے سامنے اپنے منطقی ،اسلامی اور حقیقی عقائد کا پرچارکرنے کے ساتھ ساتھ 
    اسلامی ملک کے مختلف نقاط میں اپنے نمائندے بھیج کر مؤمنین کی رہنمائی اور روابط کا بندوبست کیا۔

    اس کے  علاوہ  امام علیہ السلام نے محروموں اور مستضعفوں کی مالی ،اقتصادی حمایت و امداد،شیعوں سے حاصل ہونے والی وجوہات(خمس،وغیرہ سے قرضداروں کے قرض اتارنے کا اہتمام کیا۔

    امام ؑ بہ اذن خداوندبہت  سےمعجزات و کرامات اپنی حقانیت،شیعوں کی حفاظت و تقویت،بعض لوگوں کے دلوں سے شک و تردید کے خاتمے اور مخالفین پر خداوندمتعال کی حجت تمام کرنے کے لیے مناسب اور ضروری مواقع پر کا ظاہر کیا۔ اور اپنے شیعوں اور مؤمنوں کو اپنے فرزند مہدی موعود علیہ السلام کی غیبت کے زمانے کے لیے تیارکیا  اور اُس دوران ان کی ذمہ داریوں اور وظائف سے انہیں روشناس کرایا۔

    ہدایت کی شعاعیں
    یہاں پر  امام حسن عسکری علیہ السلام کے چند سبق آموز  فرامین پیش کرتےہیں  ۔
    قال امام العسکری علیہ السلام:

    1۔"مَن رضی بدون الشّرف من المجلس لم یزل اللہ وملائکتہ یصلّون علیہ حتٰی یقوم"[5]
    یعنی جو شخص اپنی شایان شان جگہ سے کمتر پر بیٹھنے پر راضی ہوجائے تو خُداوندمتعال اور اُس کے فرشتے اُس پر اُس وقت تک سلام بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ کھڑا نہ ہو جائے۔
    2۔"منِ التواضع السلام عليٰ کل من تمر بہ،والجلوس دون شرف المجلس"[6]
    یعنی تواضع یہ ہے کہ جس کے پاس سے گزرو اُسے سلام کرو اور محفل و مجلس کی مرکزی جگہ کی بجائے عام جگہ پر بینا ا پسند کرو۔

    3۔"من وعظ اخاہ سِرّاً فقد زانہ ومن وعظ علانیۃً فقد شانہ"[7]
    یعنی جو شخص اپنے دینی بھائی کو علیحدگی میں وعظ و نصیحت کرے (گویا اُس نے اپنے بھائی کی زینت و تزئین کی اور جو لوگوں کے سامنے نصیحت کرے اُس نے اپنے بھائی کو عیب دار کیا۔
    4۔"من مدح غیرالمستحق فقد قام مقام المتھم"
    یعنی جو شخص ایسے آدمی کی تعریف کرے جو تعریف کا حقدار نہ ہو یعنی جو بے جا تعریف کرے تو وہ اپنے آپ کو متہم کی جگہ پر لاکھڑُا کرتا ہے۔

    5۔"اتَّقُوا اللَّہ وَ كُونُوا زَيْناً وَ لَا تَكُونُوا شَيْناً جَرُّوا إِلَيْنَا كُلَّ مَوَدَّة وَ ادْفَعُوا عَنَّا كُلَّ قَبِيحٍ"[8]

    امام حسن عسکري (عليہ‏السلام) نے فرمایا:‏ تقوائے الہی اختیار کرو اورہمارے لئے زینت بنو اورہمارے لئے باعث ننگ وعار نہ بنو اورہر قسم کی مودت و محبت ہماری طرف کھینچ لاؤ اورہر قسم کی برائی اور قباحتیں ہم سے دور کرو۔

    امام علیہ السلام کے اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ " ہمارے لئے زینت کا سبب بنو اور برائیوں سے دور رہو ۔ معاشرے میں ایسا رویہ اختیارکرو لوگ آپ کو دیکھ کرہماری محبت و مودت دل میں بسائیں۔ اور برے اعمال سے پرہیز کرو تا کہ ہم پر برائی کا الزام نہ لگایا جاسکےیعنی تمہاری برائیاں دیکھ کر لوگ ہم سے بدظن ہوجاتے ہیں۔

    ہمیں چاہیے جہاں تک ممکن ہو سکے بہترین راستہ کا انتخاب کریں ، خدا بھی ہماری مدد کرےگا ، معاشرتی اور مقبول ادب کا لحاظ رکھے اور مخالفین کیساتھ  دلیل اور برہان کے ذریعہ بات کرے ، لوگوں کو  برا بھلا کہنے سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں اسی طرح گالیاں دینے اور لعن طعن کرنے سے بھی کوئی مسئلہ نہیں حل ہوتا اگر گالی دیں گے تو گالی سننے کو ملے گی دوسروں کو کافر کہیں گے تو وہ بھی ہمیں کو کافر کہیں گے اور اس کا نتیجہ خوں ریزی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا،  لیکن جو ہماری ذمہ داری ہے کہ وہ تولی اور تبرّا اور مسلمانوں کی جان کی حفاظت کہ جو دونوں ہمارے دین کے بنیادی رکن اور جز ہیں ۔



    [1] ۔ جلاء العیون ص ۲۹۵ ،

    [2] ۔ مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۲۵

    [3] ۔ بحارالانوارجلد ۱۲ ص ۱۵۴ ۔

    [4] ۔ ارشادمفید ۵۰۲ ۔

    [5] ۔ بحارالانوار، ج 78، ص 466، ح 12۔

    [6] ۔ بحارالانوار، ج 75، ص 372، ح 9۔

    [7] ۔ تحف العقول ، ص 520۔

    [8] ۔ بحارالانوار:ج 75 ص 372۔