زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
موضوعات کی ترتیب آخری سوالات کوئی بھی سوال زیادہ دیکھیں جانے والی سوالات

آخری سوالات

کوئی بھی سوال

زیادہ دیکھیں جانے والی سوالات

اس آیت کاکیامطلب ہے؟"قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا"

سوال: قرآن مجید میں اس آیت کا مطلب کیا ہے؟ (قل لن یصیبنا الا ما کتب الله لنا)." کہہ دو ہمیں ہرگز نہ پہنچے گا مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا"
کیا انسان کی تقدیرات پیدائش سے لیکر موت تک اللہ کی طرف سے لکھاجاچکاہے؟ اورکیا اچھے برے اعمال (حوادث)کے ذریعے تقدیرات تبدیل ہوسکتے ہیں؟

جواب:اللہ تعالیٰ قضاء وقدرکیلئے دو مرحلے(لوح) ذکر کرتے ہیں:

اول:   لوح محفوظ  : اس سے  اُمّ الکتاب بھی کہا جاتا ہے اوریہ  کمی بیشی سے محفوظ اور فنا و تغیر سے پاک ہے۔ یعنی جس میں کسی قسم کا کوئی تغیر و تبدل  نہیں ہوتا۔

دوم: لوح محو اوراثبات: قابل  تغیر  ہے ،  اس مرحلے میں  انسان کے اختیار میں  ہے کہ وہ اچھے اعمال  انجام  دے  کرسعادت  حاصل کرے  اوربرے اعمال انجام دے کر شقاوت  اوربدبختیوں کی صف میں شامل ہوجائیں۔  

بتحقیق خدا وند عالم  نےانسان کو بھلائی اور برائی  (یعنی:سعادت وشقاوت)کے دونوں راستے دکھادئے۔ "يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ”  اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے۔

اگر اس موضوع کے متعلق مزید تفصیل جانناچاہتے ہیں،  تو       میری کتاب " البداء بين الحقيقة والإفتراء "کامطالعہ کریں،  جو ہماری  ویب سائٹ(www.alawy.nat ) پر بھی موجود ہیں۔ 

تاریخ: [2018/1/31]     دوبارہ دیکھیں: [193]

سوال بھیجیں