زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
موضوعات کی ترتیب آخری سوالات کوئی بھی سوال زیادہ دیکھیں جانے والی سوالات

آخری سوالات

کوئی بھی سوال

زیادہ دیکھیں جانے والی سوالات

عشق الهی کی حقیقت کیا هے ؟

سوال:عشق الهی کی حقیقت کیا هے ؟

جواب:عشق نغمه حیات هے جب تک زمانه رهیگا عاشقوں کا نغمه بھی رهیگا  اور سب  محبت اور عشق کی ساز پر  ناچیں گے نسیم  صبحگاهی معشوق کی جمال کی طرف جذب کر کے وادی نیستی وفنا  تک لے چلے گا محبت اور چاهت کے آثار کا انکار کرنا کسی کیلئے بھی ممکن نهیں هے دلنشین اشعار اور نغمے، انوکھی اور بدیع تصویریں اور مجسمے،جذاب حادثے اور کهانیاں،یهاں تک که سیاسی واقعات اور عسکری فتوحات بھی  محبت اور عشق کے نتیجے هیں اور بهار میں بلبل شاید پھولوں اور کلیوں کے عشق میں  هی چهچهاتے هونگے۔

عشق کی مختلف قسمیں هیں سب سے پهلے دو جنس مخالف  کے درمیان موجود جنسی عشق هے تو وهاں پر ایک باطنی کھینچ موجود هے جومیل ملاپ اور وصال تک پهنچ جاتا هے تا که تولید نسل کے ذریعه اپنی نوع باقی رکھےعشق کی یه قسم نباتات حیوانات اورانسان سب میں موجود هے حیوانوں کی دنیا میں یه جنسی عشق کبھی معشوق کی وصال کی راه میں خون بهانے اور قتل هونے کا سبب بنتا هے۔

پھر عشق جنسی سے آگے ایک مقدس عشق آتا هے وه ماں کا اپنی اولاد سے عشق  هے اور اس سے آگے جوں جوں معشوق کی طهارت اور پاکیزگی بڑھتی جاتی هےعشق کی طهارت اورتقدس میں اضافه هوتاجاتا هے یهاں تک که حقیقی عشق -جو که الله تعالی کی محبت هے -تک پهنچ کر  عشق ختم هو جاتا هے اور شیخ الانبیاء حضرت ابراهیم اور خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی طرح انسان خلیل الله اور حبیب الله بن جاتا هے حضرت ابراهیم علیه السلام سچے ، حق طلب اورواقعی مسلمان تھےمحبت ،عشق اور عبادت میں کسی کو بھی الله تعالی کا شریک نهیں ٹھرایا بیشک عاشق همیشه موحد هوتا هے معشوق کا چهره اور اسکے جمال کے علاوه اسے کوئی چیز نظر نهیں آتی هے.

قرآن کریم میں اگر چه عشق کا کلمه موجود نهیں هے یه شاید اس لئے هو که اس وقت کے عرب اس کلمه سے واقف نهیں  تھےلیکن حب شوق اور شغف کا کلمه موجود هے در حقیقت یه عشق کے مترادف کلمات هیں فيحبّون اللّه‏ ، والذين آمنوا أشدّ حبّا للّه‏ ، يبتغون وجه اللّه‏،تو وه الله سے محبت کرتے هیں،مؤمنین لله سے بهت زیاده محبت کرتے هیں ،فهم أولياءاللّه وه الله کے ولی هیں ولایت یعنی محبت کی انتها اورمحبوب میں فنا هونا اور ایمان دل کا کام هے اسکا مقصد الله خدا کیلئے محبت کرناهے الله تعالی سوائے شرک کے تمام گناهوں کو بخش دیتا هے تو وه اپنے ساتھ کسی شریک کو پسند نهیں کرتا هے بلکه وه چاهتا هے جس انسان کو زمین پر اپنا خلیفه بنایا هے اور اسے تمام اسماء کی تعلیم دی هےاس کا خود هی پهلا اور آخری عاشق هولهذا  جو بھی اپنے رب کی ملاقات کا امید وار هو تو صالح اور نیک کام انجام دو اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک مت ٹھراؤ   اور یه ثابت هو چکی هے که اعمال کی قبولیت کیلئے اهلبیت علیهم السلام کی ولایت شرط هے  کیا ولایت، محبت نهیں هے ؟ کیا دین محبت اور دشمنی نهیں هے؟ الله اور اولیاء خدا سے محبت ،الله اور اولیاء خدا کے دشمنوں سےدشمنی نهیں هے؟

محبت اور عشق کی طرف اشاره کرنے والی کتنی دعائیں اور مناجات هیں

« اللهمّ إنّي أسألك أن تملأقلبي حبّا لك »

اے الله تجھ سے سوال کرتا هوں که میرے دل کو تیری محبت سے بھر دے.

« وحبّب إليَّ لقاءك»

اور تیری دیدار میرے هاں محبوب قرار دے

« يا غايتي في رغبتي »

اے میری چاهتوں کی انتها !

« واجعل قلبي بحبّك متيّما »

میرے دل کو اپنا اسیر محبت بنا دے ۔

مخلوقات میں عشق کا راز ان کاذاتا ً فقیر اور محتاج هونا هے تو عشق یعنی فقر سےبے نیازی کی طرف ،عدم سے وجود کی طرف ،نقص سے کمال کی طرف ،اور بد صورتی سے جمال کی طرف حرکت کا نام هےعشق موجزن اور متلاطم سمندر  هے جس کے اطراف دور ،گهرائی بهت زیاده ، اور ساحل نا پیدا هے اور جب تک فقر اور احتیاج هے حرکت اور حیات بھی رهے گی اور زندگی میں حرکت کا راس المال امید هے تو انسان اپنی بساط کے مطابق خرچ کرتا هے اور خطرناک اور کانٹے دار راستوں کو بڑے شوق اور عشق کے ساتھ طے کرتا هے تا که اپنے محبوب اور معشوق تک پهنچ جائے تو عشق یعنی حرارت اور عمل هے جن  کا نتیجه معشوق کی طرف حرکت هے اور یه حرکت تمام مخلوقات میں هے ان کے ذرات میں اور الیکٹرون کا پروٹون کے گرد حرکت،مجردات اور منظومه شمسی کی حرکت ، سیاروں کا سورج کےگرد حرکت اور عشق جنسی سے لیکر عشق عرفانی تک میں انسان کی حرکت ۔

عشق میں جو بھی اوصاف بیان کیا جائے اس ذات کے خوبصورت باغات اور دلکش گلزاروں کی نسیم هے۔

عاشقوں کا قبله  معشوق کا جمال هے جمال کی طرف ان کی نماز هے عاشق اراده معشوق میں فنا هو جاتا هے نه یه که وه معشوق میں حلول کرجائے یا اس کے ساتھ متحد هو جائے اور جوبھی تعبیر  اس باب میں موجود هےضیق عبارت کی وجه سےتسامح اور مجازکے همراه هے بلکه عاشق معشوق کا چهره هوا کرتا هے اس کے جمال کا آئینه هوتا هے تب هم عاشق کے اندر موجود معشوق کی صفات کے ذریعه معشوق کو پهچان سکتے هیں اسی لئے انبیاء اور اوصیاءعلیهم السلام وجه الله هیں ۔

اس میں کوئی شک نهیں که عشق سے مراد بهت زیاده محبت کے علاوه کچھ نهیں هے عرفاء یهی تعبیر استعمال کرتے هیں لیکن قدیمی فقهاء اس تعبیر کو پسند نهیں فرماتے تھےچونکه اس زمانے میں عشق ان کلمات میں سے تھا جو عام انسانوں کے لئے (عشق مجازی میں)استعمال هوتا تھا اس لئے فقهاء اس سے پرهیز کرتے تھے جبکه یه کلمه فی الجمله صوفیه اور عرفاء کے هاں رائج هے (كل حزب بما لديهم فرحون)هرگروه اپنے پاس موجود چیز پر راضی هیں۔

تاریخ: [2018/1/21]     دوبارہ دیکھیں: [353]

سوال بھیجیں